کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

قرآن مجید کتاب آئین ہی نہیں آئینہ بھی ہے

مئی ٢٠١١

تحریکی افراد کا قرآن مجید سے تعلق اور رشتہ ایک بنیادی سوال ہے، اس سوال پر باربار غوروفکر کیا جانا چاہئے، تاکہ اس سلسلہ میں کوئی غفلت وکوتاہی پنپنے نہ پائے۔ اس کی اہمیت اس پہلو سے اور دوچند ہوجاتی ہے کہ ان دنوں یہ بات دیکھنے میں آرہی ہے کہ قرآن سے ہمارے حلقے میں رشتہ کمزور ہوتا جارہا ہے۔ حالانکہ اللہ رب العزت نے کامیاب تحریکی افراد کی شناخت کا ذکر کیا تو دوہی صفات کا ذکر کیا: (۱) تمسک بالکتاب اور (۲)اقامت صلوۃ۔

والذین یمسکون بالکتاب واقاموا الصلوۃ انا لا نضیع اجر المصلحین۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جن مصلحین کے اجر کی ضمانت دی گئی ہے، ان کی شناخت ان دو صفات سے کی جانی چاہئے۔ معاشرے کی تعمیر اور سماج کی اصلاح کا دعوی ایک چیز ہے اور فی الواقع اس کام کو کامیابی سے انجام دینا دوسری چیز ہے۔ کھوکھلے دعوی کا ذکر قرآن میں موجود ہے:

قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ۔ أَلا إِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَکِن لاَّ یَشْعُرُون۔

بہرحال اس پہلو سے اس پر بار بار غور کرنا، جائزہ لینا کہ ہمارے اندر یہ دوصفات شناخت کی سطح پرپنپ رہی ہیں یا کمزور ہورہی ہیں بہت اہم ہے۔
اس سلسلے میں ایک بات اور بھی ہمارے سامنے رہنی چاہئے کہ ہمارے سماج میں روایتی مذہبیت پائی جاتی ہے۔ اس روایتی مذہبیت میں بھی قرآن سے تعلق اور رشتے کا ایک عمل جاری وساری ہے، مثلاآپ رمضان میں دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر تلاوت کا ایک تازہ ذوق وشوق ابھر آتا ہے۔ اس تعلق میں روایتی مذہبی رشتے کی بنیادی اہمیت ہے۔
اس لیے وہ لوگ جو اصلاح کے لیے اٹھتے ہیں ان کو اپنے افراد میں یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ چونکہ وہ اسی جامد مذہبیت اور مریضانہ اور رسمی دینداری کے پس منظر سے آتے ہیں اس لیے قرآن سے ان کا رشتہ تمسک بالقرآن کی سطح پر ترقی کررہا ہے یا رسمیت کی سطح پر آگے بڑھ رہا ہے۔ قرآن کے سلسلہ ہی میں نہیں بلکہ اگر آپ جائزہ لیں گے تو بہت سارے تحریکی افراد کے اندر کئی دوسرے پہلوؤں سے جامد مذہبیت کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ ان کی عبادتوں میں، ان کے سوچنے سمجھنے کے انداز اور قرآن مجید کے ساتھ ان کے تعلق میں یہ چیز صاف نظر آتی ہے۔ دین کے انقلابی اور قرآنی تصور کے اثرات خال خال نظر آتے ہیں۔ قرآن مجید کو زیادہ سے زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے پڑھا جاتا ہے۔ مذہبی روایات کے تعارف کا جذبہ ہے تو تقاریر کے لیے اس کی آیات پڑھ کر سنادی جاتی ہیں۔ تقریر میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے اس کا حوالہ دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید تو فکر کو جلا بخشتا ہے۔ دلوں کے روگ اس سے دور ہوتے ہیں، اور انسانی جذبات واحساسات میں اس کے ذریعہ توازن پیدا ہوتا ہے۔ اس کو کبھی پڑھ کر لذت ملتی ہے اور کبھی پڑھ کر سنانے میں۔ ان لذتوں سے ناآشنا ہونے کا نتیجہ ہے کہ ہمارے تعلق بالقرآن میں کچھ گرمی نہیں پائی جاتی۔ درس قرآن دینے کے لیے اس کو پڑھتے ہیں تو روایتی مذہبیت کے مطابق، یا پھر تفہیم القرآن کے ذریعہ درس دے دیتے ہیں، اور چند قدم آگے بڑھے تو تدبر قرآن سے کچھ استفادہ کرلیتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میرے خیال سے چند ایک امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے:
۱) اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ قرآن مجید ایک کتاب آئین ہے لیکن ساتھ ہی وہ ایک آئینہ بھی ہے۔جس طرح آئینہ کا معاملہ ہے کہ انسان اس میں اپنی مکمل تصویر دیکھ لیتا ہے، عمر کا کوئی مرحلہ ہو، آئینے کے ساتھ اس کا تعلق ویسے ہی برقرار رہتا ہے، اسی طرح قرآن مجید ہے۔ یہ ایک آئینہ ہے۔ ایسا نہیں کہ آئینہ کا لفظ ہم اپنی جانب سے استعمال کررہے ہیں، خود قرآن مجید کی سورہ انبیاء میں بیان فرمایا گیا کہ ’’لقد انزلنا الیکم کتابا فیہ ذکرکم‘‘، یعنی اس میں تمہارا ذکر ہے، تمہارا بیان ہے، تم اس میں اپنی تصویر دیکھ سکتے ہو۔ ایک شخص آپﷺ کے پاس آیا اور کہا کہ قرآن میں ہماری تصویر نہیں ملتی تو آپﷺ نے فرمایا جاؤ تلاش کرو، جب اس نے دوبارہ قرآن مجید کا مطالعہ کیا تو اسے قرآن میں اپنا ذکر مل گیا۔ تحریکی افراد کے اندر قرآن کے ساتھ آئینہ کے اس رشتہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
۲) دوسری بات یہ ہے کہ قرآن ایک کتاب انقلاب ہے ۔۔ قرآن کو لے کر اٹھنے کا ہی نام تحریک اسلامی ہے، اقامت قرآن ہی کا دوسرا نام اقامت دین ہے، لہذا ہم جس تحریک کو لے کر اٹھے ہیں، ہم جو کچھ جدوجہد کررہے ہیں اس سلسلہ میں قرآن مجید سے رہنمائی حاصل کریں۔ قرآن مجید کو ہم ماضی کی ایک کتاب سمجھ کر پڑھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید ایک زندہ کتاب ہے۔ آج ہم جن حالات اور جن مسائل سے دوچارہیں اگر ان کے سلسلہ میں قرآن مجید سے معلوم کریں تو اس میں رہنمائی موجود ہے۔ہم نہ تو قرآن میں اپنی ذات کو پڑھتے ہیں اور نہ ہی اپنے سماج کو۔ ہمیں قرآن مجید کے اندر اپنی جدوجہد کو بھی پڑھنا چاہئے، اور اس سلسلہ میں قرآن سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے۔ دنیا بھر کی کتابوں کے تعلق سے ہمارا احساس ہوتا ہے کہ وہ ہماری عملی رہنمائی کریں گی تاہم اس عملی رہنمائی کے تعلق سے قرآن مجید کی جانب رجوع نہیں کرتے۔مثال کے طور پر اگر یہ دیکھنا ہو کہ ہم آج کے دور میں کہاں کھڑے ہیں ، تواس سلسلہ کی رہنمائی ہمیں قرآن میں بآسانی مل جاتی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موسیؑ کی تحریک کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو ایک طویل غلامی سے آزاد کرایاتھا۔ امت مسلمہ بھی ایک دور غلامی سے گزری ہے اور آج دھیرے دھیرے اس کے تمام ممالک آزاد ہوگئے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل آزادی کے بعد جس مقام پر کھڑے تھے، جن مسائل سے دوچار تھے ہم بھی اسی مقام پر کھڑے ہیں۔ اس دور میں لیڈر شپ کا مسئلہ بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔ موسیؑ طور پر گئے اور قوم نے سامری کو اپنا قائد منتخب کرلیا اور ہارونؑ جیسی قیادت کو برطرف کردیا۔ آج امت مسلمہ کے سامنے بھی دور غلامی سے نکل جانے کے بعد جہاں دیگر مسائل درپیش ہیں وہیں قیادت کا مسئلہ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ آج ہر جانب سامری کی قیادت امت مسلمہ کے لیے ایک چیلنج بنی ہوئی ہے جبکہ ہارون جیسی صالح قیادت کو بالکل برطرف کردیا گیا ہے۔
اس واقعہ سے ایک اور اہم بات سمجھ میں آتی ہے یدبیضا اور عصا کے ذریعہ اللہ تعالی نے قوم موسی کو غلامی سے نجات دلائی۔ پانی کا مسئلہ درپیش ہوا تھاتو فاضرب بعصاک الحجرکے ذریعہ پانی کا مسئلہ حل کیا گیا، لیکن ارض فلسطین کی خلافت کا مسئلہ درپیش ہوا تو خوئے غلامی میں مبتلا قوم موسی نے وہی فرمائش کردی کہ معجزہ کے ذریعہ فتح کردیا جائے (تو اور تیرا خدا لڑے) لیکن اس معاملے میں اللہ کی سنت دوسری ہے۔ قرآن خلافت وامامت کے ساتھ قوموں کی اجتماعی خصوصیات کے رشتے پر روشنی ڈالتا ہے، کہ اللہ تعالی کسی قوم کو زمین کی خلافت اسی وقت عطا کرتا ہے جب اس کا اجتماعی قوی اس بار امانت کو اٹھانے کے لائق ہو، اور اس اجتماعی قوی کی مضبوطی کے لیے بنیادی صفات لازمی ہیں، وہ بنیادی صفات جن کے سلسلہ میں علامہ اقبالؒ کہتے ہیں:
سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
علامہ اقبال کا یہ شعر قرآن مجید پر تدبر وتفکر کا نتیجہ ہے، صداقت ، عدالت اور شجاعت بنیای صفات ہیں، ان بنیادی صفات کے بغیر اجتماعی قوی کو مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔ بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ موسیؑ نے ان کو ید بیضا اور عصا کے ذریعہ غلامی سے تو آزاد کرالیا، تاہم ان کو ارض موعود کی خلافت اسی وقت نصیب ہوئی جب وہ چالیس سال تک صحرا اور ریگستانوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھاتے اور مارے مارے پھرتے رہے، اس کے بعد جب ان کی نئی نسل تیار ہوئی تو اس کی تربیت صحرا اور ریگستانوں میں ہوئی تھی، اس نے جب بنیادی صفات اپنے اندر پیدا کرلیں، حکم ملنے پر میدان جہاد کے لیے بے چوں وچرا نکل پڑے، اس وقت انہیں امامت کے منصب سے سرفراز کیا گیا ۔قرآن اس واقعہ کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ:

قَالُواْ یَا مُوسَی إِنَّا لَن نَّدْخُلَہَا أَبَداً مَّا دَامُواْ فِیْہَا فَاذْہَبْ أَنتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلا إِنَّا ہَاہُنَا قَاعِدُون۔ قَالَ رَبِّ إِنِّیْ لا أَمْلِکُ إِلاَّ نَفْسِیْ وَأَخِیْ فَافْرُقْ بَیْْنَنَا وَبَیْْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِیْن۔ قَالَ فَإِنَّہَا مُحَرَّمَۃٌ عَلَیْْہِمْ أَرْبَعِیْنَ سَنَۃً یَتِیْہُونَ فِیْ الأَرْض۔ (المائدہ: ۲۴؍ تا ۲۶)

ایک اور بات یہ کہ اگر آپ اپنی جدوجہد کو قرآنی جدوجہد بنالیں، اپنی تحریکی زندگی کو قرآنی زندگی میں تبدیل کرلیں، تو کافی اہم امور آپ کے سامنے آئیں گے۔ دیگر کتب کا مطالعہ کیجئے تواس سے اسی سلسلہ میں آپ کو رہنمائی ملے گی جس موضوع پر وہ کتاب تصنیف کی گئی ہے لیکن قرآن کا مطالعہ کیجئے گا تو اس موضوع کے تعلق سے تو رہنمائی کرے گا ہی، ساتھ ہی ساتھ آپ اس کے سبب خاص فیضان سماوی سے بھی بہرہ مند ہوں گے،کیونکہ قرآن مجید کی تلاوت محض مطالعہ نہیں ہے بلکہ حقیقی سرچشمہ علم کی طرف رجوع ہونا ہے، صاحب کلام سے ہم کلام ہونا ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ اس صورت میں ضمیر پر نزول کتاب کی جو لذت انسان کو حاصل ہوتی ہے، اس سے بھی آشنا ہونے کا موقع ملے گا۔ قرآن سے رشتہ مضبوط ہو گا۔ اس صورت میں قرآن کے مطالعہ، تدبر اور فہم کے علاوہ بھی ایک لذت ملے گی،جس کو قرآنی رزق کہتے ہیں،جس کا ذکر مریم ؑ کے سلسلہ میں آتا ہے کہ ان کو رب کی جانب سے رزق ملا کرتا تھا۔
۳) ایک آخری بات یہ کہ قرآن پاک کی تلاوت جو لوگ حق تلاوت کے جذبے کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی صحبت اختیار کرنے سے بھی تعلق بالقرآن میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہم کو یاد آتا ہے کہ جب ابتدا میں تحریک سے ہم لوگ وابستہ ہوئے تھے اس وقت جو لوگ غوروفکر کرتے رہتے تھے ہم ان کی صحبت اختیار کرتے تھے، ان سے رابطہ رکھتے تھے، ہم نے ڈاکٹر سید ضیاء الہدی ؒ سے استفادہ کیا ہے،مولانا جلیل احسن ندویؒ اورمولانا صدرالدین اصلاحیؒ سے استفادہ کیا ہے۔ اور بہت سے مواقع پر ہم نے ان کو دیکھا ہے کہ وہ کس طرح قرآن سے استنباط کررہے ہیں اور کس طرح رب کی جانب سے تازہ تازہ رزق ان کو مل رہا ہے۔ اگر آپ چاہیں توتجربہ کرکے دیکھ لیں، آج بھی ایسے لوگ تحریک کے اندر یا تحریک کے باہر موجود ہیں جو قرآن کو اپنی جدوجہد کے لیے آئین، آئینہ اور روشنی کے طور پر استعما ل کرتے ہیں،قرآن نے اس کتاب کو مختلف نام دے کر اس کی مختلف حیثیتوں کو اجاگر بھی کیا ہے، آپ اس کو سمجھیں تو تلاوت قرآن میں نئی لذت،حلاوت اور مٹھاس ملے گی۔

ڈاکٹر حسن رضا: رکن مرکزی مجلس شوری جماعت اسلامی ہند

(مبنی بر گفتگو: ابوالاعلی سبحانی)

Comments are closed.