یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُون۔ (الحشر: ۱۸)
ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقوی اختیار کرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناًتمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
تقوی ایمان کی علامت ہے۔ ایمان اور تقوی لازم وملزوم ہیں،قرآن مجید میں اہل ایمان کوبار بار تقوی اختیار کرنے حکم دیا گیا ہے،اگر انسان تقوی سے محروم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان کی حقیقی لذت سے ناآشنا اور تاریکی سے قریب تر ہے۔ تقوی کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اپنی کتاب ’’حقیقت تقوی‘‘ میں بہت ہی واضح اور شاندارگفتگو کی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ’’حضرات انبیاء کرام ؑ جن کا اصلی کام ہی لوگوں میں تقوی پیدا کرنا تھا،انہوں نے اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کوجس تقوی کی دعوت دی ہے وہ تقوی یہی تھا کہ لوگ اللہ کے حدود واحکام کے پابند ہوجائیں، اس کی نافرمانی وبغاوت سے توبہ کریں، نہ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں، نہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں جو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں، زندگی کے تمام گوشوں میں اس قانون کی پیروی کریں جو اللہ نے اتارا ہے اور اس بات سے ڈرتے رہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر شخص کو خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے گی اور ہر شخص کی نیکی یابدی اس کے سامنے آئے گی‘‘۔(حقیقت تقوی: ص:۷۲)
ایک مرد مومن سے اس بات کا مطالبہ ہے کہ اس کی پوری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کے حدود کی پابندی کرتے ہوئے گزرے۔ ایک شخص جو مومن ہونے کا دعوی تو کرتا ہے لیکن کچھ ظاہری اعمال اور افعال پر اکتفا کربیٹھتا ہے، اس کے دل میں اللہ کا خوف، اس کے حدود کی پابندی اورمنکر چیزوں سے بچنے اور معروف چیزوں کو پھیلانے کا جذبہ موجود نہیں ہوتا، جان لیجئے کہ اس کی کشتی بھنور میں ہے اور ایک ہلکی سی موج اسے غرقاب کردینے کے لیے کافی ہے۔
تقوی اور فکرآخرت کے درمیان بہت ہی گہرا رشتہ پایا جاتا ہے، اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ روز آخرت کی کامیابی کا دارومدار اسی تقوی پر ہے، جس روز کوئی بھی شخص دوسرے کے کام نہیں آئے گا، اس دن انسان کا اعمال نامہ ہی اس کے لیے سب کچھ ہوگا، قرآن مجید میں ہے: ’’اس دن بھائی اپنے بھائی سے دُور بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے‘‘۔
ذرا رک کر سوچیں!! احتساب کریں کہ صبح وشام کی سرگرمیوں میں ہم اللہ رب العزت کو کس قدر یاد رکھتے ہیں، اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں کہ اس کے دین کی خاطردن بھر کی جدوجہد میں کیا کچھ کرتے ہیں، اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں کہ ہم اللہ کے حدود کی پابندی کررہے ہیں یا اللہ کے مقررکردہ حدود کو توڑرہے ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اللہ کے حدود واحکام کے پابندی کریں گے، اس کی نافرمانی وبغاوت سے توبہ کریں گے، نہ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، نہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں گے جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں، زندگی کے تمام گوشوں میں اس قانون کی پیروی کریں گے جو اللہ رب العزت نے اتارا ہے اور اس بات سے ڈرتے رہیں گے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر شخص کو خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے گی اور ہر شخص کی نیکی یابدی اس کے سامنے آئے گی۔
(محمد عاصم، جے پور،راجستھان۔)








