کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

آپ کے خطوط

جنوری ٢٠١٢

مسجد کو خدمت خلق کا مرکز بنائیے
جناب عبدالرقیب صاحب کا مضمون ’’مسجد کو خدمت خلق کا مرکز بنائیے‘‘ ایک اہم موضوع پر ایک وقیع تحریر ہے، انہوں نے اس سلسلہ میں کافی اہم نکات پیش کیے ہیں کہ دور نبوی میں کس طرح مساجد خدمت خلق کا مرکز تھیں، وہاں سے کیا کیا سرگرمیاں انجام دی جاتی تھیں، لیکن موصوف محترم نے اسوہ رسول اور مسجد نبوی کے کردار پر گفتگو کرتے ہوئے اس موضوع پر مکمل خاموشی اختیار کی ہے کہ مساجد اپنے اس کردار سے کس طرح محروم کردی گئیں، اس کے کیا اسباب اوروجوہات تھیں، یہ ایک اہم سوال ہے، جس پر گفتگو ہونی چاہئے۔
مساجد کا اصل کام افراد کی ذہن سازی اور رہنمائی ہے،ضرورت ہے کہ مساجد کے ائمہ کے درمیان خدمت خلق کا صحیح تصور عام کردیا جائے، اور وہ اس کی وسعت اور حقیقت سے واقف ہوجائیں، وہ مسجد کے منبر سے خدمت خلق کے تعلق سے بھرپور رہنمائی کا فریضہ انجام دیں، اگر ایسا ہوگیا تو کوئی ضروری نہیں کہ مساجد سے ان تمام کاموں کا آغاز کیا جائے، مساجد میں پنجوقتہ نمازیں ادا کرنے والے، وہاں سے خدمت خلق کے صحیح تصور پر مبنی تلقین اور درس سماعت فرمانے والے افرادخود اس سلسلہ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
موصوف کی یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ مسجد نبوی میں خواتین اور بچوں کا داخلہ ہوتا تھا، وہ نمازیں اداکرنے مسجد تک تشریف لاتی تھیں، آج ہندوستان میں معدودے چند ہی ایسی مساجد مل سکیں گی جہاں عورتوں کے لیے بھی باقاعدہ نظم کیا جاتا ہو، اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ عورتوں اور بچوں کے لیے مساجد میں خصوصی نظم کیا جائے، اس سے بچوں کی ذہن سازی ہوگی، عورتوں کی رہنمائی ہوگی، ایک وقت آئے گا کہ خواتین بھی مردوں کے ساتھ سماجی جدوجہد میں شریک ہوں گی۔
اسی سے ملتی جلتی ایک اوربات ہے، اس کی اہمیت موجودہ حالات کے تناظر میں یک گونہ زیادہ ہے، نئی نسل جو آج عصری درسگاہوں میں زیر تعلیم ہے، جس کے تعلق سے مستقل شکایات سننے میں آتی ہیں کہ وہ اسلامی اقدار وروایات سے ناواقف ہوتے ہیں، قرآن مجید نہیں پڑھ پاتے، دین کی بنیادی معلومات بھی بہت کم رکھتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ آج مساجد میں نئی نسل کے لیے ایسی اسلامی کلاسیز کا اہتمام ہونا چاہئے، جو صبح بعد نماز فجر، بعد نماز مغرب یا کسی بھی مناسب وقت میں گھنٹہ دوگھنٹہ کے لیے رکھی جائیں، ان کلاسیز کی اہمیت وافادیت کو عام کیا جائے، لوگوں کو ترغیب دلائی جائے کہ اپنے بچوں کو ان کلاسیز سے وابستہ کریں، تاکہ دینی تعلیم کے سلسلہ میں جو تشنگی محسوس کی جاتی ہے وہ تشنگی کچھ حد تک دور ہوسکے۔ بعض جگہوں پر اس کا تجربہ کافی کامیاب ہے، اس قسم کی سرگرمیاں مساجد کے کردار کو مزید مستحکم اور منفعت بخش بناسکتی ہیں۔
محمد دانش، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو
ماہ دسمبر کا رفیق موصول ہوا، سرورق کی کہانی’’وال اسٹریٹ پر قبضہ کرو‘‘ پر جناب صبغت اللہ حسینی اور وصی اللہ صاحب کے مضامین کافی اہم اور دلچسپ ہیں، جناب وصی اللہ صاحب کے مضمون میں تشنگی محسوس ہوتی ہے، ممکن ہے اس کا سبب موصوف کی اختصار پسندی ہو۔ صبغت اللہ حسینی صاحب کی یہ بات یقیناًقابل غور ہے کہ ’’بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اپنی موجودہ شکل میں یہ تحریک زیادہ دنوں تک چل نہ پائے۔ لیکن اس کے ذریعے اٹھائے گئے سوالات کا جب تک جواب نہ ملے اور جس نظام کے خلاف یہ لوگ کمربستہ ہوگئے ہیں اس کا علاج جب تک نہ ہو یہ برہمی اور اضطراب بہرصورت جاری رہے گا،، اسی طرح آگے لکھتے ہیں کہ’’اسلام کے ماننے والوں اور دین حقیقی کے حتمی، دائمی اور مکمل ہونے پر جن لوگوں کا ایقان ہے انھیں اس صورتحال کا متبادل پیش کرنے کا ایک اچھا موقع حاصل ہے۔ تیونس میں محمد بو عزیزی کا ٹھیلہ پلٹ کر زین العابدین بن علی نے جو آگ بھڑکائی تھی اس نے تیونس ، مصر اور لیبیا کے ڈکٹیٹرس کا بیڑہ غرق کردیا اور اب یہی طوفان ان کے سرپرستوں کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔ ظلم اور جبر جب اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے تو یہی نکتہ اس کے زوال کا آغاز بھی ہوتا ہے۔ حسنی مبارک اور بن علی کی داستان یہی کہتی ہے اور امریکی سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف غریب مظلوم عوام کی آواز بھی یہی پیغام دیتی ہے‘‘۔ اللہ رب العزت ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین
محمد احمد خان، پٹنہ


مولانا فاروق خاں کے مضامین
ماہ دسمبر کے رفیق منزل میں جناب مولانا فاروق خاں صاحب کا مضمون ’مطلوبہ صفات اور قرآن‘ دیکھا، کافی خوشی ہوئی۔ بہت دنوں کے بعد جناب مولانا فاروق خاں صاحب ہمارے رفیق کے صفحات پر نظر آئے، مولانا کی تحریریں اپنی نوعیت کی منفرد تحریریں ہوتی ہیں، نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ کو سامنے رکھ کر بہت ہی آسان اور سادہ اسلوب میں اسلامی علوم اور معارف کی تشریح مولانا کا اہم کارنامہ ہے، مولانا کا یہ امتیاز ان کی پانچ جلدوں میں شائع ’’کلام نبوت‘‘ میں بھی نظر آتا ہے اور دیگر چھوٹی بڑی کتابوں میں بھی، مولانا نے جدید افکارونظریات پربہت کچھ تحریر کیا ہے۔ میری جانب سے گزارش ہے کہ رفیق منزل میں مولانا کا ایک تفصیلی انٹرویو یا پھر مولانا کی خدمات کا ایک جامع تعارف آجائے تو قارئین رفیق کے لیے تحریک کی اس عظیم شخصیت سے واقفیت میں اضافہ ہوگا، امید کہ میری گزارش پر غور کریں گے۔
عبدالعظیم، بھیونڈی

Comments are closed.