اینٹی کرپشن ریلی
ریلی شروع ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا، اعجاز جو کہ جواہر ڈگری کالج کی اسٹوڈنٹس یونین کا لیڈر تھا، چالیس پچاس لڑکوں کو لے کر بس سے نکلا تھا۔
’’ارے ڈرائیور جلدی کرو یار۔۔۔ صرف آدھا گھنٹہ باقی ہے۔۔۔ پچیس منٹ تو راستے میں ہی لگ جائیں گے‘‘۔ اعجاز نے کہا۔
یہ سن کر ڈرائیور نے اسپیڈ اور بڑھادی، لیکن چند منٹ بعد ہی۔ ’’ارے گاڑی کیوں روک دی۔۔۔ پہلے ہی سے دیر ہورہی ہے‘‘
’’سر گاڑیوں کی چیکنگ ہورہی ہے‘‘
’’تم نکالو گاڑی۔۔۔۔ وہ بعد میں دیکھ لیں گے‘‘
ڈرائیور تھوڑی دور ہی چل پایا تھا کہ پولیس والوں نے گھیر لیا، آخر گاڑی روکنی ہی پڑی۔
’’کیوں بے پولیس کو دیکھ کر بھی گاڑی نہیں روکی تونے۔۔۔۔‘‘
’’سر ہم ایک ضروری کام سے جارہے ہیں‘‘اعجاز نے کھڑکی سے باہر سر نکالتے ہوئے کہا۔
’’کام تو سارے ضروری ہی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن جب پولیس والوں نے روکا تھا تو رکنا چاہئے تھا نا۔۔‘‘
اعجاز نے پانچ سو کا ایک نوٹ نکال کر پولیس والے کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا’’یہ لو صاحب۔۔ اب بس کرو۔۔۔ ہم اینٹی کرپشن ریلی میں شریک ہونے جارہے ہیں‘‘
’’ہاں ہاں۔۔ جاؤ بھئی۔۔ تم اچھے کام کی خاطر جارہے ہو، اس لیے چھوڑدیتا ہوں ورنہ آگے سے ایسی امید مت رکھنا۔۔ سمجھے‘‘
پولیس والے نے نوٹ جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔
ڈاکٹر صاحب
’’ڈاکٹر صاحب! کچھ رحم کھاؤ۔۔ بچے کی جان کا سوال ہے‘‘
’’ہم نے تمہارے بچے کی جان کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ہے، سمجھے!‘‘
’’صاحب ابھی تھوڑی دیر میں ہمارے رشتہ دار پیسے لے کر پہنچ جائیں گے۔۔۔ تم آپریشن شروع کردو۔۔‘‘
’’میں نے کہا نا۔۔۔ جب تک فیس جمع نہیں ہوگی، آپریشن شروع نہیں ہوگا‘‘
جمن ڈاکٹر کے چیمبر سے باہر آگیا۔
تھوڑی دیر بعد جمن دوڑتا ہوا ڈاکٹر کے چیمبر میں داخل ہوا۔
’’ڈاکٹر صاحب۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔ میرا بچہ۔۔‘‘
ڈاکٹر نرسوں کے ساتھ پہنچا۔
’’کیا کریں سر؟!‘‘
’’پانی لگادو۔۔ اور گلوکوز کے ایک دو انجکشن لگادو‘‘
’’اس سے کیا ہوگا سر؟ ۔۔۔ اسے تو۔۔‘‘
’’جیسا کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو! سمجھے‘‘
’’یس سر‘‘
ایک گھنٹے بعد
ہسپتال میں جمن اور اس کی بیوی کی دل دوز چیخیں گونجنے لگیں۔
’’یہ کون لوگ شور مچا رہے ہیں؟‘‘
’’سر وہ۔۔ ایمرجنسی وارڈ میں جو بچہ تھا نا۔۔ وہ۔۔‘‘
’’مرگیا؟‘‘
’’جی‘‘
’’ان سے کہو کہ زیادہ شور نہ مچائیں۔۔ ایمبولینس کو فون کرو اور جتنی جلدی ہوسکے انہیں واپس بھیج دو‘‘۔
ناصر مرتضی








