کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

امتحان اور اس کی تیاری۔۔۔؟

جنوری ٢٠١٢

امتحان توآخرامتحان ہے۔زندگی بھی ایک امتحان ہے۔ انسان کی ساری زندگی امتحان سے گزر کر ہی کامیابی کی شاہ راہ پر پہنچتی ہے۔ اللہ رب العزت نے سارے انسانوں کو پیدا ہی اس لئے کیا کہ انسانوں کا امتحان لے کر جنت اور جہنم دے۔ جو انسان نیک عمل کرے گا اس کے دائیں ہاتھ میں نامہ اعمال ہوگا، اور اسے جنت ملے گی۔ اور جن انسانوں نے برے فعل کیے ان کے بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دے کر جہنم رسید کر دیا جائے گا۔یہ بات آخرت سے متعلق ہے۔ اگر ہم اپنے طالب علمی کے زمانے کا جائزہ لے تو ہم پر یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ جو طالب علم اسکول و کالج کے امتحان میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کی خوشی اور مسرت کا مقام نہیں رہتا، اس کے والدین ، اساتذہ ، پورے محلے والے اور رشتہ دار ، دوست واحباب میں خوشی ہوتی ہے۔ جو طالب علم ناکام ہوتا ہے تو وہ اپنے آپ ہی مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔اور سوچتا ہے کہ کاش! میں نے تھوڑی تیاری کر لی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔آخرت میں بھی ناکام و نامراد لوگوں کا یہ حال ہوگا۔ قرآن میں کئی جگہ بتایا گیا ہے کہ ناکام و نامراد لوگ کہیں گے کہ اے کاش! میں نے نبیﷺ کی بات مانی ہوتی ۔اچھا ہوتا کہ میں اپنی زندگی میں نیک اعمال کر لیتا ۔
طالب علم دوستو!امتحان۔۔۔ مقصد سے لگن کا، اس کی جانب پیش قدمی اور حصول کے لئے قربانیاں دینے کا نام ہے۔
لیکن ! امتحان ان لوگوں کے لئے آزمائش نہیں بنتا جو اس کو ایک بوجھ کی جگہ کامیابی کے لئے ایک ضرورت سمجھتے ہیں۔ عین ضرورت ! امتحانات سے گھبراتے اور بھاگتے نہیں ہیں۔اور نہ ہی مجبوری سمجھ کر اسے کسمساتے ہوئے دیتے ہیں بلکہ ان کو اپنی صلاحتوں اور قابلیتوں کو نکھارنے اور ظاہر کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔وہ امتحانات کو روشن مستقبل کا ’ دروازہ جانتے ہیں ۔ چنانچہ بڑی خوش دلی اور بھر پور تیاری کے ساتھ اس کاا ستقبال کرتے ہیں۔ یہ آزمائشی گھڑی آپ کے لئے آ پہنچی ہے۔آپ کا ’امتحان‘ لینے !
آیئے ! دیکھیں کہ امتحان کی تیا ری کس طرح کی جائے اور کیوں۔۔۔؟؟؟
*مقصد کا تعین:
سب سے پہلے کسی بھی کام کو شروع کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہم اپنے مقصد کو طے کریں اور اس کے سلسلے میں ساری جدوجہد اور کوشش کریں، اسی وقت ہم کسی کام کو اچھے انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔ ہم کو اُس مسافر کی طرح نہیں ہونا ہے کہ جسے یہ ہی نہیں پتہ ہو کہ اس کو کس منزل پر پہونچنا ہے ،اگر مقصد واضح رہے گا تو ہم واضح طور سے امتحان کی تیا ری کر سکتے ہیں۔اگر ہم نے صرف یہ مقصد بنایا کہ ہمیں امتحان میں پا س ہونا ہے تو ہم کو ئی بڑ ا کام انجام نہیں دے سکتے ، طالب علم کی سوچ اور مقصد بہت واضح اور صاف ہونا چاہئے۔ہم اپنے آپ کا جائزہ لے! کہیں اپنے آپ کو احساسِ کمتری میں تو مبتلا تو نہیں کرلیا کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ جو آپ سے آپ کے والدین کو مطلوب ہے اور جس کی شدید تمنا خود آپ کی بھی ہے۔اس بات پر کبھی اکتفا نہیں کرنا ہے کہ چھوٹا مقصد بنا کر کام کیا جائے۔
ہر برگ پکارے گا تجھے پیار سے سو بار
دامن میں الجھ کر تجھے روکیں گے بہت خار
دامن کو بچاتا ہوا خاروں سے گزر جا
منزل تیری آگے ہے ستاروں سے گز را
“The greates barrier to success is the fear of failure.”
آپ کی منزل تو اپنے ساتھیوں میں سب سے اونچی ہونی چاہیے ۔( کلاس ٹاپر ، سٹی ٹاپر، بورڈ ٹاپر)۔۔۔لیکن کیا آپ کو ایسی بلند کامیابی سے متعلق شک اور تردد ہے۔ ڈر اور خوف ہے ۔ جھجک ہے۔ کیا آپ اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں پاتے یا یہ بھی ناممکن !
Winners are to busy, to be sad
too optimistic, to be fearful
to determine, to be defeated
کامیاب لوگ اتنے پر عزم ہوتے ہیں کہ کوئی اندرونی اور بیرونی عنصر ان کو حصول مقصد سے نہیں روک سکتا ۔ یہاں تک کہ ان کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی کمی بھی نہیں! ان کا فولاد ی عزم ان کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ اس کے ہوتے وہ کسی کمزوری کو خاطر میں نہیں لاتے۔ یہ عزم ان کو اپنے مقصد کے لئے جھونک دینے اور حد درجہ کوشش کردینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ان کی عملی جدوجہد کو جنونی کیفیت میں تبدیل کر دیتا ہے اور پھر یہ جنونی کیفیت انھیں منزل تک پہنچانے کا ذمہ لے لیتی ہے۔ تو عزم کیجئے ۔۔۔ٹاپ کرنے کا۔۔۔
خرم مرادؒ نے کہا تھا۔’’ اگر تم آسمان کا نشانہ لے کر تیر چلاؤ گے تو وہ آسمان تک تو یقیناًنہیں جائے گا لیکن ’ بہت دور ضرور جائے گا۔‘‘
*امتحان سے ڈرنا یانفرت کرنا اورخود اعتمادی پیدا کرنا
چند طلبہ اچھا پڑھنے کے باوجودامتحان سے خوف یا نفرت کرتے ہیں اِس کی وجہ خیال کا بٹنا ہوتا ہے اور جس سے نمبرات میں کمی ہوتی ہے، اِس لئے ڈر یا نفرت کو امتحان سے پہلے دماغ سے نکال دیں اور خود پر اعتماد رکھیں یہ آپ کی کامیابی کیلئے ضروری طاقت بنے گی۔
* نوٹس جمع کرنا
پہلے اپنے پاس موجود نوٹس کا جائزہ لیں اور اگر کمی محسوس ہو تو اپنے دوستوں یا اساتذہ کے پاس سے جمع کرلیں، اگر پھر بھی نہ ہو تب خریدلیں۔
*منصوبہ بنائیں اور ایک اچھے نظام الاوقات کے مطابق تیاری کریں
ایک عملی منصوبہ بنائیں جس میں امتحان سے پہلے تمام اجزاء(Material ) یا نوٹس مکمل طور پر وقت کے لحاظ سے آجائیں۔ایک اچھا منصوبہ اُس وقت بن سکتا ہے جب اُس پر عمل آوری ہو۔پڑھنے سے پہلینظام الاوقات (Time Table) تیار کرلیں جس میں تمام موضوعات(Subjects ) ترجیحات کے لحاظ سے شامل ہوں جیسے مشکل موضوعات کو زیادہ اور آسان موضوعات کو کم وقت دیں لیکن اِس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ تفریح اور کھیل تماشہ کیلئے بھی وقت مقرر کریں اور ہرایک موضوع کے درمیان میں تھوڑا سا وقفہ دیا کریں۔
*پڑھنے کے لیے اچھے ماحول کا انتخاب کرنا
اِس نکتہ کو سمجھانے کی ضرورت نہیں، ظاہر سی بات ہے کہ پڑھائی میں ماحول اہم رول ادا کرتا ہے، کوئی بھی T.V دیکھتے پڑھ سکتا ہے؟ اگر نہیں، تواِس کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں سکون ہو جس سے آپ توجہ کے ساتھ پڑھ سکیں گے۔ایک موضوع (Subject ) کو توجّہ سے اُس وقت پڑھ سکیں گے جب دیگر موضوعات کی کِتابیں نظروں سے دور رکھیں تاکہ دوسرے پڑھنے والے موضوعات لے کر پریشان نہ ہوں۔اور زیادہ بہتر ہے صبح سویرے پڑھائی کریں کیونکہ اُس وقت اطراف و اکناف میں خاموشی ہوگی جس سے آپ زیادہ توجّہ سے پڑھائی کرسکیں گے اور آپ کی توجّہ کی درجہ بندی بھی ضروری ہے۔
* اچھے طریقے سے بیٹھنا
یہ بہت ضروری ہے کہ آپ پڑھائی کر تے وقت سہی طریقے سے بیٹھیں۔بستر پر لیٹے یا کرسی پر تکیہ لگائے نہ پڑھیں بلکہ کرسی پر سیدھے بیٹھ کر پڑھائی کریں ۔ پڑھتے وقت آپ کی ریڑھ کی ہڈّی سیدھی ہو، پیروں کو زمین پر سیدھے اور کچھ اوپر رکھنے کی کوشیش کریں اگر ایسا نہ کریں تو نیند آنے لگے گی اور ہوشیار رہیں کہ پیر سر کے برابر نہ آئیں کیونکہ خون کے بہا ؤ پر اثر انداز ہوتا ہے جو نیند کا سبب بنتا ہے۔
* پڑھنے کے دوران نوٹس تیار کرنا
یہ ایک اہم نکتہ ہے کہ پڑھنے کے دوران مختصر نوٹس تیار کرلیں، یہ نوٹس تفصیلی نہ ہوں، مختصر نوٹس سے اسباق کو دہرانے میں آسانی ہوگی۔
(i) . ایک مثالی نوٹس میں تمام اہم ضابطے، نقشے اور دوسرے اہم نقاط شامل ہوں۔ہر بار اہم نکات ڈھونڈنے کے لئے کتاب میں ایک سے دوسرے صفحہ پر جانے کے بجائے ایک بار تیار کردہ نوٹس ایک یا دو گھنٹوں میں دہرانے کے لئے کارآمد ثابت ہوں گے۔
(ii) . معلومات کو یاد رکھنے کے لیے منصوبہ استعما ل کریں۔معاون حافظہ منصوبہ ایک ایسا طریقہ کار ہے جس سے طلبہ کو دہرانے میں آسانی ہوتی ہے۔معاون حافظہ معلومات کو یاد رکھنے کا ایک آسان راستہ ہے۔
مثلاً:آپ سخت لفظ کو اُس سے ملتا جلتا ہلکا لفظ یاد رکھنے کیلئے، بہترین معاون حافظہ وہ ہے جس میں مثبت خیالی تصویر،مزاح اورنیاپن استعمال ہو۔ اِس سے سخت الفاظ کو نظم، گانے، یا مزاحیّہ انداز میں معلومات کے تھوڑے سے حصّہ کو یاد رکھنے میں مدد ملے گی۔
(iii) . مختصر جوابی سوالات یا بٹس پر توجہ کریں ۔اکثر طلبہ اِس کو نظر انداز کرتے ہیں اور زیادہ توجہ طویل سوالات کے جوابات پر رکھتے ہیں مختصر جوابی سوالات یا بٹس کو یاد رکھنے کیلئے پچھلے سال کے ماڈل پیپرس کا مطالعہ کریں کیونکہ زیادہ تر سوالات اور بٹس اُسی میں سے دہرائے جائیں گے۔
* اچھی طرح سونا اور کھانا
آپ کو اچھی طرح سونا ہوگا۔اگر سونے سے محروم ہوئے تو پڑھائی پر اثر پڑتا ہے۔سونے کیلئے کم از کم 6 گھنٹے مقرر کرلیں خاص طور پر امتحان سے پہلے رات کو 6 تا8 گھنٹوں تک سونا ضروری ہے۔اور یاد رہے کہ ہر دن مقرر کردہ غذا لیں اس سے آپ کے امتحان پراثر پڑے گا ۔روزامتحان کے وقت تیزی سے غذا نہ لیں ورنااِس کا آپ پر اُلٹاثر دکھائی دے گااِس لئے صیح طور پر غذا لیں۔اور یاد رہے کہ سونے سے پہلے ایک گلاس پانی پی کر سوئیں یہ آپ کے دماغ کے خلیوں کو چارج رکھے گا۔
* اﷲ اور خود پر یقین رکھیں
آخری مگر اہم نکتہ یہ ہے کہ امتحان سے 15 یا5 منٹ پہلے دماغ کو سکون سے رکھیں اور عبادت بھی(نماز یا دعا) کریں جس سے آپ کو زیادہ توانائی اور سکون ملے گا۔جو آپ کے لئے مفید اور نفع بخش ثابت ہوگااور یہ بہت ضروری ہے کہ خود پر اعتمادرکھیں جس سے آپ کو دلکش نتائج ملیں گے۔
اور چند اہم نکات امتحان سے پہلے:
(i) . خود اعتمادی سے امتحان دیں۔
(ii) . زیادہ رٹیں نہیں۔امتحان سے پہلے اپنی غذا اور آرام کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔
(iii) . ضرورت کے اعتبار سے امتحان میں استعمال ہونے والے تمام آلات ساتھ میں لے کر جائیں
(iv) . امتحان کے 30 یا45 منٹ پہلے پوری تیاری سے امتحان گاہ (Exam Centre )کو پہنچے۔
(v) . امتحان گاہ کے باہر دوسرے طلبہ کے ساتھ لکھے ہوئے Subject کے بارے میں اظہارِ خیال سے پرہیز کریں۔
دوران امتحان :
(i) . سکون اور ترکیبی خاکہ کے ساتھ امتحان گاہ میں 5 منٹ پہلے داخل ہوجائیں۔
(ii) . اپنی مقرر کردہ جگہ پر بیٹھیں اور Hall Ticket کی تصیح کرلیں۔
(iii) . جواب لکھنے کا پرچہ حاصل کرلیں اور ضرورت کے اعتبار سے Hall Ticket نمبر، حاشیہ پر لکیریں وغیرہ کھینچ کر تیار رہیں۔
(iv) . Invigilator کے اعلانات کو غور سے سنےئے۔
(v) . اپنے دماغ میں غیر ضروری خیالات کو نہ آنے دیں اور سوالات کے پرچہ کاانتظار خاموشی کے ساتھ کریں۔
(vi) . سوالات کے پرچہ لینے کے بعد کوئی جلدی نہ کریں۔
(vii) . ہدایات کو غور سے پڑھیں۔
(viii) . ان سوالات کو اچھی طرح سمجھ لیں جن کے جواب دینے ہوں۔
(ix) . سوالات کے پرچے میں سوالات پر نشان لگائیں کہ کن سوالات کے جواب پہلے دینے ہیں اور کن کے بعد میں۔
(x) . سوالات کے نمبرات کے مطابق اپنے وقت کو تقسیم کریں۔ مثلاً: دسویں جماعت کا امتحان ۔درکار وقت:2 1/2 گھنٹے = 150 منٹ
30 منٹ بٹس پرچہ کیلئے اور بچا ہوا وقت 120 منٹ
چار سکشن کے وقت کو تقسیم کریں
سکشنA : 10% (10 نشانات) X 150 منٹ = 35.14 = 35 منٹ
سکشنB : 4% (4 نشانات) X 150 منٹ = 13.6 = 13 منٹ
سکشنC : 16% (16 نشانات) X 150 منٹ = 54.72 = 55 منٹ
سکشنD : 5% (5 نشانات) X 150 منٹ = 17.1 = 17 منٹ
(xi) . جو کچھ تم نے یادکیا ہے اِس سے تمہارے نمبرات پر کوئی اثر نہ ہوگا بلکہ اس پرصرف تمہارے لکھنے کا اثر ہوگا۔ جواب کو نکات میں لکھیں اور طویل جوابات میں اہم نکات پر نیچے لکیر لگانا نہ بھولیں۔
(xii) . آپ کو معلوم ہے کے First impression is last impression’مطلب پہلے وہ جوابات لکھیں جو آپ کو اچھی طرح سے یاد ہوں۔اِس کی وجہ سے ممتحن پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ مشکل سوالات کو ایک طرف چھوڑدیں اور اُس پر مایوس نہ ہوں آخر میں ہوسکے تو جواب لکھیں۔
(xiii) . صاف طور پر لکھیں دو جوابات کے درمیان تھوڑی سی جگہ چھوڑدیں اگر صفحہ میں جواب ختم ہونے کے بعد تھوڑی سے جگہ موجود ہوتواُس جگہ اگلا جواب نہ لکھیں بلکہ دوسرے صفحہ پر لکھنا بہتر ہے اور جواب میں پیراگراف اور نکات کے درمیان کچھ جگہ چھوڑدیں۔
(xiv) . وقت کی پابندی اور تمام سوالات کے جوابات دینے کیلئے فکر مند رہیں۔اگر کوئی سوال جو آپ کے نصاب میں سے نہ ہوتو سوال کا نمبر ڈال کر کچھ لکھیں یا چھوڑدیں عام طور پر ایسے سوالات پر پور ے نمبرات ملتے ہیں۔
(xv) . عزیز طلبہ کوئی بھی ناجائز کام (کاپی کرنا وغیرہ )نہ کریں اِس سے آپ کے نمبرات پر اثر پڑے گایا آپ کو امتحان لکھنے میں دقت پیش آئے گی۔
(xvi) . مکمل جوابات لکھنے کے بعد تمام پرچے کی جانچ کرلیں کہ کہیں کوئی چیز چھوٹ نہ جائے ۔ وقت کا پورا استعمال کریں اور جب تک وقت مکمل طور پر ختم نہ ہو، اس وقت تک امتحان گاہ سے باہرنہ جائیں۔
(xvii) . ایک اور بات یاد رہے کہ امتحان کے بعد لکھے ہوئے امتحان کے بارے میں بحث نہ کریں کیونکہ یہ آپ کے آنے والے امتحان پر غلط اثر ڈالے گی، اِس لئے دوستوں سے بغیر کوئی بحث کیے گھر لوٹ جائیں۔اللہ آپ کا حامی وناصر ہو۔۔

 

ارشاد خان ۔امراؤتی

Comments are closed.