بحث و مباحثہ انسان کا امتیازی وصف ہے۔ حیوانات جھگڑا تو کرسکتے ہیں لیکن بحث و مباحثہ سے عاری ہوتے ہیں، اس لیے کہ جھگڑے جذبات سے ہوتے ہیں جبکہ مباحث عقل سے ہواکرتے ہیں اور یہی عقل کی صلاحیت جانوروں سے انسان کو ممتاز کرتی ہے؟ ارادے اور فکر کی آزادی سے انسانی عقل مزین ہے۔ اس لیے افکارو خیالات میں فرد فرد کے مابین تعاقب ایک لازمی امر ہے۔ انسانی فکر پختہ تر ہوتی ہے تین ذرائع سے:(1) مطالعہ، (2) مشاہدہ، (3) مباحثہ۔ پہلے دو موضوعات سے تعرض کیے بغیر تیسرے ذریعہ پرگفتگو کرنا اس وقت پیش نظر ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ مباحثہ میں حسن پیدا ہوتا ہے، مطالعہ کی گہرائی اور مشاہدہ کی وسعت سے۔ مطالعہ اور مشاہدہ کی قلت مباحثہ کو جھڑپ اور جھگڑے میں تبدیل کردیتی ہے۔
بحث و مباحثہ سے علم آگے بڑھتا ہے۔ بحث و مباحثہ نہ ہوتے تو نیوٹان کے بعد آئنس ٹائن، غزالی کے بعد ابن تیمیہ، کانت کے بعد مارکس، امام ابوحنیفہ کے بعد امام محمد کی ضرورت نہ ہوتی۔ بحث و مباحثہ سے مسائل حیات کے حل کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔ علوم انسانی بٹی ہوئی رسی کی مانند ایک دوسرے سے تقویت پاکر مضبوط ہوتے ہیں۔
بحث و مباحثے کے میدان میں فلسفہ، ادب، سائنس وغیرہ ہوتے ہیں۔ مگر اس مضمون میں طریقہ و ادب پر اظہار خیال کرتے ہوئے صرف ان نکات کو پیش کیا جارہا ہے جو بحث و مباحثہ کے تحریکی میدان سے متعلق ہیں۔
بحث و مباحثہ کا مفہوم
بحث سے مراد وہ علمی گفتگو یا تحریر مانی جائے گی جس میں ایک نقطہ نظر کے حق میں پرزور دلائل کے ساتھ امکانی جواب کو رد کرتے ہوئے ایسا موقف اختیار کیا گیا ہو جو سننے والے یا پڑھنے والے کو متأثر کردے۔ پھر یا تو موافقت کرنے یا رد کرنے کے لیے اس سے زیادہ بہتر دلائل سامنے والا فریق لے آئے۔
مباحثہ ’مفاعلہ کے وزن پر‘ دو فریق یا دو نقطہ نظر کے درمیان علمی مقابلہ ہے۔ جس میں ایک دوسرے سے اس طرح بحث ہوتی ہے کہ تسلیم او ر رد کے پہلو ساتھ ہی ساتھ چلتے ہیں۔ بالآخر ایک یا دونوں فریق موقف بدلنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں کہ مانع نہ ہوتو تسلیم کی کیفیت ہوگی ورنہ رد کریں گے بغیر اس کے کہ اپنی بات کے حق میں عقل یا نقل سے کوئی مضبوط دلیل لا سکیں۔
بحث و مباحثہ ۔ قرآن میں
بحث و مباحثہ کے لیے قرآن نے لفظ ’’جدال‘‘ استعمال کیا ہے۔ جدال کا مطلب بحث، لڑائی، جھگڑا۔ مجادلہ کا مطلب ہے مباحثہ، تکرار۔ جدل الحبل کا مطلب ہے رسی بٹنا، جدل الشعر کا مطلب ہے بال گوندھنا۔
قرآن الوہیت، کائنات، حیات اور انسان کے بارے میں ایک نقطہ نظر پیش کرتا ہے۔ انسانی ذہن پر جب جاہلیت کی تاریکی چھا جاتی ہے تو خیر میں شر نظر آتا ہے اور شر سراسر خیر کی شکل میں نہ صرف وہ دیکھتا ہے بلکہ دنیا کے سامنے اس حقیقت کو وہ پیش کرتا ہے بلکہ داعی کا فریضہ بنتا ہے کہ وہ انسان کو بحث و مباحثہ کے ذریعہ اس نقطہ نظر پر لانے کی کوشش کرے۔ جس پر اس کی بھلائی منحصر ہے۔ قرآن نے فلسفہ کائنات اور اس سے متعلقہ امور اور فلسفہ اخلاقیات اور اس سے متعلقہ امور پر بحث کی ہے اور بحث کا طریقہ و ادب سکھایا ہے۔ پھر انبیاء نے انہی قوموں سے مباحثہ کیا ہے جس میں قیادت، رسالت، مضر طرز حیات اور اخلاقیات کے نتائج انسانی سماج پر جیسے موضوعات پر بحث و مباحثہ کیا ہے۔ اہل باطل نے جدال اور جھگڑا کیا جس سے بحث کا قبیح پہلو سامنے آتا ہے۔ اسے بھی قرآن نے پیش کیا ہے۔ اس لیے قرآن اہل ایمان کو ’’جدال احسن‘‘ کی تعلیم دیتا ہے۔ جدال احسن مومن کو گفتگو کے لیے مضبوط اخلاقی بنیادبھی فراہم کرتا ہے۔ ورنہ صرف جدال میں بحث کا رخ جھگڑے کی طرف ہوجاتا جہاں جذبات امڈ امڈ کرآتے ہیں اور افہام و تفہیم کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف ہوتے ہیں۔
ولا تجادلوا اہل الکتاب الا بالتی ہی احسن۔ (29: 46)
’’اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے‘‘
ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ و الموعظۃ الحسنۃ وجادلہم بالتی ہی احسن۔ (16: 125)
’’اے نبی! اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقے پر جو بہترین ہو‘‘۔
ان کہانیوں میں بحث کے سلسلے میں تعلیم دی گئی کہ جدال احسن کرو۔ جدال احسن سے مراد کیا ہے؟ اس کی تفہیم میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں:
’’اگر ایسا موقع پیش آئے تو بہترین طریقہ سے تہذیب، شائستگی، حق شناسی اور انصاف کے ساتھ بحث کرو۔ اپنے حریف مقابل کو الزام دو تو بہترین اسلوب سے، خواہی نہ خواہی دل آزار اور جگر خراش باتیں مت کرو جن سے فتنہ بڑھے اور معاملہ طول کھینچے، مقصود تفہیم اور احقاق حق ہو ناچاہئے۔ خشونت، بد اخلاقی، سخن پروری اور ہٹ دھرمی سے کچھ نتیجہ نہیں‘‘۔ (صفحہ 372)
’’احسن‘‘ کا مطلب بہتر ہے۔ بہتر سے مراد ہے کہ سامنے والا اگر جھوٹ سے کام لے تو تم سچ کا سہارا نہ چھوڑو، فریق مقابل جہالت سے کام لے تو حلم کی ڈھال استعمال کرو، لا علمی پر مبنی بحث ہو تو علم سے شریک بحث کو منور کرو، عمومی تنقید ہو تو خصوصی پہلو تک محدود کرکے اعتراف حقیقت کا ثبوت دو، کبر کا جواب انکساری سے دو، ضال اور مضل کے فتوے داغے جانے پر جہنم کی سند نہ تقسیم کرو، اس طرح کی بحث کے نتیجے میں سامنے والا فریق حجت اور حق پر مبنی نقطہ نظر تسلیم نہ بھی کرے تو اس کا قلب آپ کی شخصیت اور کردار کے علوم سے ضرور متاثر ہوگا اور یہ تاثیر دھیرے دھیرے رنگ دکھائے گی اور پتھر دل موم ہوسکتا ہے۔
جدال احسن کی بے شمار نظیریں قرآن میں ملتی ہیں۔ برائے تفہیم صرف ایک مثال ذیل میں پیش کی جارہی ہے۔ موسیٰ اور فرعون کے درمیان جو مباحثہ ہوا اس سے بھی بحث کا ادب معلوم ہوتا ہے۔
(i) فرعون: اچھا تو پھر تم دونوں کا رب کون ہے اے موسیٰ
موسیٰ: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شناخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔
(ii) فرعون: اور پہلے جو نسلیں گذر چکیں ان کی تمہارے نزدیک کیا پوزیشن ہے (کیا وہ سب عذاب کے مستحق تھے)۔
موسیٰ :اس کا علم میرے رب کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا رب نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے۔ (20:49-52)
(iii) فرعون: یہ کچھ نہیں مگر بناؤٹی جادو اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی نہیں سنیں۔
موسیٰ: میرا رب اس شخص کے حال سے خوف واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے۔ حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔
(iv) فرعون: اے اہل دربار میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا، ہامان ذرا اینٹیں پکواکر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا۔ شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھوٹا سمجھتا ہوں۔ (28:30-38)
اوپر ڈائیلاگ کی شکل میں آیتوں کے ترجمے کو درج کیا گیا ہے۔ پہلا ڈائیلاگ بحث کا ایک ادب سکھاتا ہے۔ فرعون اپنی فرعونیت میں موسیٰ سے دریافت کرتا ہے کہ رب کون ہے۔ موسیٰ علیہ السلام رب کا تعارف کراتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سامنے والے کی نیت جانچنے اور اس پر حملہ کرنے کے بجائے اس کے اٹھائے گئے سوال کا صحیح، مدلل، علمی جواب دیا جائے۔
نکتہ نمبر دو میں فرعون ایک نازک سوال کرتا ہے کہ آپ کی دعوت کو تسلیم کریں تو شاید ہمارے باپ دادا سب جہنمی قرار پائیں گے۔ اس Emotionl black mailing کا جواب ٹال دینا نبوی طریقہ ہے۔ موسیٰؑ اگر ہاں کہتے تو بحث اپنے موضوع سے ہٹ جاتی۔ لہٰذا بحث کا دوسرا ادب یہ ہے کہ جذباتی حملوں کے جواب میں جذبات کی رو میں بہہ جانا نادانی ہے۔ اپنے موقف پرٹھہرنا اور اپنے موضوع کو جاری رکھنا ضروری ہے۔ جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام نے باپ دادا کے انجام کا جواب پھر خدا کے تعارف سے دیا۔
تیسرے نمبر میں بحث میں کبھی الزام تراشی کی جاتی ہے۔ اس کی غرض یہی ہے کہ داعی کو طیش میں لایا جائے اور اپنی صفائی پیش کرنے میں الجھا دیا جائے۔ بحث کے ادب کا تیسرا نکتہ یہ ہے کہ کبھی طیش میں نہ آیا جائے جس سے بحث کی گاڑی پٹری سے اتر جاتی ہے بلکہ موسیٰ علیہ السلام نے پھر رب کے تعارف کا ایک اور نکتہ پیش کیا۔
ڈائیلاگ کے چوتھے نمبر پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ فرعون طنز کے تیر چلا کر تحقیر کے غار میں ڈھکیلنا چاہتا ہے۔ طنز و تضحیک کا جواب جوابی طنز نہیں بلکہ طبیعت کی خنکی کو باقی رکھتا ہے۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں قرآن پیش کرکے بحث و مباحثہ میں جدال احسن کی تعلیم دیتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف دعوت کے لیے قرآن سے رہنمائی اخذ نہ کی جائے بلکہ دعوت کے اسلوب اور بحث کے آداب بھی سیکھنے چاہئیں۔
بحث و مباحثے کے طریقے
بحث و مباحثے کے دو طریقے ہیں۔
(i) Pull Theory (دلائل کھڑے کرنا)
(ii) Purh Theory (دلائل رد کرنا)
(i)Pull Theory : بحث کا ایک طریقہ یہ ہے کہ فریق مخالف کو غور و فکر کی دعوت دی جاتی ہے۔ راست دعوت بحث کے بجائے ’دھیرے دھیرے فرد مقصود دلچسپی کا مظاہرہ کرنے لگے اور اپنے نقطہ نظر میں ترمیم کرکے ان اصولوں کو اپنالے یا ان دلائل کو مان لے‘ جو زیر بحث ہوں۔ قرآن میں اس کی بے شمار نظیریں ملتی ہیں۔ مثلاً ۔
اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَ اَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءًج فَاَنْبَتْنَا بِہ حَدَآءِقَ ذَاتَ بَہْجَۃٍج مَاکَانَ لَکُمْ اَنْ تُنْبِتُوْا شَجَرَہَاط ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِط بَلْ ہُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَo
’’بھلا وہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (ان کاموں میں شریک) ہے؟ بلکہ یہی لوگ راہ راست سے ہٹتے چلے جارہے ہیں اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا اور اس کے اندر دریا رواں دواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی) میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کردئیے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک) ہے؟ بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔
کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟ اور (کون ہے جو) انہیں زمین کا خلیفہ بنا تا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا) ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔
اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواؤں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا) ہے۔ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور کون تم کو آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں حصہ دار) ہے؟ کہوکہ لاؤ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو‘‘۔
اسی طرح کے مباحث 56: 57-74, 67: 16-30 میں بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔
(ii)Push Theory: بحث کے اس طریقے میں چیلنج کا انداز نمایاں ہوتا ہے۔ راست بحث کی دعوت دی جاتی ہے اور فریق ثانی کے دلائل رد کیے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ اس وقت اپنایا جاتا ہے جب سامنے والا ہٹ دھرم ہو۔ قرآن میں اس کی نظیریں ملتی ہیں۔ بطور مثال حسب ذیل ملاحظہ ہوں:
وان کنتم فی ریب مما انزلنا علی عبدنا فاتو بسورۃ من مثلہ وادعوا من دون اللہ ان کنتم صدقین۔
’’اور اگر تمہیں اس پر شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے یہ ہماری ہے یا نہیں تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنالاؤ، اپنے سارے ہمنواؤں کو بلالو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کرکے دکھاؤ‘‘۔
وقالوا لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاری تلک امانیہم قل ہاتوا برہانکم ان کنتم صدقین
’’ان کا کہنا ہے کہ کون شخص جنت میں جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں۔ ان سے کہو اپنی دلیل پیش کرو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو‘‘۔
بحث و مباحثہ اور سوشل نیٹ ورک
بحث و مباحثے کے قدم روایتی طریقہ بحث کی مجالس ہوا کرتی تھیں۔ پھر تحریر کا دور آیا تو کتابوں اور میگزین کے حوالے سے مباحثے ہونے لگے۔ آج ICT کا دور ہے۔ بے شمار سوشل نیٹ ورکنگ میڈیا کے توسط سے نوجوان بحث و مباحثے کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً group mail، face book، twitter، blog websites وغیرہ۔ ان میں جب کوئی بحث چھڑتی ہے تو بعض مباحث عمدہ اورسلیقہ مند ہوا کرتے ہیں۔ جنہیں پڑھ کر علم میں اضافہ ہوتا ہے۔ مگر بعض مباحث گرما گرم ہوا کرتے ہیں۔ جہاں فریق ثانی کی بات کو سمجھنے کی کوشش کی بجائے، اس کے خلوص، نیت بلکہ ایمان اور اسلام تک پر سوال کھڑا کردیا جاتا ہے۔ انا کا تصادم اس زور دشور سے ہوتا ہے کہ دل شکنی ہوتی ہے۔ شخصیتیں مجروح ہوتی ہیں اور علم سے زیادہ جہالت میں مہارت کا اظہار ہونے لگتا ہے۔ بسا اوقات گالی گلوچ، بہتان تراشی بھی ہوتی ہے۔ ان مباحث میں داعی کے حلم humility)) کے بجائے نحوست (arrogance) نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ ان مباحث کی نیت خوشنودی رب، اصلاح نفس کے بجائے تکنیکی انا اور خود ستائش صاف طور پر محسوس ہوتی ہے۔ مخالف کی تضحیک اور بے عزتی کرکے کسی علمی نکتہ پر آمادہ کرنا ایک امر محال ہے۔ دلائل سے عقل کو مسخر کیا جاسکتا ہے مگر قلوب اخلاق عالیہ سے متاثر ہوتے ہیں۔ بانجھ مباحث اور مضحکہ خیز مناظرے بد قسمتی سے ’’دانشور‘‘ کی پہچان بنتے جارہے ہیں۔ مندر جہ ذیل دو ادب ملحوظ رکھے جائیں تو مباحثہ میں چاشنی پیدا ہوگی اور خدا کی رحمت اور تائید کی امیدکی جاسکتی ہے۔
مباحثے کے آداب
اوپر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے ڈائیلاگ کے حوالے سے کچھ آداب پر مباحث گزر چکے ہیں۔ مزید دو آداب کی طرف توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔
(i) I am ok, you are ok (قول لین قول سدید)
(ii) Agree to Disagree
(i) I am ok, you are ok : افراد کے درمیان ہو یا اقوام کے درمیان، جب گفتگو ہوئی تو Paradigm (پیرا ڈائم۔ مشاکلہ) سے گفتگو ہوئی۔
ایک رویہ یہ ہونا ہے ’’انا خیر منہ‘‘ یعنی I am ok, you are not ok۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس بحث میں عقل و دانش کے تمام دروازے مجھ پر وا ہیں، میں دلائل کے انبار رکھتا ہوں، مطالعہ ہے تو میرا، فہم ہے تو وہ میری کنیز، حق مجھ پر الٹا ہوا ہے، رائے اگر کسی کی صائب ہے تو وہ میری، اور میرے موقف میں خطا کا کوئی امکان نہیں۔ تم اور تمہاری بات تو ابھی تمہیں فہم دین کہاں ہے؟ تم تو لکیر کے فقیر ہو، گم کردہ راہ ہو، تمہارے خلوص پر ہی ہمیں شک ہے، کہیں تم فلاں کے ایجنٹ تو نہیں ہو،۔۔۔۔۔۔ یہ انداز بحث ان لوگوں کا ہوتا ہے جنہیں دین کا شعور اور دین کی فکر تازہ تازہ وارد ہوئی ہوتی ہے۔ وہ ایسے مقام سے گفتگو کرتے ہیں جہاں ان کے علاوہ باقی سب 71 فرقے سے متعلق ہیں۔
واضح رہے کہ صرف انبیاء وہ ہوتے ہیں جن کے پاس فن کو پرکھنے کی راست کوئی ’’وحی الٰہی‘‘ ہوتی ہے مگر ان کا بھی یہ انداز نہیں ہوتا۔
امت میں ہر کلمہ گو سے گفتگو کرتے ہوئے جس رویے کو اپنانا ہے، وہ ہے I am ok, you are ok۔ یہاں سے گفتگو کا مطلب ہے کہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ آپ کی بات بھی معقول ہے مگر زیادہ وزنی بات یا زیادہ مدلل رائے یا معاملات کی مناسبت سے زیادہ قابل عمل بات وہ ہے جو میں عرض کررہا ہوں۔ مزید اب میں بھی اپنی رائے پر نظر ثانی کرسکتا ہوں۔ کسی پراجیکٹ کے امکانات، کسی ادارے کا مستقبل، امت کے لیے مفید و مضر کی بحث، یہ ایسی باتیں ہے جس میں دونوں آراء صحیح ہوسکتی ہیں۔ دونوں موقف میں کچھ کچھ تبدیلی کے ساتھ کوئی بیچ کی راہ نکالی جاسکتی ہے یا دونوں موقف پر دو گروپ کی طرف سے یکساں عمل اور اقدام ہوسکتا ہے۔ اس بنیاد پر کھڑے ہوکر گفتگو کرنے کے لیے ذہن کی کشادگی اور وسعت قلبی چاہئے۔ اس طرح کی بحث سے دونوں فریق ہر عمل پر آمادہ ہوسکتے ہیں اور ان کے مابین تعاون و تناصر کی فضا قائم ہوسکتی ہے۔ ہر مسئلہ جائز/ناجائز، صواب/ خطا، حلال /حرام، صحیح/ غلط، مضبوط/کمزور، مفید/مضرہی کے دائرے کے پابند نہیں ہوتے بلکہ وہ ادنیٰ، افضل، احسن، مفید تر سے متعلق ہوتے ہیں۔ یہ مباحث کشتی کا اکھاڑا نہیں کہ آگے والے کو لازما پچھاڑا جائے، یہ جیت ہار کا مسئلہ نہیں بلکہ بہتر اسٹریٹجی کی دریافت کا مسئلہ ہونا چاہئے۔
جہاں تک غیر مسلموں سے بحث کا سوال ہے وہاں عقیدہ ایک پہلو ہے جس میں I am ok, yo are ok کا موقف نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ کائنات کی حقیقت اور سچائی ایک ہی ہوسکتی ہے۔ مگر وہاں بھی بحث کا اسلوب یہ نہیں کہ ’’انا خیر منہ‘‘ بلکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت وہ طریقہ جہاں برائے بحث انہوں نے تسلیم کیا ’’ہٰذا ربی‘‘ یا ’’ہٰذا اکبر‘‘ مگر مشاہدہ نے بتادیا کہ وہ خود اپنے وجود کے لیے کسی کے مرہون منت ہیں تو کہا ’’لااحب الآفلین‘‘۔ (تفصیل کے لیے 6:76-82 کا مطالعہ کریں)
مثالیں:
I am ok, you are not ok
(1)بلا سودی بینک کاری کے لیے کوشش ایک سعی لا حاصل ہے۔ بجائے اس کے مائیکروفائنانس پر کام ہی ایک واحد ذریعہ ہے۔ عوام کے معاشی استحکام کے لیے۔
I am ok, you are ok
بلا سودی بینک کاری کی جو کوششیں ہورہی ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔ مگرمقاصد شریعت کی روشنی میں دیکھا جائے تو میرا خیال یہ بنتا ہے کہ اسلامی معیشت پر کام ہو تو امت کے عوام کے حق میں زیادہ مفید تر ثابت ہوگا۔
(2) تصوف کا نام نہ لو یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں جو تم کرتے ہو۔ تحریک جہاں سے نکل کر آئی وہیں تم لے جاکر پھنسانا چاہتے ہو۔ تصوف اسلام کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ عقیدہ درست ہونا چاہئے
تصوف کی عظیم خدمات کا میں متعارف ہوں۔ صوفیانہ ہوتے تو آج ہم ہندوستانی شاید مسلمان نہ ہوتے۔ مگر امام ابن تیمیہؒ اور مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک تصوف عین اسلام ہے، ایک میں کچھ آمیزش، ایک کٹیگری یونانی فلسفوں اور ہندو جوگیوں سے مستعار ہے۔ اس آخری قسم سے چوکنا رہنا چاہئے۔
(3) لڑکیوں کو SIO کی ممبر شپ دے کر کیا عاشقی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہو۔ مجھے تو یقین ہے کہ اس سے تنظیم شدید نقصان اٹھائے گی۔ میں تو استعفیٰ دے دینا چاہتا ہوں۔
لڑکیاں بھی طالب علم ہیں۔ طالبات تنظیم سے وابستہ ہونے سے کیمپس میں کام کے لیے سہولت ہوگی، انفراسٹرکچر کا بھی کار گر استعمال ہوسکتا ہے۔ مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ کہیں اس کے ساتھ ساتھ مسائل بھی تو نہیں کھڑے ہو جائیں گے۔ جس میں نفع و نقصان دونوں کا احتمال ہو۔ مولانا مفتی شفیع صاحب نے لکھا ہے کہ ایسے میں دفع ضرر کو جلب منفعت پر ترجیح دینا شریعت کا مزاج ہے۔ میرا خیال ہے کہ غور و فکر اور احباب علم سے بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ ہونا چاہئے۔
(4) سیاسی پارٹی کا تعاون اس بات کا اعلان ہے کہ اب ہم اقامت دین سے تائب ہوگئے۔ منزل دور دیکھ کر عجلت میں اب پارلیمنٹ میں جانا ہماری کوششوں کا مقصود ہوگیا ہے۔ میں تو سمجھتا ہوں کہ اب تحریک کا اللہ ہی حافظ۔ حکومت ہی ایک اصل ذریعہ ہے اقامت دین کا۔ سیاست سے پڑوسی ممالک والوں نے کیا پالیا۔
اہل حل و عقد علماء اور دانشوروں پر مجھے اعتماد ہے۔ یہاں کام کے و سیع میدان ہیں۔ دعوت، تربیت، خدمت، معیشت اور سیاست پر یکساں کام ہونا چاہئے۔ قلیل میعادی مقاصد اور فوری مسائل پر توجہ دینا بھی ابتدائی فریضہ کار ہے۔ جنہیں سیاست سے اختلاف ہے ان کے لیے کام کے اور میدان ہیں جہاں وہ جولانی دکھاتے تو زیادہ بہتر ثابت ہوتی۔
(ii) Agree to Disagree : بحث کا ایک اور ادب یہ ہے کہ دوران گفتگو فریق کی ان کی باتوں سے بھی اتفاق کیا جائے۔ اس لیے مباحث کو غور سے سننا اور غیر جذباتی انداز میں سمجھنا ہوگا۔ کٹ حجتی سے حسن ختم ہوجاتا ہے۔ یہ لازم نہیں ہے کہ میری ہی بات صحیح ہو۔ فریق ثانی کی بات بالکل صحیح ہے جس پس منظر میں اس مسئلہ کو دیکھ رہے ہیں۔ جن حالات کا وہ تذکرہ کررہے ہیں۔ ان میں میں بھی ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں۔ البتہ بدلے ہوئے حالات میں دوسرے موقف کا بھی امکان ہے۔ اس طرح سامنے والے کے تجربے کی روشنی میں جو بات وہ عرض کررہے ہیں اس سے مجھے اتفاق ہے۔ اس طرح پس منظر، حالات تجربے کے حوالے سے بہت سی باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے بحث میں ایک نئی راہ نکالی جاسکتی ہے۔
اس طرح اگر عدم اتفاق کرنا ہو تو سامنے والے کی دلیل کی کمزوری کو احسن انداز سے بتانا چاہئے۔ ان پر واضح ہونا چاہئے کہ حالات کاجو تجزیہ پیش کررہے ہیں اس سے مختلف تجزیہ دوسروں نے بھی کیا ہے۔ جو نتیجہ وہ اخذ کررہے اس کے بر عکس نتیجہ نکلنے کے بھی امکانات ہیں۔ سامنے والا فریق جذباتی ہو رہا ہو تو بتایا جائے کہ جذبات کی روشنی میں کی جانے والی بحث سے مجھے دلچسپی نہیں ہے۔ اپنے تجربے کی روشنی میں اختلاف کرنا معقول رویہ ہے۔ عمومی انداز وں سے اختلاف کرتے ہوئے خصوصی نکتہ پر بحث کو مرکوز کرانا چاہئے۔ ’’لازماً‘‘ آپ غلط نہیں ، کے بجائے عدم اتفاق کی ایک صورت یہ ہے کہ کہیں ’’آپ اپنے موقف پر نظر ثانی فرمائیں، غلطی کا امکان ہے‘‘، یہ بھی واضح ہو کہ رائے سے اختلاف کے باوجود فرد سے محبت ہونی چاہئے اور اس بحث میں اس موضوع پر ہم اختلاف کے باوجود اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ کام ایسا بھی ہوسکتا ہے۔
ایس امین الحسن
رکن مرکزی مجلس شوری جماعت اسلامی ہند








