انسان اپنا ایک وجود رکھتا ہے، کائنات کی تخلیق، اس کی وسعت اور اس کے پررونق نظارے کرنا اور اپنے احوال پر غور و تدبر کرنا اور کائنات کی ہر شئے کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیتے رہنا انسان کا فطری عمل ہے۔ یقیناًاس عمل سے ذہن میں کچھ خیالات ، اشکالات او رتصورات کا ابال پیدا ہوگا اور اگر خیالات میں ابال کا تسلسل جاری رہتا ہے تو یہی مختلف خیالات ایک سوچ کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ سوچ مختلف زاویوں سے گزر کر حالات کے نشیب و فراز سے ہوکر جو راہ اختیار کرتی ہے اسے فکر کہتے ہیں اورجب فکر کو مضبوط دلائل میسر آتے ہیں اور یہ دلائل ، مشاہدہ و تجربات کے مرحلے سے گزر کر ایک تصوراتی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس میں سچائی کے آثار نمایاں نظر آتے ہیں۔ تب ایک نظریہ کا وجود عمل میں آتا ہے۔ یا نظریہ کی شناخت ہوتی ہے یا کسی نظریہ کے حقیقت تک پہنچا جاسکتا ہے۔
معاصر دنیا کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ اسلام کے علاوہ آج بے شمار طرز ہائے زندگی اور مختلف افکار ونظریات پائے جاتے ہیں۔ یہ محض انسانی سوچ و فکر کا نتیجہ ہیں۔ اس میں سچائی نہیں بغاوت ہے۔ انسان نے فطرت کے خلاف اپنی خود ساختہ سوچ و فکر کو ثابت کرنے کی ایک ناکام کوشش کی ہے۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ انسان کی خود ساختہ سوچ نے کبھی لمبی عمر نہیں پائی ہے۔ حالیہ معاصر افکار و نظریات کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ وہ اپنی بساط لپیٹ چکے ہیں اور کچھ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انسان کا عمل اس کی فکر کا مظہر ہوتا ہے۔ فرد کی جیسی فکر ہوگی، عمل ویسا ہی ہوگا۔ بلکہ تنظیموں، تحریکوں اور قوموں کی جیسی فکر ہوگی، عمل ویسا ہی ہوگا۔ تمام تنظیموں، تحریکوں اور قوموں کی ایک فکر ہوتی ہے اور اسی کی مناسبت سے ان کا طرز زندگی ہوتا ہے۔ یہفکر ہی ان کی پہچان ہوتی ہے۔ اب یہ جاننا ضروری ہے کہ تنظیم ایس آئی او کی فکر کیا ہے؟ کیونکہ یہ عین ممکن اور مطلوب بھی ہے کہ اسی فکر کا عکس اس تنظیم سے وابستہ افراد کی زندگیوں میں ہوگا۔ قبل اس کے کہ تنظیمی فکر کو جانیں اسلامی فکر کو سمجھنا ضروری ہے۔
اسلامی فکر:
اللہ سبحانہ و تعالیٰ کائنات کا تنہا خالق و مالک اور فرماں روا ہے۔ انسان کی تخلیق ایک خاص مقصد کے تحت ہوئی ہے، وہ خاص مقصد بندگی رب ہے۔ دنیا میں انسان اللہ کا خلیفہ ہے اور کائنات کی تمام چیزیں اس کے لیے مسخر کی گئی ہیں۔ انسان کو قوت فیصلہ، اختیار، آزادی، حق و باطل کا فرق دیا گیا ہے اور انجام سے باخبر کردیا گیا ہے اور وہ انجام کا دن روز آخرت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کی رہنمائی کے لیے پے در پے پیغمبر بھیجے، جن کا مقصد انسانوں کو خدا کی بندگی کی دعوت دینا، انہیں بنانا، سنوارنا، اور اس قابل بنانا تھا کہ وہ خدا کی بندگی کے لائق بن سکیں۔ اور اسی سلسلہ کی آخری کڑی محمدؐ تھے۔
اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے دین اسلام کو پسند کیا اور اسلام انسانی فطرت کا ترجمان ہے۔ اسلام کا مقصد دنیا میں غلبہ حق ہے۔ یہ ایک مکمل نظام حیات ہے۔ وہ انسانوں کو ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے تاکہ لوگ مسائل سے دوچار نہ ہوں بلکہ پُر امن رہیں۔ اسلام دنیوی و اخروی نجات کا ضامن ہے۔ اسلام صرف دنیا میں کامیابی کے اصول نہیں بتاتا بلکہ اخروی زندگی میں بھی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ اسلام ایک الہی پیغام ہے، جس کو لے کر آخری رسول محمدؐ دنیا میں تشریف لائے۔ آپ اللہ رب العزت کا پیغام قرآن کی صورت میں لے کر آئے۔ آپ کا کردار قرآن کا عملی نمونہ ہے او رایک ایسا نمونہ ہے جو رہتی دنیا تک انسانیت کی نجات کے لیے کافی ہے۔
محمدؐ جس پیغام کو لے کر آئے، اب اس پیغام کی علمبردار امت مسلمہ ہے۔ جس کی ذمہ داری ہے کہ عوام الناس تک اسلام کی دعوت کو پہنچائے۔
تنظیمی فکر:
تنظیمی فکر کو سمجھنے کے لیے تحریک اور تنظیم کے مابین تعلق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، اس لیے کہ تنظیمی فکر تحریک اسلامی کی فکر سے ماخذ ہے۔ اور تحریکی فکر برسوں مطالعہ و مشاہدے کے بعد وجود میں آتی ہے۔ ذیل میں تنظیمی فکر کے تئیں بنیادی زاویے پیش ہیں:
اسلام ایک نظام حیات:
امت مسلمہ کی اکثریت نے محدود تصور دین کے نتیجہ میں دین و دنیا کی تفریق کرڈالی ہے۔ وہ دین کو مذہب سمجھ بیٹھی ہے۔ جب کہ مذہب کچھ رسومات اور عبادات کے انجام دینے کا نام ہے، جیسے شادی بیاہ، خوشی، و غم ، تجہیز و تکفین وغیرہ اور دین ایک مکمل نظام حیات ہے اور دنیا کے ہر شعبہ میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ امت کو اس محدود تصور دین سے نکالنا اور اسلام کا وسیع و حرکیاتی تصوردینا اور اسلامی تعلیمات کو اس کے حقیقی پس منظر میں عوام تک پہنچانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور اسلام کو اس حیثیت سے متعارف کیا جائے کہ اسلام ایک ناقابل عمل قدیم نظریہ نہیں ہے، بلکہ ایسا نظریہ ہے جو دائمی، ابدی اور آفاقی ہے اور رہتی دنیا تک انسانوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہے۔ تنظیم کی کوشش ہے کہ اسلام کو ایک متبادل نظام کی حیثیت سے پیش کرے اور اس کے لیے ہر سطح پر کوشش جاری ہے۔
قرآن دستور اساسی:
اسلام جو نظرےۂ حیات انسانیت کو دیتا ہے، اس کے بنیادی اصول قرآن میں ہیں، انسان کی معاشرت، سیاست، تعلیم، معاشیات اور انفرادی و اجتماعی زندگی وغیرہ کس طرح ہونی چاہیے، اس کی رہنمائی قرآن میں ملے گی۔ قرآن کی تعلیمات بندگان خدا کے نام نسخۂ کیمیا ہے۔ قرآن کتاب تلاوت کے ساتھ ہدایت بھی ہے۔ قرآن کتاب برکت ہی نہیں بلکہ کتاب انقلاب بھی ہے۔ قرآن تمام علوم کا سرچشمہ ہے۔ قرآن کی عملی تفسیر محمدؐ کی زندگی ہے۔ قرآن اور محمدؐ کا اسورہ انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہے ورنہ گمراہی اس کا مقدر بن جائے گی۔ قرآن وہ واحد سرچشمہ قوت ہے جو کسی مسلمان کے ذہن و قلب کو ایمان کی حرارت، جنت کے شوق، آخرت کے یقین اور دین اسلام سے وابستگی کی طرف مائل کرتا ہے۔ لیکن امت نے قرآن کے اس پیغام کو پس پشت ڈال دیا ہے اور اس کی تعلیمات سے کوسوں دور ہے ۔ قرآن کی تعلیمات سے دوری کے سبب امت کو ذلت، مظلومی، محکومی اور زوال کی صورتحال درپیش ہے۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے تنظیم یہ سمجھتی ہے کہ امت کو پھر قرآن کی طرف رجوع ہونا چاہیے اور اسی طرح، بھٹکی ہوئی انسانیت کو صراط مستقیم دکھاسکیں گے اور دنیا کے تمام مسائل کا مکمل حل پیش کرسکیں گے۔ یہ سوچ اسی وقت کامیاب ہوسکتی ہے، جب امت قرآن سے اپنے آپ کو وابستہ کرے۔
دعوت دین:
خدا کی وحدانیت کا صحیح تصور نہ ہونے کے نتیجہ میں انسان ہر جگہ سر تسلیم خم کر رہا ہے اور خود اپنے لیے زندگی گزارنے کا ایک طریقہ ایجاد کرلیا ہے اور اس اصول زندگی کو فطری آزادی سمجھتا ہے وہ نہیں جانتا کہ کوئی شئے ایسی بھی ہے جو انسانی سوچ سے بالاتر ہے۔ انسان دنیا میں ایسے زندگی بسر کر رہا ہے جیسے اسے مرنا نہیں ہے۔ اورایسی من مانی کر رہا ہے جیسے کوئی اس پر نگراں نہیں ہے۔ ایسا ظلم و جبرکر رہا ہے جیسے اس سے کوئی جوابدہی نہیں ہوگی۔ یہ محض انسان کو اپنا مقام و مرتبہ کا علم نہ ہونے کے نتیجہ میں ہے، جب کہ امت مسلمہ کو یہ ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ انبیائی مشن جاری رکھے۔ انسانوں کو معروف کا حکم دے اور منکر سے روکے لیکن امت مسلمہ دعوت دین کی اصل ذمہ داری کے تئیں غفلت کا شکار ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ دعوت دین ہماری ذمہ داری ہے۔ اس احساس کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص طلبہ و نوجوانوں میں دعوت دین کے ذریعہ ہی سماج میں پھیلی بدامنی ، فساد، ظلم و ناانصافی اور بگاڑ دور ہوسکتا ہے۔
سماج میں آج بے شمار برائیاں پھیلی ہوئی ہیں، جیسے بے حیائی، زنا، عریانیت، ظلم و ناانصافی، تشدد، حق تلفی، نفس پرستی، مادہ پرستی اور فطرت سے بغاوت وغیرہ اور آئے دن دنیا کے مسائل میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، جب کہ انسانیت امن و سکون کی منتظر ہے۔ حق کی متلاشی ہے اور عدل و انصاف کی متمنی ہے۔ لیکن کون ہے جو اسے سچائی کی طرف بلائے، کون ہے جو صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کرے۔ کون ہے جو انسانیت کے دل کا دکھڑا سنے اورانہیں مطمئن جواب دے سکے۔ آج دنیا میں انسان کے بنائے ہوئے عارضی فارمولے ایک ، ایک کر کے اپنی بساط لپٹ رہے ہیں۔ پھر دنیا ایک متبادل نظام کی منتظر ہے۔ اب نگاہیں امت مسلمہ پرٹکی ہوئی ہیں کہ اسلام کو انسانیت کے لیے متبادل نظام کی حیثیت سے پیش کریں۔ یہ کام ایک طویل اور صبرآزما جدوجہد چاہتا ہے۔ اس کے لیے ایک منصوبہ بند کوشش کی ضرورت ہے۔ اس کام کو کرنے کے لیے تحریک اسلامی نے بیڑا اٹھایا ہے۔ اور اس سے وابستہ طلبہ تنظیم کو اس کام کی اصل ذمہ داری سونپی ہے اور اس کا دائرہ کار متعین کیا ہے۔ اس لیے ایس آئی او نے اپنی سرگرمیوں کو طلبہ تک ہی مرکوز رکھا ہے ، کیونکہ تنظیم بجائے خود تحریک نہیں ہے، بلکہ تحریک اسلامی ہند کا ایک اہم بازو ہے۔ تحریک کی ایک اہم ضرورت کے پیش نظر مختلف سطح پر باصلاحیت افراد کی تیاری ہے اور ضرورت کی تکمیل طلبہ میں کام کرنے سے ہوگی۔ چونکہ طلبہ ایک عزم ، ایک ولولے کا نام ہے۔ ایک امید، ایک ارادے کا نام ہے۔ ایک قوت، ایک انقلاب کا نام ہے، ایک اتحاداور ایک اجتہادی سوچ و فکر کا نام ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کا نام ہے اور تہذیب و روایات کو نئی نسل تک منتقل کرنے کا نام ہے۔ طلبہ اگر بیدار ہوجائیں تو حالات کا رخ بدل سکتے ہیں۔ تحریک کی ترجیحات کے تحت طلبہ میں کام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔
ترجیحات:
*طلبہ برادری تک اسلام کا وسیع تعارف پیش کرنا۔ اس کے لیے سماج میں رائج معروف طریقے کا استعمال کرنا اور اسلام کا صحیح شعور اس کے حقیقی پس منظر میں پیش کرنا تاکہ اسلام کے تئیں غلط فہمی کا ازالہ ہوسکے۔
*طلبہ برادری کو آمادہ کرنا کہ وہ اپنی انفرادی و اجتماعی زندگی قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کو حق بجانب سمجھیں اور اسے اختیار کریں اور اس کی اشاعت کریں اور ان کے اندر ایک ایسی داعیانہ تڑپ پیدا کریں کہ وہ ہر دم اس کے لیے کوشاں رہیں۔
*طلبہ کو ہر قسم کی برائی سے دور رکھنا اور معاشرہ میں ہورہی برائیوں کو دور کرنے کے لیے تیار کرنا اور ہر طرح کے بھلائی کے کاموں کا ساتھ دینے کے لیے آمادہ کرنا۔
*طلبہ کا معیار تعلیم بلند کرنا اور نظام تعلیم میں اخلاقی اقدار پروان چڑھانے کے لیے جدوجہد کرنا تاکہ تعلیمی اداروں میں اخلاقی اوربہتر تعلیمی ماحول پروان چڑھ سکے اور کیمپس کی فضا طلبہ کے لیے پرامن رہے اور اسلامی فلسفہ تعلیم کو بہتر متبادل کی حیثیت سے پیش کرنا۔
*افراد تنظیم کی مختلف صلاحیتوں کی شناخت کرنا، انہیں نشوونما دینا اور ان کی شخصیت کا ہمہ جہت ارتقا کرنا تاکہ تحریک کو باصلاحیت افراد ہر سطح پر باآسانی میسر آسکیں اور اس طرح تحریک کی اہم ضرورت پوری ہوسکے۔
*ان تمام کوششوں کا اصل محرک رضا ئے الہی اور فلاح آخرت ہے۔ تنظیم اپنے نظم و ضبط اور طریقہ کار میں قرآن و سنت کی پابند ہے اور ایسے افراد کی تیاری پیش نظر ہے جو مادی مفاد سے پرے بے لوث خدمت دین کا جذبہ رکھنے والے ہوں۔
محمد آصف علی بگدل








