کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

توازن۔ اسلامی زندگی کی ایک اہم خصوصیت

جنوری ٢٠١٢

توازن اسلامی زندگی کی ایک انتہائی اہم خصوصیت ہے۔ شریعت نے احکام اور ہدایات کی شکل میں زندگی کے جملہ معاملات سے متعلق رہنمائی بھی فراہم کی اور فرد سے ان معاملات میں کیا کردار مطلوب ہے اس کی وضاحت بھی کی۔ شرعی تعلیمات کی خصوصیات پر اگر ہم غور کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ توازن شریعت کی ایک اہم خصوصیت ہے۔ اس میں صریح انداز میں راہِ توازن اختیار کرنے کی تلقین بھی ہے اور توازن کی اہمیت بھی بیان کی گئی ہے اور اس کی تعلیمات اور مطالبات میں بھی پورا پورا توازن ملتا ہے۔ قرآنِ کریم کی وہ آیت جس میں امّتِ مسلمہ کے فرضِ منصبی کی وضاحت کی گئی اس میں فرض کی وضاحت سے پہلے امتِ مسلمہ کا وصف ہی یہ بیان کیا گیا کہ تم وہ امّت ہو جس کا اساسی کردار امتِ وسط ہونا ہے۔ وکذلک جعلنا کم امّۃ و سطا لتکونوا شھداء علیٰ الناس و یکون الرسول شھیدا علیکم (سورۃ البقرۃ 143) (اور اسی طرح ہم نے تم کو امّتِ وسط بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ رہیں)، فرد اگر توازن اور اعتدال کا دامن چھوڑتا ہے تو کوتاہیاں سرزد ہوتی ہیں جو فرد کے انتہائی مجرمانہ راستے پر چلنے کے لئے فتحِ باب ہے یا پھر غلو کا وہ راستہ کھلتا ہے جس نے اہلِ کتاب کو منصبِ امامت سے معزول کرکے مغضوب علیہم اور الضالّین کی صف میں شامل کیا۔ اہل کتاب کو خطاب کرکے کہا گیا :یا اھل الکتاب لا تغلوا فی دینکم (سورۂ نساء آیت 71) (اے اہلِ کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو)۔
عبادات میں توازن
عبادات بندے کو رب سے قریب کرتی ہیں۔ احکامِ خداوندی کی پابندی بندۂ مومن کے لئے سکون و طمانیت کا ذریعہ ہوتی ہے۔ رب کے سامنے اپنی پیشانی جھکا کر بندے کے اندر سارے جہاں سے بے نیازی کی شان اور مخلوقِ خدا کے لئے محبّت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے دل کے اندر یہ احساسات پیدا ہوتے ہیں کہ کافی ہے اگر ایک خدا میرے لئے ہے۔ اس عبادت کے سلسلہ میں بھی شریعت نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ بندہ غیر متوازن طریقہ اختیار کرے۔ عبادات سے بے پروائی یقیناًقابلِ مواخذہ ہے لیکن عبادات میں غلو بھی پسندیدہ نہیں۔ تین اصحاب نے رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا حال معلوم کیا۔ اسے جاننے کے بعد انہیں محسوس ہوا کہ ان کی اپنی عبادتیں بہت کم ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ روزے رکھوں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں ہمیشہ رات بھر نماز پڑھوں گا۔ ایک اور صحابی نے کہا کہ میں کبھی شادی نہ کروں گا۔ رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلّم نے ان لوگوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم لوگوں نے اس طرح کی باتیں کہی ہیں؟ ؟ خدا کی قسم میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں۔ میں روزہ رکھتا بھی ہوں اور نہیں بھی رکھتا، نماز پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، میں شادی بھی کرتا ہوں۔ جو میری سنّت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں‘‘ (بخاری 116/6)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم کے پاس ایک شخص آیا ۔ اس نے کہا کہ فلاں نمازِ فجر طویل پڑھاتے ہیں۔ میں ان کی وجہ سے نماز میں دیر سے پہونچوں گا۔ حدیث کے راوی ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلّیٰ اللہ علیہ وسلّم کو کسی اور موقع پر اتنے زیادہ غصّے میں نہیں دیکھا۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلّم نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: لوگو!! کچھ ایسے لوگہیں جو لوگوں کو (دین سے) دور کر رہے ہیں۔ تم میں سے کوئی بھی لوگوں کی امامت کرے تووہ اختصار سے کام لے کیونکہ تمہارے پیچھے عمررسیدہ افراد بھی ہوتے ہیں، ضعیف بھی ہوتے ہیں، اور ضرورت مند بھی۔ (بخاری جلد 1صفحہ 172)۔
انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلّیٰ اللہ علیہ سلّم نے ایک بوڑھے شخص کو دیکھا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان گھسٹتا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے دریافت فرمایا کہ آخر کیا معاملہ ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ : اس نے پیدل جانے کی نذر مانی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ تم اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرو۔ آپ ﷺ نے اسے سوار ہو کر جانے کا حکم دیا۔ (بخاری جلد 7 صفحہ 234) ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ آپ صلّیٰ اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: دین میں غلو سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے کے لوگوں کو دینی معاملات میں غلو نے ہلاکت میں مبتلا کیا۔ (نسائی حدیث نمبر 3057، ابنِ ماجہ، حدیث نمبر 3029) ۔ ابو داؤد کی ایک روایت ہے کہ آپﷺ فرمایا کرتے تھے: اپنے آپ پر سختی نہ کرو، ورنہ اللہ تمہارے اوپر سختی کرے گا۔ جن لوگوں نے اپنے آپ پر سختی کی اللہ تعالیٰ نے ان پر سختی کی۔ ان کے آثار دیر اور کلیسا میں موجود ہیں۔ رہبانیّت انہوں نے خود اختیار کی تھی۔ یہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ نہ تھی۔ (ابوداؤد ، حدیث نمبر 4904)۔
ان احادیث سے ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ شرعی معاملات میں کوتاہی اگر جرم ہے تو غلو سے بھی رسول ﷺ نے روکا ہے۔ تشدّد اور حدِ اعتدال سے ہٹی ہوئی کوششوں کو ناپسندیدہ نظر سے دیکھا ہے۔ لوگوں کو اعتدال کی روش اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔ لوگوں کو آسانیاں پیدا کرنے کی ترغیب دی۔ آپ ﷺ کی ذمہ داریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے : و یضع عنھم اصرھم والاغلال الّتی کانت علیھم الاعراف :157 (اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اْن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے)۔ شرعی احکام میں کمزوروں، ضرورت مندوں، محتاجوں، عورتوں، اور بچوں کو جو رعایتیں دی گئی ہیں وہ شریعت کے اسی مزاج کی عکّاس ہیں کہ اس نے ضروریات اور حالات کی رعایت کرتے ہوئے بندوں کی صلاحیتوں اور قوتوں کو راہِ حق میں استعمال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ بخاری کی وہ حدیث اسی بات کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دین آسان ہے اور جو شخص دین کے معاملہ میں شہ زوری دکھائے گا، دین اس پر غالب آجائے گا۔
کتنا مزہ ہے رب کے حضور کھڑے ہونے میں!! کتنی لذت بخش ہوتی ہے آہِ سحر گاہی!! جسے اس کی لذّت مل جاتی ہے وہ جانتا ہے کہ : کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہِ سحر گاہی۔ کس قدر خوشی ہوتی ہے رب کی رضا کے لئے بھوک پیاس برداشت کرنے کے بعد!! کتنا لطف ملتا ہے اللہ کے گھر کی زیارت میں !! فرد بھول جاتا ہے اس دیدار کے بعد کہ کیا چیز ہوتی ہے دنیا!! ان ساری لذّتوں اور کیف بخش منزلوں کا حصول عین مطلوب ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد ہے کہ جادۂ اعتدال سے ہٹ نہ جانا کہ پچھلی قومیں اسی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ تمہاے جسم کا بھی حق ہے۔ تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے۔
خرچ میں توازن
شریعت نے ہمیں مالی تنظیم کے لئے ایک مستحکم نظام دیا ہے۔ آمدنی کے حلال ذرائع تلاش کرنا عبادت کے درجے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تجارت کو حلال قرار دیا اور سود کو حرام (احلّ اللہ البیع و حرّم الربوٰ ۔ سورۃ البقرۃ : 275، )۔ رزق کی فراوانی، آمدنی کی کثرت اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت ہے۔ پر بندہ مال کیسے خرچ؟ کیا دولت کو کرشمۂ ذاتی سمجھ کر محض اپنے تعیّشات کے لئے خرچ کرتا جائے؟ اللہ تعالیٰ نے کہا: ولا تبذّر تبذیراً انّ المبذّرین کانوا اخوان الشیاطین۔ سورء اسراء :26، 27) اور فضول خرچی نہ کرو۔ یقیناًفضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں۔ ولا تسرفوا انّہ لا یحبّ المسرفین ۔ الانعام :141( اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا)۔ قابلِ تعریف مومنانہ کردار یہ بتایا گیا کہ : والّذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا وکان بین ذالک قواما۔ سورۂ فرقان:67) جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ ان کا خرچ دونوں انتہاؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے ۔ مزید کہا گیا : لا تجعل یدک مغلولۃ الیٰ عنقک ولا تبسطھا کلّ البسط فتقعد ملوما محسورا۔ الاسراء :29 (نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاؤ )
ان دونوں امور میں توازن سے فرد کا مزاج اور منہاج تشکیل پاتا ہے۔ ان دونوں کے نتیجے میں دوسرے رویّوں میں بھی اعتدال پیدا ہوتا ہے۔ فرد اپنے جسم کا حق ادا کرنے والا بنتا ہے۔ کھانے پینے، پہننے اوڑھنے میں راہِ اعتدال اختیار کرتاہے۔ ضروریاتِ زندگی اور مسائلَ حیات کے سلسلہ میں اس کا نقطۂ نظر تشکیل پاتا ہے۔ دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہے۔ پر کسی ایک کا حق ادا کرنے کے لئے دوسرے کا حق نہیں مارتا۔ بچوں کا پیٹ پالنے کے لئے رزق کے حرام دروازوں کی طرف اپنی نگاہیں نہیں اٹھاتا۔ اپنے فکری معاملات میں اس پہلو سے وہ متوازن ہوتا ہے کہ اسے یہ معلوم کرنے کی فکر ہوتی ہے کہ اس سے کیا مطلوب ہے اور اُسے کن امور سے بچنا ہے۔ فرد کی عقل و فکر میں توازن پیدا ہوتا ہے۔ وہ خواب دیکھتا ہے۔ پر اس کے خواب ریت کے تودے نہیں ہوتے ، حقائق کی دنیا سے ان کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ وہ واقعات کی دنیا میں رہتاہے۔ واقعاتی دنیا کی روشنی میں مالی معاملات کے منصوبے تیّار کرتا ہے۔ وہ ستاروں کی دنیا کی باتیں کرتا ہے پر وہ دن میں تارے نہیں شمار کرتا۔ وہ روحانیت کی منزلیں طے کرتا ہے پر وہ زمین اور زندگی کے حقائق پر نظر رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا زجاج حریفِ سنگ کیسے بن سکتا ہے۔
فرد اور معاشرہ کے درمیان توازن :
انسانی زندگی کی گاڑی تنہا آگے نہیں بڑھ سکتی۔ معاشرہ اور دوسرے افراد اس کی زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانے کے لئے ضروری ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فرد اصل ہے یا سماج؟ سماج نہ ہو تو انسان اور اس کی توانائیاں بے سود!! معاشرہ ہی فرد کی تشکیل کرتا ہے ۔ اسے حالات اور ماحول فراہم کرتا ہے۔ اس کے اندر اقدار کی تعمیر میں معاشرہ اہم کردار کرتا ہے۔ انسان نے فرد اور سماج کی مرکزیت کی تعیین میں دھوکے کھائے ۔ سرمایہ دارانہ نظام نے فرد کی انفرادیت کو اہمیت دی ۔ جس کے نتیجہ میں سرمایہ و محنت کی کشمکش میں سرمایہ کا طوطی بولنے لگا۔ کمزور حقداروں کے حقوق پامال ہونے لگے۔ فرد کو ہر چیز کی آزادی حاصل ہوئی ۔ مال جمع کرنے کا حق۔ آزادئ گفتار کا حق۔ اور دوسری ہمہ اقسام کی آزادیاں قطعِ نظر اس کے کہ ان آزادیوں نے کتنے دوسرے آزاد بندوں کی آزادیوں کو پا بہ زنجیر کردیا۔ اس کے مال میں غریب اور ضرورت مند کا کوئی حق نہ رہا۔ اس کشمکش میں محنت نے فتح پائی تو فرد کے حقوق سلب کر لئے گئے۔ اس کے فرائض کی فہرست طویل ہوگئی۔ سماج اور سماجی تقاضے ہی مقصودِ حیات قرار پائے۔ سماج کو حکمرانی ملی ۔ فرد سے انفرادی ملکیت اور اس کی انفرادی آزادی کا حق چھین لیا گیا۔
بندۂ مومن کی زندگی فرد اور سماج کی کشمکش میں اعتدال کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ دونوں ہی پہلو اس کے نزدیک اہم ہوتے ہیں۔ فرد کی انفرادی آزادی مسلّم ہے لیکن وہ سماجی جواب دہی سے بالا تر نہیں ہوتا۔ فرد کے حقوق بھی ہوتے ہیں۔ اس کے فرائض بھی ۔ اسے انفرادی ملکیّت کا حق دیا گیا لیکن اس کے مال میں اسے مارِ گنج بنے رہنے کی اجازت نہ دی گئی۔
تحریکی زندگی میں توازن:
تحریکی زندگی کیاہے؟ اور تحریکی زندگی میں توازن کا مفہوم کیا ہے؟ تحریک دراصل کسی مقصد کے حصول کے لئے جدو جہد کرنے اور مقصد کو پالینے تک اس راستے میں لگے رہنے کا نام ہے۔
اسلامی تحریک کی سرگرمیوں میں فرد کی انفرادی کوششیں اور انفرادی کامیابی کے ساتھ ساتھ اجتماعی کوششیں اور اجتمای اہداف کا حصول زیرِ بحث آتا ہے۔ اسلامی تحریکی زندگی میں ایسے مشاہدات سامنے آتے ہیں جن میں فرد اور اجتماعیت کا یہ رشتہ واضح نہیں ہوتا۔ اسلامی تحریک میں فرد کا بھی ایک ہدف ہوتا ہے۔ اور اجتماعیت کا بھی ایک ہدف ہے۔ فرد کا ہدف رضاء الٰہی کا حصول اور فلاحِ آخرت کے سوا کچھ نہیں۔ روزِ قیامت بندے کے اعمال اس کے کام آئیں گے۔ ہر فرد اپنے عمل کے بارے میں مسؤل ہوگا۔ دوست ، احباب ، رشتہ دار ، کوئی بھی کسی کے کام نہ آسکیں گے۔ تحریک یا تحریکی رفقاء بھی اس کے کام نہ آئیں گے۔ تحریک کا ہدف یہ ہے کہ فرد انفرادی زندگی میں کامیاب ہویہ صحیح ہے لیکن اجتماعی حیثیت میں تحریک کا اجتماعی ہدف فلاحِ آخرت کے حصول کے ساتھ ساتھ مادّی اہداف کا حصول ہے۔ ان دونوں اہداف کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریکی زندگی میں اعتدال پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ تحریک نے اگر اپنی منزل کو پالیا لیکن فرد کا رشتہ اپنے ربّ سے اتنا مضبوط نہ ہوسکا کہ روز آخرت اسے کامیاب قرار دیا جائے تو تحریک کی کامیابی اس کے کسی کام نہ آئے گی۔
تحریکی سرگرمیاں اور اجتماعی جدّو جہد میں اگر فرد اور اجتماعیت کے اہداف کے اس فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو اجتماعیت کے اندر بہت سے فتنے جنم لیتے ہیں۔ تحریک کی منزل ایک ٹھوس اور محسوس چیز ہوتی ہے۔ اس منزل کو پالینے کی تمنّا انسانی اور ایمانی فطرت کا تقاضہ ہے پر یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ہماری یہ کوشش اور یہ جدّ و جہد ہمیں بحیثیت فرد کس حد تک کامیابی کی منزلوں کی طرف لے جارہی ہے۔ ہم نے اپنی جواب دہی کی کس حد تک تیّاری کی ہے۔
اسلام دینِ وسط ہے۔ اس کی تعلیمات اعتدال پر مبنی ہیں۔ اس نے فرد سے جو مطالبات کئے ہیں اس میں فرد کی قوت۔ اور اصناف کے فرق کے ساتھ قوتوں اور صلاحیتوں کے فرق کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ ایمانی اور تحریکی زندگی اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب یہ افراط و تفریط سے پاک اور امتِ وسط کے کردار کی آئینہ دار ہو۔

 

اشتیاق عالم فلاحی، حیدرآباد

Comments are closed.