(زیر نظر تحریر کی ضرورت مولانا ایس امین الحسن کی قابل قدر تصنیف’’ نفس کا تزکیہ۔ فرد کا ارتقاء ‘‘پڑھنے کے بعد محسوس کی گئی)
تزکیہ نفس پر جب گفتگو ہوتی ہے تو صحبت صالح کی اہمیت کو بطور خاص بتایا جاتا ہے، صحبت صالح کے لئے صحبت شیخ کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا ہے ، جس کا سادہ مفہوم یہ ہے کہ مسلم معاشرہ میں کچھ علماء ربانی ، حقانی درویش اور اہل اللہ ہوتے ہیں، ان کی تلاش ہونا چاہئے، اور میسر آجانے پر آدمی اپنے آپ کو ان کے حوالے کردے اور جو کچھ وہ مجاہدہ بتلادیں اس کے مطابق عمل کرے۔
صحبت صالح کا مطلب یہ نہیں سمجھا جاتاہے کہ معاشرہ میں موجود نیک اور مومن لوگوں کی آپس میں دوستی ہو، بلکہ یہ کہ معاشرہ میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اہل اللہ ہوتے ہیں، جن کی صحبت سے فیض جاری ہوتا ہے، اور باقی وہ جو اپنی اصلاح چاہتے ہیں اور وہ اہل اللہ کی صحبت سے فیض اٹھاتے ہیں، آگے چل کر صحبت شیخ کے تصور میں حوالگی کا مفہوم بھی شامل ہوگیا، پھردھیرے دھیرے اس تصور میں دنیاداری بھی داخل ہوگئی ، اور نقلی اہل اللہ نے اپنی دکانیں سجاڈالیں، صحبت شیخ کے تصور کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ اس میں تربیت کا عمل یکطرفہ ہوتا ہے، شیخ کو مربی اور مصلح سمجھا جاتا ہے، اور اس کی ذات اصلاح سے بالاتر خیال کی جاتی ہے، اس کی ہر خامی کو نظرانداز کرنے کی تلقین کی جاتی ہے، اور اس کا ہر مشورہ واجب الاتباع ہوتا ہے، کیونکہ وہ زیادہ صاحب بصیرت وبصارت خیال کیا جاتا ہے، اگر مرید کسی اصلاحی تحریک سے متاثر ہوگیا اور شیخ صاحب مخالف رہے تو مرید کے لئے دو میں سے ایک راستے کا انتخاب ضروری ہوجاتا ہے، یا تو اس تحریک سے براء ت کا اعلان کرے یا پھرمرشد کی صحبت سے ہاتھ دھولے، اور اگر حضرت شیخ کسی تحریک سے متاثر ہوگئے تو ان کا پورا حلقہ ارادت ان کے ساتھ تحریک میں شامل ہوجا تا ہے۔چونکہ اس تصور میں تبادلہ خیال کی گنجائش نہیں ہوتی ہے، اس لئے صحیح اور غلط سے قطع نظر شیخ کا ارادہ ہی قول فیصل ہوتا ہے، شیخ کے فیصلے کی حکمت سمجھ میں آجائے تو مریدخود کو جوہر قابل سمجھتا ہے، بصورت دیگر مرید اسے اپنی کم فہمی پر محمول کرتا ہے۔
قرآن مجید نے اس طرح کی صحبت کا کہیں تصور نہیں دیا ، صحبت کے بجائے قرآن مجید تواصی کا تصور دیتا ہے،تواصی کا مطلب یہ ہے کہ سب لوگ مل کر ایک دوسرے کو خیر کی تلقین کریں، تواصی صحبت کے برعکس دوطرفہ عمل ہے، اس میں ہر شخص دوسرے کو فیض پہونچاتا ہے ، اور دوسرے سے فیض حاصل کرتا ہے، ہر شخص مرشد بھی ہوتا ہے اور مرید بھی، ہر شخص آئینہ ہوتا ہے اور آئینہ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے، اس تصور کی رو سے حضر ت عمر لوگوں کو بلا بلا کر کہتے ہیں کہ میری خامیاں مجھ کو بتاؤ، یہ تصور شیخ کی ولایت کے بجائے باہمی ولایت پر قائم ہوتا ہے، سارے مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے ولی ہوتے ہیں ، وہ خیر کی تلقین کرتے ہیں اور برائیوں پر تنبیہ کرتے ہیں، اس تصور میں معاشرہ کا سب سے نیک آدمی بھی لوگوں سے کہتا ہے کہ میری اصلاح میں میری مددکرو، جہاں تواصی کا ماحول ہوتا ہے وہاں فیصلے عقیدت اور احترام کی بنیاد پر نہیں بلکہ صحیح اور غلط کی بنیاد پر ہوتے ہیں، اور جہاں تواصی کا ماحول ہو وہاں جھوٹے اور نقلی اولیاء اللہ کی دکانیں کبھی نہیں چل سکتی ہیں،صحبت کے تصور میں جو رخنے تھے ان سے امت میں بہت ساری برائیاں داخل ہوگئی ہیں ، جن میں بعض اس حد تک جڑ پکڑ چکی ہیں کہ ناقابل علاج معلوم ہوتی ہیں، تواصی کے زیرسایہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا تھا،قرآن مجید میں کونوا مع الصادقین کہا گیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاشرہ میں کچھ لوگ سچے ہیں ان کی صحبت اختیار کرو، بلکہ یہ ہے کہ تم لوگ سچوں کے گروہ میں شامل ہوجاؤ یعنی خودسچے بن جاؤ۔
صحبت شیخ کا تصور اس بنیاد پر قائم ہوتا ہے کہ حضرت شیخ نے سلوک وعرفان کی ساری منزلیں طے کرلیں، اب ان کا کام دوسروں کو راہ سلوک کی منزلیں طے کراناہے، اس کے برخلاف تواصی سے یہ تصور ملتا ہے کہ منزل کسی کو نہیں ملی سب قافلے میں شامل ہیں اور سب منزل کی طرف رواں دواں اور اس کے لئے فکرمندوپریشان، ہر ایک کو دوسرے کی صحبت درکار ہے، اور ہر کوئی دوسرے کے لئے معاون ومددگار ہے،۔۔۔۔۔
اولین امت میں صحبت شیخ کا تصور نہیں ملتا، وہاں تواصی کا دور دورہ تھا، چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر خلیفہ وقت کو ٹوک دینے میں کسی کو تامل نہیں ہوتا تھا، نہ خلیفہ وقت کے مزاج پر کسی کی تنقید گراں گذرتی تھی۔
دراصل تواصی کے لئے شرط تھی کہ امت کے تمام افراد کا رشتہ قرآن مجید سے مضبوطی کے ساتھ استوار ہو، اس کی آیتوں کی روشنی میں ہی تواصی کا سفر جاری رہ سکتا تھا، امت جب قرآن سے دور ہوئی ، تو تواصی کی صلاحیت سے بھی محروم ہوگئی، اور بطور علاج دوبارہ قرآن کی طرف رجوع ہونے کے بجائے، لوگ آسان راستوں اور سستے نسخوں کی تلاش میں نکل گئے،صحبت شیخ کے تصور نے اس لئے فروغ پایا کہ اس میں اپنی اصلاح کی خود ذمہ داری قبول کرنے کے مشکل کام کے بجائے یہ ذمہ داری شیخ پر ڈال کر آدمی مطمئن ہوجاتا ہے، تواصی میں یہ ذمہ داری خود قبول کرنا ہوتی ہے، اور اس کے لئے قرآن مجید سے براہ راست رہنمائی لینا ہوتی ہے۔
تواصی کے ماحول میں قرآن وسنت کی تعلیمات کو زیادہ سے زیادہ رواج ملتا ہے، صحبت کے تصور میں بزرگوں کے مقولات اورتجربات زیادہ رواج پاتے ہیں، یہ صحبت ہی کا تصور تھا جس کے زیرسایہ طریقت وجود میں آئی، ورنہ جہاں تواصی کا ماحول ہو، وہاں صرف شریعت کی بالادستی قائم ہوتی ہے۔قرآن مجید میں تواصی اور اس کے ہم معنی تعبیروں کو کئی جگہ تاکید کے ساتھ بتایا گیا ہے، ملاحظہ ہو سورہ بلد اور سورہ عصر،جبکہ صحبت کے ذریعہ یکطرفہ تربیت کی بات کہیں نہیں کہی گئی ہے۔
ڈاکٹرمحی الدین غازی








