بیسویں صدی میں اہل اسلام کے سامنے ایک اہم سوال جدیدیت اور اس کے مظاہر کے سلسلہ میں صحیح اسلامی رویہ کا سوال تھا۔ جدیدیت اُن فکری اور عملی رجحانات کو کہتے ہیں جو یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں بالخصوص یورپ میں ظاہر ہوئے لیکن بالعموم ان تمام معاشروں کے اشراف elitesکو متاثر کیا جہاں یورپی ممالک کی کالونیاں آباد تھیں۔
فکری اور فلسفیانہ سطح پر اس رجحان کا سب سے اہم عنوان عقل انسانی کی لامحدود بالادستی اور کم سے کم اجتماعی اور سماجی معاملات میں مذہب اور مذہبی تعلیمات سے بے نیازی تھا۔ علم کا سرچشمہ عقل اور حواس انسانی کو قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ صرف وہی چیز حق ہے جو عقل اور تجربہ کی کسوٹی پر کھری اترے۔اس کے علاوہ آزادی، مساوات مرد وزن، نسائیت، جمہوریت، آزاد بازار اور مارکسیت کے تصورات بھی اسی جدیدیت سے ابھرے۔
عملی سطح پر ٹکنالوجی اور جدید وسائل کا استعمال، نئے سیاسی و معاشی نظام، کاموں کو کرنے اور تنظیم و ادارہ سازی کے نئے ترقی یافتہ طریقے، نئے علوم و فنون اور تحقیقات و اکتشافات وغیرہ جدیدیت کے عملی مظاہر سمجھے گئے۔
جدیدیت کے مقابلہ میں دو طرح کے رد عمل عام طور پر تمام روایتی معاشروں میں ظاہر ہوئے۔ یہی دو ردعمل انیسویں اور بیسویں صدی کے مسلم ہندوستانی معاشرہ میں بھی پیدا ہوئے۔
ایک رد عمل تو جدیدیت کے مکمل استرداد اور روایت پر غیر متوازن اصرار کا رد عمل تھا۔ علماء اور مذہبی طبقہ نے جدیدیت کے تمام مظاہر کو اسلام کے لئے خطرہ سمجھا۔ انگریزی زبان کی مخالفت کی گئی۔ مغرب سے آنے والے تمام علوم کو ” عصری علوم” قرار دیا گیا اور انہیں ناپسندیدہ اور ان کے حصول کو دنیا پرستی باور کرایا گیا۔ حتی کہ علم طب جسیے علوم کی بھی انگریزی اور دیسی خانوں میں تقسیم ہوئی۔” انگریزی دواؤں” سے نفرت کو مشرقی وضعداری کا جز سمجھا گیا۔ سنگینوں، ریڈیو، ریل گاڑیوں اور لاؤڈ اسپیکر کے خلاف فتوے دئے گئے۔اور خالص و بے آمیز روایت پسندی کو اسلام کا لازمی تقاضہ سمجھا اور سمجھایا گیا۔
دوسرا ردعمل جدیدیت کو اس کے غیر دینی فلسفہ اور سیکولر وعقل پرست نظریاتی بنیادوں کے ساتھ، مکمل طور پر گلے لگانے اور اس کے بدلے میں یا تو اسلام کو خیر باد کہنے یا زبردست تحریفات اور من مانی تاویلات کے ذریعہ اسلام کو عین جدیدیت کے مطابق کردینے کی کوششوں سے عبارت تھا۔ اس کا سب سے نمایاں مظہر ترکی میں مصطفی کمال کی قیادت میں آنے والا انقلاب تھا،جہاں سیکولرزم کے نہایت انتہا پسند تصور کو قومی زندگی کی بنیاد بنایا گیا۔ اس طرح کا رد عمل ہندوستان اور مصر جسیے معاشروں کے خوشحال اور تعلیم یافتہ طبقات میں بھی نمایاں تھا۔ سرسید کی فکری و تعلیمی تحریک خاص طور پر ان کی تفسیر قرآن اسی رجحان کی عکاس تھی۔ان کے تفسیری اجتہادات کے مقبول نہ ہونے کے باوجود ان کی جدت پسند فکر نے تعلیم یافتہ مسلم معاشرہ پر گہرے اثرات چھوڑے تھے۔
ان حالات میں مولانا مودودیؒ نے دونوں انتہاؤں کے بیچ ، اسلام کے مسلک اعتدال کو نہایت مستحکم دلائل کے ساتھ پیش کیا۔ اور جدیدیت کے تئیں ایک ایسے متوازن رد عمل کی تشکیل کی جس میں بدلتے زمانہ کا ساتھ دینے کی بھرپور صلاحیت تھی اور اسلام سے نہ صرف یہ کہ کسی قسم کا انحراف نہیں تھا بلکہ اسلامی بنیادوں سے اور زیادہ گہری ، مستحکم، شعوری اور اٹوٹ وابستگی اس رد عمل کی نمایاں خصوصیت تھی۔ مولانا نے جدید یت سے مرعوبیت کا سحر توڑا۔اور ان غیر اسلامی فلسفوں کا پرزور رد کیا جو جدیدیت کے روپ میں در آرہے تھے۔ لیکن ساتھ ہی جدید ایجادات و اکتشافات اور جدید طرز زندگی کے مثبت عناصر کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں قبول کرنے کی ہمت افزائی کی۔ لیکن انہوں نے اس رویہ کی بھی حوصل شکنی کی کہ اسلام کے مکمل تصور زندگی اور اس کی اصل نظریاتی بنیادوں سے صرف نظر کرکے جدید وقدیم کا کوئی غیر فطری مرکب تیار کیا جائے۔ مولانا مودودی کا منفرد کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے بڑے شرح و بسط کے ساتھ اسلامی نظام زندگی کا مکمل خاکہ، ایک ناقابل تقسیم وحدت کے طور پر پیش کیا اور اسی خاکہ کی متابعت میں اور اس کے دائرہ میں جدیدت کے مثبت عناصر سے استفادہ کا سلیقہ سکھایا۔واقعہ یہ ہے کہ یہ مولانا کے نمایاں کارناموں اور ہمارے عہد پر ان کے اہم ترین احسانات میں سے ایک ہے۔
آج پھر وہی صور ت حال دوبارہ مسلم معاشرہ میں نمودار ہورہی ہے۔ مغربی فکر و فلسفہ اور اس سے زیادہ ، مغربی تہذیب اور طرز زندگی، پھر ایک بار پوری شدت کے ساتھ اسلام اور اسلامی معاشروں پر حملہ آور ہے اور اس کے رد عمل میں ، وہی دو طرح کے ، رجحانات مسلم معاشروں میں ظاہر ہورہے ہیں۔ ان حالات میں مسلک اعتدال اور معتدل اسلامی رد عمل کی خصوصیات کا شعور نوجوانوں کے اندر اچھی طرح پیدا کرنا ضروری ہے۔
قدامت پسندی اور مولانا مودودی
مولانا مودودی کا معتدل مسلک یہ تھا کہ جدیدیت کے اچھے پہلووں میں اسلامی روح کو کارفرما بنایا جائے اور پھران سے بھرپوراستفادہ کیا جائے اور اس کے غیر اسلامی اجزا اور فلسفوں سے اجتناب ہی نہیں بلکہ پوری قوت سے ان کا رد اور ابطال کیا جائے۔مولانا نے جدیدیت کی مخالفت کے نام پر غیر فطری قدامت پسندی کی سخت مخالفت کی۔
’’مدینہ طیبہ سے مماثلت پیدا کرنے کا کہیں یہ مفہوم نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبہ پر ہے اس سے رجعت کرکے اس تمدنی مرتبہ پر واپس جانے کے خواہشمند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اتباع رسول کا یہ مفہوم ہی سرے سے غلط ہے۔ اور اکثر دیندار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسا لباس وہ پہنتے تھے ویسا ہی ہم بھی پہنیں۔ جس قسم کے کھانے وہ کھاتے تھے اسی قسم کے کھانے ہم بھی کھائیں۔ جیسا طرز معاشرت ان کے گھروں میں تھا بعینہ وہی طرز معاشرت ہمارے گھروں میں بھی ہو۔ تمدن اور حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بالکل متجحرFoscilised صورت میں قیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں۔۔۔۔اتباع کا یہ تصور جو دور انحطاط کی کئی صدیوں سے دیندار مسلمانوں کے دماغوں پر مسلط رہا ہے درحقیقت روح اسلام کے بالکل منافی ہے۔ اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثار قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو قدیم تمدن کا ایک تاریخی ڈرامہ بنائے رکھیں‘‘۔(تنقیحات)
جدیدیت کے مثبت عناصر کے بارے میں مولانا مودودی کے موقف کو سمجھنے کے لئے امام مہدی سے متعلق ان کے خیالات سے واقفیت مفید ہوگی۔ امام مہدی آنے والے ادوار میں مسلمانوں کے ایک مثالی قائد ہوں گے۔ چنانچہ ان کی خصوصیات ایک مثالی مسلم رہنما کی خصوصیات ہیں۔ مہدی کا جو تصور انہوں نے پیش کیا وہ ایک ایسے قائد کا تصور تھا جو اسلام کی بنیادوں سے نہ صرف مضبوطی سے وابستہ ہوگا بلکہ اسلام کے احیاء کا مشن ہی اس کا اصل مشن ہو گااور اس کے باوجود وہ اپنے علم، صلاحیت، وسائل و ذرئع کے استعمال پر قدرت اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کے اعتبار سے ایک جدید ترین قائد ہوگا۔
’’میرا اندازہ یہ ہے کہ آنے والا (امام مہدی)اپنے زمانہ میں بالکل جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا۔ وقت کے تمام علوم جدیدہ پر اس کو مجتہدانہ بصیرت ہوگی۔ زندگی کے سارے مسائل مہمہ کو وہ خوب سمجھتا ہوگا۔ عقلی و ذہنی ریاضت، سیاسی تدبر اور جنگی مہارت کے اعتبار سے وہ تمام دنیا پر اپنا سکہ جمادے گا۔ اور اپنے عہد کے تمام جدیدوں سے بڑھ کر جدید ثابت ہوگا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی جدتوں کے خلاف مولوی اور صوفی صاحبان ہی سب سے زیادہ شورش بپا کریں گے۔ ۔۔۔بالآخر وہ جاہلی اقتدار کو الٹ کر پھینک دے گا اور ایک ایسا زبردست اسلامی اسٹیٹ قائم کرے گا جس میں ایک طرف اسلام کی پوری روح کارفرما ہوگی اور دوسری طرف سائنٹفک ترقی اوج کمال پر پہنچ جائے گی‘‘۔ (تجدید و احیائے دین)
ترجیحات کا شعور
مولانا مودودی کے معتدل رد عمل کی ایک اہم خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے جدیدیت کے سلسلہ میں رد عمل کی ترجیحات کا شعور پیدا کیا۔ انہوں نے دلائل کے ساتھ واضح کیا کہ جدیدیت کی اصل فتنہ سامانی، لباس اور دیگر بیرونی مظاہر میں نہیں بلکہ اس کے فکر و فلسفہ میں پوشیدہ ہے۔
’’ ایک طرف ان کے ہاں جزئیاتِ شرع کا یہ اہتمام ہے کہ ڈاڑھی ایک خاص مقدار سے کچھ بھی کم ہو تو فسق کا فیصلہ نافذ کردیا جاتا ہے۔ پائنچہ ٹخنہ سے ذرا نیچے ہوجائے تو جہنم کی وعید سنادی جاتی ہے ۔۔۔لیکن دوسری طرف دین کے اصول و کلیات سے ان کی غفلت اس حد کو پہنچی ہوئی ہے کہ مسلمانوں کی پوری زندگی کا مدار انہوں نے رخصتوں اور سیاسی مصلحتوں پر رکھ دیا ہے۔ اقامت دین کی سعی سے گریز کی بے شمار راہیں انہوں نے نکال رکھی ہیں۔ ‘‘ (تحریک اسلامی کی اخلاقی بنیادیں)
لکھتے ہیں:
’’یہ جدید مغربی فکر و فلسفہ ہے جو اسلامی تہذیب کے لئے اصل چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔یہی وہ فلسفہ اور سائنس ہے جس نے مغربی تہذیب کو پیدا کیا ہے۔اس میں نہ کسی علیم و قدیر خدا کے خوف کی گنجائش ہے نہ نبوت اور وحی و الہام کی ہدایت کا کوئی وزن۔نہ موت کے بعد کسی دوسری زندگی کا تصورنہ حیات دنیاکے اعمال پر محاسبے کا کوئی کھٹکہ۔نہ انسان کی ذاتی ذمہ داری کا کوئی سوال نہ زندگی کے حیوانی مقاصد سے بالاترکسی مقصد اور کسی نصب العین کا کوئی امکان۔یا خالص مادی تہذیب ہے۔۔۔۔اس کا نظریہ اسلام کے نظریہ کی بالکل ضد ہے۔اس کا راستہ، اس راستہ کی عین مخالف سمت واقع ہے جو اسلام نے اختیار کیا ہے۔۔۔۔گویا اسلام اور مغربی تہذیب دو ایسی کشتیاں ہیں جو بالکل مخالف سمت میں سفر کررہی ہیں۔(تنقیحات)
چنانچہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو کوٹ اور ٹائی سے بچایا جائے۔ اصل مسئلہ اس فکری و تہذیبی یلغار سے بچانا ہے جو جدیدیت کے جلو میں حملہ آور ہے۔اور اس کے لئے جامدروایت پسندی اور جدیدیت کی اندھی تقلید دونوں رویے مہلک ہیں۔
نوجوان ترکوں سے زیادہ گنہگار تو ترکی کے علما اور مشائخ ہیں۔انہی کے جمود نے ایک مجاہد قوم کو ، جو پانچ سو برس سے تن تنہا اسلام کے لئے سینہ سپر تھی ، اسلامیت سے فرنگیت کی طرف دھکیلا ہے۔ اور اندیشہ ہے کہ ایسے ہی جامدین دوسری مسلمان قوموں کو بھی ایک روز اسی جانب دھکیل کر رہیں گے۔ دوسری طرف جدت پسند حضرات ، ہر اس وحی کو جو انقرہ سے نازل ہوئی ہے، مسلمانوں کے سامنے اس طرح پیش کررہے ہیں گویا قرآن منسوخ ہوچکا، محمد ﷺ کی رسالت ختم ہوگئی، اب ہدایت ہے تو اتاترک کے اسوہ میں اور نور علم ہے تو آسمان انقرہ سے اتری ہوئی وحی میں،(تنقیحات)
عقل کی بالا دستی
مولانا مودودی نے عقل اور غور و فکر کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اور اندھی تقلید اور کوری روایت پسندی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ اور اجتہاد فکر پر زور دیا۔
یہ سراسر علمی و عقلی مذہب ہے۔ اس لئے اس کا اتباع بھی علم اور عقل کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ یہاں ہر ہر قدم پر تفقہ اور تدبر کی ضرورت ہے۔ جو شخص اس مذہب کی روح سے ناآشنا ہو، اس کی حکمتوں سے ناواقف ہو، اس کے اصول کو نہ سمجھتا ہو، اس کی تعلیم میں غور و فکر نہ کرتا ہو، وہ اس راہ راست پر استقامت کے ساتھ چل ہی نہیں سکتا جس کی طرف یہ مذہب رہنمائی کررہا ہے۔اس کا عقیدہ بے قیمت ہے جب تک کہ وہ زبانی اقرار سے گذرکر فکرو شعور پر حاوی نہ ہوگیا ہو۔ اس کا عمل بے اثر ہے جب تک کہ وہ علم اور فہم کی روح سے معمور نہ ہوجائے۔ اس کا اتباع قانون بے معنی ہے جب تک کہ قانون کی اسپرٹ اس کے جوارح سے گذرکر اس کے دل و دماغ پر چھا نہ گئی ہو۔(تفہیمات حصہ اول)
لیکن مولانا نے یہ بھی واضح فرمایا کہ انسانی عقل محدود ہے۔اس لئے وہ لامحالہ وحی الہی کی محتاج ہے۔
’’انسانی فکر کی پہلی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں علم کی غلطی اور محدودیت کا اثر لازماً پایا جاتا ہے ۔ اس کے برعکس خدائی فکر میں غیر محدود علم اور صحیح علم کی شان بالکل نمایاں ہوتی ہے ۔ جو چیز خدا کی طرف سے ہوگی اس میں آپ ایسی کوئی چیز نہیں پاسکتے جو کبھی کسی زمانے میں کسی ثابت شدہ علمی حقیقت کے خلاف ہو یا جس کے متعلق یہ ثابت کیا جاسکے کہ اس کے مصنف کی نظر سے حقیقت کا فلاں پہلو اوجھل رہ گیا۔۔۔۔۔ ان کے (علمی قیاسات) غلط ہونے کا اتنا ہی امکان ہوتا ہے جتنا ان کے صحیح ہونے کا،اور تاریخ علم میں ایسے بہت کم قیاسات و نظریات کی نشان دہی کی جاسکتی ہے جو بالآخرغلط ثابت نہیں ہوئے ہیں۔‘‘ (دین حق)
لہذا عقل کا استعمال ہونا چاہیے۔لیکن وحی الہی کے دائرہ میں۔ عقل کو وحی سے بے نیاز نہیں سمجھنا چاہیے اور کسی انسانی کا وش کو حرف آخر کا درجہ نہیں دیا جانا چاہیے بلکہ اسے وحی اور عقل کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرنا چاہیے۔مولانا مودودی کے نزدیک اندھی تقلید کے مرض کا شکار صرف روایت پسند ہی نہیں تھے بلکہ جدت پسند بھی تھے۔روایت پسند اگر عقل کے دروازے بند کرکے صدیوں قبل کی کتابوں کی تقلید کررہے تھے تو جدت پسندوں کی عقلیں جدید مغربی دانش کی چکاچوند کے آگے سپر انداز ہوچکی تھیں۔
مغرب سے انہوں نے عقلیت کا سبق سیکھا مگر خود عقل ان کی اپنی نہ تھی بلکہ یورپ سے حاصل کی ہوئی تھی۔ اس لئے ان کی عقلیت دراصل فرنگی عقلیت ہوگئی نہ کہ آزاد عقلیت۔ انہوں نے مغرب سے تنقید کا درس بھی لیا مگر یہ آزاد تنقید کا درس نہ تھا بلکہ اس چیز کا درس تھا کہ مغرب کے اصولوں کو بر حق مان کر ان کے معیار پر ہر اس چیز کو جانچو جو مغربی نہیں ہے۔(تعلیمات)
روایت پسند اور جدت پسند، دونوں گروہوں کو تقلید جامد کا مجرم قرار دیتے ہوئے مولانا تمثیلی پیرائے میں لکھتے ہیں:
’’بدقسمتی سے ہم کو دونوں گروہوں میں ایک بھی مجتہد نظر نہیں آتا۔ انتہائی جرأت کرکے پرانے جہاز والوں (روایت پسند) میں سے کوئی اگر اجتہاد کرتا ہے تو بس اتنا کہ اپنے اسی پرانے جہاز میں چند بجلی کے بلب لگالیتا ہے ، کچھ نئے طرز کا فرنیچر مہیا کرلیتا ہیاور ایک چھوٹی سی دخانی مشین خریدلیتا ہے جس کا کام اس کے سوا کچھ نہیں کہ دورسے سیٹی بجا بجا کر لوگوں کو یہ دھوکہ دیتی رہے کہ یہ پرانا جہاز اب نیا ہوگیا ہے۔ اس کے مقابلے میں نئے جہاز والے (جدت پسند) اگرچہ دوسروں کے جہاز پر بیٹھے ہیں اور تیزی کے ساتھ سمت مخالف میں چلے جارہے ہیں ، مگر دو چار پرانے بادبان بھی لے کر بیسویں صدی کے اس اپ ٹوڈیٹ جہاز میں لگائے ہوئے ہیں تاکہ خود اپنے نفس کو اور مسلمانوں کو یہ دھوکہ دے سکیں کہ یہ جہاز بھی ’’اسلامی ‘‘ جہاز ہے اور لندن کے راستہ سے حج کعبہ کو چلا جارہا ہے‘‘۔ (تعلیمات)
تعلیم کے معاملہ میں
مولانا مودودی ، جدید اور قدیم دونوں نظامہائے تعلیم کے سخت ناقد تھے۔ بلکہ تعلیم کی اس تقسیم اور دوئی کو وہ مسلمانوں کے زوال کے اہم اسباب میں سے ایک سبب گردانتے تھے:
’’علوم کو دینی اور دنیوی دو الگ الگ قسموں میں منقسم کرنا دراصل دین اور دنیا کی علیحدگی کے تصور پر مبنی ہے اور یہ تصوربنیادی طور پر غیر اسلامی ہے۔ ۔۔۔(اسلامی)تصور دین کا اقتضا یہ ہے کہ تمام دنیوی علوم کو دینی علوم بنادیا جائے ۔ ورنہ اگر کچھ علوم دنیوی ہوں اور وہ خدا پرستی کے نقطہ نظر سے خالی رہیں اور کچھ علوم دینی ہوں اور وہ دنیوی علوم سے الگ پڑھائے جائیں تو ایک بچہ شروع ہی سے اس ذہنیت کے ساتھ پرورش پائے گا کہ دنیا کسی اور چیز کا نام ہے اور دین کسی اور چیز کا‘‘۔(تعلیمات)
قدیم نظام تعلیم کے بارے میں ان کا موقف یہ تھا کہ
’’۔۔حقیقت میں وہ دینی تعلیم بہت کم ہے۔ دراصل وہ اب سے دو ڈھائی سو برس پہلے کی سول سروس کی تعلیم ہے۔جس میں زیادہ تر اس وجہ سے دینی تعلیم کا جوڑ لگا دیا گیا تھا کہ اسلامی فقہ ہی ملک کا قانون تھی۔۔۔حقیقت میں اس کے اندر دینی تعلیم کا عنصر بہت کم ہے۔۔۔اس طرح یہ نظام تعلیم ہماری ان مذہبی ضروریات کے لئے بھی سخت ناکافی ہے جن کی خاطر اس کو باقی رکھا گیا ہے۔ رہی دنیوی ضروریات تو ان سے تو اس کو سرے سے کوئی واسطہ ہی نہیں‘‘۔(تعلیمات)
مزید فرماتے ہیں
’’لیکن (مروجہ دینی تعلیم سے) اس فائدے کے مقابلہ میں جو نقصان ہم کو پہنچ رہا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔وہ نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی کرسکتے ہیں اور نہ موجودہ زندگی کے مسائل پر اسلام کو منطبق کرسکتے ہیں۔ نہ ان کے اندر اب یہ صلاحیت ہے کہ دینی اصولوں پر قوم کی رہنمائی کرسکیں۔ اور نہ وہ ہمارے اجتماعی مسائل میں سے کسی مسئلہ کو حل کرسکتے ہیں۔بلکہ میں تو کہوں گا کہ اب ان کی بدولت دین کی عزت میں اضافہ ہونے کی بجائے الٹے اس میں کچھ کمی ہورہی ہے‘‘۔(تعلیمات)
جدید نظام تعلیم کے بارے میں وہ فرماتے تھے،
’’موجودہ نظام تعلیم میں ملت اسلام کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت کے لئے جو انتظام کیا جاتا ہے ، وہ دراصل ان کو اس ملت کی پیشوائی کے لئے نہیں بلکہ اس کی غارت گری کے لئے تیار کرتا ہے۔ ان درسگاہوں میں آپ کو فلسفہ، سائنس، معاشیات، قانون، سیاسیات، تاریخ، اور دوسرے وہ تمام علوم پڑھائے جاتے ہیں جن کی مارکیٹ میں مانگ ہے۔ مگر آپ کو اسلام کے فلسفہ، اسلام کی تاریخ اور فلسفہ تاریخ کی ہوا تک نہیں لگنے پاتی۔ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے، آپ کے ذہن میں زندگی کا پورا نقشہ اپنے تمام جزئیات اور پہلووں کے ساتھ بالکل غیر اسلامی خطوط پر بنتا ہے۔ آپ غیر اسلامی طرز پر سونچنے لگتے ہیں۔ غیر اسلامی نقطہ نظر سے زندگی کے ہر معاملہ کو دیکھتے ہیں اور دیکھنے پر مجبور ہوتے ہیں‘‘۔(تعلیمات)
ان دونوں انتہاؤں کے درمیان مولانا مودودیؒ کے زرخیز اسلامی تخیل نے ایک معتدل اسلامی نظام تعلیم کی بنا ڈالی۔ یہ نظام اب ساری اسلامی دنیا میں مقبول ہوچکا ہے اور اس کی بنیاد پر بے شمار تجربات پوری دنیا میں ہورہے ہیں۔ اس نظام تعلیم کی خود مولانا مودودی نے تین خصوصیات بیان کی ہیں۔ ایک، مقصد تعلیم، جو ایسے افراد تیار کرنا ہو، جو اپنے ایمان، سیرت اور قابلیت کے اعتبار سے اس لائق ہوں کہ
’’ہماری اجتماعی زندگی کے پورے کارخانہ کو ہماری تہذیب کے اصولوں پر چلاسکیں اور مزید ترقی دے سکیں۔‘‘ (تعلیمات)
دوسری خصوصیت، دین اور دنیا کی تفریق کا خاتمہ اور تمام علوم فلسفہ، معاشیات، قانون وغیرہ کی ساری تعلیم دینی نقطہ نگاہ سے، اس طرح کہ
’’اس کے بعد کسی جداگانہ مذہبی تعلیم کی کوئی ضرورت باقی نہ رہے۔‘‘ (تعلیمات)
اور تیسری خصوصیت یہ ہو کہ اس میں تشکیل سیرت کی کتابی علم سے زیادہ اہمیت ہو۔
ٹکنالوجی اور جدید وسائل کے معاملہ میں
مولا نا مودودی ٹکنالوجی کو ایک معتدل چیز سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل خرابی ٹکنالوجی میں نہیں ہے بلکہ اس تہذیب میں ہے جو ٹکنالوجی کو استعمال کررہی ہے۔
’’نجاست اور گندگی جو کچھ ہے وہ ان وسائل میں نہیں ہے بلکہ اس کافرانہ تہذیب میں ہے جو ان وسائل سے فروغ پارہی ہے۔ ریڈیو بجائے خود ناپاک نہیں ہے ، ناپاک وہ تہذیب ہے جو ریڈیو کے ڈائرکٹر کو داروغہ ارباب نشاط یا ناشر کذب و افتراء بناتی ہے۔ہوائی جہاز ناپاک نہیں ہے، ناپاک وہ تہذیب ہے جو ہوا کے فرشتہ سے خدائی قانون کے بجائے شیطانی اغوا کے تحت کام لیتی ہے۔ ناپاک سینما نہیں ہے، ناپاک وہ تہذیب ہے جو خدا کی بخشی ہوئی اس طاقت سے فحش اور بے حیائی کی اشاعت کا کام لیتی ہے۔۔۔۔یہ طاقتیں تو تلوار کی طرح ہیں کہ جو اس سے کام لے گا وہی کامیاب ہوگا۔ خواہ وہ ناپاک مقاصد کے لئے کام لے یا پاک مقاصد کے لئے‘‘۔ (تنقیحات)
اس وقت اسلامی حلقوں میں ٹکنالوجی کے حوالہ سے جو جدید بحثیں اٹھی ہیں، اس میں اس تصور کو بھی چیلنج کیا جارہا ہے اور ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے کہ خود ٹکنالوجی تہذیب کی پیداوار ہوتی ہے۔اس لئے ٹکنالوجی مکمل طور پر تہذیبی اثرات سے پاک نہیں ہوتی۔ اسلامی تمدن کو اپنی جداگانہ اسلامی ٹکنالوجی کی بھی ضرورت ہوگی۔
سیاسی اور معاشی نظام کے حوالہ سے
مولا نا مودودی کے نزدیک ، بنیادی فکر و فلسفہ کے بعد، جدید مغربی تہذیب کا طاقت ور ترین پہلو، جس سے مقابلہ ضروری ہے، وہ اس کا سیاسی نظام یا اسٹیٹ ہے۔
جدید مغربی یا سیکولر سیاست کی بنیاد حاکمیت جمہور کے تصور پر ہے جب کہ اسلامی نظام کی بنیاد حاکمیت الہ پر ہے۔
’’فیصلہ کرنے کا اختیارا اور فرمان روائی کا حق اللہ تعالی کے لئے خاص ہے۔ ۔۔۔اللہ کی یہ حاکمیت جس طرح کائناتی ہے اسی طرح سیاسی و قانونی بھی ہے۔اور اخلاقی و اعتقادی بھی۔۔۔اللہ کی سیاسی و قانونی حاکمیت کایہ تصور اسلام کے اولین بنیادی اصولوں میں سے ایک ہے‘‘۔ (اسلامی ریاست)
حاکمیت الہ کے دائرہ کے اندر مولانا مودودی جمہوریت کے خلاف نہیں تھے بلکہ اس کے زبردست موید اور حامی تھے۔
’’وہ (اسلامی ریاست) جمہوریت کے اس اصول میں ڈیموکریسی سے متفق ہے کہ حکومت کا بننااور بدلنااور چلایا جانا بالکل عوام کی رائے سے ہونا چاہیے۔لیکن اس میں عوام مطلق العنان نہیں ہوتے ۔۔بلکہ خدا اور رسول کا بالاتر قانون اپنے اصول و حدوداور اخلاقی احکام و ہدایات سے عوام کی خواہشات پر ضبط قائم رکھتا ہے‘‘۔(خلافت و ملوکیت)
انہوں نے اہنے سیاسی فکر کا خلاصہ حاکمیت الہ اور خلافت جمہور کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔
’’اس فقرہ کی رو سے اہل ایمان کی جماعت کا ہر فرد خلافت میں برابر کا حصہ دار ہے۔ کسی شخص یا طبقہ کو عام مومنین کے اختیارات خلافت سلب کرکے اپنے اندر مرکوز کرلینے کا حق نہیں ہے۔۔۔یہی چیز اسلامی خلافت کو ملوکیت، طبقاتی حکومت، اور مذہبی پیشواوں کی حکومت سے الگ کرکے اسے جمہوریت کے رخ پر موڑتی ہے۔لیکن اس میں اور مغربی تصور جمہوریت میں اصولی فرق یہ ہے کہ مغربی تصور کی جمہوریت ، عوامی حاکمیت کے اصول پر قائم ہوتی ہے اور اس کے برعکس اسلام کی جمہوری خلافت میں خود عوام خدا کی حاکمیت تسلیم کرکے اپنے اختیارات کو برضا و رغبت قانون خداوندی کے حدود میں محدود کرلیتے ہیں‘‘۔(خلافت و ملوکیت)
اسی طرح معاشی معاملات میں انہوں نے کمیونزم کے تصور کا بھی رد کیا اور کیپٹلزم کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔اور ان دونوں انتہاؤں کے درمیان اسلامی معاشیات کے فلسفہ کو اجگر کیا جس میں فرد کی آزادی، نفع کا محرک اوراس کے نتیجہ میں پیداوار دولت کی تیز رفتاری جیسی خوبیاں بھی شامل ہیں اور عوامی بہبود، دولت کی منصفانہ تقسیم اور غریبوں کے مسائل کا حل بھی موجود ہے۔اس طرح کمیونزم اور کیپٹلزم دونوں کی خوبیاں موجود ہیں اور دونوں کی خامیوں سے نجات ہے۔
کام کرنے کے طور طریقوں کے حوالہ سے
مولانا مودودی نے اس خیال کو بہت شدت کے ساتھ پیش کیا کہ ہر اچھی بات اور اچھا تجربہ انسانیت کی مشترکہ میراث ہے۔ اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے بلکہ اختیار کرنا چاہیے۔
’’ایک قوم سے دوسری قوم کو اگر کوئی چیز لینی چاہیے اور کوئی چیز درحقیقت لینے کے قابل ہے تو وہ محض اس کی علمی تحقیقات کے نتائج ، اس کی تخلیقی و اختراعی قوتوں کے ثمرات، اور اس کے وہ عملی طریقے ہیں، جن سے اس نے دنیا میں کامیابی حاصل کی ہو۔اس کی تاریخ میں، یا اس کی تنظیمات میں یا اس کے اخلاقیات میں اگر کوئی مفید سبق ہے تو اسے ضرور حاصل کرنا چاہیے۔اس کی ترقی اور کامیابی کے اسباب کا پوری چھان بین کے ساتھ استقصاء کرنا چاہیے اور ایک ایک چیز جو مفید ہو اسے لے لینا چاہیے۔یہ چیزیں انسانیت کی مشترک میراث ہیں۔ان کی قدر نہ کرنا اور ان کے لینے میں قومی عصبیت کی بنا پر بخل کرنا محض جاہلیت ہے‘‘۔(تفہیمات ۔ حصہ دوم)
اس کی سب سے نمایاں مثال خود جماعت اسلامی کی تنظیمی ساخت ہے جو بڑی حد تک جدیدیت ہی کے تنظیمی طور طریقوں سے ماخوذ ہے۔اس میں تنظیم کی ممبرشپ، فیصلہ سازی کے ادارے، تنظیمی عہدیدار اور ان کی ترتیبHierarchy، فیصلہ سازی کی مجالس اور ان کی نشستوں اور فیصلہ سازی کے طریقے وغیرہ معاملات میں جدید تنظیمی طریقوں سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے لیکن اس استفادہ میں اندھی نقل نہیں ہے بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق بعض انوکھی اور بے نظیر ندرتیں بھی ہیں۔ مثلاً امیدواری کے بغیر انتخاب کا طریقہ کار، امیر کی مرکزی حیثیت، عہدہ کی خواہش سے کسی فرد کا عہدوں کے لئے نااہل ہوجانا وغیرہ۔
اس سلسلہ میں مولانا کے موقف کا خلاصہ ان کے مندرجہ ذیل بیان میں ملتا ہے۔
’’رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کا اصل اسوہ جس کی ہمیں پیروی کرنی چاہیے ، یہ ہے کہ انہوں نے قوانین طبعی کو قوانین شرعی کے تحت استعمال کرکے زمین میں خدا کی خلافت کا پورا پورا حق ادا کردیا۔ ان کے عہد میں جو تمدن تھا، انہوں نے اس کے قالب میں اسلامی تہذیب کی روح پھونکی۔اس وقت جتنی طبعی قوتوں پر انسان کو دسترس حاصل ہوچکی تھی ان سب کو انہوں نے اس تہذیب کا خادم بنادیا۔اور غلبہ و ترقی کے جس قدر وسائل تمدن نے فراہم کئے تھے ان سے کام لینے میں وہ کفار و مشرکین سے سبقت لے گئے تاکہ خدا سے بغاوت کرنے والوں کی تہذیب کے مقابلہ میں خدا کی خلافت سنبھالنے والوں کی تہذیب کامیاب ہو‘‘۔(تنقیحات)
سید سعادت اللہ حسینی،
ممبر مرکزی مجلس شوری جماعت اسلامی ہند








