(سید سعادت اللہ حسینی کا یہ مضمون اس سے قبل ستمبر ۲۰۰۵ کے رفیق میں شائع ہوچکا ہے، رفیق کے موجودہ شمارے کے مرکزی موضوع سے گہری مناسبت اورموجودہ حالات میں مضمون کی معنویت کے پیش نظر اس کو معمولی ردوبدل کے بعددوبارہ شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔ ادارہ)
حقائق بہت تلخ ہوتے ہیں۔ جب کہ تصورات کی دنیا بہت حسین ہوتی ہے۔ زندگی کی تلخیوں سے پریشان ہوکر خوابوں کی حسین وادیوں میں پناہ لینے کی انسانی عادت بہت پرانی ہے۔اسی عادت نے الف لیلیٰ جیسی داستانیں اور دیو مالائیں تشکیل دی ہیں۔ الٰہ دین کے جن کے تصور کو جنم دیا ہے۔ آب حیات اور جام جَم کے تخیلات پروان چڑھائے ہیں۔ خوابوں کی اس خوبصورت دنیا میں ہر چیز انسان کے بس میں ہوتی ہے۔ جو چاہے مل جاتا ہے۔ فاصلے،مسافتیں اور دوریاں بے معنیٰ ہوجاتی ہیں۔ انسان اپنی تمام کمزوریوں سے اوپر اٹھ کر لامحدود قوتوں اور صلاحیتوں کا مالک فوق البشر (Supermnet) بن جاتا ہے۔
کہانیوں اور داستانوں میں یہ باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ لیکن جب اان آرزوؤں کی تکمیل کی جستجو ، مصنوعی دنیائیں تشکیل کرنا شروع کردیتی ہے تو اصل حقائق اور مصنوعی حقائق کے درمیان فاصلے ختم ہونے لگتے ہیں۔ حقاق پر مصنوعات غالب آنے لگتی ہیں۔ واہموں اور سایوں کا راج شروع ہوجاتا ہے۔ یہ کیفیت انسانی تمدن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ سائبرستان ایسی ہی ایک وہمی اور ذاتی دنیا ہے۔ کمپیوٹر کے پیچ در پیچ سلسلوں کے اس جال میں حقیقت اور خیال نہایت پیچیدہ حد تک باہم گڈمڈ ہیں۔ ایک کمپیوٹر پروفیشنل یا کوئی عام طالب اپنے پی سی پر سنجیدہ کام کرتے کرتے، اچانک ایک دوسری ونڈو کھولتا ہے اور ایک تصوراتی دنیا (Virtual World) میں گم ہوجاتا ہے۔ اس الف لیلائی دنیا میں حقیقی دنیا کے سارے عکس موجود ہیں۔ بازار ہیں جہاں دنیا کی ہر چیز خریدی جاسکتی ہے۔ دنیا میں محفلوں کی جتنی قسمیں ہوسکتی ہیں وہ ساری موجود ہیں۔ ہر اخبار موجود ہے۔ دواخانے موجود ہیں،عیش کدے ہیں، بار ہیں، گپ شپ ہوسکتی ہے۔ لڑائی جھگڑے ہوسکتے ہیں۔ دنیا کے چپے چپے کی تفریح ہوسکتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جنسی ملاپ تک ہوسکتا ہے۔
جو لوگ سائبرستان کی اس پیچیدہ دنیا سے واقف نہیں ہے ان کے لیے یہ مضمون چیستاں ہی ہوگا اگر وہ عام لوگ ہیں تو ان سے معذرت خواہ ہوں، اور اگر خاص لوگ ہیں تو انہیں جاننا چاہیے کہ آپ کے لیے یہ مسئلہ اجنبی سہی، لیکن آج کی نئی نسل کے لیے جو ہندوستان کی آبادی کا 65 فیصد ہے، یہ مسئلہ اب اجنبی نہیں رہا۔ آپ کے گلی کوچوں کے ہزاروں سائبر کیفوں، بلکہ آپ کے گھروں میں موجود کمپیوٹروں میں ایک بالکل مختلف معاشرت پروان چڑھ رہی ہے۔
ہمارے بزرگوں کی بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کے تصورات کی رسائی اس معاشرت کی سرحدوں تک بھی نہیں ہے۔ اس کی ترکیب ہی ان کے فہم سے بالاتر ہے۔ سائبرستانی معاشرت کا سب سے بڑا مسئلہ یہی یہ کہ اس نے سماج کے بزرگوں کو ان کی عقل و بصیرت کے ساتھ نکال باہر کیا ہے۔ وہ سائبر کیفے میں بیٹھ کر بھی نہیں جان سکتے کہ سائبرستان کیا ہے۔ اس میکدے کا انداز ہی کچھ ایسا ہے کہ ناصح اگر داخل ہوبھی جائے تو اسے ہ ساغر و مینا نظر آتے ہیں، نہ مجنوں و لیلیٰ۔
عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس پر فحش میگزینوں کی طرح کچھ گندی تصاویر یا کچھ عریاں فلمیں بھی دستیاب ہوجاتی ہیں۔ مسئلہ صرف اتنا نہیں ہے، یہ ایک کلیتاً مختلف دنیا ہے، جس کی اپنی تہذیب اور اپنا تمدن ہے۔ مغربی یونیورسٹیوں میں سائبر سماجیات (Cyber Sociology) اور سائبر نفسیات (Syber Pshychology) جیسے فنون، علوم کی مستقل شاخیں بن چکے ہیں، جن پر باقاعدہ کورسیز چل رہے ہیں۔
سائبرستانی احوال کی گہرائیوں میں جانے کی اسلامی نقطۂ نظر سے کوششیں بہت کم ہوئی ہیں۔ گرچہ انٹرنیٹ پر سلامی سرگرمی اچھی خاصی ہے اور بے شمار اسلامی دیب سائٹس ہیں، لیکن سائبر مسائل پر اسلامی نقطۂ کی تشکیل کا کام ابھی بہت پیچھے ہے۔
برطانوی مفکر، ضیاء الدین سردار نے مختلف مغربی مفکرین کے مضامین جمع کر کے اس موضوع پر ایک کتاب ایڈیٹ کی ہے۔ اس میں اپنے مضمون میں انہوں نے انٹرنیٹ کو مغربی امپریلزم کا آلہ قرار دیا ہے۔ ان کے نزدیک نئی زمینیں اور نئے علاقے فتح کرنے کی سامراجی جستجو جو اپنی انتہا اور انجام کو پہنچ گئی تو سامراج نے ایک نیا محاذ سائبرستان کی صورت میں کھول دیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ لوگوں کے ذہن و فکر پر حکومت کی جاسکے۔ سردار نے انٹرنیٹ کے ذریعہ انگریزی زبان اور اس کی علامتوں کے عالمی غلبہ اور سائبرستان کے بعض نمایاں نظریہ سازوں اور کتابوں کے مشتملات کو اپنے فکر کی تائید میں پیش کیا ہے۔
دیگر معاملات کی طرح اس معاملہ میں بھی سردار کا نقطۂ نظر انتہا پسندانہ ہے۔ وہ یہ بات نظر انداز کردیتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے بحیثیت ایک ٹکنالوجی کے ہماری تمدنی ترقی کو کئی خوبصورت اور احسن موڑ بھی دیے ہیں۔ اس نے دنیا کے انسانوں کو بے نظیر طریقے سے ایک دوسرے سے قریب کیا ہے۔ بے آوازوں کو آواز بخشی ہے۔ ا طلاعات کو سستا اور آسان کر کے ایک عام آدمی کی طاقت بڑھائی ہے۔ سچائیوں کی پردہ پوشی کو مشکل تر بناکر حق کے غلبہ کی راہ آسان کی ہے۔ قومی و جغرافیائی سرحدوں کی دیواروں کو کمزور کیا ہے۔ خیالات کی پہرہ داری ناممکن بنادی ہے، ان میں سے ہر بات اسلام کے تمدنی مقاصد میں شامل ہے۔ اس لیے انٹرنیٹ کو سرمایہ داروں کا آلہ قرار دینا زیادتی ہے۔ بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ کا صحیح اور متوازن استعمال مثالی اسلامی معاشرہ کے قیام کی منزل کو قریب تر کرسکتا ہے۔
لیکن ہم اپنے بعض سادہ لوح بھائیوں کے اس خیال کو بھی درست نہیں سمجھتے کہ فحاشی سے بچئے، قادیانیت اور صہونیت سے بچئے، اس کے بعد انٹرنیٹ بس رحمت ہی رحمت ہے۔ حقیقت اتنی سطحی نہیں ہے۔ یہ ایک گہرا موضوع ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے ہمارے دور میں جس سائبرستان یا غیر حقیقی دنیا (Virtual) World) کی تشکیل کی ہے وہ خود ایک صالح تمدن کے لیے خطرہ ہے۔ انٹرنیٹ ضرور فائدہ مند ہے، لیکن اس کے بطن سے پیدا ہونے والا سائبرستان فائدہ مند نہیں ہے۔ اس مضمون میں صرف چند اشارات اس گزراش کے ساتھ کیے جارہے ہیں کہ قارئین اس بحث کو آگے بڑھائیں۔
1۔ حقائق سے فرار:
سائبرستانی معاشرت کی بنیاد ہی حقائق سے فرار ہے۔ زندگی کی تلخیاں، شیرینی اللہ کی آیات میں سے ہیں۔ تلخیوں و شیرنیوں کے آمیزہ ہی میں تہذیب کا پودا پرورش پاتا ہے۔ انہی کے درمیان انسان کا امتحان بھی ہوتا ہے اور اس کی تربیت بھی ہوتی ہے، لیکن سائبرستانی معاشرت ان حقیقتوں سے فرار کا راستہ دکھاتی ہے۔ سائبر سماجیات کے ماہرین کے اعتراف (Recognisign the Reality) اور اس کے سامنے (Facing the Reality) سے زیادہ حقائق کی تخلیق (Creatin the Reality) کا داعیہ کام کرتا ہے ، جو لوگ سائبرستانی احوال سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ وہاں ایک معذور آدمی خود کو تندرست ظاہر کرتا ہے۔ 60سال کا بدصورت بوڑھا خود کو 22سالہ وجیہہ نوجوان کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ حقائق کی اس مصنوعی تشکیل کے عمل کی کوئی حد نہیں ہے۔ سائبرستان کے شہری کو فطرت کا کوئی فیصلہ منظور نہیں ہے۔ وہ ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق تخلیق کرتا ہے۔ اپنے ارد گرد اپنی پسند کے ماحول اور ’حقائق‘ کی ایسی مصنوعی دیواریں کھڑی کرتا ہے کہ اصل حقائق سے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ اس مضمون کے قارئین میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنا ای میل yahoo.comپر بنایا ہوگا۔ وجہ؟ انہیں یہ فطری حقیقت منظور نہیں کہ پیدائش اورموجودہ رہائش کے اعتبار سے ان کی اصل حقیقت yahoo.co.in ہے۔ ایک نیٹ شہری ہندوستان سے زیادہ امریکی شہروں سے واقف ہوتا ہے۔ اسے اپنے چاروں طرف ہندوستانی جھونپڑیوں کی بجائے امریکی محلات نظر آتے ہیں۔ مصنوعی زبان، مصنوعی ذخیرۂ الفاظ، مصنوعی تہذیبی علامات، مصنوعی رشتے، مصنوعی تعلقات، مصنوعی سودے اور مصنوعی دولت (Virtual Wealth) حقائق سے فرار کی اتنی مکروہ شکل انسانی تاریخ نے کبھی نہیں دیکھی۔
2۔ تشخص کا خاتمہ
حقائق سے فرار کا داعیہ اس مقام کو پہنچ جاتا ہے کہ آدمی اپنے تشخص سے بھی فرار چاہتا ہے۔ خاتمہ شناخت Loss of Identity) اور خاتم�ۂ شخصیت Loss of Personality کو سائبر سوشیالوجسٹ سائبرستانی مسائل میں سرفہرست رکھتے ہیں۔ تعلقات و روابط کی اس دنیا میں آدمی کا تشخص اور پہچان نہ صرف اس کی مرضی اور خواہش کے مطابق تشکیل پاتی ہے بلکہ ضرورت اور خواہش کے تحت بدلتی بھی رہتی ہے۔ مرد جب چاہے عورت بن جاتا ہے اور ایک عورت ہی کی حیثیت میں تعلقات، روابط، دوستی، گفتگو، رومانس وغیرہ کے تقاضے برسوں تک نبھاتا رہتا ہے۔ یہ محض ڈرامہ نہیں ہوتا۔ تبدیل شدہ شناخت کے اپنے جذبات، داعیات اور حوصلے ہوتے ہیں۔ یعنی حقیقی مرد کا سائبرستانی، نسوانی وجود، خالص نسوانی جذبات کے تحت کام کرتا ہے۔ جنس ہی نہیں بلکہ رنگ نسل، عمر، قومیت، شکل ، صورت، احوال ہر چیز قابل انتخاب ہوتی ہے۔ سائبرستان میں یہ Anonyms کی کثرت، یہ بدلتے نام اوربدلتے سائبر سوشیالوجسٹ ٹرکلی شیری نے صحیح کہا ہے:
’’سائبرستان میں خودی کا شعور بہت منتشر اور اجزاء میں بٹا ہوا ہے۔ کمپیوٹر میڈی ایٹیڈ کمیونی کیشن (CMC) پروگرام میں فرد کے لیے ماحول کی مناسبت سے کردار اور شناخت کی تبدیلی کی سہولت بہت تشویشناک ہے اور سماجی ڈھانچہ اور اس میں فرد کے کردار سے متعلق زبردست خطرات اس میں پوشیدہ ہیں‘‘۔
اہل اسلام کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ نفاق کی بدترین قسم ہے۔ ایک فرد اپنی شناخت اور خودی کے بغیر بے معنی ہے۔ ہر انسان کا ایک منفرد چہرہ ہے، اس کی منفرد چال، منفرد آواز، ہاتھ کی منفرد لکیریں اورخامیوں و خوبیوں کا منفرد سیٹ۔ اس غیر معمولی اہمیت کی ابدی علامات ہیں،جو قدرت ایک فردکی شناخت کھو دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شناخت کو اہمیت دی ہے۔ جو دین شکل و صورت (خلق اللہ ) میں کوئی تبدیلی جائز نہیں رکھتا، عورتوں کو اپنے بالوں میں مصنوعی بال بڑھانے کی اجازت نہیں دیتا، مردانہ لباس کی اجازت نہیں دیتا، وہ کیسے اس بات کو گوارا کرسکتا ہے، کہ شخصیتیں گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی رہیں اور آدمی حقیقی شخصیت مصنوعی ناموں اور مصنوعی چولوں کے درمیان گم ہوکر رہ جائے۔
حقیقی سماجی روابط کا فقدان:
سائبرستان کے مصنوعی تعلقات کی کشش آدمی کو حقیقی تعلقات سے بے نیاز بلکہ بیزار کردیتی ہے۔ حقیقت کی دنیا میں آدمی اپنی اصلی خامیوں اور خوبیوں کے ساتھ بے نقاب ہوتا ہے۔ تعلقات پر خوبیو ں اور خامیوں کابھی اثر پڑتا ہے۔ یہاں ایک آدمی کو لوگوں سے اتنی ہی عزت ملتی ہے، جتنے کا وہ حقیقتاً مستحق ہے۔ لوگوں کی اس سے محبت، اس کی شخصیت کی سحر انگیزی اور اس کااثر و رسوخ سب کچھ ایسے اٹل حقائق پرمنحصر ہوتا ہے، جن میں سے بعض کی تبدیلی ممکن نہیں ہوتی، اور بعض تبدیلی کیلئے طویل اور صبر آزما محنت کے متقاضی ہوتے ہیں۔
سائبرستان کی مصنوعی دنیا میں چونکہ آدمی اپنی شناخت کو خود ڈیزائن کرتا ہے اس لیے وہ خود کو ایسے خوابوں کے شہزادے کی حیثیت سے پیش کرتا ہے کہ جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے کوہ قاف کی پریاں قطار لگائے کھڑی ہوں۔ یہاں اس کی شحصیت میں گلیمر ہی گلیمر اور سب کچھ حسین ، پرکشش اور سحر انگیز ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ فطری طور پر وہ حقیقت کی اس دنیا سے کترانے لگتا ہے جہاں لوگ اس کی خامیوں، ناکامیوں اور شخصیت کے بدنما پہلوؤں سے بھی روشناس ہیں۔
چنانچہ ایسی بہت سے اسٹڈیز موجود ہیں کہ انٹرنیٹ کا غیر متوازن استعمال سماجی طور پر آدمی کو تنہائی پسند اور مردم بیزار بنادیتا ہے۔ مثلاً کراؤٹ (Kraut) اور ان کے ساتھیوں کے امریکہ میں کیے گئے سروے کے مطابق انٹرنیٹ کا غلط استعمال کرنے والوں میں سماجی مشغولیت اور خاندانی روابط کا فقدان پایا گیا۔ سروے کے اعداد و شمار کے مطابق ایک سائبرستانی اپنے گھر اور حقیقی ماحول میں اجنبی کی طرح رہنے لگتا ہے۔ کمپیوٹر سے اٹھتے ہی اس کا موڈ آف ہوجاتا ہے، اس کے چہرے پر اداسی چھا جاتی ہے اور مزاج میں جھنجھلاہٹ آجاتی ہے۔
جب کہ خود سائبرستان کے روابط مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔ حقیقی انسانی رشتوں کی گرمی اور گداز کا ان میں کہیں پتہ نہیں ہوگا۔ اکثر ان تعلقات کے لیے طاقور جذباتی محرکات موجود نہیں ہوتے۔ امریکی نفسیاتی طب (Psychiatry) کے جرنل ’’امریکن سائیکولوجسٹ‘‘ کے مطابق ان میں ’دوستی‘ اور ’تعلق‘ کی نفسیاتی خصوصیات سرے سے پائی ہی نہیں جاتیں۔ دوستی اور روابط میں شفافیت اور اعتماد کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ سائبر روابط میں ان قدروں کے لیے گنجائش نہیں ہے۔
حقیقی روابط کے فقدان کے نتیجہ میں سماج دھیرے دھیرے کمزور ہونے لگتا ہے۔ ماہرین سماجیات نے امریکی معاشرہ میں سماجی سرمایہ Social Capital (جدید ماہرین سماجیات کی اصطلاح میں سماجی سرمایہ ان سماجی قدروں کے مجموعہ کو کہتے ہیں، جن کی موجودگی سماج کو ترقی یافتہ بناتی ہے۔) کی تیز رفتار گراوٹ کے اسباب میں انٹرنیٹ کو بھی شمار کیا ہے۔
یہ امریکی معاشرہ کے تناظر میں کیا گیا تجزیہ ہے۔ ہندوستان جیسے پسماندہ معاشرہ میں جہاں پہلے ہی شہریوں کی سماجی حرکیت (Social Activism) ترقی یافتہ معاشروں کے مقابلہ میں بہت کم ہے، یہ نقصان مزید کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اسلام میں سماج روابط کے ماڈل کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حقوق کی ترجیحی ترتیب کا واضح تصورموجود ہے۔ اس ترتیب میں خونی رشتوں کے ساتھ جغرافیائی قربت کااتنا پاس و لحاظ ہے کہ صحابہ کرامؓ کو اندیشہ ہونے لگا تھا کہ کہیں پڑوسی وراثت میں حصہ دار نہ بنادیا جائے اس لیے قریبی سماج سے منقطع ہوکر دور درازمصنوعی رابطوں کے پیچھے پڑنا کسی صورت صحیح نہیں قرار دیا جاسکتا ہے۔
ایک رنگی:
سائبر تعلقات کی ایک اہم خصوصیت اس کی یک رنگی ہے۔ یہاں افکار، خیالات اور دلچسپیوں کی پوری دنیا قابل تخلیق ہے۔تمدن، متنوع دلچسپیوں، صلاحیتوں، افکار، اور مزاجوں کے تعامل (Interaction) سے پڑوان چھڑتا ہے۔ گلہائے رنگ رنگ سے چمن کی رونق فطرت کا اٹل اصول ہے۔ اس طرح ایک آدمی کو اپنے دوستوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، ہم وطنوں وغیرہ کے دائرہ میں اپنے سے مختلف مزاج، صلاحیت اور دلچسپی کے حامل لوگوں سے رشتہ و تعلق رکھنا پڑتا ہے۔ انسانی تہذیب کے ہمہ جہت ارتقاء کے لیے یہ قدرت کا ڈیزائن ہے کہ انسان کی پیدائش کے لیے مقام و ماحول کو اس نے خالص اتفاق پر منحصر رکھا ہے۔ ان اتفاقات کے نتیجہ میں خواہی نہ خواہی طرح طرح کہ لوگ ایک جگہ جمع ہوجاتے ہیں۔
سائبرستانی معاشرت ، قدرت کے اس ڈیزائن سے بغاوت کرتی ہے۔ یہاں تعلقات کی بے شمار بنیادیں ختم ہوکر صرف ایک بنیاد باقی رہ جاتی ہے۔ دلچسپی اورمزاج کا اشتراک انسانوں کی رنگا رنگ حقیقی دنیا، دلچسپیوں ، مزاجوں اور افکار کے خانوں میں بٹ جاتی ہے۔ اس طرح اگر کسی کو کیمسٹری سے دلچسپی ہے تو اس کی دنیا صرف کیمیا دانوں پر مشتمل ہے۔ اس کے دوست اور اس کی محبوبائیں سب صرف کیمیا دان ہیں۔ اس دنیا میں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ریاضی، فلسفہ، طب، طبیعات وغیرہ کس چڑیا کے نام ہیں؟ یہاں اگر کوئی سوشلسٹ ہے تو اس کی ساری کائنات مارکس اور لینن کے دیوانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں گمان ہی نہیں گزرتا کہ کرۂ ارض پر کوئی غیر سوشلسٹ بھی پایا جاتا ہے۔ دین ودعوت کے علمبرداروں نے بھی اپنے گوشہ ہائے عافیت بنارکھے ہیں۔ جہاں صرف اسلام کے نام لیوا جمع ہوکر اسلام پر ’ڈسکس‘ کرتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم غلطی سے آبھی جائے تو اس کی ایسی درگت بناتے ہیں کہ وہ دوبارہ قدم رکھنے کا نام نہیں لیتا۔ (یاہو کے اسلام ، چاٹ رومس میں جاکر دیکھئے)۔
اس طرح اس دنیا میں حقائق اور اپنی شناخت سے فرار کے ساتھ ساتھ بحث، تبادلۂ افکار اور دنیا کی رنگا رنگی سے بھی فرار ہے۔ رشتے، تعلقات اور روابط یک رنگ جزیرے میں محدود ہیں۔ نہ مذاکرات کی گنجائش ہے نہ تبادلۂ دلائل کی۔
خاندانی نظام کا انحطاط:
سائبرستان خاندان کے روایتی تصور کا بھی باغی ہے۔ سائبر سوشالوجسٹ اس امکان کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ دن دور نہیں جب آدمی اور مشین کا مجموعہ (Men-machine unit) خاندان کی جگہ لے لے گا۔ اپولو ہاسپٹلز کے ادارہ ’اپولو لائف‘کے جائزہ کے مطابق آج ہندوستان میں بھی ایسے ہزاروں نوجوان ہیں جو بیوی بچوں سے بیزار اور کمپیوٹر کی سحر انگیز دنیا کے عاشق ہیں۔ بیوی سے زیادہ انہیں کمپیوٹر کا ماؤس محبوب ہے۔ اپولو لائف کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ہمارے ملک میں سائبرستان کی معاشرت کئی ازدواجی رشتوں کو منقطع کرچکی ہے۔
سائبرستان کی جنسی بے راہ روی ناولوں اور فحش فلموں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سائبرسیکس (Cybersex) دھیرے دھیرے مکمل طور پر فطری جنسی عمل کامتبادل بنتا جارہا ہے۔ تفصیلات کانہ یہ مضمون متحمل ہے نہ اس کی ضرورت ہے، لیکن ہم اتنا عرض کیے دیتے ہیں کہ زندگی کی مصنوعیت اس مقام کو پہنچ چکی ہے کہ دو اجنبی افراد دنیا کے دومختلف کونوں میں اپنے کمپیوٹرز پربیٹھے ہوتے ہیں اور ان کے درمیان مصنوعی الیکٹرانک ذرائع سے جنسی ملاپ ہوجاتا ہے۔ ایسے ’اہل دانش‘ کی بھی کمی نہیں ہے جو ان بے ہودہ حرکتوں کو محفوظ سیکس قرار دے کر اس کی ترویج میں لگے ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک اس میں نہ حمل کا ’خطرہ‘ ہے نہ خظرناک بیماریوں کا استغفراللہ۔
یہ خاندانی نظام کی مکمل موت ہے۔ کمپیوٹر پر بیٹھے بیٹھے کھانے پینے اور دیگر ضرورتوں کے ساتھ جنسی ضرورت بھی ’پوری‘ ہورہی ہے توکون بیوی بچوں کے بکھیڑوں میں پڑے! اورجو لوگ تفصیلات سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ اس لَت میں پڑنے کے بعد حقیقی جنسی زندگی قطعاً ناممکن ہوجاتی ہے۔ اس لیے کسی کو آئندہ کبھی خاندان کی ضرورت کا احساس ہوبھی جائے تو وہ اس کے لائق ہی نہیں رہتا۔
فاعتبروا یا اولی الابصار:
اسلام کے نزدیک جنسی زندگی کا واحد مقصد لطف و سرور نہیں ہے۔ یہ ایک مقدس فریضہ ہے جس سے کئی تمدنی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ نسل انسانی کی بقا و تسلسل اس پر منحصر ہے اس کے علاوہ یہ دو اجنبی افراد، مردو عورت کو زندگی بھر کے عہدوفا کے ساتھ باہم جوڑ کر خاندان کے مستحکم ادارہ کی پائیدار بنیاد ڈالنے کا ذریعہ ہے۔ اس کے ذریعہ میاں بیوی ایک دوسرے کے تاحیات ہمجولی، شریک سفر، غم گسار اور سہارا بنتے ہیں۔ ایک دوسرے کے لیے جائے قرار و باعث سکون بنتے ہیں۔
ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا فیہا و جعل بینکم مودۃ و رحمۃ۔ (الروم: ۲۱)
’’اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم اس کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان مؤدت اور رحمت پیدا کردی‘‘۔
خاندان کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسلام نے ایسے ہرفتنہ کا بہت دور جاکر راستہ روکا ہے۔ جو خاندانی نظام کی بنیادوں کو کمزورکرسکتا ہے۔ جب کہ سائبر سیکس کا فتنہ خاندان کی بنیاد ہی کو اکھاڑ پھینکنے کا ذریعہ ہے۔ خاندان کے لیے یہ حقیقی جنسی بے راہ روی سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔
خصوصیت کے ساتھ یہ ان والدین کے لیے بڑا چیلنج ہے، جن کے نو عمر بچے اور بچیاں کمپیوٹر کے شیدائی ہیں۔ ایک ایسا گھر جہاں کے بڑے بوڑھے کمپیوٹر ناخواندہ (یا بہت کم معلومات کے حامل) اوربچے کمپیوٹر کے دیوانے ہیں۔ بے راہ روی کے زبردست امکانات رکھتا ہے۔ بے شک آپ نے اپنے بچوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے، لیکن بے راہ روی سے بچاؤ کے لیے انفرادی خوف خدا کے ساتھ سماجی دباؤ کو صحابہ کرامؓ کے معاشرہ میں بھی ضروری سمجھا گیا۔ حقیقی زندگی میں اخلاق کے تحفظ ونگرانی کے لیے جو سماجی دباؤ اوراجتماعی پہرہ داری پائی جاتی ہے، اسے سائبرستان میں بھی کارگر ہونا چاہیے اوریہ اسی وقت ہوسکتا ہے، جب بڑے بوڑھے بھی سائبرستان کے گلی کوچوں کو سمجھنے لگیں۔ آپ باہر پہرہ داری کر کے مطمئن نہیں رہ سکتے۔ جدید دور کے فتنوں کی رسائی بہت اندر تک ہے۔
نشہ یا لت:
سائبرستانی خطرہ کا سب سے بھیانک پہلو اس کی نشہ یا لت (Addiction) بننے کی صلاحیت ہے۔ یہ کوئی وقتی خطرہ نہیں ہے۔ یہاں ایک مستقل لائف اسٹائل، پرسنالٹی اور عادات کی افزائش ہوتی ہے۔ اس لت میں پڑنے والا لمبے عرصہ تک اس کا اسیر ہوجاتا ہے۔
نفسیاتی معالجین لمبے مباحث کے بعد اب اس بات پر متفق ہوگئے ہیں کہ آئی اے ڈی (Internet Addicion Disorder) باقاعدہ ایک مرض ہے۔ سب سے پہلے امریکی نفسیاتی معالج ڈاکٹر ایوان گولڈ برگ نے اس پر تحقیقات کی تھیں اور اسے مرض (Disorder) قرار دیا تھا۔ پہلے تو ڈاکٹروں نے اس سے اختلاف کیا، لیکن جب ڈاکر کمبر لی نیگ (Dr. Kimberly Young) نے اپنی تحقیقات شائع کیں تو اس بات کو تسلیم کرلیا گیا کہ یہ ایک مرض ہے۔ اب میڈیکل سائنس کی کتابیں اسے باقاعدہ ’مرض‘ کی حیثیت دیتی ہیں۔ ڈاکٹر رہین گولڈ نے انٹرنیٹ کو پلگ ان ڈرگ (Plug-in drug) کا نام دیا ہے۔ یعنی ایسی نشہ آور دوا جسے پلگ لگاکر استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اپولو لائف کے مطابق ہندوستان میں یہ مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ نو عمر بچوں اوربچیوں کے ساتھ اس کی شکار وہ گھریلو خواتین بھی ہیں جو دن کابیشتر وقت اکیلے گزارتی ہیں۔ بلکہ میڈیکل سائنس کی کتابوں میں ’متوقع مریض‘ کی شناخت’ اوسط‘ عمر کی پڑھی لکھی خاتون، کے طور پر کی گئی ہے۔
اس مرض کاشکار صرف کمپیوٹر میں دلچسپی لیتا ہے۔ بیوی، بچوں ، پیشہ و کیرےئر اور زندگی کی دیگر سرگرمیوں سے اس کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ بھوک اورنیند کے احساسات بھی کمزور ہوجاتے ہیں۔ سیریس مریضوں کی بیویاں طلاق لینے پر اور ان کے باس انہیں معزول کردینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اسلام زندگی کی مقصدیت کا قائل ہے وہ نشہ یا لت کو کسی صورت گوار ا نہیں کرسکتا۔
یا ایہا الذین آمنو انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون(مائدہ: ۹۰)
’’اے ایمان والو، یہ شراب اور یہ جوا، یہ آستانے اور پانسے یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیزکرو امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی‘‘۔
اللہ کے رسولؐ نے اسی لیے ایسے کھیلوں کو بھی پسند نہیں کیا جن میں لت بننے کی صلاحیت ہو۔
اس لیے انٹرنیٹ کا استعمال کہ وہ نشہ یا لت بن جائے، اسلام کے تمدنی مقاصد سے متصادم ہے۔
کیا کیا جائے؟
سوال یہ ہے کہ اس تناظر میں انٹرنیٹ کے ساتھ ہمارا رویہ کیا ہو؟ جیسا کہ عرض کیا گیا ہم اس سے قطع تعلق کے قائل نہیں ہیں۔ ہماری نظر میں یہ عملی ارتقاء اور رفتار زندگی کو تیزکرنے کے ساتھ ساتھ ، دعوتی و ابلاغی کاوشوں کا اہم ذریعہ، تہذیبی ارتقاء کا آلہ اور سچائی کے غلبہ کا میڈیم بھی ہے۔ اس لیے ہم اپنے نوجوانوں کو نہ صرف یہ کہ اس سے ہٹ جانے withdrawl کا مشورہ نہیں دے سکتے بلکہ ان کی فعال و سرگرم شرکت چاہتے ہیں۔
گویا انٹرنیٹ کا استعمال ہونا ہے۔ بھرپور طریقہ سے ہونا ہے۔ لیکن توازن کے ساتھ اور صحیح محاذ پر۔ متوازن استعمال کے عملی ماڈل کا ارتقاء زبردست ذہنی کاوشوں کا طالب ہے۔ اس محاذ پر آئندہ ہم بھی لکھتے رہیں گے اوراپنے نوجوان دوستوں سے بھی چاہیں گے کہ وہ قرآن ہاتھ میں لیں اور اس موضوع پر اپنا دماغ دوڑائیں۔
آئندہ کبھی اس پر تفصیل سے لکھا جائے گا فی الحال صرف یہ مختصر فارمولہ عرض ہے کہ ہم ’انٹرنیٹ کا استعمال کریں۔ سائبرستان سے گریز کریں۔ یعنی انٹرنیٹ کو حقیقی دنیا میں مواصلات کے ایک ذریعہ کے طور پر بھرپور طریقہ سے استعمال کریں۔ حقیقی تعلقات کے دائرہ میں اسے کمیونی کیشن کے لیے استعمال میں لائیں۔ لیکن انٹرنیٹ سے جو مصنوعی دنیا پیدا ہوئی ہے، اس سے تعلق کم سے کم رکھیں۔ چاٹ رومس، سائبر دوستیوں وغیرہ سے جتنا بچا جائے، اچھا ہے۔
اور اگر کبھی اس دنیا میں جانا بھی پڑے تو جان سولر (John Suler) کے مندرجہ ذیل آسان اصولوں کا سختی سے لحاظ کریں۔
(1 آن لائن ساتھیوں کو آف لائن زندگی کی سچائیوں سے واقف کیا جائے۔ یعنی آپ کی حقیقی زندگی سے متعلق کوئی بات نہ چھپائی جائے نہ غلط باور کرائی جائے۔
(2 آن لائن دوستوں سے شخصی ملاقاتیں کی جائیں۔
(3 آف لائن (حقیقی دوستوں کو آن لائن سرگرمیوں میں شریک وہم جولی بنایا جائے۔)
اس کے علاوہ ہم کچھ اور اصولوں کا اضافہ کریں گے۔
(1 ہر آن لائن سرگرمی بامقصد ہو۔ آپ کو معلوم ہوکہ حقیقی زندگی میں اس سے آپ کو یا سماج کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔
(2جھوٹ اور فرضی امور سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ نام، عمر، جنس، مقام، پتہ، سب کچھ حقیقی ہو۔ ای میل آئی ڈی یا چاٹ ٹیم یہ سب حقیقی احوال کی نمائندگی کرے۔
(3 غص بصر، خیالات اور زیر خواندگی مواد کی پہرہ داری کا سختی سے اہتمام ہو۔
(4اپنے حالات و ضروریات کے لحاظ سے نیٹ سرفنگ ، اس کے اوقات وغیرہ سے متعلق کچھ اصول بنائے جائیں اوران کی سختی سے پابندی کی جائے۔
مختصر یہ کہ یہ مانا جائے کہ اصل زندگی حقیقی زندگی ہے۔ تعلقات، روابط سب کچھ اسی حقیقی زندگی میں حقائق کے ساتھ ہوں۔ انٹرنیٹ محض دیگر ٹکنالوجیز کی طرح اس حقیقی زندگی میں سہولت پیدا کرنے کا ذریعہ ہو۔
رہی بات خوابوں کی حسین دنیا کی تو ایک بندۂ مومن کے لیے اس کے خاطر ایسے سائے اور واہمے تشکیل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارا یقین کامل ہے کہ خوابوں کی حسین دنیا کمپیوٹر سرورز میں نہیں بلکہ حقیقت کی زمین پر زیادہ دور نہیں۔ وہ بس آیا ہی چاہتی ہے۔ جنت نہ صرف یہ کہ سائبرستان سے کئی گنا زیادہ دلچسپ و پرلطف ہے بلکہ سائبرستان کے برخلا ف وہ ایک حقیقی دنیا ہے جو ان لوگوں کو ملنے والی ہے، جو آج کی دنیا میں منصب خلافت کے تقاضوں کو نبھانے کی بھرپور سعی کریں۔
جنت کا تصور اور اس پر ایمان ہمیں سائبرستان سے بے نیاز بھی کرتا ہے اور اس کے پیدا کردہ مسائل سے صحیح طور سے نبردآزما ہونے کا حوصلہ و طاقت بھی عطا کرتا ہے۔
سابقوا الی مغفرۃ من ربکم وجنۃ عرضہا کعرض السماء و الارض۔ اعدت للذین آمنوا باللہ و رسولہ۔ ( حدید: ۲۱)
’’دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے، ان لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں‘‘۔








