مرکز کی یوپی اے حکومت اپنے دوسرے دور میں یکے بعد دیگرے کسی نہ کسی تنازعہ میں پھنسنے کی عادی ہوگئی ہے۔ ابھی انا ہزارے اور ریٹیل شعبہ میں ایف ڈی آئی کی بحث گرم ہی تھی کہ مرکزی وزیر برائے مواصلات و فروغ انسانی وسائل جناب کپل سبل نے ایک جلدی میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں سوشل میڈیا اور نیٹ ورکنگ سائٹس کے متعلق اپنے موقف کا اظہا ر کیا جس نے بحث کے نئے زاویوں کو کھول دیا ہے۔ اس نئے تنازعہ کا لب لباب یہ ہے کہ حکومت سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پیش کئے جانے والے قابل اعتراض اور جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے مذہبی او ر سیاسی مواد پر پابندی عائد کرنا چاہتی ہے۔سبل کے مطابق حکومت ان سائٹس پر کوئی سنسرشپ عائد نہیں کرنا چاہتی لیکن اس کی خواہش یہ ضرور ہے کہ گوگل، فیس بک، یاہو ، مائکروسوفٹ جیسی سائٹس متنازعہ اور قابل اعتراض موا د (جو سماج میں تناؤ کو جنم دیتے ہوں)کے متعلق کوئی حکمت عملی اختیار کریں اور اس قسم کے موا د کو سائٹس پر سے ہٹانے کے لئے اقدامات اٹھائیں۔ سبل کا کہنا تھا کہ یہ کمپنیز اس بات پر اصولی طور پر متفق تو ہوئیں لیکن اب ان کا موقف ہے کہ وہ اس قسم کا مواد اسی وقت ہٹائیں گی جب کورٹ سے انھیں اس قسم کا کوئی حکم موصول ہو۔ چونکہ وہ اس معاملے میں تعاون نہیں کررہی ہیں اس لئے حکومت کا فرض ہے کہ اس بارے میں وہ خود سے کوئی فیصلہ کرے۔
جس وقت سبل نے یہ اعلان کیا اسی موقع پرمحسوس ہوگیا کہ یہ اعلان اس قدر آسانی سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ حکومت کے مطابق پچھلے کئی دنوں سے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر مذہبی جذبات کو بھڑکانے والے کئی پوسٹس، تصاویر اور کارٹونس پوسٹ کئے گئے جس سے ملک کے کئی حصوں میں تناؤ کی کیفیت بھی پیدا ہوئی۔ بالخصوص فیس بک پر عبادت گاہوں اور دیوی دیوتاؤں کی قابل اعتراض تصاویر سامنے آئیں جن کو روکنے کی کئی درخواستوں کے باؤجود ان سائٹس نے مؤثر کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ بات یہاں تک تو درست ہے اور یقیناًکوئی بھی اس بات کی مخالفت نہیں کرے گا کہ اس قسم کی قابل اعتراض چیزوں کو کسی ذریعے سے روکا جانا چاہئے۔ لیکن ناقدین کا مانناہے کہ معاملہ یہ نہیں۔
انا ہزارے کی کرپشن مخالف مہم کے بعد سوشل میڈیا حکومتی کرپشن کے خلاف پروپگینڈہ کا اہم مرکز بن گیا تھا۔ ہزاروں قسم کے پوسٹس، کارٹونس اور اعداد و شمار ان سائٹس کے ذریعے ملک کے چپے چپے میں پھیل گئے۔ انا ہزارے کی مہم کو نوجوان طبقے کی غیر معمولی تائید حاصل ہوئی ۔ اس تحریک کے حسن و قبح پر بحث یہاں مقصود نہیں لیکن اس کیفیت نے ارباب حکومت کی نیند اڑادی تھی۔ اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ گوگل کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے چھ ماہ کے دوران اسے حکومت سے 358آئیٹمس ہٹانے کی درخواست ملی جن میں اس کی درجہ بندی کے مطابق 255حکومتی تنقید کے زمرے میں آتے ہیں۔ تحریر اسکوائر پر انقلاب کو ملی عوامی مدد کے بعد جس کو بڑی تقویت سوشل میڈیا سے حاصل ہوئی تھی، اس سے تمام حکومتوں کو تشویش ہے۔ امریکی اور یوروپی نظام کو ہلانے والے وال اسٹریٹ اور اکیوپائے احتجاج میں بھی سوشل میڈیا نے ایک اہم کردا ر ادا کیا۔ بہرحال حکومت نے جس صورتحال کا سہارا لیا وہ حقیقی بھی ہے اور باعث تشویش بھی (یعنی قابل اعتراض نفرت انگیز مواد کشیدگی پیدا کرنے کے لئے پھیلانا)، لیکن اس کے ذریعے شخصی آزادی، اظہار خیال اور حقوق پر حملہ کرنے کی کوئی بھی کوشش قابل تشویش ہوگی۔ یہ تمام امورایک بڑی بحث کا حصہ ہیں کہ واقعتا ایک فرد کی ذاتی زندگی، اس کے اظہار خیال کی آزادی اور حقوق کو کس حدتک چھوٹ دی جانی چاہئے اور حکومت کو کس حد تک پابندی لگانے کا حق حاصل ہے۔ جہاں کسی کو بھی اس بات کا حق حاصل نہیں ہے کہ کسی کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرے یا اس نیٹ ورکنگ کا استعمال اپنے مذموم مقاصد اور نفرت پھیلانے کے لئے کرے وہیں انفارمیشن کے اس دور میں اس میڈیا کو کچلنے کی کوئی بھی کوشش جائز نہیں ہوگی۔ اگرچہ کہ حکومت نے اس قسم کے قوانین کا اعلان کیا ہے لیکن جب تک کوئی واضح فریم ورک ان سائٹس کے اشتراک سے تیا ر نہ ہو خود حکومت کے لئے مشکل ہے کہ وہ کوئی پالیسی اس سے متعلق نافذ کرسکے۔ ہزاروں، لاکھوں لوگ نہ صرف ٹوئیٹر، فیس بک بلکہ اس قسم کی کئی سائٹس کے ذریعے سوشل میڈیا سے جڑے ہیں جو کروڑوں کی تعداد میں پوسٹس روزانہ کرتے ہیں۔ ان پر نگرانی درحقیقت ایک مشکل کام ہے۔ حسنی مبارک نے اپنے دور کے اواخر میں تحریر اسکوائر کے مظاہرے روکنے کے لئے سوشل میڈیا کوروکنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی اس میں کامیا ب نہیں ہوپائے۔
ہمارا ڈھیلا ڈھالا آئی ٹی ایکٹ بھی اس صورتحال کے لئے ذمہ دار ہے۔ اگر کوئی نفرت انگیز مواد انٹرنیٹ پر پایا جاتا ہے تب آئی ٹی ایکٹ اس بات کا پابند بناتا ہے کہ سائٹس اس کو ہٹائے۔ لیکن اس قانون پر مؤثر عمل آوری کی کمی، سائٹس کے تجارتی مقاصد کے لئے ان کو نظرانداز کرنے کی پالیسی اور حکومتی اداروں کا بھی اس سے متعلق سست رویہ اس قانون کو غیر موثر بناتا ہے اور نتیجہ کے طور پروہی صورتحال نمودار ہوسکتی ہے جس کا تذکرہ کیا گیا۔جس وقت تک حکومتی “سنسرشپ”یا مجوزہ قانون کے خدوخال واضح نہیں ہوتے اس وقت تک یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کے واقعتا کیا اثرات رونما ہوں گے۔ مسلمانوں کے لئے اس میں لمحہ فکریہ موجود ہے۔ سرگرم انداز میں نفرت کو ختم کرنے والے والے آن لائن اقدامات اس قسم کے نفرت انگیز مواد کا مؤثر جواب ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا آج کے دور کا ایک اہم ہتھیار بن چکا ہے۔ حکومتوں سے لے کر عوامی تحریکات تک ہر کوئی اس کی اہمیت کا قائل ہوگیا ہے۔ ایک معتدل اور متوازن رویہ ان سائٹس کے استعمال کے لئے ضروری ہے۔ اور یہی نفرت کا مؤثر تو ڑ ہوسکتا ہے۔
صبغت اللہ حسینی








