تمہیں بتاؤ
چمن میں گل بھی ہیں خار بھی ہیں کیسے ان سب کو پیار کرلوں
تمہیں بتاؤ کہ کس طرح سے ہر اک کا اب اعتبار کرلوں
وہ کون سی ہے سکوں کی صورت کہ جس کو میں اختیار کرلوں
تمہارے تیر نظر کو اپنے جگر میں رکھ لوں کہ پار کرلوں
کہاں کا بادہ، کہاں کے ساغر، یہ کیسے مینا بدوش ساقی
ازل سے پی کے چلا تھا جو کچھ میں پہلے اس کا اتار کرلوں
غم محبت ہو یا اذیت کسی سے کوئی نہیں شکایت
خدائے قدوس دے جو نعمت اسے میں دامن پسارکرلوں
دل ونگہ کی تو کوئی قیمت نہیں ہے میری نظر میں اختر
اگر وہ دیں حکم جاں نثاری تو وہ بھی ان پر نثار کرلوں
شریف اللہ اختر
غزل
دھواں دیتے چراغوں کو بجھادینا کہیں بھی ہو
اندھیرا ہو چراغوں کو جلا دینا کہیں بھی ہو
روش اپنی نہ بدلی ہے نہ بدلیں گے کبھی یارو
یہی ہے فیصلہ اپنا سنادیناکہیں بھی ہو
نہ شکوہ کوئی اوروں سے نہ کوئی تم گلہ کرنا
پڑا ہو راہ میں کانٹا ہٹادینا کہیں بھی ہو
وفا کی راہ پر اپنا رکھا ہے جو قدم تم نے
جو مانگے خون وہ تم سے بہادینا کہیں بھی ہو
وفا کی راہ میں تم کوضرورت سر کی میرے ہو
اسد ہوجائے گاحاضر بلالینا کہیں بھی ہو
اسداعظمی
جشن آرزو
(مصر میں الاخوان المسلمون کی طویل آزمائشوں کے بعد پیش رفت کے پس منظر میں )
لہو، لہوہے، کبھی رائگاں نہیں جاتا
بھلے ہی دیر سے ہو
رنگ لاکے رہتا ہے
لہو، جو ظلم سے سفاکیوں سے بہتا ہے
لہو، جو برسو ں بہا قاہرہ کی سڑکوں پر
لہو، جو محبس وزنداں میں محو رقص رہا
لہو، جو گرتا رہا دار کے ستونوں سے
لہو، ہزارہا اخوان جانثاروں کا
لہو، جو منہ کو لگا تھا جمال ناصر کے
لہو، جو جبر کا سادات کے نشانہ رہا
لہو، جو حسنی مبارک کو تھا بہت مرغوب
لہو، جو بہتا رہا، بہتا رہا، بہتا رہا
یہاں تلک کے وہ دریائے بے کنار بنا!
مگر مشیت ونظم خدائے برتر ہے
اسی میں ڈوبنا فرعون کا مقدر ہے!
لہو، جو بہتا رہا ہے وہ سرخ رو ہوگا
خوشا! اے اہل وفا جشن آرزو ہوگا
انتظار نعیم








