’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے، اور ان سب کے لیے قرآن حکیم سے اٹوٹ والہانہ اور شعوری رشتہ بنائے رکھئے‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :محمداظہرالدین صدر تنطیم ایس آئی او آف انڈیا
حرکت تبدیلی کی علامت ہے اور تبدیلی تحریک کا خاصہ۔تحریک بذات خود بھی حرکت ہی سے عبارت ہے۔وقت کا گزرنا ایک فطری امر ہے لیکن اس گزرتے وقت کے ساتھ تبدیل ہونا حقیقی زندگی کا ثبوت ہے۔
ایس آئی اوآف انڈیا کی پندرہویں میقات کا ایک سال مکمل ہوا۔ تنظیم کی زندگی میں جس قدر اہمیت منصوبہ بندی کی ہوتی ہے اتنی ہی (بلکہ اس سے زیادہ) اہمیت جائزہ اور احتساب کی ہوتی ہے۔اس تحریر میں زونس کی یک سالہ کارکردگی کے پس منظر میں چند باتیں پیش نظر ہیں۔
میقات کی ابتداء میں پالیسی کی وضاحت کے دوران یہ بات عرض کی گئی تھی کہ مختلف محاذوں پر ہمہ جہتی اور توازن کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔الحمد للہ زونس کی یک سالہ کارکردگی پراجمالی نظر ڈالنے سے اطمینان ہوتا ہے کہ زونس نے ہمہ جہتی انداز میں کام کیا ہے۔ اسٹوڈنٹس ایکٹیوزم کے محاذ پر کیرالا کے ساتھ اس میقات میں ویسٹ بنگال نے بھی معیاری کام کیا ہے۔ چند میقات پہلے ویسٹ بنگال زون سے متعلق یہ تصور تھا کہ وہاں اسٹوڈنٹس ایکٹیوزم کے لئے نہ ریاستی اور تعلیمی حالات موافق ہیں اور نہ وابستگان کا مزاج۔۔۔ لیکن ویسٹ بنگال کی پرجوش قیادت اور فعال ٹیم نے اس تصور کو غلط ثابت کیا۔میقات رواں میں اس زون نے کیمپس کیمپس تنظیم کی آواز کو بلند کیا۔ مولانا آزاد کالج میں یونین الیکشن میں تاریخی جیت کے ساتھ تنظیم کے پرچم کو بلند کیا۔طلبہ میں بڑھتے ظلم و زیادتی اور تشدد کے رجحان کے خلاف پوری ریاست میں پر اعتماد اور نڈر ہوکر احتجاج کیا۔ تعلیمی سال کے آغاز پر Massive Program in Campusesکی عمدہ مثال پیش کی ۔ریاستی تعلیمی ایجنڈے پر اثر انداز ہونے کے لئے سیمینار اور سمپوزیم کا انعقاد بھی کیا اور ریلی اور دھرنوں کا اہتمام بھی۔ کرناٹک اور آندھراپردیش تنظیمی اعتبار سے بڑے زون ہونے کے باوجود کیمپس میں نفوذ اور طلبائی رخ کے محاذ پر نسبتاََ کم متحرک تھے۔ لیکن اس میقات میں ان دونوں زونس نے کیمپس مرکوز سرگرمیوں میں قدرے اضافہ کیا ہے۔ طلبہ کی فلاحی سرگرمیاں اوراشوز کی لمبی فہرست اس کی علامت ہیں۔ یوپی سینٹرل اور مدھیہ پردیش ایسٹ نے افرادی قو ت کے محاذ پر شاندار اضافہ درج کرایا ہے۔ان زونس میں ممبران کی تعداد میں قریبا ۵۰؍ فیصد تک اور اسوسی ایٹس اور یونٹس و سرکلس کی تعداد میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ گجرات نے نازک سیاسی حالات میں اورمعمولی افرادی قوت کے ساتھ گجرات کی تنظیمی تاریخ میں پہلی مرتبہ حلقہ کی سطح پر عظیم الشان اسٹوڈنٹس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ راجستھان اور تامل ناڈو نے علاقائی سطح پر کامیاب کانفرنسوں کی شکل میں بڑے پیمانے پر تنظیم کا تعارف عام کیا ہے۔ مہاراشٹر نارتھ اور ساؤتھ زون نے دعوتی محاذ پر نہ صرف کیڈر کو متحرک کیا ہے بلکہ قبول اسلام کے حیرت انگیز واقعات بھی ان زونس میں سامنے آئے۔ نیز مخصوص ریاستی حالات میں دعوت دینے کی جانب پیش قدمی کی۔یوپی مغرب اور بہار زون نے ’ریاستی تعلیمی کارواں‘ اور’ تعلیم بچاؤ‘ جیسے موضوعات پر منفرد اور موثر پروگرام کئے۔اے ایم یو زون نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے سلسلے میں عظیم الشان سیمینار کے ذریعے اسے موضوع بحث بنایا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ زون نے ایک اشو کے سلسلے میں فیس بک پر مہم چھیڑکر یہ ثابت کیاکہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس انقلابی تبدیلیوں کے لئے موثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔یوپی ایسٹ زون نے تقسیم زون کے بعد انتہائی کم افرادی اور مالی وسائل کے ساتھ توسیع و استحکام پرلگ کر اور یکسو ہوکرتوجہ دی۔ جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش مغرب نے دینی مدارس کے سلسلے میں کامیاب پروگرام کے ساتھ ثابت کیا کہ دینی مدارس میں کام کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔۔۔۔۔الغرض مختلف محاذوں پر تقریبا تمام زونس نے ہمہ جہت انداز میں کام کیا ہے۔ ان کاوشوں میں صرف ہمارے زونل ذمہ داران مبارکباد کے مستحق نہیں بلکہ وہ ہزاروں لاکھوں ممبران اور اسوسی ایٹس بھی قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے ا پنا پسینہ بہاکر‘ لہو جلا کر‘ وقت گھلاکر اورصلاحیت لگاکر کاغذ کے ان منصوبوں کو عمل کی دنیا میں نافذ کیا۔۔۔۔۔ یا رب العالمین ! ہمارے ان تمام دوستوں کو ان کی کاوشوں کا بہترین صلہ عطاکر۔۔۔۔
لیکن ساتھیو! مومن کی نظر اپنی خوبیوں سے زیادہ اپنی کمزوریوں پر ہونی چاہئے۔ حقیقت پسندانہ احتساب‘ بے لاگ جائزہ اور کمزوریوں پر کڑ ی تنقیداگر سنجیدگی کے ساتھ ہو تو دل شکنی اور مایوسی کا باعث نہیں بنتی بلکہ منزل کی جانب تیز رفتار کردیتی ہے۔۔۔لیکن اس جائزہ و احتساب کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ خود مقصد کا شعور بھی واضح ہو اور منزل کے مراحل اورراستے کے سنگ ہائے میل کا بھی پتہ ہو۔ اسی احساس کے ساتھ چند باتیں مزید پیش کر نی ہیں۔۔۔۔
سب سے پہلے ایس آئی او کے وابستگان کو اپنے کندھوں پر موجود ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔ ایس آئی او صرف ایک تنظیم یا این جی اونہیں ہے۔ تحریک اسلامی نے اسے انتہائی اہم محاذ سونپا ہے۔ تحریک اسلامی اس ملک اور سماج کی فکری اور نظریاتی امامت کرنا چاہتی ہے۔ اس عظیم کام کے لئے افراد کی فراہمی SIOہی کے ذمہ ہے۔ گویاSIOکے رخ اور ترجیحات‘ حرکت اور رفتار کا راست اثر تحریک اسلامی پر اور اس کے توسط سے ملک و سماج کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ SIOکو بلاشبہ کیمپسوں کی نئی صورت گری کرنا ہے۔طلبہ اور نوجوانوں کے ذہنی مشاکلہ کو تبدیل کرنا ہے۔ ان کے اخلاق و کردار کو بھی سنوارنا ہے اور ان کی صلاحیتوں کوبھی ثمر آوربنانا ہے۔ یہ وژن اپنے اندر پیدا کرنا ہے کہ وہ طلبہ اور نوجوانوں کے قافلے کی ڈرائیونگ فورس بنے گی۔ فحاشی اور عریانیت کے خلاف بند باندھے گی۔ صحت افزاء Entertainment کا ماحو ل پیدا کرے گی۔ سنجیدہ بحثوں کا آغاز کرے گی۔ مسائل کے حل میں پیش قدمی کرے گی۔ کمزور اورمظلوم طلبہ کی آواز بن کر ابھرے گی۔ اسے باطل عقائد ‘ گمراہ کن افکار اور استحصالی نظام کا مدلل اور علمی پوسٹ مارٹم کرنا ہے۔ فلسفۂ تعلیم اور مقاصد تعلیم پر سوالیہ نشان لگا کر تعلیم کے اصل مقاصد پر نہ صرف بحثوں کا آغاز کرنا ہے بلکہ اس سمت متبادل کے طور پر کچھ ٹھوس کام کرنا ہے۔ تعلیم کے ایجنڈے پر اثر انداز ہونا ہے۔مراکز قوت (Power Structures) پر توجہ دینی ہے ۔اپنی صفوں میں ایسے بہترین قلم کار‘ تجزیہ نگار‘ مبصرین‘ میڈیا پرسنس‘ وکلاء‘ سائنٹسٹ‘ محققین ‘ خدمت گزار‘ ماہرین سماجیات و معاشیات‘ اداکار‘ آرٹسٹ وغیرہ کی ایسی کھیپ کی کھیپ تیار کرنی ہے جو ایک جانب فنی طور پر ماہر بھی ہواور اور فکری و نظریاتی طور پر مضبوط بھی۔۔۔۔۔ یہی وہ کام ہے جو ایک نئے تمدن ‘ مثالی تمدن‘ الہی ہدایات پر مبنی تمدن کی تشکیل میں کلیدی اور دوررس اثرات کا حامل ہے۔اس کام کے لئے وابستگان ایس آئی او کو اپنی طویل المیعاد ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا ہے اور مختصر المیعادتقاضوں کو بھی۔اور ان Long TermاورShort Term Goalsپر صحیح تناسب کے ساتھ توجہ دینی ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ خدمت اسلام اور پروفیشنل زندگی دو علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں ہیں۔ تعمیر انسانیت کے لئے ان تمام شعبہ ہائے زندگی پر اثر انداز ہونا ضروری ہے۔ اس کام کے لئے ہر صلاحیت اور ہرفنی میدان اہمیت کا حامل ہے۔ ’ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا‘ کے مصداق ہر فرد اپنی مخصوص صلاحیت سے اثرانداز ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کام کے لئے لگ کر اور جٹ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صبر اور قربانی کے روایتی مفہوم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لائبریریز میں ‘ لیباریٹریز میں ‘ دانش گاہوں میں ‘ تعلیمی اداروں میں‘ سیمینارہال میں‘ ڈسکشن روم میں جن تبدیلیوں کے بیج بوئے جاتے ہیں وہ ہرگز سڑکوں اور چوراہوں پرنہیں بوئے جاسکتے۔ تعلیم‘ معاشیات ‘سیاست ‘ تجارت اور تہذیب و تمدن کے دیگر تمام مظاہر افکار و نظریات کی دنیا ہی سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان دور رس مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں سیکھنے اور کرنے کا مزاج پیدا کرنا ہے۔ اقدامی مزاج پیدا کرنا ہے۔ تعمیر کے ہر پروگرام میں حصہ لینا ہے۔ ایک ایک فرد اور ایک ایک صلاحیت کو قیمتی جاننا ہے۔ہر کیمپس اور ہر یونیورسٹی میں قدم جمانے ہیں۔سماج کے ایک ایک شعبہ کو تبدیلی کا ذمہ دار سمجھنا ہے۔تنظیم کے اس وژن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اپنے کاموں کا جائزہ لینا ہے۔
) اس تناظر میں افرادی قوت میں بحیثیت مجموعی ہماری شرح بہت سست رفتار ہے۔ تین زون کو چھوڑ کرکوئی بھی زون ممبران کی تعداد میں ۲۵فیصد گروتھ ریٹ درج نہیں کرا سکا۔ اکثر زونس نے ۱۰ فیصد سے بھی کم گروتھ ریٹ حاصل کی ہے اور بعض نے تو منفی گروتھ ریٹ درج کی ہے۔ ظاہر ہے یہی ممبران ہماری تنظیم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہی ممبران کی تربیت اور ٹریننگ سے ہمیں سماج پر اثر انداز ہونا ہے۔ یہ ہمار ے لئےsource Re کی حیثیت رکھتے ہیں۔
یونٹس کی تعداد میں اضافہ بھی کافی کم ہواہے۔ دیئے گئے ٹارگیٹ (موجودہ یونٹس میں ۲۵ فیصد کا اضافہ) کا نصف بھی چند ہی زونس حاصل کرپائے ہیں۔ا ور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری باوزن اور مضبوط یونٹس میں کوئی قابل قدر گروتھ نہیں ہوئی۔ میقات کی ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ ہمیں اپنی بیشتر یونٹس کو۵ممبران سے زائد والی یونٹ میں تبدیل کرنا ہے۔ ملکی سطح پر تما م یونٹس کی تعداد کا صرف ۲۰ فیصد حصہ5ممبران سے زائد پر مشتمل ہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ یونٹس ہماری تنظیم کی اصل قوت ہیں۔کیمپسزاور سماج پر اثر انداز ہم یونٹس ہی کے حوالے سے ہوتے ہیں۔کمزور اور لڑکھڑاتی یونٹس کے ساتھ ہم ہمہ جہت اور موثر کام نہیں کرسکتے۔
اکثر زونس علاقائی طور پر عدم توازن کا شکار ہیں۔کئی زونس ایسے ہیں جہاں نئے ممبران کی ۹۰ فیصد تعداد ایک مخصوص علاقہ/ڈویژن سے تعلق رکھتی ہے۔صرف ممبران کی تعدا د نہیں بلکہ سرگرمیوں کے اعتبار سے بھی علاقائی سطح پر یہ عدم توازن محسوس ہوتا ہے۔حلقہ کی سطح پر ہونے والی بیشتر سرگرمیاں چند علاقوں تک محدود ہے۔ یہ افسوسناک صورت حال بعض بڑے زونس میں بھی نمایاں ہے۔
زونس اور یونٹس کے کاموں میں بھی ایک توازن درکارہے۔ بعض زونس میں تمام سرگرمیاں زون سے Spoon Feedکی جاتی ہیں تو چند زونس ایسے بھی ہیں جہاں زونس کی رپورٹ کا بیشتر حصہ یونٹس سے ترکیب پایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حسین امتزاج پیدا ہونا چاہئے۔ سرگرمیوں کے اعتبار سے یونٹس کو زون کی سرگرمیوں کا ’عکس‘ نہیں بننا ہے بلکہ اپنی منفرد پہچان بھی پیدا کرنی چاہئے۔
افرادی قوت میں عدم توازن (Disparity) کا حیرت انگیز مظہر ملکی سطح پر بھی ہے۔ مثلا کیرالا‘ کرناٹک ‘ آندھراپردیش‘ مہاراشٹر اور ویسٹ بنگال ان ۵ریاستوں میں ہمارے ممبران کی ٹھیک ۷۵ فیصد تعداد موجود ہے اور بقیہ۲۲زونس اور ڈیولپنگ زونس میں صرف ۲۵ فیصد ممبران ۲۰۱۱ ء میں بننے والے کل نئے۶۴۱ممبران میں سے ۵۲۳ کاتعلق بھی مذکورہ بالا۵ریاستوں سے ہے (۸۱فیصد)جبکہ بقیہ زونس سے صرف۱۱۸نئے ممبر بنے ہیں۔ یہ صورت حال بڑی تشویش ناک ہے۔
) اعداد و شمار کے حوالے سے سب سے زیادہ قابل توجہ پہلو ہمدرد (Sympathisers)میں اضافہ کا ہے۔ تنظیمی اصطلاح میں ہمدرد سے مراد وہ غیر مسلم طالب علم یا نوجوان ہے جو ہمارے مقاصد سے اتفاق رکھتا ہو اور وقتا فوقتا ہماری سرگرمیوں میں شریک ہوتا ہو۔ اس سال ہمدرد میں شرح اضافہ بہت معمولی ہے۔ یہ پہلو اس لئے اہم ہے کہ گزشتہ کئی میقاتوں سے ہم یہ بات کہتے آرہے ہیں کہ ہمارے مخاطب تمام طلبہ و نوجوان ہیں۔ ہم مذہبی بنیادوں پرطلبہ کے درمیان اس طرح کا خط امتیاز نہیں کھنچنا چاہتے ہیں کہ ہماری فلاں سرگرمیوں پر صرف مسلم طلبہ کی اجارہ داری ہے اور فلاں میں غیر مسلم دوستوں کو بھی آنے کی ’گنجائش‘ ہے۔ ’ہم‘ اور ’وہ‘ میں تقسیم کرنے کا یہ مزاج داعی تحریک کے شایان شان نہیں ہے۔ Polarisationہندوستانی مخلوط سماج کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ہم نے بہت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گزشتہ چند میقاتوں سے مسلم طلبہ اور غیر مسلم طلبہ کے الفاظ کی بجائے صرف طلبہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔اس کا مقصود یہ ہے کہ ہماری ہرسرگرمی کے مخاطب تمام طلبہ ہیں۔ہمیں اپنے طرز عمل سے قرآن حکیم کے ’للناس‘ اور ’’للعالمین‘ کے آفاقی مزاج (Universal Approach) کی نمائندگی کرنی ہے۔ہمدردوں کی تعداد میں بہت معمولی اضافہ اس بات کاتأثر دیتا ہے کہ ایک جانب ہمارا دعوتی کام متاثر ہورہا ہے اوردوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح کرتا ہے کہ ہماری عمومی سرگرمیوں (اشوز‘ سیمینارس‘ طلبہ کی فلاحی سرگرمیاں‘ کیمپس سرگرمیاں‘ سماجی خدمت) میں بھی ہم غیر مسلم دوستوں کو اپنا سمجھنے کے روادار نہیں ۔مجھے بڑا افسوس ہوا کہ بعض زونس نے تو اپنی ریجنل یا ریاستی کانفرنس کے موضوع‘ اپروچ‘ تشہیر اور شرکت تمام میں غیر مسلم طلبہ کو مکمل محروم کردیا۔ اور اپنے مقاصد میں تحریرا لکھ دیا کہ یہ صرف مسلم طلبہ اور نوجوانوں کے لئے ہے۔ صد افسوس! مجھے قوی امید ہے کہ میقات کے دوسرے سال اس رویہ میں بڑی تبدیلی آئے گی۔
) اس میقات میں یہ بات بھی طے کی گئی تھی کہ کلچرل ایکٹیوزم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ثقافتی ذرائع (Cultural tools) فی زمانہ ذہن سازی اور Opinion Buildingکا بلامبالغہ سب سے موثر ہتھیار ہیں۔ بطور خاص طلبہ اور نوجوان طبقہ تو اسی سے متاثر ہے۔ ہمیں مین اسٹریم کلچرل سرگرمیوں پر اثر انداز بھی ہونا ہے اور کیمپسیز کے اندر ہونے والی کلچرل سرگرمیوں میں بھی شمولیت اختیار کرنی ہے۔ ان سرگرمیوں میں فحاشی اور عریانیت اور بے مقصدیت کے سبب ان سے Aloof نہیں رہنا ہے بلکہ ان میں شامل ہوکر اور ان پر اثر انداز ہوکر ان کے رخ کو تبدیل کرنا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمارے حلقوں میں بہترین کلچرل صلاحیتیں موجود ہیں۔ ضرورت صرف ان کے Exposureکی ہے۔ ڈرامے‘ نکڑناٹک‘ مونو ایکٹ ‘ کارٹون ‘ پینٹنگ ‘ فلمیں‘فوٹوگرافی‘ڈاکیومینٹری‘ شاعری‘ افسانہ او ناول نگاری غرض ہر قسم کی سرگرمی کو ہمیں اپنے حلقہ میں جگہ دینی ہے۔ اس جگہ دینے کے لئے کنجوسی کا اور سوتیلے پن کا رویہ اختیار نہیں کرنا ہے۔ ہمارے عمومی اور ریگولر پروگرام میں ان کلچرل سرگرمیوں کے لئے فاضل وقت نہیں رکھنا ہے۔ بلکہ باضابطہ اسے جگہ دینی ہے۔ ایک اضافی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ Unavoidable Activity کے طور پر۔۔۔۔ صرف حلقہ کی سطح پر نہیں بلکہ یونٹس اور کیمپس کی سطح پر ہمارے فعال کلچرل فورمز بننے چاہئے۔ Cultural Talent Huntکی باضابطہ یا غیر رسمی طور پر مستقل مہم چھیڑی جانی چاہیے۔
) ہماری طلبائی سرگرمیوں میں الحمدللہ اضافہ ہورہا ہے۔ الیکن ان میں سے بیشتر سرگرمیاں کیمپس کی چہار دیواریوں سے باہر ہیں۔نیز کیمپس میں ہونے والی سرگرمیوں میں بھی بیشتر سرگرمیاں ان وابستگان تنظیم کے ذریعے ہے جو خود کیمپسیز کا حصہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم کیمپسیز میں جذب نہیں ہو پارہے ہیں۔ وہاں اثر انداز نہیں ہو پارہے ہیں۔ ہم گوشوں اور کونوں میں جگہ بنا رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس سے یہ خوش فہمی تو ہے کہ ہم ’ سرگرم ہیں لیکن اصل دائرہ کار کیمپسیز ’سرد ‘ پڑے ہیں۔ ہمیں کمیپس کے طلبہ کومتحرک کرنا ہے اور انہی طلبہ کے ذریعے سے متعلقہ کیمپسیز میں اپنی جگہ بنانی ہے۔
کئی اہم کیمپسیزمیں ہم نفوذ کرنے میں سست واقع ہو رہے ہیں۔Prestigious Institution‘ معاشیات‘ قانون‘ جرنلزم‘ سوشل سائنسیز‘ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جیسے اہم اداروں میں ہماری نمائندگی نہیں کے برابر ہے۔ تنظیم کے وژن کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ترجیحی طور پر اور شعوری کوششوں کے ذریعے یہاں نفوذ کی کوششیں کرنی ہیں۔
) Social Engagementپر ہمیں مزید یکسو ہونا ہے۔ سماج اور طلبہ برادری کے اصل مسائل اور اشوز سے خود کو جوڑیئے۔ ایسا نہ ہو کہ معاشرے کے سماجی‘تعلیمی‘ سیاسی اور اخلاقی مسائل کچھ ہوں اور ہم ان سے بے نیاز کسی اور دنیا میں ’مصروف‘ ہوں۔ ان کے بیچ رہئے۔ Contributeکرنے کا مزاج اور بڑھنا چاہئے۔ میرا احساس ہے کہ فلاحی سرگرمیوں کے لحاظ سے ہم اب بھی کافی پیچھے ہیں۔ محض بیداری لانے والے پروگرامز کے مقابلے ٹھوس اور نتیجہ خیز کاموں کا تناسب بڑھایا جاسکتا ہے۔ شاہد ہم اپنے آپ کو ٗUnderstemiteکرتے ہیں۔ ملت اور سماج کی حقیقی ضرورتوں کا تعین کیجئے۔
) اپنی ذاتی تر بیت اور اپنے کو سنوارنے اور نکھارنے کا عمل مزید تیز تر ہونا چاہئے۔ فرد کی اصلاح اور ارتقاء ہماری ساری کوششوں میں سب سے مقدم ہے۔ اجتماعی ماحول اس قدر جاندار ہونا چاہئے کہ فرد تیزی کے ساتھ تزکیہ( Journey from Imperfection to Perfection) کی جانب سفر کرتا چلا جائے۔ برائی پر عمل کرنا اس کے لئے محال ہوجائے۔ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا وہ حریص ہو‘ اعلی ظرفی اور وسیع النظری کا وہ مظاہرہ کرے۔معاملات شفاف ہوں۔تعلقات گھر میں‘ معاشرے میں‘ کیمپس میں‘ کمپنی میں اور دوستو ں کے ساتھ سب جگہ بہتر ہوں۔ ہر ایک کے حقوق ادا ہوں۔ تنظیمی جدوجہد سماج میں رہنے والے لوگوں کی حقوق تلفی کا سبب نہ بنے۔قول و عمل میں تضاد نہ محسوس ہو۔ ایمانداری کا درس دینے والا ہمارا طالب علم Malpracticesکا شکار نہ ہو۔ پاکیزگی کی گفتگو کرتے کرتے انٹرنیٹ اور موبائیل پر موجود فحاشی کے سمندر میں پیر پھسل نہ جائیں۔ عدل و مساوات کی دہائی دینے والے بچھڑے طبقات کے طلبہ کے ساتھ اچھوتے رویہ کا مظاہرہ نہ کریں۔ مطالعہ کا میدان وسیع ہو۔ مطالعہ مستقل ہو‘ اپنی اصلاح لئے ‘ اپنے شعور کو مضبوط کرنے کے لئے ہو نہ کہ Information Boxبننے کے لئے۔ ہر کام کی بنیاد ’شوق‘ بنے۔ پیارے رسول ﷺ نے فرمایا۔ ’شوق میری سواری ہے‘ ۔ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے۔ اور ان سب کے لئے قرآن حکیم سے اٹوٹ ‘ والہانہ اور شعوری رشتہ بنائے رکھئے۔۔۔
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار
کردار کا نکھار قرآن سے تعلق کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔۔۔
ساتھیو! دنیا اس وقت تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ تغیر اسکوائر اور تحریر اسکوائر سے Occupy Wall Street Movementتک ایک تبدیلی کا زمانہ ہے۔ اس پورے منظر نامہ کی خصوصیت یہ ہے کہ Even an Ordinary man can change the Society (ایک عام آدمی بھی سماج کو بدل سکتا ہے)۔ اپنی قوت کو پہچانئے۔۔۔۔ مواقع کی دنیاہے۔۔۔
موسم اچھا‘ پانی وافر‘ مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان
محمداظہرالدین








