کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

فقہی مسائل میں اعتدال کی راہ

جنوری ٢٠١٢

* خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کو جب کوئی مسئلہ درپیش ہوتا تو کتا ب اللہ میں تلا ش کرتے ، اگر اس کا حل مل جاتا تو فیصلہ فرمادیتے اور اگر کتا ب اللہ میں نہیں ملتا تورسول اللہ کی سنت میں تلاش کرتے، اگر اس میں مل جاتا تو فیصلہ کردیتے اور اگر سنت رسول ﷺ میں اس کا حل نہیں مل پاتا تو لوگوں سے کہتے : کیا اس مسئلہ میں رسول اللہ کے فیصلہ کا تم میں سے کسی کے پاس علم ہے ؟ بسا اوقات لوگ آتے اور کہتے آپ ﷺنے اس مسئلہ میں یہ فیصلہ کیا تھا لیکن جب سنت رسول میں بھی وہ مسئلہ نہیں مل پاتا تو کبار صحابہ کو اکٹھا کرکے ان سے مشورہ لیتے اور جب وہ کسی بات پر متفق ہوجاتے تو فیصلہ فرمادیتے۔
* خلیفہ دوم حضرت عمر بن الخطابؓ کے بارے میں آتا ہے کہ ان سے کسی مسئلہ کی بابت دریافت کیا گیا تو آپ نے سائل کو حضرت علیؓ کے پاس بھیج دیا، جب وہ معلوم کرکے آیا تو آپؓ نے اس سے دریافت کیا، جواب معلوم ہونے پر آپؓ نے فرمایا :اگر میں فتوی دیتا تو کچھ اور بتاتا ،اس بات پر سائل نے کہا :آپ کو کس چیزنے روکا، حالانکہ آپ امیر المومنین ہیں؟ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا : اگر میں کتاب وسنت کی طرف تم کو بھیجتا تو بتا دیتا لیکن میں نے تم کو رائے لینے کے لیے بھیجا تھا اور رائے مشترک ہوتی ہے ۔
* عمر بن الخطابؓ ان فتووں اور شرعی وانتظامی فیصلوں میں کوئی تردد نہیں محسوس کرتے تھے جہاں انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کو اس کے برخلاف مشورہ دیا تھا بلکہ جدید مسائل کا فیصلہ کرنے کے لیے نئے طور پر اجتہاد سے کام لیتے تھے۔آپ کے بعد حضرت علیؓ نے بھی ایسا ہی کیا ، حضرت عمرؓ کو آپ ہی نے مشورہ دیا تھا کہ حد قذف پر قیاس کرتے ہوئے شارب خمر کی حد ۸۰؍ کوڑے ہونی چاہئے، لیکن آپ نے اپنے دور خلافت میں شارب خمر پر ۴۰؍کوڑے کی سزا نافذ کی۔
* اسی طرح امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں آتا ہے کہ ان سے کسی ایسے مسئلہ کی بابت دریافت کیا گیا جس کے سلسلہ میں بظاہر قرآن وسنت میں کوئی رہنمائی موجود نہیں تھی، چنانچہ آپ نے اپنے اجتہاد کے مطابق فتوی دے دیا اور جب سائل نے آپ سے سوال کیا کہ ’’کیا آپ ہی کا فتوی درست ہے اور اس کے علاوہ جو ہیں وہ سب غلط ہیں‘‘ ، تو آپؒ نے فرمایا: شاید یہی غلط ہے اور وہ سب درست ہیں۔
* امام شافعی کے بہت سے فتاوی عراق میں کچھ تھے اور مصر میں کچھ اور ہوگئے، امام شافعی کی فقہ قدیم اورفقہ جدید فقہاء کے درمیان معروف ہیں۔
* امام ابوحنیفہؒ کے شاگرد امام ابو یوسف، ؒ امام محمد ؒ اور امام ابن أبی لیلی ؒ کا اپنے استاد امام ابوحنیفہؒ سے کافی امور میں اختلاف پایاجاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ ان کے درمیان پائے جانے والے بیشتراختلاف زمانہ اور حالات کی تبدیلی پر مبنی تھے نہ کہ دلیل وبرہان پر۔
* امام ابن تیمیہؒ اور ابن القیم ؒ نے متعددفقہی مسائل پر ازسرنوبحث کی، جو اجتہادی تھے، اور ان کے سلسلہ میں قرآن وسنت میں بظاہرکوئی واضح دلیل موجودنہیں تھی، گرچہ کہ ان کے سلسلہ میں کہا جاتا تھا کہ ان پرفقہاء کا اجماع ہے۔
فقہ اسلامی سے متعلق مذکورہ بالا حقائق جدید مسائل میں اجتہادکے سلسلہ میں بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ قرآن مجید اور سنت رسول فقہ اسلامی کے بنیادی مصادر ہیں، قرآن مجید تھیوری ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا چلتا پھرتا نمونہ۔ جب تک آپ صحابہ کرامؓ کے درمیان موجود رہے، آپ نے ان کی جملہ امور میں رہنمائی فرمائی، تاہم آپ نے حیات مبارکہ ہی میں صحابہ کرامؓ کو اس بات کی تربیت بھی دینی شروع کردی تھی کہ وہ اپنے ذہن وفکر کی مدد سے قرآن وسنت کی روشنی میں مسائل کا استنباط کریں، یہی وجہ ہے کہ معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجتے ہوئے جب آپ نے ان سے دریافت کیا کہ قرآن اور سنت رسول میں درپیش مسائل کا حل نہیں ملے گا تو ایسی صورت میں کیا کروگے، توحضرت معاذ نے بلا چوں وچرافرمایا کہ ’’میں اجتہاد سے کام لوں گا، اور اس سلسلہ میں کسی قسم کی کوتاہی نہ کروں گا‘‘، اس جواب کو سن کررسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے، آپ نے ان کو شاباشی دیتے ہوئے فرمایا: تمام شکر ہے اللہ رب العزت کا کہ اس نے اپنے رسول کے قاصد کو اس بات کی توفیق عطافرمائی ، جس سے رسول کو خوشی ہوتی ہے۔ الحمدللہ الذی وفق رسول رسول اللہ لما یرضی رسول اللہ۔
شریعت کا منشأ
شریعت کا بھی یہی منشأ تھا کہ اس کے متبعین کی تربیت کچھ اس طرز پر کی جائے کہ وہ ذہن ودماغ سے خوب کام لیں، شریعت کی روح اور مقاصد کو سمجھ کر اس کی اتباع کریں، امام غزالیؒ نے بہت پیاری بات کہی ہے کہ ’’جو لوگ سوچ سمجھ کر کام کرتے ہیں اور غلطی کربیٹھتے ہیں،وہ ان لوگوں سے بہتر ہوتے ہیں جو بغیرسوچے سمجھے کام کرتے ہیں اور صحیح صحیح کرتے ہیں‘‘۔ صحابہ کرامؓ شریعت کے اولین مزاج شناسوں میں شمار ہوتے ہیں، آپؓ نے قرآن مجیدکا علم حاصل کیا، اور سب سے عظیم حامل قرآن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خوب خوب استفادہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رحلت فرماتے وقت مکمل طور سے مطمئن تھے کہ اللہ کی کتاب اور اپنی سنت چھوڑکرجارہے ہیں، اور یہ وراثت ان لوگوں کے سپرد کرکے جارہے ہیں جو فہم وبصیرت سے مالامال ہیں،اللہ کی کتاب اور رسول کا اسوہ ان کے لیے کافی ہوگا۔ صحابہ کرامؓ بھی مطمئن تھے، رحلت کے وقت کچھ لوگوں کو بے چین دیکھ کر حضرت عمرؓنے فرمایا کہ’’ اللہ رب العزت کا ہدایت نامہ ہمارے لیے کافی ہے‘‘۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد صحابہ کرامؓ پیش آمدہ مختلف امور ومسائل میں انفرادی اور اجتماعی طور سے اجتہاد سے کام لیتے رہے، عہدنبوی سے قریب ہونے کے سبب مسائل کم تھے، اور کبار صحابہ کی موجودگی کے سبب ان کا حل آسان تھا۔ غوروفکر کا کھلا ماحول تھا، مختلف امور کے تعلق سے صحابہ کرام مختلف الرائے بھی تھے، تاہم ان کے دل کشادہ تھے، منبر خلافت سے یہ اعلان عام تھا کہ’’ مجھے تم پر مأمور کیا گیا ہے، اگر میں صحیح طور پر کام کروں تو میری مدد کرنا، اور اگر کجی کا مظاہرہ کروں تو مجھے ٹھیک کردینا‘‘۔
عہد صحابہ کے بعد
عہد صحابہ ختم ہوتے ہوتے حالات کافی بدل گئے، سلطنت اسلامیہ کا دائرہ جزیرہ عرب سے نکل کر وسیع تر ہوتا چلا گیا، داخلی فتنے بھی سراٹھانے لگے، الغرض زمانہ جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا، نئے نئے مسائل بھی خوب جنم لینے لگے، کچھ مسائل تو وہ تھے جن کا حل براہ راست قرآن وسنت میں موجود تھا، لیکن مسائل کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جن کا حکم براہ راست قرآن وسنت میں موجود نہیں تھا، چنانچہ اہل علم نے اپنے اپنے زمانے میں غوروفکر اور اجتہاد سے کام لیا، اور قرآن وسنت کی روشنی میں مسائل حل کرنے کی کوشش کی گئی۔
عہد صحابہ کے بعد تابعین اور تبع تابعین۔۔۔۔ اس طرح فقہی مسائل میں اجتہاد کا سلسلہ جاری رہا۔ رفتہ رفتہ چار بڑے فقہی مسالک وجود میں آئے، جن میں امام ابوحنیفہ، امام مالک ، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کی فقہ نے سب سے زیادہ مقبولیت حاصل کی، اس طرح فقہ حنفی، مالکی، شافعی، حنبلی کے نام سے چار بڑے فقہی مدارس یا مسالک وجود میں آئے، ان فقہی مدارس یا مسالک کے اندر ہر ہر زمانے میں وقت اور حالات کے اعتبار سے مختلف تبدیلیاں روبہ عمل آتی رہیں۔ یہ چاروں فقہی مسالک ہر دور میں ائمہ مجتہدین سے مالا مال رہے، امام ابوحنیفہؒ کے مدرسۂ فقہ میں امام ابویوسف، امام محمد، امام ابن ابی لیلی دور اول کے اساتذۂ فقہ مانے جاتے ہیں، اس طرح ہر دور اور ہر زمانے میں فقہ اسلامی کے یہ مسالک ممتاز مجتہدعلماء سے مالامال رہے۔
بدلتے حالات کا لازمی تقاضا
فقہاء کرام نے اپنے اپنے دور کے حالات اور حقائق کے پیش نظر غوروفکر سے کام لیا، چنانچہ ان کے درمیان اختلاف رائے ایک فطری چیز تھی، یہ اختلاف رائے تہذیب وتمدن اور عرف کی تبدیلی کے سبب ہوا، وہ جہاں رہے، وہاں کے حالات کے مطابق فتوے دئیے، امام شافعی ؒ کے فتوے مصرمیں کچھ تھے اور عراق میں کچھ اور،فقہ شافعی میں یہ ’’فقہ قدیم‘‘ اور ’’فقہ جدید‘‘ کے نام سے معروف ہوئے۔ فقہ حنفی میں امام ابوحنیفہؒ کے شاگردوں کے فتوے زیادہ معروف اور مقبول ہیں، کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کے درمیان پایا جانے والا اختلاف بھی زمانہ اور حالات کی تبدیلی کا نتیجہ تھا۔
امام ابن تیمیہؒ اور امام ابن القیمؒ نے بعد کے زمانہ میں فقہ اسلامی کے باب میں کافی اہم خدمات انجام دیں، فقہ کے مختلف مسائل ایسے بھی تھے، جن کے سلسلہ میں کہاجاتا تھا کہ علماء کا ان مسائل پر اجماع ہے، ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد ابن القیم نے ان مسائل پر ازسرنوبحث کا آغاز کیا، ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد کے موقف سے یہی رہنمائی ملتی ہے کہ اجتہادی مسائل میں اجتہاد کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا، ہر دور کے فقہاء کواپنے اپنے دور کے حالات اور عرف وعادات کو ملحوظ رکھتے ہوئے اجتہاد کرنا چاہئے یا پچھلے فتاوی پر نظرثانی۔ ڈاکٹر صلاح سلطان عصر حاضر کے معروف فقیہ ہیں، وہ اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ’’جب فتوے پر پچاس سال گذر جائیں یا ہزار میل کا مکانی فرق ہوجائے تو دوبارہ اجتہاد کیے بغیر فروع میں فتووں کو نقل کرنا جائز نہیں ہے‘‘ ۔آگے لکھتے ہیں ’’اس میں اس بات کا صاف اشارہ ہے کہ ہر عرف کے فروعی احکام جدا جدا ہوتے ہیں اور اصول وثوابت یکسا ں ہوتے ہیں‘‘(فقہ الاقلیات: ڈاکٹر صلاح سلطان)
فقہی مسائل میں اجتہاد اور غوروفکر ہر نئے دور اور بدلتے حالات کا لازمی تقاضا ہے، فقہاء نے اپنے اپنے دور میں اس سلسلہ میں قابل قدر کوششیں انجام دیں، تاہم ان فقہاء کے بعض مقلدین نے ان کی تقلید میں حددرجہ غلو کے نتیجہ میں فقہ اسلامی کے سلسلہ میں کافی غلط فہمیاں پیدا کیں، جگہ جگہ ایسے حالات بھی پیدا کیے گئے کہ فقہی مسالک کے نام پر گروہ بندی ہونے لگی، مساجد مختص کی جانے لگیں، حالانکہ ان مسالک کے ائمہ آپس میں ایک دوسرے کے تئیں حددرجہ نرم گوشہ رکھتے تھے، وہ جانتے تھے کہ یہ اختلاف ایک فطری چیز ہے، اجتہادی مسائل میں مختلف قسم کے ذہن ودماغ جب اپنے اپنے ملک کے حالات اور عرف وعادات کے پیش نظرغور وفکر کریں گے تو نتائج میں اختلاف بعید ازامکان نہیں، چنانچہ امام شافعی نے امام ابوحنیفہ کے مقبرے پر نمازفجرادا کی تو دعائے قنوت نہیں پڑھی، اور فرمایا: بسااوقات ہم اہل عراق کے مسلک پر بھی عمل کرلیتے ہیں، شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اپنی کتاب الانصاف فی بیان اسباب الاختلاف(فقہی مسائل میں اعتدال کی راہ:ترجمہ از صدرالدین اصلاحیؒ ) میں اس طرح کے متعدد واقعات ذکر کئے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اہل علم وفقہ آپس میں کس درجہ روادارتھے، اور ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ رکھتے تھے۔
علامہ رشید رضا کا موقف
فقہی مسائل کے سلسلہ میں یہ بات کافی اہم ہے کہ ہمارے درمیان اختلافات اصولی چیزوں میں نہیں پائے جاتے، جو کچھ بھی اختلافات پائے جاتے ہیں، وہ ذہن وفکر کے تفاوت کا نتیجہ ہیں، یا پھر حالات کے مختلف ہونے کا نتیجہ ہیں، یا پھر اس سلسلہ میں منقول مختلف قسم کی روایات کا نتیجہ ہیں۔ یہ اختلافی مسائل اس درجہ اہمیت نہیں رکھتے کہ ان کی زد ایمان پر پڑے، شریعت نے محبت اور اخوت کے مواقع بہت بڑی تعداد میں فراہم کیے ہیں۔ ایمان کا رشتہ، عقائد اور اخلاقیات کا رشتہ، خالق کائنات اور رسول خدا سے تعلق کا رشتہ۔۔۔ یہ وہ رشتے ہیں کہ اگر ان رشتوں کی اہمیت اور عظمت کا احساس ہوجائے، تو کبھی بھی جزئی اور فروعی قسم کے مسائل میں اختلاف کی بنا پر گروہ بندی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی مساجد الگ کی جاسکتی ہیں۔
علامہ سید رشید رضاؒ نے اختلافی مسائل کے تعلق سے بہت پیارا اصول پیش کیا تھا، بعد میں امام حسن البنا شہیدؒ نے بھی اسی اصول کو اختیار کیا، تحریک اخوان نے اس کی اہمیت کو سمجھا، اور اس کے مطابق اپنے کارکنوں کی تربیت کی، رشید رضا کہتے ہیں کہ ’’جو متفق علیہ امور ہیں ان کے سلسلہ میں ہم ایک دوسرے کا تعاون کریں، اور جو مختلف فیہ امور ہیں، ان کے سلسلہ میں آپس میں صرف نظر سے کام لیں‘‘۔ یہ ایک بہت ہی بنیادی اصول ہے، اسلامی اقدار اور اخلاقیات امت مسلمہ کے درمیان متفق علیہ ہیں، تمام نوع انسانی کو اسلام کی دعوت دینے پر اتفاق ہے، قرآن مجید پر اتفاق ہے، قرآن کی بنیادی تعلیمات پر اتفاق ہے، عبادات کے سلسلہ میں اتفاق ہے، عقائد کے سلسلہ میں اتفاق ہے۔ اختلاف عبادات کی جزئیات میں ہے، عقائد کے سلسلہ میں بہت ہی جزئی قسم کے امور میں اختلاف ہے، قرآن کی بعض آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں اختلاف ہے، اسی طرح تمام ہی اختلافی امور ومسائل پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اختلاف تو بہت ہی فروعی اور جزئی قسم کا ہے، توایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان اختلافی امور کے سلسلہ میں صرف نظر سے کام لیں، اور متفق علیہ امور کے سلسلہ میں ایک دوسرے کا تعاون کریں، کہ یہی رب کائنات کی بھی مرضی ہے، وہ مسلم امت کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح باہم شیروشکر دیکھنا چاہتا ہے۔ امام ابوزہرہؒ نے فقہی مسالک اور فقہی اختلافات کے سلسلہ میں کافی اہم بات کہی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’مسالک کی حیثیت تو چھوٹی چھوٹی نالیوں کی ہے، جن کے لیے ضروری ہے کہ اسلام کی بڑی نہر میں جاکر مل جائیں، اور یہ ایک بہت ہی خطرناک غلطی ہے کہ مسالک ہی کو دین مان لیا جائے، یا اسلام کی تنہا نہر مان لیا جائے‘‘۔
تحریکی افراد کا مطلوبہ رویہ
ہندوستان کے مسلم سماج میں فروعی اختلافات کو بعض طبقوں کی جانب سے خوب ہوا دی گئی، صورتحال یہ ہے کہ فروعی اختلافات اس وقت مسلم سماج میں ایک بڑے چیلنج کی صورت اختیار کرچکے ہیں، فروعی اختلافات میں ڈوبے ہوئے اسی سماج کے اندر تحریک اسلامی کو اپنا قائدانہ کردار ادا کرنا ہے، اس سلسلہ میں تحریکی افراد کا کیا رویہ ہونا چاہئے، اس موضوع پر رفیق منزل جنوری ۲۰۰۶ ء میں برادرمحترم محی الدین غازی نے کافی اہم مضمون تحریر کیا تھا ’’فروعی اختلافات میں تحریکی افراد کا رویہ‘‘۔ موصوف نے بڑی پیاری بات کہی ہے کہ’’فروعی مسائل پر لوگ حد سے زیادہ زور دیتے ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ تاہم ہماری خوبی یہ ہونی چاہئے کہ ہم حتی الامکان فروعی مسائل میں اختلافی رویہ سے احتراز کریں اور لوگوں سے متفق ہوجانے کی کوشش کریں تاکہ اصولی بنیادوں پر لوگوں کو اپنا ہم خیال بنانے اور اپنے موقف سے متفق کرنے کی راہ ہموار رہے‘‘۔

ابوالاعلی سید سبحانی

Comments are closed.