کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر

فبروری ٢٠١٢

وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے ہم مسلکوں میں ابراہیم بھی تھا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آیا‘‘۔
جب آپ کو کسی معالج سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل نازک(سیریس) حالت میں ہے، حجم بڑھ گیا ہے، نالیاں سکڑ گئی ہیں، خون کی سپلائی متأثر ہے، متعدد ہول بلاک ہوچکے ہیں، اور کسی وقت بھی دل کی حرکت بند ہونے(ہارٹ اٹیک) کا خدشہ ہے۔ ایسے وقت میں آپ کا اور آپ کے عزیزوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟آپ پہلی فرصت میں امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتے، اس کے مشوروں پر عمل کرتے، اس کی تجویز کردہ دوائیں پابندئ وقت کے ساتھ استعمال کرتے اور کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور نقل وحرکت کے سلسلہ میں جن جن باتوں سے اس نے روکا ہے، ان سے سختی سے پرہیز کرتے۔
اور ایسا کیوں نہ آپ کریں کہ دل ہے تو زندگی ہے، جب تک دل حرکت کررہا ہے، آپ زندہ ہیں، جس لمحہ دل کی حرکت بند ہوئی، زندگی آپ سے رخصت ہوئی، اس کے بعد ہنستا، مسکراتا، کھیلتا انسان بے حس وحرکت اور بے جان لاشہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، دل دراصل قدرت کا سب سے انمول، سب سے خوبصورت اور سب سے پیارا تحفہ ہے، دل کی زندگی ہی انسان کی زندگی سے عبارت ہے، دل اچھا انسان اچھا، دل خراب انسان خراب، دل کی موت انسان کی موت، دل جتنا مضبوط صحتمند اور توانا ہوگا، اسی قدر انسان مضبوط اور صحتمند ہوگا، اگرچہ کہ وہ درہم ودینار اور دولت وحکومت اور اسباب ووسائل کے اعتبار سے کوڑی کا انسان ہو، لیکن اگر دل کمزور ہے تو درہم ودینار اور اسباب ووسائل سب کوڑی کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی کو حدیث میں فرمایا گیا ہے، ان الغنی غنی النفس۔ ’’اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے‘‘۔
یہی وجہ ہے کہ دل کی معمولی سی بیماری کی طرف بھی انسان سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر توجہ کرتا ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ألا ان فی الجسد مضغۃ، اذا صلحت صلح الجسد کلہ، واذا فسدت فسد الجسد کلہ، ألا وھی القلب۔’’آگاہ رہو، جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست حالت میں ہوتا ہے تو پورا جسم درست رہتا ہے لیکن اگر وہ بگڑ جاتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، جانتے ہو، وہ کیا ہے۔ وہ ٹکڑا انسان کا دل ہے‘‘۔
مادی اور جسمانی اعتبار سے دل کی جو قدروقیمت ہے، اس سے کہیں بڑھ کر اخلاقی اور روحٓنی اعتبار سے دل اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دل جس طرح جسمانی اعتبار سے بیمارہوتا ہے، اسی طرح اس دل پر اخلاقی اور روحانی امراض کا حملہ ہوتا ہے، اور یہ حملہ زیادہ سخت اور زیادہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے، جسمانی اعتبار سے اگر دل بیمار ہوا تو زیادہ سے زیادہ ایک جان کا زیاں اور اس کے بال بچوں اور دوست واحباب کا اس سے فراق اور محرومی ہے، لیکن اگر دل کو جان لیوا اخلاقی وروحانی روگ لگ گیا تو نہ صرف ایک جان کا زیاں ہے، بلکہ ایسے شخص کی دنیا وآخرت دونوں برباد، اس کے ساتھ ساتھ اس کی اولاد، دوست احباب، رشتے ناطے، اور مرض کی سنگینی کے اعتبار سے زمین کے عام باشندے نسلا بعد نسل متأثر ہوتے اور وہ زمین کے اوپر عملا ایک بوجھ ہوتا ہے۔ وہ انسان کی شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں لومڑی، بھیڑیا ، یا کوئی اور درندہ ہوتا ہے، حقیقی انسان اس کے اندر سے کب کا نکل چکا ہوتا ہے۔ ایک عام انسان بھی ایسے شخص سے محبت رکھتا ہے جو صاف ستھرا اور خلوص ومحبت سے بھرا، بے غرض دل رکھتا ہے، اگرچہ وہ ظاہری صورت کے لحاظ سے کتنا ہی بدشکل ہو، اس کے برعکس ایک انتہائی خوب رو اور خوب شکل آدمی اگر خودغرض اور گندے خیالات کا حامل ہو تو اس کے لیے کسی دل میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
اہل کتاب کے تذکرہ میں آتا ہے کہ جانتے بوجھتے جب انہوں نے مسلسل خدا کی نافرمانی کی، احکام خداوندی کی تعمیل میں خواہ مخواہ کی حجتیں کیں، حکم توڑا اور توڑتے رہے، تو اس کی سزا انہیں یہ ملی کہ ان کے دل سخت کردئیے گئے:
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَۃً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الأَنْہَارُ وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّہِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُون۔ (البقرہ: ۷۴) ’’پھر اس کے بعد تمہارے دلوں میں سختی آئی اور وہ پتھر کی طرح سخت ہوگئے، بلکہ سختی میں ان سے بھی بڑھ کر، کیونکہ بعض پتھر تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ بہتی ہیں اور بعض شق ہوتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ خشیت الہی سے گرپڑتے ہیں اور اللہ تمہاری حرکتوں سے بے خبر نہیں ہے‘‘۔
چٹانوں سے چشموں، نہروں اور دریاؤں کا نکلنا ایک معروف بات ہے، لیکن اس تمثیل میں بنی اسرائیل کے لیے ایک تلمیح بھی پوشیدہ ہے،انہوں نے سینا ی صحرانوردی میں چٹان سے اکٹھے بارہ چشموں کا پھوٹ بہنا، اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، گؤسالہ پرستی کے بعد جب اجتماعی توبہ کے لیے حضرت موسیؑ کے ساتھ ان کے ستر نمائندے کوہ طور پر پہنچے تھے تو قدرت الہی کا جلال اس شکل میں ان کے سامنے آیا تھا کہ ایک زبردست زلزلہ نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور پہاڑ گویا ان کے سروں پر آگرا تھا، اسی طرح حضرت موسیؑ جب کوہ طور پر پہنچے، اور دیدار الہی کی تمنا کی تو اللہ نے فرمایا کہ پہاڑ پر اپنی نگاہ جمائے رہے، اگر یہ اپنی جگہ ٹکا رہا تو مجھے دیکھ سکتے ہو لیکن جب اللہ کی تجلی نمودار ہوئی تو پہاڑ مارے خوف کے اس کی تاب نہ لاسکا، اور وہ حصہ ریزہ ریزہ ہوگیا، یہ ان کی اپنی تاریخ تھی، اللہ تعالی نے ان کے نالائق جانشینوں سے فرمایا: تمہارے دل ان پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں۔
دلوں کی یہ سختی نظر آنے والی چیز نہیں ہے، دل بظاہر دھڑکتا ہوگا، لیکن اندیشہ ہے کہ جانتے بوجھتے خدا کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے اس میں سختی آگئی ہو، اس کے بعد اصلاح ناممکن ہوجاتی ہے، فویل للقاسیہ قلوبہم من ذکراللہ،(سورہ الزمر)’’جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہوگئے ہیں، ان کے لیے ہلاکت ہے‘‘
اسی لیے اہل ایمان کو ہوشیار یا گیا ہے: أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا یَکُونُوا کَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُون۔ (الحدید:۱۶) ’’ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کے ذکر اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے اور ان لوگوں کی طرح وہ نہ ہوجائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی(لیکن کتاب چھوڑ کر گناہوں میں لت پت ہوگئے اور اس حالت میں) ان پر ایک زمانہ گزر گیا اور (حالت یہاں تک پہنچی کہ آج) ان میں سے بہت سے لوگ کھلے فاسق ہیں‘‘۔
پھر یہ بتایا گیا ہے کہ دلوں کی صحت کی علامت یہ ہے کہ کتاب الہی سے ان کے دل لرز جاتے ہیں، اور اس کے آگے وہ جھک پڑتے ہیں: تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَی ذِکْرِ اللَّہ۔ (الزمر:۲۳)’’اس کتاب الہی سے ان لوگوں کے رونگٹے کانپ اٹھتے ہیں، جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کے بدن اور دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر (یعنی کتاب اللہ پر عمل کرنے) کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں‘‘۔اسی طرح سورہ مریم میں ہے: إِذَا تُتْلَی عَلَیْْہِمْ آیَاتُ الرَّحْمَن خَرُّوا سُجَّداً وَبُکِیّا۔ (مریم:۵۸)’’اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کا حال یہ تھا کہ رحمن کی آیتیں جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو بے اختیار سجدے میں روتے ہوئے گرپڑتے تھے‘‘ اسی طرح ایک جگہ ہے: وَالَّذِیْنَ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْْہَا صُمّاً وَعُمْیَاناً۔ (الفرقان: ۷۳)’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعہ تذکیر کی جاتی ہے تو اس پر اندھے بہرے ہوکر نہیں رہ جاتے‘‘، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان پر آیات الہی کا اثر نہ ہو اور وہ ٹس سے مس نہ ہوں، بلکہ آیات الہی ان کے دلوں پر اثرانداز ہوتیں اور انہیں حرکت وعمل پر آمادہ کرتی ہیں۔ کفار کی طرح سنی ان سنی نہیں کرتے اور اعتراض کے لیے دلوں دماغ پر تالا لگاکر ٹوٹ نہیں پڑتے۔
انسان کی سب سے بڑی مصیبت اس کے دل کی بصیرت اور اس کی عبرت پذیری کی صلاحیت کا ختم ہوجانا ہے۔ وہ دیکھتا سب کچھ ہے لیکن اسے نظر کچھ بھی نہیں آتا یہی وجہ ہے کہ کسی چیز سے اثر نہیں لیتا۔ فَإِنَّہَا لَا تَعْمَی الْأَبْصَارُ وَلَکِن تَعْمَی الْقُلُوبُ الَّتِیْ فِیْ الصُّدُور۔ (الحج:۴۶)’’واقعہ یہ ہے کہ آنکھیں جو سروں پر ہیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جوسینوں کے اندر ہیں‘‘، یعنی انسان کی اصلی آفت دلوں کا اندھا پن ہے، دل اندھا ہے تو آنکھیں ہوتے بھی وہ اندھا ہے، دل اگر بینا، صاحب بصیرت اور حساس ہے تو آنکھیں نہیں ہوتے ہوئے بھی وہ صحیح معنوں میں بینا ہے۔
حضرت ابراہیمؑ کی سب سے بڑی خوبی یہ بیان کی گئی ہے کہ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْم (الصافات:۸۴)، ’’(ابراہیم کی یہ بات قابل ذکر ہے) جبکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے صاف ستھرا دل لے کر‘‘، ابراہیمؑ کی سب سے بڑی خوبی ان کا صاف ستھرا، بھلا چنگا دل تھا، ان کے لیے قلب سلیم کا لفظ ان کی کامل حنیفیت، یکسوئی اور ان کے صدق واخلاص اور وفائے عہد کے کمال کی تعبیرہے۔ یعنی وہ اپنے پہلو میں ایسا دل رکھتے ہیں جو شرک وکفر، کبروحسد، نفاق وریا اور ہرطرح کی ضلالت وگمراہی کی ادنی سے ادنی آلائش سے بھی پاک تھا، عقیدے اور اخلاق کی تمام خرابیوں سے محفوظ دل، اللہ کی نافرمانی وسرکشی، برے میلانات، گندی خواہشات اور ہرطرح کے شکوک وشبہات سے بالکل صاف ستھرا دل، اللہ کے لیے محبت، اللہ کے لیے اخلاص، اللہ کا تقوی، اللہ کی خشیت، اللہ کے آگے خودسپردگی، اور کامل انقیادواطاعت اور مکمل وفاداری کا مجسم پیکردل، اور ظاہر ہے جو اللہ کاہوگیا اس کا دل اب ہر ایک کے لیے خلوص ومحبت سے لبریز اور ہرطرح کی بدخواہی، خودغرضی اور نفسیات سے پاک ہوگا، ایسا ہی دل کل قیامت کے دن انسان کو نجات دلائے گا، یَوْمَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ۔ إِلَّا مَنْ أَتَی اللَّہَ بِقَلْبٍ سَلِیْم۔ (الشعراء: ۸۸۔۸۹)’’وہ دن یاد رکھے جانے کے قابل ہے جس دن نہ مال کام آئے گا، نہ بیٹے، ہاں، وہ لوگ سرخ رو اور کامیاب ہوں گے جو خدا کے حضور بھلا چنگا، صاف ستھرا اور ہرطرح کی آلائش سے محفوظ دل لے کر حاضر ہوں گے‘‘۔
ابراہیمؑ کی سب سے بڑی خوبی ان کا یہی دل تھا جسے قرآن نے قلب سلیم سے تعبیر کیا ہے، یہی دل ان کی تمام کامیابیوں کی کلید تھا، جس نے ان سے ایمان واسلام ، انقیاد واطاعت، سرفروشی وجانبازی، ایثاروقربانی، وفاء عہد بندگی اور اللہ سے محبت کے وہ زندہ، روشن اور تابناک نقوش ثبت کرائے جو آج بھی دلوں کو گرماتے اور قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دل کیسے پیدا ہوتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ اللہ کے ذکر اور اللہ کی کتاب سے جس قدر زندہ تعلق ہوگا، اسی حساب سے یہ دل بنتا چلا جائے گا، الا بذکر اللہ تطمئن القلوب، ’’اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے‘‘(اور اللہ کا سب سے بڑا ذکر اس کا کلام ہے)
آدمی دل بیدار رکھتا ہو اور اللہ کی کتاب کی طرف کان بھی لگائے اور متوجہ بھی ہو تب جاکر اس دل کو تذکر حاصل ہوتا ہے، اللہ کا تقوی پیدا ہوتا اور اس کی محبت جاگزیں ہوتی ہے: إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَذِکْرَی لِمَن کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْد۔(سورۃ ق:۳۷)، ’’اس میں یقیناًنصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو دل بیدار رکھتے ہوں اور آگے بڑھ کر کان لگاتے ہوں اور متوجہ بھی ہوں‘‘۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کے ذکر سے غفلت برتتے ہیں، اللہ تعالی ان پر شیطان مسلط کردیتا ہے: وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْْطَاناً فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ۔ (الزخرف: ۳۶)، ’’جو رحمن کے ذکر سے اندھا بن جاتا ہے، ہم اس کے لیے ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے‘‘۔ پھر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کی کیفیت گدھے کی ہوجاتی ہے، جن کی باگ شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ جس وادی میں چاہتا ہے ان کو لیے لیے پھرتا ہے: اسْتَحْوَذَ عَلَیْْہِمُ الشَّیْْطَانُ فَأَنسَاہُمْ ذِکْرَ اللَّہ۔ (المجادلۃ: ۱۹)، ’’شیطان نے انہیں اپنے شکنجے میں کس لیا اور انہیں اللہ کے ذکر سے غافل کردیا‘‘، پھر اس کے بعد جب مسلسل اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے تو دلوں میں سختی اور قساوت آجاتی ہے، جیساکہ ’’ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ‘‘کے سیاق کلام سے واضح ہے، جب یہ حال ہوجاتا ہے تو انسان خدا کو فراموش کردینے کے نتیجہ میں اپنی شناخت کھودیتا ہے، اسی لیے فرمایا گیا ہے: وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللَّہَ فَأَنسَاہُمْ أَنفُسَہُمْ أُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون(الحشر: ۱۹)، ’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اللہ کو بھلا بیٹھے تو اللہ نے خود ان کو ان کی چالوں سے غافل کردیا، یہی لوگ کھلے ہوئے فاسق ہیں‘‘۔
واقعہ یہ ہے کہ جسے اپنی معرفت ہوجاتی ہے، اسے اپنے رب کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے، کسی عارف کا قول ہے، من عرف نفسہ فقد عرف ربہ، ’’جس نے اپنے کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔ اپنی شناخت اور اپنے رب کی شناخت نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا آدمی نہ دین کے کام کا رہ جاتا ہے نہ دنیا کے کام کا۔ اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ہر چیز سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اس کا سینہ بیٹھتا اور جب بجلی چمکتی ہے تو اس کا دل دھڑکتا ہے۔ جذبات سرد پڑ جاتے ہیں، حوصلے ختم ہوجاتے ہیں اور پھر ایسے لوگ حق کے مقابل میں جم نہیں سکتے، ان کی اسی کیفیت کی وجہ سے ان کی حالت یہ بتائی گئی ہے: وَقَذَفَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُونَ بُیُوتَہُم بِأَیْْدِیْہِمْ وَأَیْْدِیْ الْمُؤْمِنِیْن۔ (الحشر:۲)’’اللہ نے ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی، وہ اجاڑ رہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور مومنین کے ہاتھوں سے‘‘، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے: لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلَءِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلَءِکَ ہُمُ الْغَافِلُون۔ (الاعراف: ۱۷۹)، ’’ان کے پاس ایسے دل نہیں جن سے سمجھیں، ایسی آنکھیں نہیں جن سے دیکھیں، ایسے کان نہی جن سے سنیں، یہ مویشیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ، یہی پکے بے خبر اور غافل لوگ ہیں‘‘۔ پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ توپ وتفنگ رکھتے ہوئے بھی وہ کچھ کر نہیں پاتے، اقبال نے اگرچہ کہا ہے کہ
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
اور
کافر ہے تو تلوار پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
لیکن تلوار اور یورپ کی مشینیں حقیقت میں مومن کے عزم کے آگے ان کا ساتھ بھی نہیں دیتیں، اس لیے کہ وہ ایمان سے لبریز قلب سلیم سے محروم ہوتے ہیں۔
کارکنان تحریک اسلامی اور ان کے قائدین کے لیے آج سب سے بڑی اور اہم ضرورت اسی دل کی تلاش اور اسی دل کی بازیافت ہے، اگر یہ دل پیدا ہوگیا تو اس راہ کی ہر منزل آسان، اور من احب للہ وابغض للہ واعطی للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان،’’ جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے نفرت کی، اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے محروم کیا، اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا‘‘کا نورانی منظر دنیا کے سامنے آجائے گا، اگر ایسا نہیں ہوسکا تو
شمع محفل ہوکے تو جب سوز سے خالی رہا
تیرے پروانے بھی اس لذت سے بیگانے رہے
اور پھر
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے
اس لیے تحریک اسلامی کے جوانوں کو سب سے زیادہ اسی قلب سلیم کی فکر کرنی چاہئے، ایسا قلب سلیم جس میں اللہ کے لیے محبت، اللہ کے لیے نفرت، اللہ کے لیے دینا اور اللہ ے لیے محروم کرنا، اللہ کے لیے نماز، اللہ کے لیے قربانی اور بالفاظ مختصر اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا جذبہ بیتاب ہو۔
تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر

 

مولانا محمد اسماعیل فلاحی، شیخ التفسیر، جامعۃ الفلاح ، اعظم گڑھ

Comments are closed.