کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے (۲)

فبروری ٢٠١٢

(گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی سمجھ پیدا کرنا، افراد سماج میں تحمل وبرداشت پروان چڑھانا، مخلوط سماج کی افادیت کا ادراک وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی تھی، اس سلسلہ کی یہ دوسری اور آخری قسط ہے، اس میں مخلوط سماج میں توازن کے اجتماعی تقاضوں اور مذہبی اکثریت پر لازم آنے والی ذمہ داریوں پر گفتگو کی گئی ہے۔ادارہ )

اجتماعی تقاضے:
مخلوط سماج میں توازن کے اجتماعی تقاضوں کے تحت درج ذیل تقاضے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔
(1) اجتماعی شعور کی بیداری
(2) حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس
(3) us اور them کی نفسیات کا تدارک
اجتماعی شعور کی بیداری:
اجتماعی شعور سے بنیادی طور پر وہ شعور مراد نہیں ہے جو فرداً فرداً شعور کی جمع کا مظہر ہو بلکہ یہ شعور انفرادی آرا میں اختلاف کے باوجود کسی مخصوص نکتہ کے تحت اپنے سماجی عمل کو مجموعی شعور سے ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔ ایک بہت چھوٹی سی مثال سے اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ مغرب کے زیادہ تر ملکوں میں عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی نہ کرنا اجتماعی تہذیبی شعور کا مظہر ہے۔ یعنی سماج یا اس ملک کے افراد گو کہ انفرادی طو پر عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی کرنے کے قائل ہوں لیکن اجتماعی شعور کا احترام کرتے ہوئے اس مظہر سے یا فعل سے گریز کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ رضاکارانہ طور پرہوتا ہے یعنی کسی خارجی دباؤ پولس، قانون، انتظامیہ کے بغیر۔
ہمیں مسلمانوں میں مخلوط سماج میں رہنے اوبسنے کے لیے درکار اجتماعی شعور کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس اجتماعی شعور کے اجزا میں بنیادی طور پر دو چیزیں بہت اہم ہیں۔
(1) حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس
(2) us اور them کی نفسیات کا تدارک
حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس:
بحیثیت مجموعی ہمیں افراد سماج کو یہ بتانا پڑے گاکہ ہم حقوق کی پکار اسی وقت لگا سکتے ہیں جب ہم ذمہ داریوں کو ویسے ادا کررہے ہوں، جیسے کہ ادا کرنے کا حق ہے، یہ اجتماعی شعور کی آبیاری میں بڑا اہم موضوع ہے۔
محض حقوق کے لیے نعرہ بازی کرنا، مختلف امور میں مراعات طلب کرنا بے فائدہ ہوجاتا ہے، جب بڑی سطح پر ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی ہورہی ہو۔ مثلاً ایک مخلوط سماج میں رہتے ہوئے پہلا حق جو اکثریتی فرقے کو جاتا ہے وہ غالباً پاسداری مذہب، عقائد ورسومات کا ہے۔ پاسداری سے کیا مراد ہے، یہ کوئی متعین شئے نہیں ہے۔ افراد حالات، سماجی و ثقافتی منظرنامے اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ پاسداری کی سطح کیا ہوگی۔ حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کے اقوال کا مفہوم غالباً اس کی بہترین ترجمانی ہے کہ نہ ظلم کرو، نہ ظلم ہونے دو۔ اسلام کا زریں اصول تو بہر حال موجود ہے ہی کہ زیادتی نہ کرو، فساد نہ پھیلاؤ اور اگر بدلہ لینا ہو تو اتناہی لوجتنا کہ ظلم کیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ فساد، زیادتی اور ظلم یہ وسیع اصطلاحیں ہیں اور قرآن ان اصطلاحوں کے مختلف معنی بتلاتا ہے۔ بتوں کو برا نہ کہنے میں فسادکا صرف یہی پہلو نہیں ہے کہ وہ بھی پلٹ کر اللہ کو برا کہیں گے۔ یہ صرف اس کا ایک پہلو ہے لیکن دراصل اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام دین حق کی طرف دعوت دینے کے بعد قبول حق کے سلسلے میں زبردست اور غیرمعمولی اعتدال رکھتا ہے ۔اسلام انسان کی فطرت کے تقاضوں کو غیرمعمولی اہمیت دیتا ہے۔ ان تقاضوں میں سے ایک فطری تقاضہ یہ بھی ہے کہ انسان صحیح ہو یا غلط، اپنے ماں باپ، خاندان اور آبائی مذہب اور شعائر مذہب سے زیادہ لگاؤ رکھتا ہے۔ اسلام بغیر اس کے سیاق و سباق میں جاتے ہوئے اس کی عزت کرتا ہے۔ چنانچہ وہ انسان کی مذہبی انا کو ٹھیس پہنچانے والی ہر شئے سے مومنوں کو روکتا ہے۔ قل یا ایہا الکافرون میں جس براء ت کا اظہار ہے وہ انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دینے اور شعوری عمل کے لیے تمام درکار لوازمات جیسے وحی، رسول اور نفس مطمئنہ، فطرت سیلم دینے کے بعد ہے۔ اس کے بعد معاملہ اللہ اور اس کے بندے کا ہے۔ دوسرا کوئی انسان درمیان میں کہیں نہیں ہے۔
مسلم اکثریتی ممالک میں بابری مسجد کے سانحے کے بعد کیا ہوا؟ اسی کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ 9/11 کے بعد امریکہ میں مخصوص مذہبی شناخت حتی کہ مخصوص ملکی شناخت والے افراد کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ہوئیں۔ سب جانتے ہیں کہ کسی بھی مخلوط سماج میں حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جتنا یہ احساس عوام میں قوی ہوگا، جس قدر اس کا نفوذ عوام کی شعور کی سطح پر اثر پذیر ہوگا اسی قدر مخلوط سماج اعتدال اور توازن سے عبارت ہوگا ورنہ بہ اعتبار تعداد و مواقع تصادم ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔
ہم (us ) اور وہ(them )کی نفسیات کا تدارک:
مخلوط سماج میں وہ اور ہم کی نفسیات سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نفسیات کے چلتے ہی مختلف گروہ اپنے vested interest مذہبی اقلیتی و اکثریتی دونوں فرقوں سے حاصل کرتے ہیں۔ (اس نفسیات پر تحقیق ایک زبردست میدان ہے۔)
اسلام بنیادی طور پر اس نفسیات کی جڑ ہی پر وار کرتا ہے۔ وہ پوری بنی نوع انسان کو ’’الخلق عیال اللہ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ سارے انسانوں کو ایک آدم اور حوا کی اولاد بتاتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ انسانوں کو مومن اور کافر کے خانوں میں بانٹتا ہے لیکن ان خانوں میں جو انسان آتے ہیں وہ شعوری بنیادوں پر تقسیم ہوکر آتے ہیں۔ غالباً یہ تقسیم غیر شعوری بنیادوں پر لاگو نہیں کی جاسکے گی ۔لیکن پھر بھی اللہ اس تقسیم کی بنیاد پر مادی اسباب و وسائل اور مادی ترقی اور بقائے زندگی کے مواقع کسی گروہ کو کم یا زیادہ نہیں دیتا۔
چنانچہ بحیثیت مومن یہ بات صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام عالم کے مسلمانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انسانوں میں ’وہ‘ اور ’ہم‘ نہیں ہوتے۔ انسان اللہ کی مخلوق ہے، اس کا کنبہ ہے، صرف یہی ایک بات اس بات کی ضمانت دینے کے لیے کافی ہے کہ محض رنگ، نسل اور عقائد کی بنیاد پر اس سے مختلف امور زندگی میں تعصب نہیں برتا جائے گا۔ ’’تعاونوا علی البرو التقوی‘‘ میں غالباً کہیں سے مذہب کی قید نہیں لائی جاسکتی۔ خو داللہ کے رسولﷺ کی پوری سیر ت چند استثنائیات کو چھوڑ کر مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کرنے اور نہ ہونے دینے کا بہترین نمونہ ہے۔ بعد کے ادوار سے جو لوگ اس کی مثالیں لاتے ہیں، ان کی نوعیت زیادہ تر یا تو سیاسی ہے یا پھر انفرادی اجتہاد سے عبارت ہے یا پھر ثقافتی جبر سے اعراض کے نتیجے میں ہے۔ ’’ہم اور وہ‘‘ کی نفسیات کے نقصانات ہم جا بجا دیکھ سکتے ہیں۔ اس نفسیات کی بنیاد پر کشمکش انواع عالم ہے۔ خود مسلمانوں میں جماعتی، سیاسی اور فروعی اختلافات کی بنیاد پر us اور them کی نفسیات کا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نفسیات سے اسلام کی تصویر، مسلمانوں کی تصویر مسخ ہوتی ہے اور عوام الناس اللہ کی رحمت سے قریب ہونے کے بجائے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
اس نفسیات سے زبردست نقصانات ہیں۔ them کے گروہ میں پائے جانے والے افراد، اداروں اور ان کے کاموں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ تخلیقیت اور ندرت کے فریم سکڑ جاتے ہیں۔ سیکھنے کے مواقع کم ہوجاتے ہیں، ارتقاء کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔
مخلوط سماج میں توازن کے لیے درکار اجتماعی تقاضوں میں ایک اہم جہت خارجی تقاضوں کی بھی ہے۔ یہ خارجی تقاضے مذہبی اقلیت کے سیاسی اور ثقافتی امور سے متعلق ہوتے ہیں۔ دنیا کی وہ تمام جمہوریتیں جہاں مخلوط سماج پائے جاتے ہیں ان میں سیاسی سطح پر مذہبی اقلیت کے فعال رول کی بڑی اہمیت ہے اور یہ فعال رول ان کے ارتقاء کے لیے ضامن قرار دئیے گئے ہیں۔
وہ ممالک جہاں مذہب کی بنیاد پر سیاست کا رخ متعین ہوتا ہے وہاں پر مخلوط سماج میں توازن کے لیے سیاست کارول انتہائی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں اس منظر نامے پر بحث بالکل ایک الگ موضوع ہے اور یہ مضمون غالباً اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مختصراً یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مذہب کی بنیاد پر ہورہی سیاست کو اگر تبدیل نہیں کیا جاسکتا، تو کم از کم اسے صحیح رخ دیا جائے۔ محض مذہب اور اس سے جڑے اشوز اور مسائل ہی سیاست کی بساط پر کلیدی حیثیت میں شامل نہ ہوں بلکہ مذہبی اقلیت کی سیاست کا ایک اہم ایجنڈہ مخلوط سماج میں check اور Balance کے اہم اداروں کی تشکیل، تنظیم اور موجود اداروں کا ارتقاء بھی ہو۔
مذہبی اقلیتوں کو اس بات کا احساس دلایا جا نا چاہئے کہ محض اکثریتی مذہبی اکائی سے خوف کی بنیاد پر سیاست طویل المدتی اعتبار سے کسی خاص بہتری کی ضامن نہیں۔ خوف کی نفسیات جو کہ موجودہ سیاست کا اہم ہتھیار ہے۔ اس سے عوام کو باہر لانا مخلوط سماج کے لیے ناگریز ہے۔ ورنہ یہ نفسیات غیر فطری رویوں کو جنم دیتی ہے۔ جس کے مظاہر آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کو مخصوص کالونیوں میں مکان بنانے کی اجازت کا نہ ہونا۔ کچھ مخصوص علاقوں میں Celebraties تک کو فلیٹ بیچنے سے انکار کردینا۔ یا حالیہ بنگلور میں ہوئے واقعات، انہیں غیر فطری رویوں کی عملی مثال ہے۔ حالانکہ یہ نفسیات اکثر اوقات Sponsored ہوتی ہے اور خاص آئیڈیالوجی رکھنے والے گروہ کے ذریعہ روبہ عمل لائی جاتی ہے۔
اب تک ہم نے یہ دیکھا کہ مخلوط سماج کی ایک اکائی) مذہبی اقلیت( پر اس سماج میں توازن بنائے رکھنے کے کیا تقاضے ہیں۔ اس توازن کی دوسر ی جہت مذہبی اکثریت پر لاگو ہونے والے تقاضے ہیں۔ اس کی ایک تیسری جہت بھی ہے وہ اقتدار اعلیٰ (ہندوستان کے تناظر میں دستور ہند) اور اسے چلانے والے ادارے ہیں اور ان پر لاگو ہونے والے تقاضے یہ بجائے خود ایک اہم موضوع ہے۔ لیکن فی الوقت وہ اس مضمون میں زیر بحث نہیں لائے گئے ہیں۔
مخلوط سماج میں حقیقتاً توازن اس مخلوط سماج کی دوسری اکائی مذہبی اکثریت کے تعاون و اشتراک کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ ایک طرف سے تقاضوں کی تکمیل اس مخلوط سماج میں توازن کیا قائم کر پائے گی؟ یا اگر یہ قائم ہے تو کیا اسے دوام حاصل ہوسکے گا؟ اس کا سیدھا سا جواب مشکل ہے لیکن یہ بات بہر حال مسلم ہے کہ چاہے مذہبی اکثریت ان تقاضوں کو پورا کرے یا نہ کرے جو کچھ فریق اول کرسکتا ہے اسے کرنا چاہئے۔ (کیوں؟ یہ ایک دوسری بحث ہے)
سب سے اول اور غالباً انتہائی اہم تقاضا جو مخلوط سماج کی دوسری اکائی پر لاگو ہوتا ہے وہ حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ کر ان میں فرق کرنا ہے۔ اقتدار اعلیٰ کی رو سے (جس کی پاسداری اور وفاداری اس اکائی پر بھی اتنی ہی لازم ہے جتنی دوسری اکائی پر) وہ جن حقوق کی مستحق ہے وہی حقوق اس سے ذمہ داریوں کا بھی سوال کرتے ہیں۔ مذہبی اقلیت کے جذبات و احساسات، ان کے شعائر مذہب اور ان کے عقائد و رسومات کا احترام اس پر لازم ہے لیکن عمومی طور پر اس جانب عملاً خلاف ورزیوں سے یہ احساس دب گیا ہے۔ چنانچہ مذہبی اکثریتی عوام اکثر اس جانب متوجہ نہیں ہیں۔ اکثریتی اکائی کی قیادت کو اس جانب دھیان دینا چاہئے۔
مذہبی اقلیتوں کے مذہبی معاملات کو سمجھنا اس ضمن میں بہت اہم ہے۔ عام طور پر ہم سب نے اکثریتی اکائی کے افراد کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مضحکہ خیز غلط فہمیوں کا شکار دیکھا ہے۔ راقم الحروف کی ایک لیڈی ٹیچر نے اس سے دریافت کیا تھا کہ کیا مسلمان ہفتے میں صرف ایک بار نہا سکتا ہے اور یہ کہ زندگی میں ایک بار گائے کاٹ کر اس کا گوشت کھانا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اور یہ کہ ہندو کو قتل کرکے جنت میں جاسکتا ہے۔ ان میں سے بعض تو Right ونگ کا پروپیگنڈہ ہے اور بعض ہمارے اجتماعی اعمال کا نتیجہ۔
Possesion کی نفسیات کو ختم کرنا/ کم کرنا۔
مذہبی اکثریت کی بیشتر عوام پروپیگنڈے کے نتیجے میں یہ سمجھتی ہے کہ وہ جہاں رہتے ہیں اس زمین پر اور اس ملک پر صرف ان کا ہی حق ہے۔ یہ نفسیات صرف ہندوستان میں ہی نہیں پائی جاتی بلکہ ہر جگہ کی اکثریتی اکائی چاہے وہ رنگ کی بنیاد پر ہو نسل کی بنیاد پر ہو یا مذہب کی بنیاد پر، اسی نفسیات کا شکار ہے مثلاً آسٹریلیا میں جہاں پر آپ مخلوط سماج کو مذہب کے سیاق سے ہٹاکر قومیت کے سیاق میں دیکھیں گے وہاں پر آپ دیکھیں گے کہ ہندوستانیوں بالخصوص ہندوستانی طلبہ سے ان کی نفرت کی وجہ (معاشی امور کے علاوہ) یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ ان کا ملک ہے اور ان کے اس ملک میں ہندوستانی طلبہ آکر رہتے ہیں، پڑھتے ہیں، ان کے ملک کے وسائل استعمال کرتے ہیں اور انہیں Out Compete کرتے ہیں۔ Possesion کی اسی نفسیات کا مظاہرہ کینیڈا میں سکھوں کے ساتھ، امریکہ میں مسلمانوں اور ایشیائی باشندوں کے ساتھ اور یوروپ کے بیشتر ممالک میں مختلف مہاجر باشندوں کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔
اس نفسیات کو ختم کیسے کیا جائے یہ بجائے خود تحقیق کا موضوع ہے۔ بلکہ بعض دائیں بازو کے اصحاب فکر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے اور مخلوط سماج بجائے خود ایک Utopian سماج ہے۔جو غالباً اس دنیا میں تو ممکن نہیں لیکن ان تمام نکات کے علی الرغم مخلوط سماج میں توازن کا یہ تقاضہ اہم ترین تقاضہ ہے۔
اسلام اس ضمن میں غالباً دوسرے تمام نظام ہائے حیات اور نظریات سے بہتر رہنمائی دیتا ہے۔ وہ انسانوں کو زمین کا خلیفہ بتاتا ہے، مالک نہیں۔ اور اس میں تصرف پر عدل و انصاف اور جوابدہی کے احساس کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ اس سے انسانی رویہ میں بہتر ضبط پیدا ہوتا ہے۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس کی اچھی مثال پیش کی تھی۔
طفیلیت کی نفسیات کو ختم کرنا:
طفیلیت کی نفسیات کیا ہے۔ عام طور پر مذہبی اکثریت یہ مانتی ہے کہ مذہبی اقلیتیں ان کے ذرائع و وسائل پر طفیلیہ (Parasite) کی طرح ہیں۔ مثلاً امریکہ میں سیاہ نام حبشیوں کو اکثر Black dirt کہا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ کو امریکہ بنانے میں ان کا رول تمام دنیا پر عیاں ہے چنانچہ یہ نفسیات انتہائی احمقانہ ہے۔ مذہبی اکثریت کو اس طفیلی سوچ پر قدغن لگانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیونکہ اس نفسیات کے ساتھ تسلیم شدہ انسانی اقدار کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا مثلاًایک طفیلیہ کے ساتھ بھلا آپ کس طرح برابری کا سلوک کریں گے اور مساوات اور رواداری نبھا سکیں گے۔
ہندوستان میں بالخصوص جارحانہ ہندوتو کے حاملین نے اس سوچ کو پروان چڑھا یا ہے۔ اکثر مسلمانوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ ’’تم نے پاکستان لے لیا ہے‘‘ اب وہاں جاؤ۔ اگر آپ دائیں بازوں سے متاثر لوگوں کے آس پاس رہتے اور بستے ہوں تو یہ بات آپ کے لیے عجیب نہیں ہوگی۔ مذہبی اکثریت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ دستور کے تحت جو کچھ حقوق اقلیتوں کو حاصل ہیں وہ اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے حاصل ہیں، طفیلیہ کی حیثیت سے نہیں۔
اس نفسیات کے سد باب کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کو محض اقلیتوں کے مسائل کے لیے نہیں لڑنا چاہئیے،اقلیتوں کے ریزرویشن، محض اقلیتوں کی نوکریاں، محض اقلیتوں کی بہبود، محض اقلیتوں کا تحفظ، ان کے پرسنل لاء، وہی ان کی سماجی جد و جہد کا مرکز و محور نہ ہوں بلکہ ملک کی عوام،ان کے مسائل اور مسائل کا حل، اور وہ مشترکہ مسائل جو ہم سب کی زندگی کا حصہ ہیں، بحیثیت ملک کے باشندے ہونے کے ان کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں اور اس میں اکثریتی اور اقلیتی کسی قسم کی کوئی تفریق نہ ہو، اس سلسلہ میں تعاون لیا بھی جائے اور دیا بھی جائے۔
دوسری جانب اکثریتی اکائی اس نفسیات کو ختم کرنے کے لیے عملاً اس سماجی جد وجہد میں جو اقلیتی اکائی چھیڑتی ہے اس کا تعاون کریں۔ اس سے دوہرے فائدے کی امید ہے ۔ ایک تو یہ کہ مذہبی اقلیت میں سے ghettoisotion کی نفسیات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسرے یہ کہ خود مذہبی اکثریت کے اندر سے مذہبی اقلیت کے تئیں پائے جانے والی طفیلیت کی نفسیات کا سد باب ہوگا۔
مذہبی اقلیتوں میں تحفظ اور Belonging کے احساس کو پروان چڑھا نا:
مذہبی اکثریت کی طرف یہ تقاضا نہایت اہم ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں اس کی اہمیت دو چند ہے اور یہ صرف مذہبی اقلیت ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ جغرافیائی اعتبار سے اور علاقہ واریت کے اعتبار سے بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کئی محققین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اقلیتوں کی ہیئت اور کمیت اور ان کے اجزائے ترکیبی مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن کیفیتوں کے اعتبار سے ان میں عمومی طور پر کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک اہم کیفیت مذہبی اکثریت میں تہذیبی اور ثقافتی جنگ اور اجنبیت یا Non belonging کا احساس بھی ہے۔
چنانچہ اقلیت چاہے کسی بھی اعتبار سے ہو علاقہ واری، مذہبی لسانی تہذیبی یا کوئی اور ، اس میں تحفظ اور Belonging کے احساس کو پروان چڑھانا بہت اہم ہے۔ مذہبی اکثریت اس کے لیے کیا طریقے اختیار کرے یہ ماحول اور حالات پر منحصر کرے گا لیکن سماجی زندگی کے تمام ادارے مثلاََ: عدلیہ، انتظامیہ، قانون وغیرہ تمام اس کے مکلف ہوں گے اور اس کے لیے کوشاں ہوں گے، یہ ایک عمومی اصول ہے۔
اس کی اہم مثال کے طور پر اللہ کے رسولﷺ کا وہ فیصلہ ہے جو آپ نے ایک یہودی اور مسلمان کے درمیان کرایا تھا۔ (یہ فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا تھا) اس فیصلہ کا اثر کیسا رہا ہوگا، اسے صرف وہی فرد سمجھ سکتا ہے جو مذہبی اکثریت اور مذہبی اقلیت کے درمیان یہ سوچ کر جیتا ہو کہ جانے کل کیا ہونے والا ہے۔ حالانکہ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ تحفظ اور Trust Buildingکا ایک اہم مظہر بھی ہے۔
مخلوط سماج میں توازن کے کچھ تقاضوں کو مندر جہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تقاضوں کو رو بہ عمل لانے کے لیے لائحہ عمل کیا ہو۔ سب سے پہلے تو یہ ہونا چاہئے کہ ہم انفرادی حیثیت میں ان تقاضوں کو پورا کرنے والے بنیں۔ یہ سب سے مشکل کام ہے۔ ہم سب کہیں نہ کہیں اس سلسلہ میں کوتاہ ہیں۔ یعنی ہمارا ذہنی مشاکلہ ایک خاص نہج پر ساخت پا چکا ہے۔ اس کو تبدیل کرنا کسی بھی فرد کے ذہنی ارتقاء میں ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے ۔
انفرادی حیثیت میں ان تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی کے ساتھ ساتھ ہم ان تمام افراد کو بھی اس جانب متوجہ کرسکتے ہیں جو ہمارے حلقہ اثر میں ہوں۔ عام طور پر ہم کبھی کبھی اتنا خود مرکوز Self Focused ہو جاتے ہیں کہ ہمیں بہت قریب اور آس پاس کے مواقع دکھائی ہی نہیں دیتے۔ ہمارے حلقہ احباب میں، گھر میں، تنظیم میں جہاں کہیں بھی موقع ملے احسن انداز میں لوگوں کو اس جانب متوجہ کرائیں۔ خود ہماری تنظیم میں بعض امور کو لے کر اگر آپ سروے کریں تو مخلوط سماج میں توازن کے تقاضوں کے تئیں آپ کو حوصلہ افزا رجحانات اور عمل کے مظاہر شاید اتنے نہ ملیں جتنے ہمارے اعلیٰ ترین مقاصد اور نصب العین کے لیے درکار ہیں۔ اس ضمن میں ذہن سازی اور ماحول سازی دونوں ضروری ہیں۔
اس سلسلے کی آخری بات یہ ہے کہ مخلوط سماج کے سلسلے میں بجائے خود کئی آرا ہیں۔ جیسا کہ پچھلے صفحات میں ضمناً اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً کیا مخلوط سماج کلی طور پر ممکن ہے؟ کیا اقتدار اعلیٰ کے بغیرمخلوط سماج کو قائم رکھا جاسکتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر کہ اسلامی شریعت میں مخلوط سماج کی کیا جہات ہوں گی؟ کیا دعوتی عمل سے بالآخر مخلوط سماج کا کوئی وجود ہی نہیں ہوگا؟ کیا عملاً ایسا ہوگا؟ مخلوط سماج میں خصوصی شرعی احکام کو کس طرح رو بہ عمل لایا جائے گا؟
مخلوط سماج اور اس سے جڑے مختلف پہلوؤں پر زبردست تحقیقی کاوشیں جاری ہیں۔ ان کا وشوں میں ہمارا حصہ، بین الاقوامی سطح پر مخلوط سماج پر ہورہی بحثوں میں ہماری سرگرم شمولیت، اس اہم موضوع پر ہماری بیداری اور اس سے لگاؤ کا مظہر ہوگی۔

 

ڈاکٹر محمد رضوان

Comments are closed.