اس مضمون میں مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے کے تحت کچھ باتیں عرض کرنا مقصود ہیں۔ قارئین سے گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل نکات کو ذہن میں ملحوظ رکھیں:
(1) مخلوط سماج کی اصطلاح اپنا مخصوص پس منظر رکھتی ہے۔ اس کا ارتقاء بھی مخصوص سماجی و ثقافتی ماحول میں ہوا ہے۔ اس سے قطع نظر کرکے اس کے اجزائے ترکیبی کو سمجھنا اور اس میں توازن کے تقاضے پر بحث کرنا ذرا دشوار ہے۔
(2) اس مضمون میں مجموعی طور پر مخلوط سماج سے مراد ہندوستانی مخلوط سماج ہے۔ ورنہ مخلوط سماج کا دائرہ وسیع تر ہے اور ملک، خطے اور جغرافیائی اعتبار سے اس سماج میں زبردست تنوع اور تفاوت بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس ضمن میں قارئین تشنگی محسوس کرسکتے ہیں۔
(3) مخلوط سماج کے اجزائے ترکیبی بہ اعتبار وحدات ہر جگہ تبدیل ہوجاتے ہیں اور مخلوط سماج کی اصطلاح اکثر کثیر ثقافتیت سے خلط ملط ہوتی ہے۔ اکثر مذہبیت کے علاوہ دوسرے امور جیسے شہریت، رنگ اور نسل کی بنیاد پر بھی مخلوط سماج وجود میں آسکتا ہے۔
(4) مخلوط سماج اور کثیر ثقافیت بنیادی طور پر دو مختلف اصطلاحیں ہیں، جو کہ بظاہر ملتی جلتی نظر آتی ہیں۔ لیکن یکسر مختلف ہیں۔
(5) مذہبی اکثریت اور مذہبی اقلیت سے اس مضمون میں بالترتیب ہندو اور مسلمان مراد لیے گئے ہیں۔یہ اصطلاحیں عمومی نوعیت کی ہیں اورمصنف کی رائے ان کے بارے میں محفوظ ہے۔ لیکن عام طور پر مخلوط سماج کی تحقیق اور بحث میں یہ اصطلاحیں استعمال کی جاتی ہیں۔
ان نکات کے بعدآئیے اب موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔ ہندوستان میں مخلوط سماج در اصل وہ سماج ہے جہاں مختلف مذہبی اکائیاں ایک اقتدار اعلیٰ یعنی دستور کے تحت رہتی اور بستی ہیں اور انہیں دستور کے دائرہ کار کے اندراپنی مذہبی شناخت کے ساتھ جینے کا، اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرنے، ان کی تبلیغ و اشاعت کرنے اوراپنے ادارے چلانے کا اور ملک کے سیاسی اور سماجی معاملات میں حصہ لینے کا یکساں اور بھر پور حق حاصل ہے۔
اکثریت اور اقلیت کے فرق کی وجہ سے مذہبی کشمکش ایک لازمی چیز ہے۔ سماجی محققین کا اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ انسان بحیثیت ایک مذہبی گروہ کے اپنی مذہبی شناخت اور اس کے تسلط کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس تسلط سے کے حصول کے طریقے مختلف ہوتے ہیں لیکن ان کا مطمح نظر بنیادی طور پر (مذہب اور بعض مقامات پر رنگ، نسل اور جغرافیائی خطے کی برتری ہوتا ہے) کبھی اس تسلط کے لیے وعظ و تلقین کا سہارا لیا جاسکتا ہے، کبھی لالچ کا، کبھی جبر و استبداد کا، کبھی نشر و اشاعت کا وغیرہ وغیرہ۔ محققین کی اس تھیوری سے اختلاف یا اتفاق ممکن ہے لیکن صورتحال کا نسبتاً معتدل انداز میں جائزہ لینے پر یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان کا مخلوط سماج بھی بعینہٖ اسی کشمکش کا شکار ہے۔ یہاں پر مذہبی اقلیتیں ہیں جو مذہبی اکثریت کی جارحیت کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ بطور خاص Musculine Hinduism کا موجودہ جارحانہ رخ ہندوستان میں اقلیتوں کے لیے تیزی سے سکڑتے ہوئے مبنی بر انصاف سماج کی طرف اشارہ کرتا ہے۔( اگر یہ مبنی برانصاف سماج فی الواقع کبھی موجود رہا ہو)
لیکن یہ بات بھی اتنی ہی درست ہے کہ اکثریتی مذہبی اکائی کامل طور پر اس کشمکش کا حصہ نہیں ہے جو ثقافتی اور سیاسی برتری کے لیے برپا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس اکثریت کا بڑا حصہ آج بھی نظریاتی طور پر مساوات اور رواداری جیسی قدروں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہے۔ مذہبی اقلیت اور مذہبی اکثریت کی کوئی بھی اکائی کامل طور پر شدت پسند نظریات سے عاری نہیں ہے۔ خود مذہبی اقلیت (مسلمان۔ ہندوستان کے تناظر میں) میں بھی شدت پسندی کے نظریات کی حامل انجمنیں اور گروہ پائے جاتے ہیں۔ اس حقیقت سے محضcommunal parallelism سے متاثر ہوکر انکار کرنا انصاف و دانش سے عاری بات ہوگی۔
اس پوری صورتحال میں وہ لوگ جو الہی ہدایات پر یقین رکھتے ہیں، الہی ہدایات کے آفاقی اور زماں و مکاں سے پرے ہونے پر جن کا اعتقاد ہے، جو ان ہدایات کی روشنی میں نئی تہذیب کا ارتقاء و نشو ونما کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے گروہ کے لیے مخلوط سماج میں مواقع اور چیلنجز دونوں ہوتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ گروہ اب دنیا کے بڑے حصے میں پائے جاتے ہیں۔ گوکہ مذہبی اقلیتوں میں یہ گروہ بذات خود اقلیت ہیں۔ تاہم مذہبی اقلیت بعض امور میں رہنمائی کے لیے ان کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے ایسا ہی ایک امر ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں مخلوط سماج میں توازن کے تقاضوں کو مذکورہ نقشہ سے سمجھا جاسکتا ہے۔
مذکورہ جدول کے ہر تقاضے کے تحت مختصراً کچھ باتیں عرض کی جاتی ہے۔
انفرادی تقاضے:
مخلوط سماج کی سمجھ پیدا کرنا: مذہبی اقلیت کے مختلف ادارے چاہے ان کی حیثیت مذہبی ہو، سیاسی ہو یا ثقافتی۔ ان کے ایجنڈے اس نکتہ کا ہونا ضروری ہے۔ عوام بنیادی طور پر زیادہ سوچنے سمجھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں۔ یہ کام مذہبی اقلیتوں کے خواص کا ہے کہ وہ مخلوط سماج کی سمجھ اپنے افراد میں پیدا کریں۔ انہیں یہ بتائیں کہ وہ بنیادی طور پر اس سماج کا حصہ ہیں۔ جہاں ان کے عقائد، ان کے رسومات ، ان کے کلچر سے مختلف لوگ رہتے ہیں، یہ لوگ خود اپنا ایک مذہبی اور ثقافتی وجود رکھتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے عقائد، مذہب، رسومات اور ثقافت پر فخر کرتے ہیں، اسی کو درست مانتے ہیں۔ بالکل فطری انداز میں اسی طرح دوسرے لوگ بھی اپنے عقائد، اپنے مذہب، اپنی رسومات اور ثقافت پر فخر کرتے ہیں اور اس کے صحیح تر ہونے کے قائل ہیں۔ اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس پر over react کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے کالجز میں، اس کی گیدرنگ میں، کینٹین وغیرہ میں اکثر مسلم طلبہ اور غیر مسلم طلبہ کے درمیان ان مسائل کے سلسلہ میں زبردست غلط فہمی کو دیکھا ہے۔ جو بالآخر مسلمان اور غیر مسلم طلبہ میں موجود خلیج کو اور بڑھاوا دیتی ہیں۔ حالانکہ حکمت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم اس فخر کی جڑ کو سمجھیں، اس فخر کو اس کی صحیح حیثیت میں پہچانیں اور پھر مناسب موقع پر وہ شئے جس پر فی الواقع فخر کیا جاسکتا ہو اس کی پیشکش اسی شئے کے شایان شان کریں۔ کوئی بعید نہیں کہ فخر کی علامات یکسر تبدیل ہوجائیں اور یقیناًیہ تبدیل ہوتی ہیں۔ ہورہی ہیں اور ہوتی رہیں گی، ان شاء اللہ ۔
افراد سماج میں تحمل و برداشت پروان چڑھانا: مذہبی اقلیتوں میں تحمل و برداشت کو پروان چڑھانا مخلوط سماج میں توازن کا ایک اہم ترین تقاضا ہے۔ ہمیں یہ بات ہر فرد کو سمجھا دینا چاہئے کہ وہ اضافی فائدے (relative benefit)اور اضافی نقصان (relative lost)کی تھیوری کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ اگر عوام کی سطح پر یہ ممکن نہیں تو کم از کم مذہبی اور سیاسی قیادت کو تو یہ بات ذہن نشیں کرواہی دینی چاہئے کہ تحمل و برداشت بنیادی طور پر ہمارے عقیدے کا حصہ ہے۔ بدلہ لینے سے معاف کردینا بہتر ہے۔ معاف کرنے والے اللہ کے محبوب بندے ہوتے ہیں۔ حلم اور تحمل جسے دیا گیا ہے اسے بڑی نعمت ملی ہے اوریہ نعمت بڑے نصیب والوں کا حصہ ہے۔جزوی مذہبی شناخت (جیسے مخصوص لباس،اذان کی آواز کی اونچائی وغیرہ)پر اصرار کرکے، اصل اورخصوصی مذہبی شناخت کو گنوادینا دانش مندی نہیں ہے۔وہ اصل اور خصوصی مذہبی شناخت وحدانیت، رسالت محمدﷺاورنئی تہذیب کے لیے درکار اسلامی اصول ہیں جن کی موجودگی میں مندرجہ بالا جذوی مذہبی شناخت کی حیثیت ثانو ی ہے ۔
چنانچہ مہاراشٹر میں مساجد میں شرپسندوں کی جانب سے لال رنگ محض لال رنگ مساجد میں پھینکنے پر اشتعال بازی اور اس کے بعد سینکڑوں مسلم نوجوانوں کی گرفتاری و جیلوں میں ہراسانی، برسوں تک مقدمات اور ناقابل تلافی نفسیاتی نقصان در اصل تحمل و برداشت میں کمی کا چھوٹا سا مظہر ہے۔ اکثریتی فرقے کی جانب سے مذہبی جلوس میں کی جانے والی بیوقوفانہ لیکن اشتعال انگیز نعرہ بازی پر جو کچھ ہوتا ہے، وہ تحمل و برداشت میں کمی کا ہی تو مظہر ہے۔
اس ضمن میں اس عمومی نفسیات سے بھی لوہا لینے کی ضرورت ہے، جو افراد سماج میں پائی جاتی ہے وہ یہ کہ دب کر رہنا، ڈر کر رہنا اسلام نہیں سکھاتا ہے۔ لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ڈرنا اور دب کر رہنا اور تحمل و برداشت دو یکسر مختلف چیزیں ہیں۔
مخلوط سماج کی افادیت کا ادراک: یہ ایک اہم ترین تقاضا ہے۔ اس نعمت کا احساس وہی لوگ کرسکتے ہیں جو غیر مخلوط سماج میں رہتے ہیں یا نسبتاً جبری قسم کی حاکمیت والے ممالک میں۔ (گوکہ بعض افراد کے لیے وہی نعمت ہے)
مسلمانوں کے لیے یہ مخلوط سماج دوسری کئی وجوہات سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں دعوت اسلام کے لیے کام کرنے کی سعادت صحیح اسلامی بنیادوں پر معاشروں کو استوار کرنے کی سعادت حاصل ہے جس سے آپ نام نہاد بلاد توحید (سعودی عرب) تک میں محروم ہیں۔ داعیان حق کے لیے جو مواقع مخلوط سماج بشمول ہندوستان میں موجودہے، وہ دوسرے کسی خطے میں نہیں پائے جاتے، اس سعادت کا ادراک عام افراد سماج کو کروانا ضروری ہے۔
افراد ملت کو یہ بات سمجھانا ضروری ہے کہ اس سعادت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اگر وہ دعوت دین کا کام کریں اوران کی دعوت پر ایک فرد بھی لبیک کہہ دے تو وہ ان کی جنت کے لیے کافی ہے اور یہ وہی جنت ہے جس کا تذکرہ اس کتاب میں موجود ہے جس کی بے حرمتی ہونے پر وہ تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کو تیار رہتے ہیں۔
دوسرا اہم نکتہ مخلوط سماج میں مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے بارے ہے۔ گوکہ ان حقوق کی یافت بہر حال معیاری نہ ہو تب بھی ہندوستان میں رہتے ہوئے سماجی حقوق کے تئیں نفسیات مختلف ہوتی ہیں۔ان ممالک کے تناظر میں جہاں پر سماج یک رنگی ہوتا ہے کیونکہ مخلوط سماج میں بنیادی طور پر کوئی دوسرے درجے کا شہری نہیں ہوتا۔ یہاں ہسپتال میں مریض کے سرہانے موجود تختی پر اس کی شہریت نہیں لکھی جاتی (جو کہیں نہ کہیں سماجی تفاوت کا مظہر ہے) یہ کہا جاسکتا ہے کہ مخلوط سماج میں مذہب کی بنیاد پر تعصب کیا جاتا ہے لیکن یہ تعصب بنیادی طور پرحکومت کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہے۔ جیسے کہ دنیا کے بیشتر ممالک میں شہریت اور نسل کے نام پر تعصب سرکاری طور پر مسلم ہے۔ پھر آخر کار یہ واضح ر ہے کہ نظریہ کوئی بھی ہو اس نظریہ پر مبنی نظام تو بالآخر انسان ہی چلاتے ہیں اور انسان بہر حال value neutral نہیں ہوسکتا۔ خود اسلامی نظام میں بعض اوقات social disparitiesہوجاتی ہیں، اور ان سے بعض اوقات مفر ممکن نہیں لیکن اسلامی نظام اور دیگر نظاموں میں بس فرق یہ ہے کہ اسلام disparity کو practice نہیں بننے دیتا اور اس کےcheck & balances کو قوی ترین کردیتا ہے تاکہ اس کے امکانات کم سے کم ہوجائیں۔
مخلوط سماج میں توازن کے اجتماعی تقاضوں اور مذہبی اکثریت پر لازم آنے والے تقاضوں کے ضمن میں اگلے مضمون میں کچھ باتیں عرض کی جائیں گی۔
ڈاکٹر محمد رضوان








