سماج کی تعمیر و ترقی ، حکومت کی اصلاح اور امن و امان کے قیام کے پیش نظر رنگ برنگ کے دلکش قوانین ، خوبصورت احکام اور عدل و مساوات کے پر کشش معیار وضع کئے جاتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کی حیثیت کاغذ پر بکھری سیاھی کے سوا او ر کچھ نہیں ہوتی کیونکہ نفاذ کے تعلق سے اس پر کوئی بحث و مباحثہ اور منصوبہ بندی نہیں ہوتی اور نہ ہی ارباب حکومت اور سیاہ و سپید کے مالک اس سلسلے میں کوئی عملی اقدام کرنا چاہتے ہیں، لیکن شریعت اسلامیہ اور قوانین الہی جو ربانی اصولوں اور دینی رنگ کے حامل ہوتے ہیں اس سلسلے میں منفرد اور بے مثال ہیں یہی وجہ ہے کہ اسلامی احکام و قوانین کو ہر طبقہ میں جو مقبولیت اور پذیرائی حاصل ہوئی اتنی کسی خود ساختہ شریعت اور انسانوں کے بنائے ہوئے قانون کو حاسل نہیں ہو سکی۔
امت مسلمہ کی شاندار تا ریخ مختلف ادوار ، مختلف علاقوں اور خطوں میں پیش آنے والے مسلمانوں کی رواداری ، دریا دلی اور عالمگیر عدل و انصاف کے پر رونق ، حیرت انگیز اور سحر آفریں واقعات سے بھری ہوئی ہے آج جس کی نظیر کی تلاش میں لوگ زمین کے گوشے گوشے کی خاک چھان رہے ہیں مگر سوائے ناامیدی و ناکامی کے کوئی چیز ان کے ہاتھ نہیں لگ پاتی۔
اس شاندار تاریخ کے صفحات پلٹنے سے بعض عجیب و غریب اور بڑی ہی دلآویز تصاویر دیکھنے کو ملتی ہیں جن میں اسلامی رواداری ، اس کی حقیقت ، اس کی روح ، اس کا دائرہ کار و منتہائے عمل اور وہ فکری و عقائدی بنیاد جس پر یہ قائم ہے،تاریخ کے یہ تابناک جلوے ہم کو دعوت نظارہ دیتے ہیں، خلفائے راشدین کے عدل و مساوات اور رواداری و انصاف پسندی کے واقعات سے تاریخی کتابیں معمور ہیں، اس لئے ان کو نہ چھیڑ کر یہاں ہم چند نئے صفحات کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں جن میں بنی امیہ و بنی عباسیہ کے دور میں ذمیوں کے ساتھ رواداری اور عدل اجتماعی کی چندپر کشش تصاویر شامل ہیں تاکہ اسلام کی رواداری اور مسلمانوں کی حق پسندی سے آگاہی اور اس پر یقین میں مزید گہرائی اور پختگی پیدا ہو۔
عہد اموی : بنو امیہ کی تاریخ اور ان کی رواداری کے واقعات جاننے کے لئے ول دیورانت کی مشہور کتاب قصۃالحضارۃ(داستان تمدن )کی یہ عبارت بڑی ہی جامع اور حقیقت کی ترجمان ہے:
’’اموی دور میں عیسائی ، یہودی ، مجوسی اور صابی رواداری ، اعلی ظرفی سے اس درجہ مالا مال تھے کہ اس کی مثال آج کے مسیحی ملکوں میں تلاش کرنا بے سود ہے، ان کو اپنے شعائر کی پابندی میں مکمل آزادی حاصل تھی، ان کے گرجا گھر اور عبادت گاہیں محفوظ تھیں، ان پر محض ایک مخصوص رنگ کا لباس اور معمولی سا جزیہ جو ایک دینار سے چار دینار تک حالات کے مطابق ہوتا تھا دینے کے علاوہ کوئی چیز واجب نہیں تھی ۔ یہ جزیہ بھی محض ان ذمیوں پر لازم ہوتا تھا جو اسلحہ رکھتے تھے یعنی جنگی صلاحیت رکھتے تھے، چنانچہ پادری،خواتین ،نابالغ بچے ، غلام اور بوڑھے اسی طرح کمزور اور غریب و محتاج لوگ اس سے مستثنی تھے، اس کے ذریعے ان ذمیوں کو فوجی خدمت اور جنگی کارروائیوں میں شامل ہونے سے چھٹکارا مل جاتا تھا ان پر سے سال کے گزرنے پر زکوۃ کا نصاب یعنی ڈھائی فیصدی بھی ساقط ہو جاتا تھا (زکوۃ سال کے پورا ہونے پر نہیں بلکہ اس کے لئے شرط یہ ہے کہ وہ مال ایسا ہو جس کو تجارت وغیرہ میں لگایا گیا ہو، یعنی شریعت کی اصطلاح میں’’نامی‘‘ ہو جس پر سال گزر جائے زکوۃ کا نصاب واجب ہوتا ہے جیسے دولت کی زکوۃ ، مال تجارت کی زکوۃ اسی طرح وہ زکوۃ جو زرعی پیداوار پر واجب ہوتی ہے آبپاشی کرنے کی صورت میں۵ فیصد بصورت دیگر ۱۰ فیصد۔ )
اسی طرح حکومت ان کی حفاظت و نگہبانی کی ذمہ دار ہوتی تھی اسلامی عدالت میں اگرچہ ان کی گواہی قابل قبول نہیں تھی مگر ان کو اپنے پرسنل لاء (ذاتی قانون )کا حق حاصل تھا جس پر وہ اپنے قوانین اور قاضیوں اور مذہبی رہنماؤں کے مطابق عمل کرتے تھے۔
عہد عباسی : دور عباسی مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے اس کی تاریخ میں ذمیوں کا مرتبہ اور مذہبی رواداری کی تصویر دیکھنے کے لئے ’’الاسلام و اھل الذمہ‘‘ کی یہ عبارت بہت ہی معنی خیز اور تسکین بخش ہے، اس کتاب میں بنیادی تاریخی دستاویزوں اور مستشرقین کی کتابوں پر اعتماد کیا گیا ہے اس طور سے یہ کتاب اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے۔
مصنف کتاب لکھتے ہیں : ’’عہد عباسی میں ذمیوں میں بڑی باکمال اور شہرہ آفاق شخصیات پیدا ہوئیں ۔ جیسے جرجیس بن بختیشوع جو خلیفہ ابو جعفر منصور کا طبیب خاص تھا جس پر وہ بھر پور اعتماد کرتے تھے اس کی تعظیم و تکریم میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تھے ۔ جبرئیل بن بختیشوع جو خلیفہ ہارون رشید کے خاص ہم نشینوں میں سے تھا اپنے وقت کے مشہور طبیبوں میں سے تھا خلیفہ ہارون رشید اس کے تعلق سے کہتے ہے جسے مجھ سے کوئی ضرورت ہو وہ جبرئیل سے رابطہ کرے کیونکہ میں کوئی کام اس کے مشورے کے بغیر نہیں کرتا ۔اس کی تنخواہ دس ہزار درہم سالانہ تھی۔ ماسویہ جس کو خلیفہ رشید کے یہاں اعلی مرتبت حاصل تھی اس کو ایک ہزار درہم سالانہ مشاہرہ ملتا تھا اور ہر سال بیس ہزار درہم کا انکریمنٹ ہو تا تھا‘‘۔
مغربی مصنف ترتون اہل اسلام کی رواداری اور خوش اخلاقی کو ان الفاظ میں سراہتا ہے:
’’مسلمان مصنفین ذمیوں کی علمی و طبی فضیلت و اہمیت کا اعتراف کھل کر کرتے تھے یہاں تک کہ وہ حنین بن اسحاق کو اپنے زمانے کا سب سے عظیم طبیب اور ہبۃ اللہ کو اپنے دور کا ابو قراط اور جالینوس کا لقب دیتے تھے۔ بختیشوع بن جبرئیل کے بارے میں آتا ہے کہ خلیفہ متوکل علی اللہ اس پر اس قدر نوازش کرتا تھا کہ وہ لباس و اطوار ، طرز زندگی ،دولت کی فراوانی ،شجاعت و بہادری اور خدم و حشم میں خلیفہ کا ہم پلہ نظر آتا تھا۔ جب سلمویہ بیمار پڑا تو معتصم نے اپنے بیٹے کی عیادت کے لئے بھیجا اور جب وہ رحلت فرما گیا تو اس کے جنازے کو محل میں منگوایا اور عیسائی مذہب کے مطابق موم اور دھونی سے اس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔فرط غم کی وجہ سے اس پورے دن خلیفہ بھوکا رہا۔ اسی طرح یوحنا بن ماسویہ جو خلیفہ رشید سے خلیفہ متوکل تک کے تمام خلفاء کا مصاحب اور ہم نشیں رہا ۔کسی وقت ان کے دسترخوان سے غائب نہیں رہتا یہاں تک کہ غیر موجودگی کی صورت میں خلیفہ اس کا انتظار کرتا تھا ۔ خلیفہ متوکل تو اس سے بالکل بے تکلف تھا اورمہذب قسم کا ہنسی مذاق بھی ہوتا تھا۔
علم و ادب اور علوم و فنون کے میدان میں بہت سے ذمیوں کو مسلمانوں پر فضیلت حاصل تھی، ترتون کہتا ہے :
پہلی اور دوسری صدی ہجری میں عرب حکومت کے علم و ادب میں رعایا کے ساتھ محبت و مودت پر مبنی خو شگوار اور سازگار تعلقات تھے جس کے اثرات بعد کے ادوار میں بھی عیاں رہے ۔ اس وقت حکومت نے حکیموں ، طبیبوں اور انجینئروں کے اعلی عہدوں کے لئے ذمیوں کو بھی صف میں شامل کیا تھا، بہت سے ذمیوں نے مسلمانوں کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا، جیسے حنین بن اسحاق جس نے جلیل بن احمد اور سیبویہ جیسے نابغہ روزگار عالموں سے عربی زبان و ادب کا درس لیا، اور بعد میں خود عربی زبان پر ایک مستند شخصیت کے روپ میں ظاہر ہوا ۔یحیی بن عدی حمید جو اپنے زمانے کا ماہر اور با کمال منطقیوں میں سے ایک ہے فارابی سے درس لیا ۔ثابت بن قرۃ نے علی بن الولید المعتزلی سے تعلیم حاصل کی جوکہ ممتاز ادیب اور خوش خط کاتب تھا اس کی تصانیف اس کی فکری گہرائی اور علمی گیرائی کی روشن دلیل ہیں، بعد میں وہ حلقۂ اسلام میں شامل ہوگیا۔
ترتون نے عباسیوں کی ذمیوں کے ساتھ رواداری اور حسن معاملت کی بڑی ہی خوبصورت اوردلچسپ مثال پیش کی ہے :
’’ابراہیم بن ہلال کا واقعہ ایک روشن مثال ہے کہ عباسیوں کے دور حکومت میں ذمیوں کو اعلی ترین مناصب پر فائز ہونے کا موقعہ ملا ۔ابراہیم بن ہلال نے حیرت انگیز کارہائے نمایاں انجام دیئے ۔ شعراء نے اس کی شان میں قصیدے کہے، حاکم وقت بختیار بن معزالدولۃ بویھی نے ا س کے سامنے یہ پیشکش کی کہ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اسے وزارت کا قلادہ پہنادیا جائے مگر اس نے انکار کر دیا۔ ابراہیم بن ہلال نہایت خوش اخلاق ، با کردار ، ملنسار ، پاکباز ، اپنے دین کا مخلص پیرو اور مسلمانوں کے ساتھ حسن معاشرت کی ایک انوکھی مثال تھا، اس کے اور اس کے ہم منصب مسلمانوں جیسے اسماعیل بن عباد اور شریف رضی کے درمیان باوجود تفریق مذہب و ملت پیہم خطوط و کتابت کا سلسلہ جاری تھا‘‘۔
عباسی دور میں مسلمان عالموں اور مصنفوں نے تمام ادیان و مذاہب کے مطالعے کے طرف توجہ دی ۔ابن حزم اندلسی نے انجیل اور عیسائی دینیات کا کافی وسیع و دقیق مطالعہ کیا ۔ابن خلدون کو انجیل اور عیسائی نظام کے مطالعے سے بہت گہراشغف تھا جس کا اظہار انہوں نے اپنے مقدمے میں جگہ جگہ کیا ہے ۔قلقشندی کے نزدیک ایک ممتاز قلم کار و ادیب کے لئے ذمیوں کے مذہبی تہواروں سے گہری واقفیت ضروری تھی ۔مقریزی نے یہودیوں اور عیسائیوں کے تہواروں کا تفصیل سے مطالعہ کیا اور ان کے مختلف فرقوں اور گروہوں کی بابت وضاحت سے ذکر کیا ۔ترتون نے مسلم حکمرانوں کی رواداری ، عدل اجتماعی ، اعلی ظرفی اور احترام ادیان و مذا ہب کا اعتراف ان سنہرے الفاظ میں کیا ہے :’’مسلمان حکمرانوں کا ذمیوں کے تعلق سے جو برتاؤ تھا وہ اس سے کہیں زیادہ ان کے لئے باعث خیر و سعادت تھا جتنا قانونی طور پر ان کو حقوق کے ذریعے حاصل تھا، اس کی دلیل صرف یہ نہیں ہے کہ خالص مسلم ملکوں اورعلاقوں میں بھی ان کے کلیسا اور عبادت خانے کثرت سے موجود تھے اور سرکاری عہدوں پر کثرت سے یہ لوگ براجمان تھے بلکہ بعض دفعہ یہ لوگ حکومت کے اہم ترین اور نازک ترین عہدوں سے بھی سرفراز ہوئے اور بڑے خزانے کے مالک بن بیٹھے دولت ان کے چوکھٹوں پر بہنے لگی اور مسلمان بھی اپنی مذہبی رواداری اور وسیع المشربی کی بنا پر عیسائیوں کے تہواروں میں شرکت کرتے تھے۔
علامہ یوسف القرضاوی
(عربی سے ترجمہ: ذوالقرنین حیدر، ندوۃالعلماء)








