کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

مقاصد شریعت ۔کچھ وضاحتیں،کچھ سوالات

Comments Off

فبروری ٢٠١٢

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ’’مقاصد شریعت ‘‘کے مصنف ہیں، اور راقم مقاصد شریعت کا اوسط درجہ کاطالب علم ہے، اور اسی رشتہ سے فاضل مصنف کی خدمت میں ان کی کتاب مقاصد شریعت سے متعلق کچھ سوالات اور کچھ وضاحتیں پیش ہیں۔
یہ اعتراف ضروری ہے کہ کتاب میں بہت ساری قیمتیں بحثیں ہیں، بہت سارے مقامات بے حد جاذب توجہ ہیں،کتاب کا تیسرا باب: ’’مقاصد شریعت کی پہچان اور تطبیق میں عقل اور فطرت کا حصہ‘‘ اپنے موضوع پر ایک شاہکار تحریر ہے ۔ بایں ہمہ یہ سوال کئے بغیر چارہ نہیں کہ مقاصد شریعت جیسی مضبوط اور قدآور دلیل تک رسائی حاصل کرلینے کے باوجود فاضل مصنف نے کمزور اورکوتاہ قد دلیلوں کا سہارا کیوں لیا ہے؟
مثال: چہرہ کے پردے کے سلسلے میں تو امت میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے، البتہ سر ڈھانکنے کے بارے میں فاضل مصنف کا اپنا خاص خیال یہ ہے کہ ’’شریعت میں سر ڈھنکنے کے بارے میں کوئی واضح حکم نہیں ہے، اور سر ڈھانکنا ایک فروعی اور اختلافی مسئلہ ہے‘‘، حکم واضح ہے یا نہیں یہ تو ایک اضافی بات ہے، ممکن ہے ایک حکم دوسروں کی نظر میں واضح ہو اور فاضل مصنف کی نظر میں بالکل واضح نہیں ہو، فروعی ہونے میں بھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے، فاضل مصنف کے نزدیک حجاب کا مسئلہ فروعی ہے لیکن سود کا مسئلہ فروعی نہیں ہے، سابق شیخ ازہر کے نزدیک دونوں مسئلے فروعی تھے، مولانا مودودی کے نزدیک دونوں مسئلے فروعی نہیں تھے، تاہم کسی مسئلہ کو اختلافی مسئلہ قرار دینے کے لئے تو تاریخ سے ثبوت درکار ہے ، فاضل مصنف گذشتہ صدیوں سے کسی ایک معتبر عالم کا حوالہ دے دیتے جس نے سر ڈھانکنے کے حکم سے اختلاف کیا ہو، فاضل مصنف نے کوشش ضرور کی ہوگی ،لیکن ان کو بیسویں صدی سے پہلے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ملا، چنانچہ اپنے ہی معاصر ڈاکٹر حسن ترابی کے حوالے سے لکھا کہ ان کے نزدیک ’’حجاب کا حکم ازواج مطہرات کے لئے تھا‘‘ فاضل مصنف کی طرح بہت سارے لوگ ڈاکٹر ترابی کی ایک گفتگو سے یہی سمجھے کہ وہ سر ڈحانکنے کے قائل نہیں ہیں، میڈیا میں شور ہوا تو ڈاکٹر ترابی نے اپنے موقف کی خود وضاحت کی اور مشہور اخبار الشرق الأوسط (۲۱ اپریل ۲۰۰۶ء) میں جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا توڈاکٹر ترابی کا جواب یہ تھا’’یہ ان بعض صحافیوں کا گڑھا ہوا جھوٹ ہے جو اس مذاکرہ میں آئے ہی نہیں تھے جہاں میں نے مسلمان خواتین کے بعض مسائل پر گفتگو کی تھی، میرے بارے میں وہ الفاظ لکھ دئے گئے جو میں نے کہے نہیں تھے، بعض صحافیوں کو ترابی کے نام سے دلچسپی ہے ، اور وہ ایسی باتیں میری طرف منسوب کردیتے ہیں جو میں کہتا نہیں ہوں، میں اس مذاکرہ میں شرعی احکام پر گفتگو کر ہی نہیں رہا تھا، میں تو یہ بتا رہا تھا کہ قرآن کی زبان جب لوگوں کی اصطلاح میں استعمال ہوئی تو بہت بدل گئی، آگے ڈاکٹر ترابی نے بتایا کہ حجاب اس پردے کو کہتے ہیں جو کمرے میں لٹکایا جاتا ہے، عورت کے لباس کے طور پر جو چیز استعمال ہوتی ہے وہ تو خمار ہے، لیکن لوگوں نے افواہ اڑادی کی ترابی حجاب کا منکر ہے ، اور وہ کہتا ہے کہ پردہ صرف سینہ کا ہے۔حالانکہ بات صرف یہ ہے کہ جسے لوگ حجاب کہتے ہیں میں اسے خمار کہتا ہوں، اور حجاب میرے نزدیک کمرہ کا پردہ ہے، کیونکہ قرآن کا استعمال یہی ہے۔گویا ڈاکٹر ترابی کو سر ڈھانکنے سے اختلاف نہیں ہے، ان کا اصرار صرف یہ ہے کہ اسے خمار کہو حجاب مت کہو۔
ڈاکٹر ترابی اپنی مشہور کتاب ’’المرأۃ بین تعالیم الدین وتقالید المجتمع‘‘ میں صاف لکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا کچھ ظاہر نہ ہو‘‘
ہمارے فاضل مصنف اس سلسلے میں مترجم قرآن محمد اسد کا موقف مراد ہوفمان کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں کہ ان نزدیک سر ڈھانکنا عرب کے موسم کے سیاق میں پایا جانے والا ایک رواج تھاجس کی پابند ی مغرب میں رہنے والی مسلمان عورت کے لئے ضروری نہیں۔فاضل مصنف علم وتحقیق کے اصولوں پر کامل دسترس رکھتے ہیں، وہ خود فیصلہ کریں، شریعت کے ایک حکم کو جس پر اب تک ساری امت کا اتفاق رہا، اسے محض رواج قرار دیدنے کے لئے کیامحمد اسد کا بیان کافی ہے؟ ،یوروپ میں اسلام تو عہد اول میں پہونچ گیا تھا، اس وقت اس عام سی بات کی طرف کسی کا ذہن کیوں نہیں گیا؟ اور آج اس سلسلے میں اس شخص کی بات نقل کی جارہی ہے جس کی خدمات کا اعتراف اپنی جگہ مگرکیا وہ قدیم عربوں کے سماجی حالات کا اس درجہ کاماہر مانا جاتاہے؟۔اور کیا فاضل مصنف کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ اتنی بڑی بات کہنے سے پہلے محمد اسد کی اصل عبارت بھی دیکھ لیتے۔کیا پتہ انہوں نے کچھ اور کہا ہو لوگ کچھ اور سمجھے ہوں،جس طرح ڈاکٹر ترابی نے کچھ کہا اور لوگ کچھ اور سمجھے، غرناطہ اور قرطبہ کے فقہاء اور اہل علم نے کبھی رواج کے اس فرق کی وضاحت یارعایت اپنے فتووں میں کیوں نہیں کی؟ کیا اس وقت کا مغرب کا رواج اور سماج مختلف تھا اور اس رعایت کا متقاضی نہیں تھا؟اس کا جواب بھی فاضل مصنف ہی بہتر طور سے دے سکتے ہیں کہ کیا محمد اسد سے اتنے بڑے دعوے کے حق میں دلائل نہیں مانگے جائیں گے، اور محض ان سے سنی ہوئی ایک رائے کو دلیل کا درجہ دے دیا جائے گا؟ اتنی بڑی بات کہنے پر تو ابن خلدون سے بھی دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا، اورہم نے تو فاضل مصنف سے یہی سیکھا تھا کہ کسی نئے دعوے کو اس وقت تک اعتبار حاصل نہیں ہوگا جب تک اس کی پشت پر قابل لحاظ ریسرچ اور باوزن دلائل نہ ہوں۔
اور پھر اس قدر کمزور دلیلوں کے ذریعہ ان مسلمان باہمت خواتین کی ہمت شکنی کہاں تک درست ہے جو مغرب میں رہ کراپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کے بنیادی حق کے لئے جدوجہد کررہی ہیں؟۔
فاضل مصنف نے’’ مسلمان عورت کتابی مرد کے نکاح میں ‘‘ کے عنوان کے تحت یوروپین کونسل فار افتاء اینڈ ریسرچ کی ایک قرار داد ذکر کی ہے ، جس میں صاف صاف کہا گیاکہ’’ مسلمان عورت کے لئے شروعات کے طور پر غیر مسلم مرد کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے، اس پر امت کا اجماع ہے ، اسلاف واخلاف سب متفق ہیں‘‘ اس کے بعد عام رائے سے ہٹ کرایک فیصلہ اس عورت کے سلسلے میں کیا گیاجس کی شادی پہلے ہوگئی اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا، لیکن شوہر نے اسلام قبول نہیں کیا،آیا وہ مسلمان بیوی اپنے غیر مسلم شوہر کے نکاح میں باقی رہے گی، یا اس کا نکاح فورا ختم کردیا جائے گا؟ کونسل کی رائے گو کہ مشہور رائے سے ہٹی ہوئی تھی لیکن ایسا نہیں ہے کہ بالکل نئی تھی ، بلکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اولین دور سے اس مسئلہ پر ایک سے زائدآراء رہی ہیں۔
توجہ طلب بات یہ ہے کہ فاضل مصنف نے ڈاکٹر حسن ترابی کی ایک رائے ذکر کی جو الشرق الأوسط میں ایک انٹرویو کے دوران سامنے آئی،ڈاکٹر ترابی نے اس انٹرویو میں یہ رائے دی تھی کہ ایک مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ہمارے فاضل مصنف نے اس رائے کو اس طرح پیش کیا گویا ڈاکٹر ترابی عورت کے شادی کے بعد اسلام لانے کی صورت میں پرانے نکاح کے باقی رہنے کی بات کررہے ہیں، فاضل مصنف نے ڈاکٹر ترابی کا سوال حسب ذیل صورت میں نقل کیا۔
سوال: کیا آپ کا خیال ہے کہ وہ شادی شدہ عورتیں جو اسلام لائیں ایک غیر مسلم شوہر کے نکاح میں باقی رہ سکتی ہیں۔۔۔۔؟
افسوس کی بات یہ ہے کہ سوال کا مذکورہ حصہ نامکمل اور نادرست ہے اور قاری کے ذہن کو دوسری طرف لے جاتا ہے، مکمل سوال کے الفاظ حسب ذیل ہیں:
’’آپ کے ان فتووں نے جو آپ نے یہودی یا عیسائی مردوں سے مسلمان عورت کی شادی کے متعلق دئے ہیں، بڑی بحث چھیڑ دی ہے، آپ کی ان فتووں میں کیا یہ مراد ہے کہ جب عورت اسلام لے آئے اور شوہر اسلام نہیں لائے تو نکاح برقرار رہے گا، یا آپ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی مرد سے مسلمان عورت نیا نکاح کرسکتی ہے؟‘‘
راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ فاضل مصنف نے سوال کو ادھورا ذکر کرکے قاری کو یہ تاثر کیوں دیا کہ ڈاکٹر ترابی غیر مسلم مرد سے نیا نکاح کرنے کے بجائے پرانے نکاح کے باقی رہنے کی اجازت دے رہے ہیں؟۔
فاضل مصنف نے ڈاکٹر ترابی کا وہ جواب نقل کیا ہے جس پر ڈاکٹر ترابی کے چاہنے والے بھی سکتے میں آگئے تھے، اور انہیں یہ اعتراف کرنا پڑا تھاکہ ڈاکٹر ترابی کی یہ رائے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلائل سے عاری ہے۔ملاحظہ ہو(متعدد ویب سائٹس پر موجود محمد مختار شنقیطی کا مضمون : آراء الترابی ، من غیر تکفیر ولا تشھیر)
راقم فاضل مصنف سے یہ سوال کرنے کی بھی جرأت کرے گا کہ ڈاکٹر ترابی کا یہ خیال کہ ’’مغرب کے مسلمان اسی نتیجہ پر پہونچیں گے کہ اپنی بیٹیوں کو یہودی اور عیسائی مردوں کے ساتھ شادیاں کرنے دیں کیوں کہ غالبا یہ شادیاں ان کے شوہروں کو اسلام کی طرف لے آئیں گی، بصورت دیگر عورت خود اسلام پر قائم رہ سکے گی‘‘ کیا واقعی مقاصد شریعت کے فہم کی عکاسی کرتا ہے؟ آپ نے خود یوروپین کونسل فار افتاء اینڈ ریسرچ کی قرارداد کے یہ الفاظ ذکر کئے ہیں کہ’’مسلمان عورت کے لئے شروعات کے طور پر غیر مسلم مرد کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے، اس پر امت کا اجماع ہے ، اسلاف واخلاف سب متفق ہیں‘‘
’’فوجی خدمت کا مسئلہ‘‘ کے عنوان کے تحت موصوف نے شیخ یوسف قرضاوی کا ایک فتوی ادھورا ذکر کیا ہے، فتوے کا پس منظر یہ تھا کہ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد جب امریکہ نے دہشت گردی کے حوالے سے مختلف مسلمان ملکوں پر فوج کشی شروع کی تو امریکہ میں مقیم چندلوگوں نے شیخ قرضاوی سے بڑی خاموشی سے ایک فتوی لیا ، انہوں نے شیخ کو غلط طور سے یہ باور کرایا کہ اگریہ فتوی نہیں دیا گیا اور اس کے برعکس فتوی دیا گیاتو امریکہ میں مسلمانوں پر ملک سے بے وفائی کا الزام لگ جائے گا اور ان کے ساتھ بوسنیا کے مسلمانوں سے بھی بدتر سلوک ہوگا،فتوے میں یہ کہا گیا تھا کہ مسلمان فوجی کوشش تو یہی کریں کہ وہ فوجی کارروائیوں میں شریک نہ ہوں، اور اگر ہوں بھی تو پچھلی صف میں رہیں اور اگر بہت ناگزیر ہوجائے تو عملا کارروائی میں بھی حصہ لے سکتے ہیں، اس فتوے کا اطلاق خاص طور سے امریکہ کے بمبار جہازوں کے مسلمان پائلٹوں پر ہوتا تھا، کہ کیا ان کے لئے جائز ہے کہ وہ افغانستان اور عراق کے بے قصور مسلمانوں پروحشیانہ بمباری میں حصہ لیں،اور وہ بھی محض یہ ثابت کرنے کے لئے کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمان امریکہ کے وفادار ہیں۔ کوشش کی گئی کہ یہ فتوی راز رہے، لیکن کسی طرح فتوے کے منظر عام پر آنے کے بعد شیخ کے بعض بہت قریبی لوگوں نے شیخ سے بات کی اور انہیں صحیح صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد شیخ قرضاوی نے اپنے فتوے سے رجوع کرلیا۔فاضل مصنف کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کہ شیخ قرضاوی کا اپنے اس فتوے سے رجوع کا تذکرہ خود ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے، اور ویکی پیڈیا پر بھی ان کے تعارف کے ساتھ اس کا ذکر موجودہے۔ یہ فتوی شیخ قرضاوی کی جہادوعزیمت سے بھر پور زندگی پر ایک داغ تھا،فتوی دینے والے نے تو اپنے فتوے سے رجوع کرلیا، لیکن فاضل مصنف کو وہ اتنا پسند آیا کہ اس میں سے مقاصد شریعت کے موتی تلاش کرلائے۔
مقاصد شریعت کے موضوع پر راقم کی نظر سے بہت ساری کتابیں گذری ہیں، قدیم دور کی بھی اور موجودہ زمانے کی بھی، فاضل مصنف کی کتاب ’’مقاصد شریعت ‘‘ایک لحاظ سے ان سب سے منفرد ہے، جب دوسری کتابیں پڑھتے ہیں تو یہ احساس نہیں ہوتا کہ شریعت کے نصوص اور شریعت کے مقاصد میں کوئی تعارض ہے، جب کہ زیر نظر کتاب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ خیالات جن کے لئے شریعت کے نصوص میں تائید نہیں ملتی ہے ، بلکہ ان کی نفی ہوتی ہے،شریعت کے مقاصد کا حوالہ دے کر ان کو مدلل ثابت کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
فاضل مصنف قواعد فقہیہ اور مقاصد شریعت کے درمیان فرق بتاتے ہوئے لکھتے ہیں’’قواعد کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کرسکتے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو، جب کہ مقاصد کا اصل کام ہی یہی ہے‘‘۔راقم کا فاضل مصنف کی خدمت میں سوال ہے کہ کیا اہل فن میں سے کسی اور نے بھی اس فرق کو ذکر کیا ہے؟اور کیا اہل فن میں سے کسی نے بھی یہ کہا ہے کہ قواعد کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کرسکتے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو؟ اورکیا قاعدہ ضرورت کے تحت دور جدید کے بہت سارے مسائل کے سلسلے میں نئے اجتہادات سامنے نہیں آئے؟، اور کیا قاعدہ تیسیر نے معاصر فقہ میں بہت سارے اضافے نہیں کئے؟ اور کیا اہل فن میں سے کسی نے یہ کہا ہے کہ مقاصد کا اصل کام ایسی چیز برآمد کرنا ہے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو؟
راقم نے جدید دور کے اجتہادات کی ساری اکائیوں کا احاطہ نہیں کیا ہے ، لیکن جہاں تک نظر پہونچ سکی ہے ، کوئی فتوی یا قرارداد ایسی نہیں ملی جس کی پشت پر قواعد فقہیہ کے بھر پور حوالے موجود نہ ہوں، خود فاضل مصنف نے ایسی مثالیں اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں جن میں مقاصد کا کوئی حوالہ نہیں ہے لیکن قواعد کا حوالہ موجود ہے۔
فاضل مصنف لکھتے ہیں’’اسلام کی دعوت کا سب سے بڑا مفاد جس کی حفاظت ضروری ہے، یہ ہے کہ عام انسانوں کے سامنے نبی کریم رحمۃ للعالمین ﷺ کی تصویر نہ بگڑنے پائے، کیوں کہ دعوت الی اللہ کی قبولیت کا انحصار بڑی حد تک اس پر ہے کہ لوگ آپ ﷺ کو اعتماد اور انس کے ساتھ دیکھیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ اگر کسی صحیح بلکہ بعض اعتبار سے ضروری اقدام سے غلط فہمی ہوسکتی ہو، یا دشمن اسے غلط معنی پہنا سکتا ہو تو اس مفاد کی خاطر اسے نہ کیا جائے۔نبی اکرمﷺ سے مروی دو حدیثیں اس اہم اصل کی تصدیق کرتی ہیں‘‘
ہمیں توقع تھی کہ فاضل مصنف اس اصول کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسی مثال پیش کریں جس میں ایک ایسا کام جو شریعت نے ضروری قرار دیا تھا، اللہ کے رسول ﷺ نے محض اس لئے نہیں کیا کہ اس سے آپ ﷺ کی شخصیت پر آنچ آتی تھی۔
لیکن فاضل مصنف نے جو دو مثالیں ذکر کیں ، ایک میں یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے خواہش کے باجود حطیم کو بیت اللہ میں داخل نہیں کیا،اور دوسری میں بعض لوگوں کے مطالبہ کے باوجود منافقین کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی، لطف کی بات یہ ہے کہ پہلی مثال کا آپ ﷺ کی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، بلکہ خانہ کعبہ کی موجودہ ہیئت سے اہل مکہ کی اس درجہ انسیت اورعقیدت تھی کہ آپﷺ کو لگا کہ وہ اس میں تبدیلی برداشت نہیں کرسکیں گے اور اسلام سے ان کے دل پلٹ جائیں گے،اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مذکورہ خواہش کے باوجود آج کے مسلمان بھی خانہ کعبہ کی موجودہ ہیئت میں تبدیلی قبول نہیں کرسکتے، مزید یہ کہ کسی بھی دور کے فقہاء نے اس اقدام کو ضروری نہیں بتایا،جبکہ دوسری مثال میں بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے نزدیک منافقوں کا قتل کوئی ضروری اقدام تھا۔
فاضل مصنف کو چاہئے کہ کوئی ایسی مثال پیش کریں جس میں ایک ایسا کام جو شریعت نے ضروری قرار دیا تھا،یا کسی اور پہلو سے ضروری تھا، اللہ کے رسول ﷺ نے محض اس لئے نہیں کیا ہو، کہ اس سے آپ ﷺ کی شخصیت پر آنچ آتی تھی، یا دعوتی مفادات متاثر ہوتے تھے۔ہمارے پاس تو اس کی بہت ساری مثالیں ہیں ، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ دنیا کیا کہے گی، وہ سارے اقدامات کئے جو شریعت کی رو سے جائز تھے اور حکمت عملی کے لحاظ سے ضروری تھے۔آپ] ﷺ رحمۃ للعالمین ہوتے ہوئے کبھی خود لشکر لے کر پہونچے ، تو کہیں فوجیں بھیجیں،ضرورت پڑی تو یہودیوں کو ملک بدر کردیا، اور ضرورت کا تقاضا ہوا تو ان کے کھجوروں کے درخت کٹوادئے، یا ان میں آگ لگوادی، اور جو بھی کیا وہ اللہ کے حکم سے کیا، اور اس کی پرواہ کئے بغیر کیا کہ دنیا کیا کہے گی، دشمنوں نے اس حوالے سے آپ کی امیج خراب کرنے کے لئے اشعار بھی کہے، اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے اس کا جواب بھی دیا۔(اس کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو صحیح بخاری اور تفسیر قرطبی)۔
فاضل مصنف سے راقم کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ موصوف نے مقاصد شریعت کی فہرست میں اضافہ کی تجویز پیش کی ہے، لیکن نئی فہرست میں مذکور چیزوں کی ترجیحی پہلو سے ترتیب کیاہوگی ، اس پر کوئی گفتگو نہیں کی ہے، حالانکہ مقاصد شریعت پر فنی لحاظ سے گفتگو کرنے والوں نے ترتیب پر بہت زور دیا ہے ، مثال کے طور پر مسلمان عسکری لحاظ سے طاقتور ہوں یہ بھی شریعت کا مقصد ہوسکتا ہے، اور دنیا کو عام تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے بچایا جائے یہ بھی شریعت کا ایک مقصد ہوسکتا ہے، دونوں مقاصد میں تعارض ہو تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ فاضل مصنف کا اصرار اس بات پر ہے کہ مسلمان ایٹمی ہتھیاروں سے کنارہ کشی اختیار کرکے صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جائیں گے، لیکن یہ وہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں وہ امریکہ روس اور چین کا نام لیتے ہیںِ ، ایٹمی قوت حاصل کرکے دنیا کی بڑی طاقت بنی ہیں، راقم کا فاضل مصنف سے سوال یہ ہے کہ اسلامی مملکت کا عسکری طور پر کمزور رہنا ، اور دوسری بڑی طاقتوں کے رحم وکرم پر رہنامقاصد شریعت کے مطابق ہے یا خلاف ہے؟ اس سلسلے میں فاضل مصنف اپنے نقطہ نظر کو مضبوط بتانے کے لئے آدم کے بیٹوں کا واقعہ تو پیش کرتے ہیں، جس میں ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم مجھے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھاؤگے تو میں تم کو مارنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، لیکن وہ قرآن کی ان بہت ساری آیتوں کو یکسر نظر انداز کرجاتے ہیں، جن میں دشمنوں سے جنگ کرنے کی اور اس جنگ کے لئے مطلوب قوت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
فاضل مصنف ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی سے راقم کا آخری سوال یہ ہے کہ آپ کی مقاصد شریعت والی کتاب پڑھ کر جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ مقاصد شریعت کے نام پر کچھ بھی ہوسکتا ہے، ایک مسلمان لڑکی ایک غیر مسلم لڑکے سے شادی کرسکتی ہے، ایک مسلمان فوجی مسلم آبادی پر بمباری کرسکتا ہے، ایک مسلمان لڑکی نہ صرف چہرہ بلکہ پورا سر کھولے اور وہ بھی بغیر محرم کے سفر کرسکتی ہے، اسی طرح مقاصد شریعت کے نام پرکسی بھی چیز سے روکا بھی جاسکتا ہے، فرانس کی مسلم خواتین سے کہا جاسکتا ہے کہ حجاب کی تحریک مت چلاؤ اس سے اسلام کی رواداری والی امیج پر آنچ آتی ہے، مسلمان ملکوں سے کہا جاسکتا ہے کہ ساری دنیا خطرناک ہتھیار بنالے مگر تم مت بناؤ کیونکہ ان ہتھیاروں کے بغیرتم کمزور تو رہ سکتے ہو صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جاؤ گے، اور اگر تم کسی ایٹمی حملہ کے نتیجہ میں مٹ بھی گئے تو وہ مسلمان تو نہیں مٹیں گے جو امریکہ میں رہتے ہیں،( اور غالبا اس لئے بھی بہت سارے لوگ اب امریکہ جاکر رہنے لگے ہیں) سوال یہ ہے کہ مقاصد شریعت پر سینکڑوں کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں ان کو پڑھ کر مقاصد شریعت کی ایسی تصویر کیوں نہیں بنتی ہے؟

 

ڈاکٹر محی الدین غازی

  • Ameenulhasan

    salam.nice article.except n the last para ghazi sb has forgotten the prophet SAW restrained from taking actions against munafiq Abdullah bin ubay saying that”ayesa na karo,log khaenge ke mohammed apne sathiyon hi ko qatal kar raha hai” (tafheemul quran, vol 5, page 513,preface of surah munafiqoon ) 

blog comments powered by Disqus