مولانا امین الرحمن عامر عثمانی بیسویں صدی عیسوی کے معروف وممتاز عالم ،ادیب وانشاء پردازتھے۔ وہ بیک وقت عالم وفقیہ بھی تھے اور بلند پایہ ادیب بھی، ناقد ومحقق بھی تھے اور صحافی وشاعر بھی۔ لہجے کی شگفتگی ،نادر تحریروں،تحقیق وتنقید میں گہرائی اور اظہاررائے میں بے باکی کے لیے آپ پوری علمی و ادبی دنیا میں جانے پہچانے جاتے تھے۔۱۹۲۰ء میں اترپردیش کے شہر ہردوئی میں آپ کی پیدائش ہوئی۔آپ کے والد مولانا مطلوب الرحمن عثمانی انجینئر تھے ، تصوف سے قلبی لگاؤ تھا۔مولانا عامر عثمانی کی پوری تعلیم وتربیت آپ ہی کی نگرانی میں ہوئی۔مولاناعامر عثمانی نے ۱۹۳۹ء میں دارالعلوم دیوبند سے امتیازی نمبروں کے ساتھ سند فراغت حاصل کی۔قاری محمد طیبؒ ،سید حسین احمد مدنیؒ ،مولانا اعزاز علی امروہوی ؒ وغیرہ آپ کے اساتذہ میں سے تھے۔ صحافت: محنت ومشقت اور انتھک کوشش وجدوجہد آپ کا شیوہ تھا، ۱۹۴۸تک زندگی کی گوناگوں سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے ، مختلف علمی ،ادبی اور مذہبی رسالوں میں آپ لکھتے رہے ،خانگی پریشانیوں کی وجہ سے آپ نے اپنی ضرورت خود پوری کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔کبھی پتنگیں بنائیں تو کبھی پرچون کی دکان چلائی۔کچھ دنو ں ممبئی میں فلمی دنیا سے بھی وابستہ رہے لیکن چونکہ ایک علمی خانوادے سے آپ کا تعلق تھا اور خود آپ بھی مزاجاً مذہبی وعالم دین تھے اس لیے آپ کو سکون میسر نہ ہوا ۔آپ اس وادی لہو ولعب کو خیر آباد کہہ کر دیوبند آگئے اور نومبر ۱۹۴۹ء میں’ تجلی‘نام کا ایک ماہانہ رسالہ جاری کیاجس نے نہ صرف یہ کہ بہت جلد علمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کرلیا بلکہ آگے چل کر تحریک اقامت دین کے عظیم خادم ووکیل کی حیثیت سے معروف ہوا۔آپ نے کم و بیش پچیس سال تک ’تجلی‘ کو اس آن بان اور شان کے ساتھ نکالا کہ بہت کم علمی ومذہبی رسالوں کو یہ امتیاز اور کامیابی نصیب ہوئی ہوگی۔ ماہنامہ تجلی کے کچھ کالموں کی وجہ سے مولانا عامر عثمانی کو بہت شہرت حاصل ہوئی اور ہر مکتب فکر کے لوگون نے ان کو سراہا۔’تجلی کی ڈاک‘ماہنامہ تجلی کا ایک مستقل اور مقبول کالم تھاجس کے تحت مختلف حلقوں سے آنے والے سوالات کا آپ جواب دیتے ،یہ سوالات توحید وسنت اور ایمان ویقین سے متعلق بھی ہوتے اور علمی ،فقہی قضیوں سے متعلق بھی۔ جماعت اسلامی کی دعوت اور اس کی تحریک سے متعلق بھی اور مولانا مودودی سے متعلق بھی ۔جمعیۃ العلماء ،تبلیغی جماعت ،بریلویت،قادیانیت سے متعلق بھی۔ جوابات کا انداز بالکل منفر د ہوتاجو سائل کے لیے کافی بھی ہوتا اور شافی بھی ۔اسی طرح مولانا ’کھرے کھوٹے‘ کے نام سے تجلی میں علمی ،ادبی اور مذہبی کتابوں پرانتہائی امانت ودیانت کے ساتھ تبصرے کرتے جسے اہل علم طبقے میں بڑی قدر اور پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔’مسجد سے میخانہ تک ‘کے عنوان کے تحت ایک مستقل کالم ماہنامہ تجلی کا بہت ہی معروف کالم تھا جسے مولانا عثمانی ’ملا ابن العرب مکی‘ کے قلمی نام سے لکھتے تھے ۔یہ کالم بھی بہت زیادہ پسند کیا جاتا تھا ۔مزاح جو کہ ادب وانشا کی ایک مشکل ترین صنف ہے اس میں بھی مولانا عامر عثمانی نے فصاحت وبلاغت اور لطیف زبان ووسیع معلومات سے مرصع مضامین سے اپنے قارئین کومحظوظ کیااور ساتھ ہی عبرت وموعظت کادرس بھی دیا۔ مولاناعامر عثمانیؒ کا مطالعہ بہت گہرا تھا ۔وہ جو بات کہتے تھے کتابوں کے حوالوں اور عقلی وفکری دلائل وبراہین کے ساتھ کہتے۔ تفسیر ،حدیث،فقہ ،تاریخ،لغت وادب ،غرض تمام علوم میں مولانا عثمانی کو قابل رشک بصیرت حاصل تھی ۔ جس مسئلہ پر قلم اٹھاتے اس کا حق ادا کردیتے ۔ ایک ایک جزئیہ کی تردید یا تائید میں امّہات الکتب کے حوالے پیش کرتے ،علمی اور دینی مسائل میں ان کی گرفت اتنی سخت ہوتی کہ بڑے بڑے اہل قلم پسینہ پسینہ ہوجاتے ۔ انھیں اپنی رائے اور فکر پر ، اورمطالعہ و استدلال پر پورا اعتماد تھا ۔ مولانا عامر عثمانی دارالعلوم دیوبند کے فیض یافتہ تھے وہاں کے اساتذہ اور بزرگوں سے انہیں بہت عقیدت تھی لیکن جب اختلاف کی صورت پیدا ہوئی تو پورے ادب واحترام کے ساتھ جم کر اختلاف بھی کیا۔ جب جماعت اسلامی اور مولانا مودودیؒ کی مخالفت کا سلسلہ چلا اور صحابہ کرام کی توہین اور انبیاء کرام کی عصمت کے انکار کا الزام عائد کیا جانے لگا تو کسی بھی استاد یا بزرگ کی عقیدت مانع نہیں ہوئی، انہوں نے بلا کسی لاگ لپیٹ کے ڈٹ کر ا س طوفان مخالفت ومعاندت کا مقابلہ کیا ۔ مولانا نے ایک نکتہ رس عالم وفقیہ اور بے باک اہل علم وقلم کی حیثیت سے جو یہ جنگ لڑی وہ کسی غرض ومفادکے بجائے امانت وصداقت کی جنگ تھی۔مولانا عامر عثمانیؒ مولانا مودودیؒ کے انتہائی قدر شناس ،عقیدت مند اور مداح تھے، اور ان کی مدافعت میں وہ ہر محاذ پر سینہ سپر نظر آتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ جب ’’خلافت وملوکیت‘‘ منظر عام پر آئی اور مختلف سمتوں سے اس کی مخالفت ہونے لگی، رسالوں میں اس کی مخالفت وتردید میں مضامین شائع ہوئے ،ضخیم ضخیم کتابیں لکھیں گئیں تو آپ نے ان سب پر کھل کر تنقید کی اور مولانا مودودی ؒ کی حمایت میں تین جلدوں میں ماہنامہ ’تجلی‘ کا ’خلافت وملوکیت نمبر‘ شائع کیا جو آپ ہی کی تحریرو ں پر مشتمل تھا۔مولاناعامر عثمانی کو پیری مریدی سے کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔ماہنامہ تجلی میں عجمی تصوف پر خوب کس کر تنقید کرتے رہتے تھے۔ شرک وبدعت کی تردید اور توحید وسنت کی تبلیغ واشاعت ان کا سب سے زیادہ محبوب مشغلہ تھا ۔ انھوں نے ہزاروں صفحات شرک وبدعت کی تردید میں لکھے ہیں۔
شاعری:مولانا عثمانیؒ ایک عالم وفقیہ ،ناقد ومحقق اور صحافی ودانشور کے ساتھ ساتھ ایک بلند پایہ شاعر بھی تھے ۔شعر وسخن کا ذوق آپ کو ورثے میں ملا تھا ۔شاعری میں گرچہ باضابطہ طور پر کسی کے شاگرد نہیں تھے تاہم شہنشاہ غزل جگر مرادآبادی سے خصوصی تعلق تھا اور غزل گوئی میں انہی کی اتباع کرتے تھے ۔آپ کو شاعری کی جملہ اصناف پر بیک وقت قدرت حاصل تھی ۔ غزل ، نظم ، رباعیات ،مسدس، مخمس، نعت ومنقبت غرض وہ ہر میدان کے شہسوار تھے۔آپ نے ماہنامہ تجلی میں حفیظ جالندھری کے شاہنامہ کی بحر کے انداز پر سیرت النبیؐ کے منظوم واقعات کا سلسلہ شروع کیا تھاجو خوب پسند کیا گیا ۔ آپ کی شاعری کو آج بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔بلاشبہ آپ ہندوپاک کے اسلام پسند حلقے کے ایک عظیم شاعرتھے۔
آخری سفر:مولانا عثمانیؒ صرف تحریر وقلم میں ہی اعلی مقام پر فائزنہیں تھے بلکہ اخلاق وکردار میں بھی اپنی ایک شناخت رکھتے تھے ۔ سادگی ،سخاوت ،دریادلی ، عجز وانکساری،عفوودرگزر اور حسن اخلاق کا عملی پیکر تھے۔ انجمن خیر الاسلام ممبئی کے غیر معمولی اصرار پر اس کے ممبئی اور پونا میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے ۔اسی مشاعرے میں اپنی ایک طویل اسلامی نظم پڑھنے کے بعد ۱۲؍اپریل ۱۹۷۵ء کی شب میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا۔ اللہ تعالی آپ کی مغفرت فرمائے۔آمین (عبدالعظیم قاسم)








