موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے دانش ور طبقے کے درمیان کافی بحث و مباحثہ جاری ہے۔اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چےئرمن جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ۱۰ ؍اکتوبر ۲۰۱۱ کو پریس میٹنگ کے دوران اپنی گفتگو میں موجودہ ہندو ستانی میڈیا سے متعلق اپنے احساسات کا اظہار کیا،اور میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ روش کو ہدفِ تنقید بنایا ۔
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے رات کو رات کیا کہہ دیا کہ ذرائع ابلاغ کی پوری دنیا بوکھلاکر رہ گئی۔چنانچہ مختلف ٹی وی چینلوں کے مالکان اور اخباروں کے ذمہ داران کی جانب سے جسٹس کاٹجو کے ریمارکس پر جذباتی ردِ عمل سامنے آرہے ہیں۔جہاں ضرورت اس بات کی تھی کہ میڈیا ان تنقیدوں کو حقیقت کے کڑوے گھونٹ سمجھ کر قبول کرتا اور سنجیدگی سے اپنا جائزہ لیتا،اس کے برخلاف میڈیا نے ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے جذباتی ردِ عمل کا اظہار کیا،اور بعض اخبارات کے ایڈیٹرس نے جسٹس کاٹجو کی شخصیت پر رکیک تنقیدوں کے تیر بھی برسائے۔
موجودہ میڈیا کے کردار کے تناظر میں کی گئی تنقیدوں کومیڈیا غلط باور کرا رہا ہے لیکن میڈیا اپنے دفاع میں خواہ کتنی ہی تاویلات پیش کرے یہ حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی کہ میڈیا کے کردار پر ملک بھر میں جو سوالات اٹھائے جارہے ہیں وہ مبنی بر حقیقت ہیں۔ میڈیا اپنی زبانِ قال سے حقائق پر پردہ ڈالنے کی خواہ کتنی ہی کوشش کرے بہر حال اس کی زبانِ حال یہ شہادت دے رہی ہے کہ موجودہ میڈیا اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے غافل غلط سمت میں پیش قدمی کررہا ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب ملکی میڈیا کوسخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ماضی قریب و بعید میں بھی مختلف دانشور حلقوں کی جانب سے میڈیا کے کردار پر انگلی اٹھائی جاتی رہی ہے، لیکن حالیہ دنوں اس موضوع پر ملک کی ایک معزز اور قدآور شخصیت کی لب کشائی نے ملک بھر کی توجہ اس مسئلہ کی جانب مبذول کرادی ہے۔
ملکی میڈیا کی موجودہ صورتِ حال پر مختلف قسم کی تنقیدیں کی جارہی جس کے ذریعے میڈیا کا اصل چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔میڈیا کے تعلق سے سب سے تشویشناک پہلو کارپوریٹ سیکٹر اور بعض مخصوص طبقات کا میڈیا پر غلبہ ہے۔میڈیا پر قبضہ سرمایہ دار طبقے کی اہم ضرورت ہے۔ملک کے فسطائی عناصر اور سیاسی جماعتیں بھی ذرائع ابلاغ کو اپنے دستِ قابو میں رکھنے کے لئے اپنے بجٹ کی ایک خطیر رقم اس کے لئے مختص کرتی ہیں۔کارپوریٹ سیکٹر کے غالب ہو جانے کا ہی نتیجہ ہے کہ میڈیا اپنی مختلف خبروں، پروگراموں اور سیر ئلوں کے ذریعے مادہ پرستانہ طرزِ حیات کو فروغ دے رہا ہے۔ان حقائق کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ موجودہ میڈیا کارپوریٹ سیکٹرس اور چند مخصوص طبقوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے کوشاں ہے۔عام شہریوں کے مسائل سے صرفِ نظر کرنا غیر اہم مسئلہ کو سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرنا ،غلط رخ پر رائے عامہ کو ہموار کرنا ،فحاشی اور عریانیت پر مبنی اشتہارات اور پروگراموں کو نمایاں طور پر پیش کرنا موجودہ میڈیا کا ایک بڑا المیہ ہے۔ مسلمانوں کو بلا کسی دلیل و ثبوت کے دہشت گرد قرار دینا اور سماج میں اسلام کی غلط شبیہ پیش کر نا میڈیا کا سب سے محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔آج جب کہ ملک میں مسائل کا انبار ہے ،معا شی بحران درپیش ہے، غریبی و بے روزگاری میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے، میڈیا کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بحرانی صورتحا ل کے ذمہ دار ایک ایک فردکا احتساب کرے اور حالات کی صحیح تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرے لیکن میڈیا نہ صرف یہ کہ اپنی ذمہ داری سے غافل ہے بلکہ جانبداری سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں انتہائی منفی کرادر ادا کررہا ہے۔میڈیا کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کی وجہ سے مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں۔میڈیا کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک کے جمہوری اقدار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
میڈیا کی جانب سے تما م سرگرمیا ں ’آزادیِ اظہارِ رائے ‘کے نام پر انجام دی جا رہی ہیں۔ یقیناًاظہارِ خیال کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل ہے لیکن یہ آزادی اتنی بے لگام بھی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے ذریعے دوسروں کے حقوق پر ضرب پڑے اور ان کی عزت و ناموس پر آنچ آئے،لوگوں کے جذبات مشتعل کرکے فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے،جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کا جامہ پہنا کر پیش کیا جائے۔
میڈیا کو آزادی لازماً حاصل ہو نی چاہیے لیکن اس آزادی کی منا سب حد بھی مقرر ہواور اس کو صحیح رخ دینے کی بھی ہر ممکن کوشش ہونی جانی چاہیے، اور ایسا کیو ں نہ ہو جبکہ میڈیا کی بے مہار آزادی مفادِ عامہ کے حق میں بہت ہی خطرناک ہے۔میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے چند تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔سب سے پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا (پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا)کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک با اختیار ریگو لیٹری اتھا ریٹی تشکیل دی جائے جو میڈیا کو حاصل بے لگام آزادی کو محدود کرے اور اس کی تمام کارکر دگی پر نظر رکھے۔ اسی طرح میڈیا کو کارپوریٹ Ownership سے آزاد کرانا بھی ایک اہم کام ہے۔ اس کے نتیجے میں حالات میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔مشہور سینیئر صحافی اجیت ساہی نے صحیح کہا ہے کہ ’’میڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک اس کی ملکیت آزاد نہ ہو‘‘۔اس کے علاوہ ایک اور ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ میڈیا کے تعلق سے عوام الناس میں وسیع پیمانے پر بیداری لانے کی کوشش کی جائے ۔عوام بذاتِ خود ایسے میڈیا کو رد کر دیں جو غیر ذمہ دار ہو۔چونکہ میڈیا کی معاشی حالت اور اس کے مفادات کا راست تعلق ٹی آر پی سے ہے ۔اس لئے اگر عوام غیر ذمہ دار میڈیا کو رد کرنے لگیں تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہوگا جب میڈیا خود بخود ذمہ داربن جائے گا۔
سعود اعظمی، جامعہ اسلامیہ، شانتاپرم








