کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے... ’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے،...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ "why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u" مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں...

مزید پڑھیے

کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ... کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔...

مزید پڑھیے

مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے... (گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی...

مزید پڑھیے

پاپولر کلچر اور اسلام تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں...

مزید پڑھیے

آزادئ فکر وعمل اور اسلام -- علامہ... اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر...

مزید پڑھیے

لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب... وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے...

مزید پڑھیے

میڈیا آزادی اور ذمہ داری موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے...

مزید پڑھیے

آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل...

مزید پڑھیے

یوپی کی موجودہ سیا ست اسمبلی... اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی...

مزید پڑھیے

  • Prev
  • Next

کاغذ کی ناؤ

جنوری ٢٠١٢

مصر کی موجودہ صورت حال اور وہاں کے بدلتے سیاسی حالات کے تناظر میں جناب ابوالمجاہد زاہد مرحوم کی یہ نظم کافی اہمیت رکھتی ہے، افادہ عام کے لیے شامل اشاعت کیا جارہا ہے۔ (ادارہ)

ہوتا آیا ہے یونہی ہوتا رہے گا یوں ہی
ہے یہ تاریخ کا دستور زمانے کا چلن
جب ابھرتا ہے کوئی لے کے تجلیِ حیات
جب مچلتی ہے کسی لب پہ حقیقت کی کرن
جب بھی احساس کسی سینے میں جاگ اٹھتا ہے
جب بھی ہوجاتی ہے ایماں کی حرارت زندہ
جب بھی پھٹ جاتا ہے شاہانہ روایت کا کفن
جب بھی ہو جاتاہے سودائے شہادت زندہ
ستم و ظلم سے جھلسے ہوئے انساں کے لئے
جب بھی اٹھتا ہے کوئی امن کا مرہم لے کر
جب بھی اٹھتا ہے کوئی جھوٹے خداؤں کے خلاف
جرأتِ عزم ویقیں، جذبۂ محکم لے کر

الغرض’’حق‘‘کی طرف جب بھی بلاتا ہے کوئی
اور لگا دیتا ہے ہر دل میں اجالے کی لگن
تو اندھیرے کے پرستار بپھر اٹھتے ہیں
اور پڑ جاتی ہے قانون کے ماتھے پہ شکن

گولیاں چلتی ہیں، تلواریں لہو پیتی ہیں
مکروسازش کی عدالت کوجلال آتا ہے
بیڑیاں بڑھتی ہیں، کھل جاتے ہیں جیلوں کے دہن
سینۂ ظلم وشقاوت میں ابال آتا ہے

’’سیفٹی ایکٹ‘‘ کا جاگ اٹھتا ہے کالا قانون
نعرۂ حق و صداقت کو دبانے کے لئے
کذب و بہتان کے افسانے گڑھے جاتے ہیں
جرأت و عزم کو سولی پہ چڑھانے کے لئے

کتنے فرعون اٹھے ہیں کتنے نمرود آئے
حق کی آواز مگر دب نہ سکی رک نہ سکی
قوتِ وقت نے ہرچند جھکانا چاہا
روشنی پاؤں پہ ظلمت کے مگر جھک نہ سکی

راہ میں آئیں اندھیرے کی چٹانیں لیکن
زیست ہر گام پہ اک شمع جلاتی ہی گئی
خندقیں ظلم کی کھودی گئیں کتنی ہی مگر
زیست ہر گام پہ اک جست لگاتی ہی گئی

ہوتا آیا ہے یوں ہی، ہوتا رہے گا یوں ہی
ہے یہ تاریخ کا دستور، پرانا دستور
زور باطل کے پجاری تو لگاتے ہیں بہت
ہوتی ہے حق و صداقت کی مگر فتح ضرور

صبر، اے مصر کے جانباز و جواں دل اخوان
آج زندانِ مصائب میں گرفتار ہو تم
تیرگیِ غم و آلام میں جینے والو
نصرتِ حقّ و صداقت کے گنہ گار ہو تم

بس یہی جرم تمہارا ہے نقیبانِ حیات!
مصر کو تم نے عطا کی ہے نئی فکر و نظر
تم نے ایماں کی جلائی ہیں فسردہ شمعیں
عام تم نے کیے اسلام کے تابندہ گہر

تیغِ چنگیز و ہلاکو بھی تھی خوں بار مگر
قلبِ ناصر کی شقاوت ہے خود اپنی ہی نظیر
نگہہ دہر نے دیکھی تو نہ ہوگی شاید
ستم و ظلم کی اس درجہ بھیانک تصویر

میرے آنسو، مری آہیں، مرا زخمی احساس
سب تمہارے لئے اللہ سے کرتے ہیں دعا
اک فقط میں ہی نہیں آج تمہارے غم میں
جو مسلمان ہے وہ شعلہ بجاں ہے بخدا

موت کے گھاٹ اتارا ہے جنہیں ناصر نے
رنگ لائے نہ کبھی ان کا لہو، ناممکن
شیخ بنّاؒ نے اٹھائی تھی جو تحریک حیات
اس میں باقی نہ رہے جوشِ نمو، ناممکن

لاکھ روکیں درِ ظلمت کے محافظ لیکن
وہ سحر جو کہ ہے آنے کو وہ آئے گی ضرور
شپّرہ چشم کریں کتنی ہی سازش لیکن
جو ابھر آئی ہے وہ روشنی چھائے گی ضرور

جس حکومت پہ ہیں مغرور غلامانِ فرنگ
وہ غلط کار حکومت ہے چراغِ سحری
بھک سے جل اٹھے گا ہمت کے جواں شعلوں میں
تختِ فرعونیت و خیمۂ بیداد گری

عزم کی آنچ میں گل جائے گی زنجیر گراں
صبر کی دھار سے کٹ جائے گی شمشیرِ ستم
جادۂ حق پہ سوے منزلِ مقصودِ حیات
اور بھی تیز قدم، تیز قدم، تیز قدم

مل گیا خاک میں فاروق کا شاہانہ وقار
ناصری ’’شانِ حکومت‘‘ بھی رہے گی کب تک
نیل کی باغی و طوفاں بہ نفس موجوں میں
ناؤ یہ روغنی کاغذ کی بہے گی کب تک

Comments are closed.