کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ہندوستان کی راجدھانی رہا اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کی حیثیت اسے کافی عرصے تک حاصل رہی۔ بنگال ہندوستان کے دانشوروں کا بھی گہوارہ رہا اور مثبت بحث و چرچے کا ایک اہم مرکز بھی بنا رہا۔اسی ریاست مغربی بنگال سے پچھلے دنوں آنے والی ایک افسوسناک خبر نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ واقعہ صرف تشددکا ایک معمولی حادثہ نہیں بلکہ ہندوستانی کیمپس سے متعلق فکرمندی کے پہلوؤں کو مزید تقویت دیتا ہے۔
حکمراں ترنمول کانگریس اور اسی کی حلیف کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیموں کے مابین رسہ کشی کے ایک واقعہ میں شمال بنگال کے ایک کالج ’رائے گنج کالج‘ کے پرنسپل کے ساتھ طلبہ کے ایک گروہ نے کا لج کے باہر کافی مار پٹائی کی۔ زخمی پرنسپل اور ان کے ساتھ اسی کالج کے ایک اور پروفیسرکی تصاویر میڈیا میں جیسے ہی منظر عام پر آئیں، ہر جانب تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے قبل یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی تھی کہ جنوبی کلکتہ کے ایک اسکول پرنسپل کی ایک سیاسی پارٹی کے کارکنوں نے پٹائی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے غلبہ والے اس کالج میں یونین الیکشن ملتوی کرنے سے پرنسپل نے انکار کردیا تھا۔ جبکہ ترنمول طلبہ تنظیم کا اصرار تھا کہ اس کو ملتوی کیا جائے۔ اس مسئلہ پر کھینچا تانی کا نتیجہ اس واقعہ کی صورت میں نمودار ہوا۔ اگرچہ کہ حکمراں جماعت نے اس واقعہ میں اپنی پارٹی کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن اخبارات اور میڈیا اس سے متعلق خبریں پیش کررہے ہیں۔
کیمپس تشدد ہندوستانی کیمپس کے لئے نئی چیز نہیں ہے۔ چھوٹے موٹے تشدد کے واقعات سے لے کر قتل تک کے کئی واقعات یہاں رونما ہوچکے ہیں۔ لیکن ہر ایسا واقعہ ہندوستانی کیمپس کے مزاج اور اس کی ہیئت کے بارے میں ہماری تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔ بالعموم سیاسی جماعتوں کی لڑائی کیمپس کی چہار دیواری میں آکر تشدد کا روپ اختیار کرلیتی ہے یا بسا اوقات طلبہ یونین اور کالج کی سیاسی سرگرمیوں میں برتری کی جنگ پرتشدد رنگ اختیار کرجاتی ہے۔
کیمپس ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ یہاں پڑھنے والی نسل کی بول چال، رنگ ڈھنگ ، عادات و اطوار ایک پوری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس لئے یہاں ہونے والا واقعہ آئندہ ملک کے پورے منظرنامہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارپوریٹس اور سرمایہ دارانہ نظا م کے ذریعے یہاں پر ایکٹوزم کو کچلنے والی کوششو ں کی مخالفت ملک کے باشعور افراد کی جانب سے ہمیشہ کی گئی۔ چنانچہ یونین الیکشن پر جب کبھی ملک میں پابندی عائد ہوئی ا س کی مخالفت ہوئی۔ اسی طرح دانشورطبقہ اور سماج کے حساس اور دردمند شہری ہمیشہ اس بات کے حامی رہے ہیں کہ طلبہ کی سماجی حساسیت اور سماجی رول میں اضافہ ہو۔ لیکن تصویر کے اس رخ کے ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کیمپس مثبت اور تعمیری بحثوں کی آماجگاہ بنے نہ کہ تشدد اور جنگ و جدال کا اکھاڑہ۔ فسطائیت اور مخالف نظریات کو کچلنے کی ہر کوشش قابل مذمت ہے چاہے وہ ملک کے وسیع منظر نامہ میں ملک کے مخصوص طبقات کو خوفزدہ کرنے اور ڈرانے کی کوشش ہو یا کیمپس کے ایک محدود ماحول میں کسی ایک نظریئے کی حامل تنظیموں کا استبداد ہو ، ہر دو قسم کا جبر ایک مہذب سماج کے لئے درست نہیں۔
پچھلے سال منگلور میں اسی طرح کے کچھ واقعات پیش آئے تھے جہاں نہتے او ر پرامن طلبہ کو فسطائی نظریات کے حامل کچھ لوگوں نے نشانہ بنایا تھا۔ اسی قسم کے واقعات کیرالا میں اس سے قبل پیش آئے تھے جہاں ایس آئی او کی پرامن اور تعمیری ریلیوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ فسطائیت کی ایک قدر ہمیشہ مشترک رہی ہے۔اپنے مخالفین کو جبر، تشددکے ذریعہ اور ڈرانے دھمکانے و خوفزدہ کرنے والے ہتھیاروں سے مرعوب کرنا۔ جہاں طاقت نہ ہووہاں مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا اور جہاں پر طاقت حاصل ہوجائے وہاں دوسروں کو بزور قوت کچل دینا۔ اور اس قدر مشترک میں فسطائیت کی تمام شکلیں متفق رہی ہیں۔ مثبت سماج کی تعمیر ان طریقوں سے کسی حال ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ان طاقتوں کو سمجھ لینی چاہئے کہ اس طریقے پر پروان چڑھنے والی نسل کبھی بھی تعمیر کی جانب مائل نہیں ہوسکتی۔ اور یہ غیر تعمیری رویہ بالآخر پورے سماج کو تباہ کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔
ایس آئی او کا خواب اس کا متبادل پیش کرتا ہے۔ کیمپس اور تعلیم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے لازمی اجزاء ہیں۔ اور تعلیم انسان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ کیمپس اپنے مقاصد میں ناکام ہے اگر وہ انسانی صلاحیتوں کو تعمیری رخ دینے میں ناکام رہے۔ انسانی صلاحیتیں کھلے ماحول میں پروان چڑھتی ہیں، اگر کیمپس میں آواز کو دبایا جارہا ہے تو یہ نہ صرف کیمپس کے مقاصد کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ یہ وہاں پروان چڑھنے والی صلاحیتوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ بہرصورت تشدد کیمپس کے لئے نقصاندہ ہے اور وہ چاہے یونین الیکشن کے لئے ہو یا خود طلبہ کے حقوق کے لئے ہو ہر صورت اس سے احتراز لازمی ہے۔
سید صبغت اللہ حسینی








