اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی آمد پر ختم ہوگا۔ یوں تو انتخاب پانچ ریاستوں گوا، اتراکھنڈ ، پنجاب ، منی پور اور یوپی میں ہو رہے ہیں ، لیکن یوپی اسمبلی انتخاب پر سیاسی تجزیہ نگاروں اور میڈیا سے لے کر انتخابی موسم میں گرم ہونے والے چوپالوں سے جڑے لوگوں تک کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخاب کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے لیکن اس بار کچھ زیادہ ہی شور بپا ہے۔بعض سیا سی لیڈرس اور تجزیہ نگار اسے جنرل الیکشن کے سیمی فائنل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یوپی انتخابات کے سلسلے میں یہ نقطۂ نظر بہت پرانا ہے کہ دلی کا راستہ یوپی سے ہوکر گزرتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ کئی اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن نے اس مفروضے کو غلط ثابت کیا ہے۔ لیکن بڑی سیا سی پارٹیوں کی تیاریوں اور سیا سی گہما گہمی کو دیکھ کر مانا جارہا ہے کہ اس بار یوپی اسمبلی انتخاب قومی سیاست کو متأثر کرے گا، اس کی کئی وجوہات ہیں۔
راہل فیکٹر:
ایک بڑی وجہ تو کانگریس کی کئی سالوں سے چل رہی ’بیک ٹو یوپی‘ کی منظم اور منصوبہ بند تیاری ہے۔مسٹر راہل گاندھی نے گزشتہ کئی سالوں سے اپنی Discovering India یاترا کے تحت یوپی کو خاص نشانہ بنایا ہے۔ اس کے تحت مغربی یوپی اور بندیل کھنڈ کے علاقے میں مسٹر گانڈھی کا طوفانی دورہ لگاتار چلتا رہا ہے ۔جمہوریت کے ’شہزادے ‘کا دلت کٹیا میں’ بھوجن گرہن ‘ اور کھلے آکاش میں ’راتری وشرام‘ کی خبریں میڈیا میں کافی گرم رہی ہیں۔ گزشتہ پارلیمانی انتخاب ۲۰۰۹ میں کانگریس کی یوپی میں شاندار کامیابی کو اس کی مقبولیت میں اضافہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قیاس یہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ یوپی میں کانگریس کا طلائی دور واپس آنے والا ہے ۔ ان سب کی پشت پر ’راہل فیکٹر ‘ کا اہم رول بتا یا جاتا ہے۔
بی جے پی کی خستہ حالی:
یوپی کی سیا ست سے دلی دربار کی سیر کرنے والی ’Party With A Difference ‘ بی جے پی کی حالت یوں تو پورے دیش میں ہی پتلی ہے۔لیکن یوپی کی موجودہ بھرپو ر سیاسی گہما گہمی سے دور ، بی جے پی پر چھایا ماتمی سناٹا اس کے پست حوصلہ ہونے کی دلیل ہے۔ اصولوں کی دہائی دینے والی پارٹی مرکزی و ریاستی انتخا بات میں کرشمائی شخصیت کا سہارا تلاشتی رہی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کے بعد مرکزی سطح پر کسی قدآور شخصیت کے نہ ہو نے کے نتیجے میں بی جے پی مرکزی سطح پر لٹی پٹی نظر آرہی ہے،تو ریاستی سطح پر اسٹیٹ لیڈر شپ کی با ہمی چپقلش کے نتیجے میں یتیمی کی حالت سے گذر رہی ہے۔انّا ہزارے کی کرپشن مخالف مہم سے فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بھی شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکا۔کرپشن کے خلاف شری اڈوانی کی ’جن چیتنا یاترا‘ کی ہوا جس طرح پارٹی کے اسٹیٹ لیڈرس نے مختلف ریاستوں میں نکالی ہے اس سے ’آئرن مین ‘پر خود سکتہ طاری ہے۔دوسری ریاستوں کی طرح یوپی میں بھی یہ یاترا ’فلاپ شو‘ ثابت ہوئی۔ یاتراؤں کی سیاست میں ماہر بی جے پی اب یو پی اسمبلی الیکشن کے پیش نظر ’پریورتن یاترا‘ نکال رہی ہے۔تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کو پہلے خود درونِ خانہ ’پریورتن مہم ‘ منانی چا ہئے۔بی جے پی کی گرتی ساکھ اور گھٹتے ووٹ بینک کا فائدہ کانگریس،سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سمیت یو پی کے سیاسی اسٹیج پر رقصاں بعض چھوٹی پارٹیاں بھی اٹھانا چاہ رہی ہیں۔یو پی اسمبلی الیکشن کے سلسلے میں لوگوں کی دلچسپی کا ایک بڑا مرکز بی جے پی کی یہ خستہ حالی ہے۔
’امر‘سے خالی یو پی کی سیاست :
یو پی کے گزشتہ کئی اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں امر سنگھ کا ایک اہم رول ہوا کرتا تھا ۔سما ج وادی پارٹی کے عروج وزوال کی پوری کہانی ’ٹھاکر سنگھ ‘ سے منسوب ہے۔الیکشنی سیاست میں ہر حربہ اختیا ر کرنے والے اور ہر رویّہ روا رکھنے والے ’ماہر کھلاڑی‘ اب یو پی کے سیاسی اسٹیج سے باہر ’لوک منچ کی ٹھا کرائی ‘ کے ذریعے خود کو Public Life میں’امر ‘ ثابت کر نے میں لگے ہوئے ہیں ۔ بہر حال اسمبلی انتخاب کے اس موسم میں ’امر سے خالی یو پی کی سیاست ‘ سیاست سے دلچسپی رکھنے والے بعضوں کے لئے باعثِ سکون ہو گی تو بعضوں کے لئے وجہ بد مزگی۔
نئے مسلم سیاسی تجربات :
یو پی کے اس اسمبلی الیکشن سے دلچسپی کی ایک بڑی وجہ ( با لخصوص مسلم حلقوں میں )اسمبلی انتخابات میں متوقع نئے مسلم سیاسی تجربات ہیں۔خلافِ توقع کئی چھو ٹی مسلم سیاسی پارٹیاں میدان میں اتر آئی ہیں۔اس میں دو مسلم سیاسی پارٹیا ں اہم بتا ئی جا رہی ہیں ،ڈاکٹر ایّوب صاحب کی پی پی آئی (پیس پارٹی آ ف انڈیا) اور اعظم گڑھ سے شروع ہو نے والی راشٹریہ علماء کونسل ۔بعض چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر ندوہ العلماء کے مشہور عالم سیدسلمان ندوی صاحب کی پیش رفت پر مسلم سیاسی پارٹیوں کا ایک اتحا د بھی سامنے آیا ہے۔ لیکن درج بالا دونوں اہم سیاسی پارٹیا ں اس اتحادمیں شامل نہیں ہیں ۔ راشٹریہ علماء کونسل پہلے سے ہی شامل نہیں تھی ،پیس پارٹی پہلے شامل تھی لیکن اب مصدقہ ذرائع سے خبر آئی ہے کہ سیدسلمان ندوی صاحب نے اصول شکنی کی وجہ بتاتے ہوئے پیس پارٹی کو اتحاد سے باہر کر دیا ہے۔ دوسری طرف پیس پارٹی کی ایک اور تقسیم بھی ہو گئی ہے۔ ’ٹو سر کل ڈاٹ نیٹ‘ کی اطلاع کے مطابق مغربی یو پی میں پارٹی کے لیڈر حاجی یا مین چودھری نے ٹکٹوں کی تقسیم میں لیڈر شپ پر نا انصا فی کا الزام لگاتے ہوئے علم بغاوت بلند کر دیا ہے اور ’پیس منچ ‘ کے نام سے مغربی یو پی میں ایک نئی مسلم سیاسی پارٹی وجود میں آگئی ہے ۔واضح رہے کہ کچھ مہینے پہلے پیس پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر نے ’راشٹریہ پیس پارٹی ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ اس تقسیم در تقسیم کے بعد بھی پیس پارٹی چالیس ضلعوں میں بوتھ لیول تک اپنی مضبوطی کا دعوی کر رہی ہے،ساتھ ہی نئی حکومت کی تشکیل میں اہم رول ادا کر نے کا خواب بھی دیکھ رہی ہے۔
راشٹریہ علماء کونسل بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے اورپروانچل کے کئی ضلعوں میں اپنی مضبوط دعویداری بتا رہی ہے۔بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بطن سے پیدا ہوئی اس نو مولود پارٹی کی بنیاد اصلاً اعظم گڑھ ہے۔پارلیمانی انتخاب ۲۰۰۹ ء میں علماء کونسل نے دو مقامات اعظم گڑھ اور لال گنج سے با لترتیب ستّر اور پچاس ہزار ووٹ لائے ہیں جس سے پارٹی لیڈرشپ کے عزائم بلند ہیں ۔پھر گزشتہ پنچایت الیکشن میں بھی پارٹی کی کارکر دگی بحیثیتِ مجموعی ٹھیک بتائی گئی ہے۔ضلع پنچایت کی صدارت کے انتخاب میں پارٹی کے نو منتخب نمائندوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ان دونوں قابل ذکر مسلم سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کئی مسائل بھی ہیں۔ ایک مسئلہ تو ان پارٹیوں کا پروانچل تک محدود ہو نا اور باہم دست بگریباں ہونا ہے جس سے مسلم سیاسی مفاد کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
پیس پارٹی کا دعوی جو بھی ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پروانچل کے چار پانچ اضلاع کے علاوہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ Cadre Based نہ ہونا ہے۔ پیس پارٹی کے تمام دعووں اور ’منی پاور‘ کے با وجود تجزیہ نگاروں کی یہی رائے ہے کہ ان کے پاس بوتھ کی سطح تک کیڈرس نہیں ہیں۔ کچھ موقع پرستوں کی ’جاں نثاری‘ فریبِ نظر ہے۔
ایک بڑا مسئلہ ان دونوں پارٹیوں کا ٹھوس عملی عوامی ایجنڈے سے خالی ہونا ہے۔ دونوں کے پاس ایشوز کے نام پر ہندو مسلم ایکتا اور بد عنوانی کے خلاف کچھ ناصحانہ اقوال اور نعرے ہیں۔مثلاً ’’ایکتا کا راج چلے گا ،ہندو مسلم ساتھ چلے گا‘‘کچھ دنوں قبل ٹو سرکل ڈاٹ نیٹ میں شائع شدہ دونوں پارٹیوں کے اعلی کمان کے انٹر ویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کے پاس گہری سیاسی سوجھ بوجھ کا فقدان ہے۔ جس کے نتیجے میں بعض مضحکہ خیز حرکات و اقوال بھی سامنے آرہے ہیں ۔مثلاً پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایّوب بدعنوانی کا حل بتاتے ہیں کہ تمام سیاسی جما عتوں کے ٹاپ لیڈرس اور عوامی نمائندوں کا ’نارکو ٹیسٹ ‘ ہونا چاہئے۔موصوف انٹر ویور سے یہ بھی کہہ بیٹھتے ہیں کہ تعلیمی پرو فائل کے لحاظ سے میرے مقابلے کا کوئی پارٹی چیف نہیں ہے۔ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہBackward Class کو حکومت میں شراکت ملنی چاہئے اور Most Backward اورMost Dalit Adhikaar Diwas مناتے ہیں تو دوسری طرف یہ پوچھے جانے پر کہ ان کی پارٹی نے ٹکٹ کی تقسیم میں نچلے طبقے کا خیال نہیں رکھا ہے تو موصوف کا جواب تھا کہ ” The share in the power and governance doesn’t depend on given ticket” ادھربعض لیڈران تکثیری سماج کی سیا ست میں مطلوبہ حکمتِ عملی کے شعور سے خالی نظر آرہے ہیں۔ کبھی’ اسلامی سیاست‘ کا تعارف کراتے ہیں تو کبھی سیکولر سیاست کی بات کرتے ہیں۔
صورتحال کے تجزیے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ یوپی میں یہ نئے مسلم سیا سی تجربات مضبوط سیاسی ایجنڈوں اور ایشوز سے خا لی ہیں ۔ ساتھ ہی نظریاتی طور پر بہت ہی نا پختہ ہیں ۔کچھ سیٹوں کے حصول میں اگر یہ کامیاب ہو جائیں تو یہ سیا ستِ حاضرہ کی کرشمہ سازی ہی ہو گی ۔ویسے یو پی کی سیاست میں ایک مضبوط مسلم سیاسی تجربے کے لئے اسپیس موجود ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مضبوط نظریاتی قوت،واضح حکمتِ عملی ،گہری سوجھ بوجھ کی حامل قیادت Matured Slogans اور ٹھوس سیاسی ایجنڈوں کے ساتھ ایک نئے مسلم سیاسی تجربے کی تیاری کی جائے ۔
شبلی ارسلان، سابق مدیر رفیق منزل، ہندی








