<?xml version="1.0" encoding="UTF8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>رفیق منزل</title>
	<atom:link href="http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com</link>
	<description>نئی نسل کا معمار اور تعمیر و ترقی کا داعی</description>
	<lastBuildDate>Sun, 05 Feb 2012 15:14:29 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.2.1</generator>
		<item>
		<title>کچھ راستہ ہے باقی‘ کچھ دورآچکے ہیں</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88-%d8%a2%d9%81-%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%ba%d8%a7%d9%85-%da%a9/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25b5%25d8%25af%25d8%25b1-%25d8%25aa%25d9%2586%25d8%25b8%25db%258c%25d9%2585-%25d8%25a7%25db%258c%25d8%25b3-%25d8%25a2%25d8%25a6%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588-%25d8%25a2%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2588%25db%258c%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%25be%25db%258c%25d8%25ba%25d8%25a7%25d9%2585-%25da%25a9</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88-%d8%a2%d9%81-%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%ba%d8%a7%d9%85-%da%a9/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:51:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2374</guid>
		<description><![CDATA[’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے، اور ان سب کے لیے قرآن حکیم سے اٹوٹ والہانہ اور شعوری رشتہ بنائے رکھئے‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :محمداظہرالدین صدر تنطیم ایس آئی او آف انڈیا حرکت تبدیلی کی علامت ہے اور تبدیلی تحریک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>’’اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔ اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے، اور ان سب کے لیے قرآن حکیم سے اٹوٹ والہانہ اور شعوری رشتہ بنائے رکھئے‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :محمداظہرالدین صدر تنطیم ایس آئی او آف انڈیا</strong></p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">حرکت تبدیلی کی علامت ہے اور تبدیلی تحریک کا خاصہ۔تحریک بذات خود بھی حرکت ہی سے عبارت ہے۔وقت کا گزرنا ایک فطری امر ہے لیکن اس گزرتے وقت کے ساتھ تبدیل ہونا حقیقی زندگی کا ثبوت ہے۔<br />
ایس آئی اوآف انڈیا کی پندرہویں میقات کا ایک سال مکمل ہوا۔ تنظیم کی زندگی میں جس قدر اہمیت منصوبہ بندی کی ہوتی ہے اتنی ہی (بلکہ اس سے زیادہ) اہمیت جائزہ اور احتساب کی ہوتی ہے۔اس تحریر میں زونس کی یک سالہ کارکردگی کے پس منظر میں چند باتیں پیش نظر ہیں۔<br />
میقات کی ابتداء میں پالیسی کی وضاحت کے دوران یہ بات عرض کی گئی تھی کہ مختلف محاذوں پر ہمہ جہتی اور توازن کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔الحمد للہ زونس کی یک سالہ کارکردگی پراجمالی نظر ڈالنے سے اطمینان ہوتا ہے کہ زونس نے ہمہ جہتی انداز میں کام کیا ہے۔ اسٹوڈنٹس ایکٹیوزم کے محاذ پر کیرالا کے ساتھ اس میقات میں ویسٹ بنگال نے بھی معیاری کام کیا ہے۔ چند میقات پہلے ویسٹ بنگال زون سے متعلق یہ تصور تھا کہ وہاں اسٹوڈنٹس ایکٹیوزم کے لئے نہ ریاستی اور تعلیمی حالات موافق ہیں اور نہ وابستگان کا مزاج۔۔۔ لیکن ویسٹ بنگال کی پرجوش قیادت اور فعال ٹیم نے اس تصور کو غلط ثابت کیا۔میقات رواں میں اس زون نے کیمپس کیمپس تنظیم کی آواز کو بلند کیا۔ مولانا آزاد کالج میں یونین الیکشن میں تاریخی جیت کے ساتھ تنظیم کے پرچم کو بلند کیا۔طلبہ میں بڑھتے ظلم و زیادتی اور تشدد کے رجحان کے خلاف پوری ریاست میں پر اعتماد اور نڈر ہوکر احتجاج کیا۔ تعلیمی سال کے آغاز پر Massive Program in Campusesکی عمدہ مثال پیش کی ۔ریاستی تعلیمی ایجنڈے پر اثر انداز ہونے کے لئے سیمینار اور سمپوزیم کا انعقاد بھی کیا اور ریلی اور دھرنوں کا اہتمام بھی۔ کرناٹک اور آندھراپردیش تنظیمی اعتبار سے بڑے زون ہونے کے باوجود کیمپس میں نفوذ اور طلبائی رخ کے محاذ پر نسبتاََ کم متحرک تھے۔ لیکن اس میقات میں ان دونوں زونس نے کیمپس مرکوز سرگرمیوں میں قدرے اضافہ کیا ہے۔ طلبہ کی فلاحی سرگرمیاں اوراشوز کی لمبی فہرست اس کی علامت ہیں۔ یوپی سینٹرل اور مدھیہ پردیش ایسٹ نے افرادی قو ت کے محاذ پر شاندار اضافہ درج کرایا ہے۔ان زونس میں ممبران کی تعداد میں قریبا ۵۰؍ فیصد تک اور اسوسی ایٹس اور یونٹس و سرکلس کی تعداد میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ گجرات نے نازک سیاسی حالات میں اورمعمولی افرادی قوت کے ساتھ گجرات کی تنظیمی تاریخ میں پہلی مرتبہ حلقہ کی سطح پر عظیم الشان اسٹوڈنٹس کانفرنس کا انعقاد کیا ہے۔ راجستھان اور تامل ناڈو نے علاقائی سطح پر کامیاب کانفرنسوں کی شکل میں بڑے پیمانے پر تنظیم کا تعارف عام کیا ہے۔ مہاراشٹر نارتھ اور ساؤتھ زون نے دعوتی محاذ پر نہ صرف کیڈر کو متحرک کیا ہے بلکہ قبول اسلام کے حیرت انگیز واقعات بھی ان زونس میں سامنے آئے۔ نیز مخصوص ریاستی حالات میں دعوت دینے کی جانب پیش قدمی کی۔یوپی مغرب اور بہار زون نے ’ریاستی تعلیمی کارواں‘ اور’ تعلیم بچاؤ‘ جیسے موضوعات پر منفرد اور موثر پروگرام کئے۔اے ایم یو زون نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کے سلسلے میں عظیم الشان سیمینار کے ذریعے اسے موضوع بحث بنایا۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ زون نے ایک اشو کے سلسلے میں فیس بک پر مہم چھیڑکر یہ ثابت کیاکہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس انقلابی تبدیلیوں کے لئے موثر ذریعہ ثابت ہو سکتے ہیں۔یوپی ایسٹ زون نے تقسیم زون کے بعد انتہائی کم افرادی اور مالی وسائل کے ساتھ توسیع و استحکام پرلگ کر اور یکسو ہوکرتوجہ دی۔ جھارکھنڈ اور مدھیہ پردیش مغرب نے دینی مدارس کے سلسلے میں کامیاب پروگرام کے ساتھ ثابت کیا کہ دینی مدارس میں کام کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔۔۔۔۔الغرض مختلف محاذوں پر تقریبا تمام زونس نے ہمہ جہت انداز میں کام کیا ہے۔ ان کاوشوں میں صرف ہمارے زونل ذمہ داران مبارکباد کے مستحق نہیں بلکہ وہ ہزاروں لاکھوں ممبران اور اسوسی ایٹس بھی قابل مبارکباد ہیں جنہوں نے ا پنا پسینہ بہاکر‘ لہو جلا کر‘ وقت گھلاکر اورصلاحیت لگاکر کاغذ کے ان منصوبوں کو عمل کی دنیا میں نافذ کیا۔۔۔۔۔ یا رب العالمین ! ہمارے ان تمام دوستوں کو ان کی کاوشوں کا بہترین صلہ عطاکر۔۔۔۔<br />
لیکن ساتھیو! مومن کی نظر اپنی خوبیوں سے زیادہ اپنی کمزوریوں پر ہونی چاہئے۔ حقیقت پسندانہ احتساب‘ بے لاگ جائزہ اور کمزوریوں پر کڑ ی تنقیداگر سنجیدگی کے ساتھ ہو تو دل شکنی اور مایوسی کا باعث نہیں بنتی بلکہ منزل کی جانب تیز رفتار کردیتی ہے۔۔۔لیکن اس جائزہ و احتساب کے لئے سب سے پہلے یہ ضروری ہے کہ خود مقصد کا شعور بھی واضح ہو اور منزل کے مراحل اورراستے کے سنگ ہائے میل کا بھی پتہ ہو۔ اسی احساس کے ساتھ چند باتیں مزید پیش کر نی ہیں۔۔۔۔<br />
سب سے پہلے ایس آئی او کے وابستگان کو اپنے کندھوں پر موجود ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔ ایس آئی او صرف ایک تنظیم یا این جی اونہیں ہے۔ تحریک اسلامی نے اسے انتہائی اہم محاذ سونپا ہے۔ تحریک اسلامی اس ملک اور سماج کی فکری اور نظریاتی امامت کرنا چاہتی ہے۔ اس عظیم کام کے لئے افراد کی فراہمی SIOہی کے ذمہ ہے۔ گویاSIOکے رخ اور ترجیحات‘ حرکت اور رفتار کا راست اثر تحریک اسلامی پر اور اس کے توسط سے ملک و سماج کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ SIOکو بلاشبہ کیمپسوں کی نئی صورت گری کرنا ہے۔طلبہ اور نوجوانوں کے ذہنی مشاکلہ کو تبدیل کرنا ہے۔ ان کے اخلاق و کردار کو بھی سنوارنا ہے اور ان کی صلاحیتوں کوبھی ثمر آوربنانا ہے۔ یہ وژن اپنے اندر پیدا کرنا ہے کہ وہ طلبہ اور نوجوانوں کے قافلے کی ڈرائیونگ فورس بنے گی۔ فحاشی اور عریانیت کے خلاف بند باندھے گی۔ صحت افزاء Entertainment کا ماحو ل پیدا کرے گی۔ سنجیدہ بحثوں کا آغاز کرے گی۔ مسائل کے حل میں پیش قدمی کرے گی۔ کمزور اورمظلوم طلبہ کی آواز بن کر ابھرے گی۔ اسے باطل عقائد ‘ گمراہ کن افکار اور استحصالی نظام کا مدلل اور علمی پوسٹ مارٹم کرنا ہے۔ فلسفۂ تعلیم اور مقاصد تعلیم پر سوالیہ نشان لگا کر تعلیم کے اصل مقاصد پر نہ صرف بحثوں کا آغاز کرنا ہے بلکہ اس سمت متبادل کے طور پر کچھ ٹھوس کام کرنا ہے۔ تعلیم کے ایجنڈے پر اثر انداز ہونا ہے۔مراکز قوت (Power Structures) پر توجہ دینی ہے ۔اپنی صفوں میں ایسے بہترین قلم کار‘ تجزیہ نگار‘ مبصرین‘ میڈیا پرسنس‘ وکلاء‘ سائنٹسٹ‘ محققین ‘ خدمت گزار‘ ماہرین سماجیات و معاشیات‘ اداکار‘ آرٹسٹ وغیرہ کی ایسی کھیپ کی کھیپ تیار کرنی ہے جو ایک جانب فنی طور پر ماہر بھی ہواور اور فکری و نظریاتی طور پر مضبوط بھی۔۔۔۔۔ یہی وہ کام ہے جو ایک نئے تمدن ‘ مثالی تمدن‘ الہی ہدایات پر مبنی تمدن کی تشکیل میں کلیدی اور دوررس اثرات کا حامل ہے۔اس کام کے لئے وابستگان ایس آئی او کو اپنی طویل المیعاد ذمہ داریوں کو بھی سمجھنا ہے اور مختصر المیعادتقاضوں کو بھی۔اور ان Long TermاورShort Term Goalsپر صحیح تناسب کے ساتھ توجہ دینی ہے۔ یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ خدمت اسلام اور پروفیشنل زندگی دو علیحدہ علیحدہ چیزیں نہیں ہیں۔ تعمیر انسانیت کے لئے ان تمام شعبہ ہائے زندگی پر اثر انداز ہونا ضروری ہے۔ اس کام کے لئے ہر صلاحیت اور ہرفنی میدان اہمیت کا حامل ہے۔ ’ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا‘ کے مصداق ہر فرد اپنی مخصوص صلاحیت سے اثرانداز ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کام کے لئے لگ کر اور جٹ کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صبر اور قربانی کے روایتی مفہوم کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ لائبریریز میں ‘ لیباریٹریز میں ‘ دانش گاہوں میں ‘ تعلیمی اداروں میں‘ سیمینارہال میں‘ ڈسکشن روم میں جن تبدیلیوں کے بیج بوئے جاتے ہیں وہ ہرگز سڑکوں اور چوراہوں پرنہیں بوئے جاسکتے۔ تعلیم‘ معاشیات ‘سیاست ‘ تجارت اور تہذیب و تمدن کے دیگر تمام مظاہر افکار و نظریات کی دنیا ہی سے جلوہ گر ہوتے ہیں۔ ان دور رس مقاصد کے حصول کے لئے ہمیں سیکھنے اور کرنے کا مزاج پیدا کرنا ہے۔ اقدامی مزاج پیدا کرنا ہے۔ تعمیر کے ہر پروگرام میں حصہ لینا ہے۔ ایک ایک فرد اور ایک ایک صلاحیت کو قیمتی جاننا ہے۔ہر کیمپس اور ہر یونیورسٹی میں قدم جمانے ہیں۔سماج کے ایک ایک شعبہ کو تبدیلی کا ذمہ دار سمجھنا ہے۔تنظیم کے اس وژن کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمیں اپنے کاموں کا جائزہ لینا ہے۔<br />
) اس تناظر میں افرادی قوت میں بحیثیت مجموعی ہماری شرح بہت سست رفتار ہے۔ تین زون کو چھوڑ کرکوئی بھی زون ممبران کی تعداد میں ۲۵فیصد گروتھ ریٹ درج نہیں کرا سکا۔ اکثر زونس نے ۱۰ فیصد سے بھی کم گروتھ ریٹ حاصل کی ہے اور بعض نے تو منفی گروتھ ریٹ درج کی ہے۔ ظاہر ہے یہی ممبران ہماری تنظیم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہی ممبران کی تربیت اور ٹریننگ سے ہمیں سماج پر اثر انداز ہونا ہے۔ یہ ہمار ے لئےsource Re کی حیثیت رکھتے ہیں۔<br />
یونٹس کی تعداد میں اضافہ بھی کافی کم ہواہے۔ دیئے گئے ٹارگیٹ (موجودہ یونٹس میں ۲۵ فیصد کا اضافہ) کا نصف بھی چند ہی زونس حاصل کرپائے ہیں۔ا ور اس سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہماری باوزن اور مضبوط یونٹس میں کوئی قابل قدر گروتھ نہیں ہوئی۔ میقات کی ابتدا میں بتایا گیا تھا کہ ہمیں اپنی بیشتر یونٹس کو۵ممبران سے زائد والی یونٹ میں تبدیل کرنا ہے۔ ملکی سطح پر تما م یونٹس کی تعداد کا صرف ۲۰ فیصد حصہ5ممبران سے زائد پر مشتمل ہے۔ واضح رہنا چاہئے کہ یونٹس ہماری تنظیم کی اصل قوت ہیں۔کیمپسزاور سماج پر اثر انداز ہم یونٹس ہی کے حوالے سے ہوتے ہیں۔کمزور اور لڑکھڑاتی یونٹس کے ساتھ ہم ہمہ جہت اور موثر کام نہیں کرسکتے۔<br />
اکثر زونس علاقائی طور پر عدم توازن کا شکار ہیں۔کئی زونس ایسے ہیں جہاں نئے ممبران کی ۹۰ فیصد تعداد ایک مخصوص علاقہ/ڈویژن سے تعلق رکھتی ہے۔صرف ممبران کی تعدا د نہیں بلکہ سرگرمیوں کے اعتبار سے بھی علاقائی سطح پر یہ عدم توازن محسوس ہوتا ہے۔حلقہ کی سطح پر ہونے والی بیشتر سرگرمیاں چند علاقوں تک محدود ہے۔ یہ افسوسناک صورت حال بعض بڑے زونس میں بھی نمایاں ہے۔<br />
زونس اور یونٹس کے کاموں میں بھی ایک توازن درکارہے۔ بعض زونس میں تمام سرگرمیاں زون سے Spoon Feedکی جاتی ہیں تو چند زونس ایسے بھی ہیں جہاں زونس کی رپورٹ کا بیشتر حصہ یونٹس سے ترکیب پایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک حسین امتزاج پیدا ہونا چاہئے۔ سرگرمیوں کے اعتبار سے یونٹس کو زون کی سرگرمیوں کا ’عکس‘ نہیں بننا ہے بلکہ اپنی منفرد پہچان بھی پیدا کرنی چاہئے۔<br />
افرادی قوت میں عدم توازن (Disparity) کا حیرت انگیز مظہر ملکی سطح پر بھی ہے۔ مثلا کیرالا‘ کرناٹک ‘ آندھراپردیش‘ مہاراشٹر اور ویسٹ بنگال ان ۵ریاستوں میں ہمارے ممبران کی ٹھیک ۷۵ فیصد تعداد موجود ہے اور بقیہ۲۲زونس اور ڈیولپنگ زونس میں صرف ۲۵ فیصد ممبران ۲۰۱۱ ؁ء میں بننے والے کل نئے۶۴۱ممبران میں سے ۵۲۳ کاتعلق بھی مذکورہ بالا۵ریاستوں سے ہے (۸۱فیصد)جبکہ بقیہ زونس سے صرف۱۱۸نئے ممبر بنے ہیں۔ یہ صورت حال بڑی تشویش ناک ہے۔<br />
) اعداد و شمار کے حوالے سے سب سے زیادہ قابل توجہ پہلو ہمدرد (Sympathisers)میں اضافہ کا ہے۔ تنظیمی اصطلاح میں ہمدرد سے مراد وہ غیر مسلم طالب علم یا نوجوان ہے جو ہمارے مقاصد سے اتفاق رکھتا ہو اور وقتا فوقتا ہماری سرگرمیوں میں شریک ہوتا ہو۔ اس سال ہمدرد میں شرح اضافہ بہت معمولی ہے۔ یہ پہلو اس لئے اہم ہے کہ گزشتہ کئی میقاتوں سے ہم یہ بات کہتے آرہے ہیں کہ ہمارے مخاطب تمام طلبہ و نوجوان ہیں۔ ہم مذہبی بنیادوں پرطلبہ کے درمیان اس طرح کا خط امتیاز نہیں کھنچنا چاہتے ہیں کہ ہماری فلاں سرگرمیوں پر صرف مسلم طلبہ کی اجارہ داری ہے اور فلاں میں غیر مسلم دوستوں کو بھی آنے کی ’گنجائش‘ ہے۔ ’ہم‘ اور ’وہ‘ میں تقسیم کرنے کا یہ مزاج داعی تحریک کے شایان شان نہیں ہے۔ Polarisationہندوستانی مخلوط سماج کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ ہم نے بہت سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گزشتہ چند میقاتوں سے مسلم طلبہ اور غیر مسلم طلبہ کے الفاظ کی بجائے صرف طلبہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔اس کا مقصود یہ ہے کہ ہماری ہرسرگرمی کے مخاطب تمام طلبہ ہیں۔ہمیں اپنے طرز عمل سے قرآن حکیم کے ’للناس‘ اور ’’للعالمین‘ کے آفاقی مزاج (Universal Approach) کی نمائندگی کرنی ہے۔ہمدردوں کی تعداد میں بہت معمولی اضافہ اس بات کاتأثر دیتا ہے کہ ایک جانب ہمارا دعوتی کام متاثر ہورہا ہے اوردوسری جانب یہ حقیقت بھی واضح کرتا ہے کہ ہماری عمومی سرگرمیوں (اشوز‘ سیمینارس‘ طلبہ کی فلاحی سرگرمیاں‘ کیمپس سرگرمیاں‘ سماجی خدمت) میں بھی ہم غیر مسلم دوستوں کو اپنا سمجھنے کے روادار نہیں ۔مجھے بڑا افسوس ہوا کہ بعض زونس نے تو اپنی ریجنل یا ریاستی کانفرنس کے موضوع‘ اپروچ‘ تشہیر اور شرکت تمام میں غیر مسلم طلبہ کو مکمل محروم کردیا۔ اور اپنے مقاصد میں تحریرا لکھ دیا کہ یہ صرف مسلم طلبہ اور نوجوانوں کے لئے ہے۔ صد افسوس! مجھے قوی امید ہے کہ میقات کے دوسرے سال اس رویہ میں بڑی تبدیلی آئے گی۔<br />
) اس میقات میں یہ بات بھی طے کی گئی تھی کہ کلچرل ایکٹیوزم پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ثقافتی ذرائع (Cultural tools) فی زمانہ ذہن سازی اور Opinion Buildingکا بلامبالغہ سب سے موثر ہتھیار ہیں۔ بطور خاص طلبہ اور نوجوان طبقہ تو اسی سے متاثر ہے۔ ہمیں مین اسٹریم کلچرل سرگرمیوں پر اثر انداز بھی ہونا ہے اور کیمپسیز کے اندر ہونے والی کلچرل سرگرمیوں میں بھی شمولیت اختیار کرنی ہے۔ ان سرگرمیوں میں فحاشی اور عریانیت اور بے مقصدیت کے سبب ان سے Aloof نہیں رہنا ہے بلکہ ان میں شامل ہوکر اور ان پر اثر انداز ہوکر ان کے رخ کو تبدیل کرنا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ ہمارے حلقوں میں بہترین کلچرل صلاحیتیں موجود ہیں۔ ضرورت صرف ان کے Exposureکی ہے۔ ڈرامے‘ نکڑناٹک‘ مونو ایکٹ ‘ کارٹون ‘ پینٹنگ ‘ فلمیں‘فوٹوگرافی‘ڈاکیومینٹری‘ شاعری‘ افسانہ او ناول نگاری غرض ہر قسم کی سرگرمی کو ہمیں اپنے حلقہ میں جگہ دینی ہے۔ اس جگہ دینے کے لئے کنجوسی کا اور سوتیلے پن کا رویہ اختیار نہیں کرنا ہے۔ ہمارے عمومی اور ریگولر پروگرام میں ان کلچرل سرگرمیوں کے لئے فاضل وقت نہیں رکھنا ہے۔ بلکہ باضابطہ اسے جگہ دینی ہے۔ ایک اضافی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ Unavoidable Activity کے طور پر۔۔۔۔ صرف حلقہ کی سطح پر نہیں بلکہ یونٹس اور کیمپس کی سطح پر ہمارے فعال کلچرل فورمز بننے چاہئے۔ Cultural Talent Huntکی باضابطہ یا غیر رسمی طور پر مستقل مہم چھیڑی جانی چاہیے۔<br />
) ہماری طلبائی سرگرمیوں میں الحمدللہ اضافہ ہورہا ہے۔ الیکن ان میں سے بیشتر سرگرمیاں کیمپس کی چہار دیواریوں سے باہر ہیں۔نیز کیمپس میں ہونے والی سرگرمیوں میں بھی بیشتر سرگرمیاں ان وابستگان تنظیم کے ذریعے ہے جو خود کیمپسیز کا حصہ نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم کیمپسیز میں جذب نہیں ہو پارہے ہیں۔ وہاں اثر انداز نہیں ہو پارہے ہیں۔ ہم گوشوں اور کونوں میں جگہ بنا رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ اس سے یہ خوش فہمی تو ہے کہ ہم ’ سرگرم ہیں لیکن اصل دائرہ کار کیمپسیز ’سرد ‘ پڑے ہیں۔ ہمیں کمیپس کے طلبہ کومتحرک کرنا ہے اور انہی طلبہ کے ذریعے سے متعلقہ کیمپسیز میں اپنی جگہ بنانی ہے۔<br />
کئی اہم کیمپسیزمیں ہم نفوذ کرنے میں سست واقع ہو رہے ہیں۔Prestigious Institution‘ معاشیات‘ قانون‘ جرنلزم‘ سوشل سائنسیز‘ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ جیسے اہم اداروں میں ہماری نمائندگی نہیں کے برابر ہے۔ تنظیم کے وژن کو سامنے رکھتے ہوئے ہمیں ترجیحی طور پر اور شعوری کوششوں کے ذریعے یہاں نفوذ کی کوششیں کرنی ہیں۔<br />
) Social Engagementپر ہمیں مزید یکسو ہونا ہے۔ سماج اور طلبہ برادری کے اصل مسائل اور اشوز سے خود کو جوڑیئے۔ ایسا نہ ہو کہ معاشرے کے سماجی‘تعلیمی‘ سیاسی اور اخلاقی مسائل کچھ ہوں اور ہم ان سے بے نیاز کسی اور دنیا میں ’مصروف‘ ہوں۔ ان کے بیچ رہئے۔ Contributeکرنے کا مزاج اور بڑھنا چاہئے۔ میرا احساس ہے کہ فلاحی سرگرمیوں کے لحاظ سے ہم اب بھی کافی پیچھے ہیں۔ محض بیداری لانے والے پروگرامز کے مقابلے ٹھوس اور نتیجہ خیز کاموں کا تناسب بڑھایا جاسکتا ہے۔ شاہد ہم اپنے آپ کو ٗUnderstemiteکرتے ہیں۔ ملت اور سماج کی حقیقی ضرورتوں کا تعین کیجئے۔<br />
) اپنی ذاتی تر بیت اور اپنے کو سنوارنے اور نکھارنے کا عمل مزید تیز تر ہونا چاہئے۔ فرد کی اصلاح اور ارتقاء ہماری ساری کوششوں میں سب سے مقدم ہے۔ اجتماعی ماحول اس قدر جاندار ہونا چاہئے کہ فرد تیزی کے ساتھ تزکیہ( Journey from Imperfection to Perfection) کی جانب سفر کرتا چلا جائے۔ برائی پر عمل کرنا اس کے لئے محال ہوجائے۔ چھوٹی چھوٹی نیکیوں کا وہ حریص ہو‘ اعلی ظرفی اور وسیع النظری کا وہ مظاہرہ کرے۔معاملات شفاف ہوں۔تعلقات گھر میں‘ معاشرے میں‘ کیمپس میں‘ کمپنی میں اور دوستو ں کے ساتھ سب جگہ بہتر ہوں۔ ہر ایک کے حقوق ادا ہوں۔ تنظیمی جدوجہد سماج میں رہنے والے لوگوں کی حقوق تلفی کا سبب نہ بنے۔قول و عمل میں تضاد نہ محسوس ہو۔ ایمانداری کا درس دینے والا ہمارا طالب علم Malpracticesکا شکار نہ ہو۔ پاکیزگی کی گفتگو کرتے کرتے انٹرنیٹ اور موبائیل پر موجود فحاشی کے سمندر میں پیر پھسل نہ جائیں۔ عدل و مساوات کی دہائی دینے والے بچھڑے طبقات کے طلبہ کے ساتھ اچھوتے رویہ کا مظاہرہ نہ کریں۔ مطالعہ کا میدان وسیع ہو۔ مطالعہ مستقل ہو‘ اپنی اصلاح لئے ‘ اپنے شعور کو مضبوط کرنے کے لئے ہو نہ کہ Information Boxبننے کے لئے۔ ہر کام کی بنیاد ’شوق‘ بنے۔ پیارے رسول ﷺ نے فرمایا۔ ’شوق میری سواری ہے‘ ۔ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے شوق کی سواری پر بیٹھئے۔اصل اور آخری منزل(جنت الفردوس) کو ہر لحظہ نظروں کے سامنے رکھئے۔ اور ان سب کے لئے قرآن حکیم سے اٹوٹ ‘ والہانہ اور شعوری رشتہ بنائے رکھئے۔۔۔<br />
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان اللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار<br />
کردار کا نکھار قرآن سے تعلق کے بغیر ممکن نہیں۔۔۔۔۔<br />
ساتھیو! دنیا اس وقت تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے۔ تغیر اسکوائر اور تحریر اسکوائر سے Occupy Wall Street Movementتک ایک تبدیلی کا زمانہ ہے۔ اس پورے منظر نامہ کی خصوصیت یہ ہے کہ Even an Ordinary man can change the Society (ایک عام آدمی بھی سماج کو بدل سکتا ہے)۔ اپنی قوت کو پہچانئے۔۔۔۔ مواقع کی دنیاہے۔۔۔<br />
موسم اچھا‘ پانی وافر‘ مٹی بھی زرخیز جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>محمداظہرالدین </strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b5%d8%af%d8%b1-%d8%aa%d9%86%d8%b8%db%8c%d9%85-%d8%a7%db%8c%d8%b3-%d8%a2%d8%a6%db%8c-%d8%a7%d9%88-%d8%a2%d9%81-%d8%a7%d9%86%da%88%db%8c%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%d9%be%db%8c%d8%ba%d8%a7%d9%85-%da%a9/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاپولر کلچر۔ تنقیدی جائزہ</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%be%d8%a7%d9%be%d9%88%d9%84%d8%b1-%da%a9%d9%84%da%86%d8%b1%db%94-%d8%aa%d9%86%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%d8%b2%db%81/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%25be%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25b1-%25da%25a9%25d9%2584%25da%2586%25d8%25b1%25db%2594-%25d8%25aa%25d9%2586%25d9%2582%25db%258c%25d8%25af%25db%258c-%25d8%25ac%25d8%25a7%25d8%25a6%25d8%25b2%25db%2581</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%be%d8%a7%d9%be%d9%88%d9%84%d8%b1-%da%a9%d9%84%da%86%d8%b1%db%94-%d8%aa%d9%86%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%d8%b2%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:50:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2379</guid>
		<description><![CDATA[&#8220;why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u&#8221; مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔ یہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں نمودارہونے والا تازہ ترین دھماکہ (BUZZ) ہے۔ لیکن میں نے یہاں اس کا حوالہ کیوں دیا ہے؟ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>&#8220;why this kolaveri kolaveri kolaveri di 133. distance la moon-u moon-u, moon-u color-u white-u, white background night-u nigth-u, night-u color-u black-u&#8221;</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ یہ کیا چیز ہے۔ یہ نوجوان نسل کے ذہنوں میں نمودارہونے والا تازہ ترین دھماکہ (BUZZ) ہے۔ لیکن میں نے یہاں اس کا حوالہ کیوں دیا ہے؟ آخر ہم لوگ (پرانی نسل کے لوگ)موجودہ کلچر کے بارے میں یہی سب کچھ سوچتے ہیں۔۔۔ بے معنیٰ ، بے سمت، کسی آہنگ کے بغیر۔ جیسے کہ کولاوری کا یہ گانا۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ ہر پرانی نسل کا خیال نئی نسل کے متعلق یہی ہوتا ہے کہ وہ ان کے کلچر کی پیروی نہیں کررہی ہے۔ اس لئے کلچر بذات خود اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ یہ پرانے کلچر سے ہی اخذ کیا جاتا ہے اس معمولی تبدیلی کے ساتھ کہ اس میں نئی ٹیکنالوجی اور نئی معلومات کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس طرح یہ سمجھنا اہم ہوجاتا ہے کہ کلچر میں کیا چیزیں شامل ہوتی ہیں او ر کیا چیز اسے عوام میں پاپولر بنادیتی ہے۔ اسی کے ساتھ یہ ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ انسانی زندگی کے ان مختلف پہلوؤں کو نوجوان نسل میں کیسے لایا جائے جن کو ہم عام کرنا چاہتے ہیں۔<br />
پاپولر کلچر کیا ہے؟<br />
کلچر ایک ایسا لفظ ہے جس کے کئی معنیٰ پائے جاتے ہیں۔ البتہ بالعموم اس کا استعمال مندرجہ ذیل معنوں میں کیا جاتا ہے۔<br />
*ہیومنیٹیز اور فائن آرٹس کے میدانوں میں بہترین ذوق کا مظاہرہ جس کو بالعموم ہائی کلچر بھی کہا جاتا ہے۔<br />
*انسانی معلومات، عقائداور رویوں کا ایک ملا جلا مظاہرہ جو سماجی علم اور خیالات پر منحصر ہوتا ہے۔<br />
*کسی تنظیم ادار ہ یا گروہ کے مشترکہ رویے، اقدار ، مقاصد اور روایات۔<br />
پاپولر کلچر دراصل کئی چیزوں کے مجموعے کا نام ہے جو موسیقی، ٹی وی، کتابیں، ریڈیو، کار، کپڑے، تفریحات وغیرہ پر مشتمل ہے اور یہ فہرست طویل تر ہے۔ اگر کوئی چیز کسی کے لئے پاپولر نہیں ہے تو عین ممکن ہے کہ کسی اور کے لئے ہو۔ ڈاکٹر رے براؤن کا مندرجہ ذیل قول پاپولر کلچر کی اچھی تشریح پیش کرتا ہے۔<br />
پاپو لر کلچر لوگوں کے کسی گروہ ، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، کے روزمرہ کلچر کا نام ہے۔<br />
پاپولر کلچر ہماری روزمرہ زندگی کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتا ہے۔<br />
پاپولر کلچر لوگوں کی آوز ہے، ان کی روایات، ان کی پسند اور ناپسند اور ان کی روزمرہ کی زندگی کے معمولات ہیں۔<br />
آج کل کس قسم کا پاپولر کلچر پایا جاتا ہے؟<br />
پاپولر کلچر آج کل لوگوں کے ذہن و دماغ میں پایا جاتا ہے۔ یہ وہ معلومات ہیں جو وہ اخبارات، میڈیا اور میگزینس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ اگر پاپولر کلچر اس کا نام ہے کہ عوام الناس کن چیزوں میں دلچسپی لیتے ہیں تب یہ ہمارے اطراف پائے جانے والی ہر چیز میں موجود ہے۔<br />
گھر میں اپنے اطراف چیزوں پر نظر ڈالئے ۔ کیا آپ کے پاس لیپ ٹاپ،کمپیوٹر، ٹی وی ، اسٹیریو، بیڈ، فریج، کار ، پلے اسٹیشن، کتابیں وغیرہ پائی جاتی ہیں یہ تمام پاپولر کلچر کا حصہ ہیں اس وجہ سے کہ لوگ ان چیزوں کو رکھنا پسند کرتے ہیں۔ آج کل متوسط طبقے کے کس گھر میں ان میں سے کم از کم ایک چیز بھی پائی نہیں جاتی۔<br />
آج کل یہ پاپولر بات ہے کہ ٹی و ی دیکھی جائے اس لئے لوگ دیکھتے ہیں ، اسی طرح کھیل کھیلے جائیں، کرکٹ میچ دیکھا جائے، پارٹیز میں جایا جائے، گرل فرینڈ رکھی جائے، پیسے اڑائے جائیں وغیرہ۔ لوگ اس پاپولر کلچر میں رہتے اور بستے ہیں اور اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں صرف اس بنا پر کہ وہ اس ماحول میں پلے بڑھے ہیں اور اسی ماحول میں سوچنے اور رہنے کے عادی بنائے گئے ہیں۔<br />
یہ پاپولر کلچر صرف چند مخصوص اشیاء کے ذریعے اظہار کا نام نہیں جیسے ٹی وی ، ریڈیو وغیرہ بلکہ یہ جذبات اور روحانی احساسات کے اندر بھی پایا جاتا ہے۔ ہر شخص ڈر، نفرت،خوشی، غم ، پیار محبت جیسے مختلف جذبات سے گزرتا ہے۔ کچھ لوگوں کے پا س کوئی چیز پائی نہیں جاتی اور اس کو حاصل کرنے کے لئے وہ بے چین رہتے ہیں۔ یہ تمام احساسات ہر کوئی محسوس کرتا ہے اور یہ تمام اس کلچر کا بڑا حصہ ہیں۔<br />
یہ پاپولر کلچر بالخصوص شہری علاقوں میں مرکوز ہے۔ چونکہ بڑے تعلیمی ادارے اور تکنیکی سہولیات بڑے شہروں میں بآسانی دستیاب ہوتی ہیں بالمقابل چھوٹے دیہاتوں کے اس لئے پاپولر کلچر شہروں سے شروع ہوتا ہے اور دیہاتوں اور چھوٹے شہروں تک پھیل جاتا ہے۔ اس بات میں کم ہی شبہ ہے کہ اس جدید دور میں بھی جغرافیائی فاصلوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی بنیاد پرپاپولر کلچر مختلف گروہوں کو تقسیم کرتا ہے۔ کسی کالے اور گورے کے مابین کوئی فرق نہیں ہوگا لیکن کسی کپمیوٹر کے جاننے والے اور کمپیوٹر سے ناواقف فرد کے مابین کافی فرق پائے جائیں گے۔<br />
سوسائٹی میں یہ کس طرح تشکیل پاتا اور پھیلتا ہے؟<br />
جن طریقوں سے پاپولر کلچر نوجوانوں اور معاشرے کے درمیان جگہ بناتا ہے وہ لامحدود ہیں لیکن مختصراً صرف دو اہم ذرائع پر ہم بات کریں گے۔ پہلا ہیرو (رول ماڈل)ہے اور دوسرا ٹی وی ، خبریں ، ای میڈیا یا پرنٹ میڈیا ۔<br />
ہر مشہور شخص پاپولر کلچر پر اثرانداز ہوتا ہے وہ کس طرح کے لباس پہنتا ہے ، کس طرح اداکاری کرتا ہے ، کس طرح نظر آتا ہے ، کس سے اس نے شادی کی ہے ، یہاں تک کہ اس کے بچے کون ہیں، ان کی زندگی کے ہر پہلو کے بارے میں لوگ جانتے ہیں، کیونکہ کسی میگزین میں لوگوں نے اسے پڑھ لیا یا یہ خبر ، ٹی وی یا کسی دوسرے طریقے سے دیکھ لی۔<br />
ہیروز یا فلمی اداکار پاپولر کلچر کو نوجوانوں تک پھیلانے کے لئے ذرائع ابلاغ کا ضروری حصہ ہیں۔ہر کسی کا ایک پسندیدہ ہیرو ہوتا ہے یا کم از کم ان ہیروز کے بارے میں اسے کوئی چیز پسند ہوتی ہے۔ ہیروز لوگوں کے لئے رول ماڈل ہوتے ہیں ، خاص طور سے نوجوانوں کے لئے ، جن کا وہ احترام کرتے ہیں۔ لیکن یہ اداکار یا ہیروز صرف سپرمین کی طرح روایتی قسم کے ہیروز نہیں ، بلکہ ڈیوڈ بیکہم ،، دلائی لامہ ، عامر خان ، مہاتما گاندھی ، اور اسی طرح کی طرح مشہورشخصیتیں بھی ہیں۔<br />
نیوز میڈیاسائنسدانوں اوردانشوران کا کام عام لوگوں تک پہنچاتاہے ، اکثر ان چیزوں کو جن میں موثر اپیل یامتاثر کن کشش ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر ،جئینٹ پانڈا(giant pandas )پاپولر کلچر کی ایک معروف شئے بن چکی ہے ، جبکہ parasitic worms نہیں بن پائے۔ میک ڈونلڈ ، پزا ہٹ اور KFC کے بارے میں کون نہیں جانتاہے ؟ آپ ماحول دوست اشیاء کے بارے میںیا جن لوک پال کے متعلق بحث کیوں کرتے ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ ان چیزوں کے بارے میں بات کرناآج کل پاپولر ہے ۔<br />
اورپاپولر کلچر کیسے پھیلتا ہے اور کیوں؟ اس کا کوئی واضح جواب نہیں ہے اگرچہ اس کے کئی جواب موجود ہیں۔یہ جان بوجھ کر یابنا سوچے سمجھے کیا جانے والا عمل ہوسکتا ہے ، بزنس پر مبنی یا نظریے پر مبنی کوئی تھیوری ہوسکتی ہے ، طاقت یا تحفظ کا کھیل ہوسکتا ہے ۔ اس کے پیچھے کئی دلائل دیئے جاسکتے ہیں مختصر اً یہ کہ یہ سماج کے اجتماعی فہم پر انحصار کرتاہے کہ وہ اپنی اگلی نسل کو کس طرح دیکھنا چاہتے ہیں۔<br />
آج کے دور میں اس کلچر کی اہم خصوصیات<br />
کلچر کی طرح ، پاپولر کلچرکی بھی چند خصوصیات ہیں۔ پاپولر کلچر سیکھا جاتا ہے ، اور اسے وضع کیاجاتا ہے۔ہم یہاں بجائے تفصیل کے اس کو آسان انداز میں پیش کرتے ہیں۔<br />
1۔ تبدیلی ہی مستقل ہے۔ ۔۔تیزرفتار اور مختلف ذرائع ابلاغ کے اثرات کی بنا پرپاپولر کلچروقت کی ایک قلیل مدت کے اندر اندر بنتا بھی ہے اور ختم بھی ہوجاتا ہے۔ آپ جینس کی ایک مخصوص قسم آج پہن رہے ہوں گے اور کل یہ مختلف ہوگی۔ تبدیلیاں کافی تیز رفتار ہیں اور انسان مجبوراً انھیں اختیار کرلیتا ہے۔<br />
2۔ بے صبری ہی صبر ہے ۔۔۔ اگر ہم پاپولر کلچر کا تجزیہ کریں تب ہم پائیں گے کہ یہ بیتاب ہوتا ہے۔ یہ اپنے پیروکاروں کو بے صبرا بناتا ہے۔ مثال کے طور پر براڈبینڈ انٹرنیٹ کنکشن آج کل پاپولر ہے اور اگر کہیں ہم سست رفتار ڈائل اپ دیکھیں تو ہمارا رد عمل کیا ہوگا؟یہ نیا کلچر بے صبراہے ، یہ زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرسکتا ہے۔اس کی بہترین مثال فیس بک پر اپ لوڈ کئے جانے والے اسٹیٹس اپ ڈیٹ یا فوٹو اپ لوڈ ہیں ۔ فوری طور پر ہم توقع کرتے ہیں کہ کتنے Commentsیا Likesاس پوسٹ کے لئے آئے ہیں۔<br />
3. تخلیقیت مقصد ہے ۔۔۔نوویشن کسی بھی کلچر کی بقا کے لئے اہم ہے۔پاپولر کلچر اپنے آپ کو مستقل تبدیل کرتا رہتا ہے تاکہ اپنے چاہنے والوں کو مسحور کرتا رہے۔ مثال کے طور پر ، عامر خان کی مختلف فلموں میں بالوں کا اسٹائل۔۔۔!<br />
4 ۔تفریح میں سنجیدگی، سنجیدگی میں تفریح۔۔پاپولر کلچر سے ہم جن بنیادوں پر شکایت کرتے ہیں ان میں ایک اہم یہ ہے کہ وہ ہر چیز میں تفریح اور مزہ دیکھ لیتے ہیں۔ میں نے اپنے دفتر میں مشاہدہ کیا کہ جب لوگ کسی بھی واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ان کی توجہ کا پہلو یہ نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر اہم تھا یا اس سے کیا مدد حاصل ہوئی بلکہ یہ کہ اس میں کیا مزہ حاصل ہوا۔مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ پر معنی پیغامات سے بھی تفریح کا پہلو اخذ کرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کے تفریحی پہلو پر ہی توجہ دی جائے اور بقیہ کو نظرانداز کردیا جائے۔<br />
5۔ موبائل اور انٹرنیٹ ہی اصل دنیا ہے۔۔اگرچہ کہ موبائل اور انٹرنیٹ کلچر کو پھیلانے کا ذریعہ ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ یہ پاپولر کلچر کی خاصیت بن گئے ہیں۔ کیوں؟ تیزرفتار انٹرنیٹ اور سب سے نیا موبائل رکھنا اب ایک فیشن بن گیا ہے۔. لوگ اپنے والدین یا بڑوں کے بالقابل گوگل سے زیادہ سوالات کرنے لگے ہیں۔۔!کسی نے سچ ہی کہا &#8220;گوگل نوجوان نسل کا سرپرست ہے&#8221;<br />
6۔سماجی تعلقات رکھنا بہترین عمل ہے۔۔ میں نے چند دن قبل ہی فیس بک میں شمولیت اختیار کی۔ اس سے قبل ، جب بھی میں نے اپنے ساتھیوں سے کہاکہ میں سوشل میڈیا سے غائب ہوں انہوں نے سوچا میں مذاق کر رہا تھا۔ سوشل میڈیا پر موجودرہنا آج سب سے زیادہ پاپولر چیز ہے۔ اس نے بڑی تیزی سے ہمارے نوجوانوں کی سوچ کو تبدیل کر دیا۔ یہ ان کے دماغ اور روح کی تشکیل کررہا ہے۔ انہوں نے اپنے ارد گرد ایک مجازی دنیا پیدا کر لی ہے۔ ان کی زندگی سنہری پنجروں کی طرح ہوتی جا رہی ہے۔اسی کے ساتھ سوشل میڈیا کا استعمال خیالات ، انقلابات ، کاروباروغیرہ کی بڑے پیمانے پر تبلیغ کے لیے بھی کیا جارہا ہے۔ عرب انقلابات میں فیس بک کا کردار کون نہیں جانتا۔۔!!<br />
7۔مختلف ایام منانا ۔۔ مختلف قسم کے ایام منانا آج کل پاپولر بن گیا ہے ۔ ویلینٹائن ڈے،روز ڈے، مدر ڈے، فادر ڈے، ۔۔۔فہرست لامتناہی ہے۔کسی مقصد کے لئے یا پھرمحض تجارتی فوائد کے لئے ان کو فروغ دیا جاتا ہے۔وجہ کچھ بھی ہو، لوگ کچھ نہ کچھ جشن منانا چاہتے ہیں۔<br />
پاپولر کلچر کے مثبت پہلو<br />
پاپولر کلچر کا تجزیہ کرتے ہوئے ہم سوچتے ہیں کہ یہ ناقابل برداشت ہورہا ہے۔اگرچہ اس کے نوجوان نسل پر بہت بڑے اثراتہیں، پرانی نسل اب بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کے لئے جدوجہدمیں لگی ہوئی ہے۔ لیکن جلد یا بدیرانہیں ایسا کرنا پڑتا ہے بصورت دیگر وہ تقریبا ہر چیزجیسے ریلوے بکنگ ، فضائی ٹکٹ بکنگ سے لے کربینک کے لین دین تک میں پیچھے رہ جائیں گے۔جب ہم پاپولر کلچر کو غیر جانبدارانداز میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تب ہم آسانی سے نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اس کے کچھ مثبت پہلو بھی ہیں :<br />
1۔یہ جرأت مند ہے ۔۔ اگرچہ پاپولر کلچر بہت متحرک ہے ، ساتھ ہی یہ جرأت مند ہے چونکہ اس کے پیروکاروں میں زیادہ تر نوجوان ہیں۔ دلیری کی کمی کی وجہ سے ان کی گزشتہ نسلوں نے جس کا خواب نہیں دیکھاتھا، لوگ ایسے اقدامات اٹھانے میں ججھک کا مظاہرہ نہیں کرتے۔ ایک بار پاپولر کلچرکو سماجی رنگ دیا جائے اوراسے متحرک کیاجائے تو اسکا عظیم مقاصد کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عرب انقلابات کے دوران اس میں سرگرم لوگوں کی زیادہ تر تعداد دراصل پاپولر کلچر کی ہی پروردہ تھی۔ ان حالات کا چند دہائیوں قبل سوچنا بھی دشوار کام تھا۔<br />
2۔کمال کی تلاش ۔۔ مسابقتی دور کی بنا پر ، پاپولر کلچر خود چاہتا ہے کہ اس کے پیروکار اپنے میدانوں میں ماہر بنیں۔ اس کی مثال مختلف اشہارات ہیں جو دکھائی دیتے ہیں۔دوسروں سے بہتر اور منفرد نظر آنے کی چاہت موجودہ پاپولر کلچر کا ایک لازمی حصہ بنتا جا رہا ہے۔<br />
3. روح میں سکون و اطمینان ۔۔ عیش و آرام میں سکون کی تلاش قابل فہم ہے ، کیونکہ اسکا پاپولر کلچروں کے تمام ذرائع کی جانب سے کیا جاتاہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ پاپولر کلچر کے پیروکاروں میں دماغ کے اس سکون کے مقابلے میں روح میں سکون کی زیادہ تلاش پائی جاتی ہے۔ کلچر کے بہت زیادہ متحرک ہونے کی، لوگوں کو روح کے سکون کی تلاش ہوتی ہے۔ چونکہ دنیا میں عیش و آرام عارضی ہے اسلئے بالآخر لوگوں کو امن اور اطمینان کے لئے اپنے اندرو ن کا رخ کرنا ہوتا ہے۔اس رجحان کو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے اگرہم اپنے آس پاس پائے جانے والے مختلف باباؤں کو دیکھیں۔<br />
4. منفرد اور بہادر بنئے۔۔ پاپولر کلچر کے پیروکاروں میں ایک اور مثبت پہلوان کی منفرداور جرأت مندانہ کوششیں ہیں جس سے وہ دوسروں سے مختلف نظر آتے ہیں۔وہ اپنے دل کی خواہشات کی تکمیل میں یقین رکھتے ہیں (جو کچھ بھی ان کو پسند آجائے) اورضرورت ہو تو ایورسٹ پہاڑ پرچڑھنے میں بھی نہیں ہچکچاتے۔<br />
پاپولر کلچر کے منفی پہلو<br />
چونکہ ہم ایک نظریاتی تنظیم سے ہیں (کم از کم دوسروں کے مقابلے میں معاشرے کے لئے ہمارے یہاں مزید کچھ احساسات پائے جاتے ہیں) ، اس لئے ہمیں گہرائی سے اس کا مطالعہ اورتجزیہ کرنا ہوگا۔میرے خیال میںآج کے پاپولر کلچر میں مندرجہ ذیل منفی پہلو پائے جاتے ہیں۔<br />
1. اصولوں کی کمی ۔۔ موجودہ پاپولر کلچر مادہ پرستی کے علاوہ کوئی بھی نظریاتی پس منظر نہیں رکھتاہے۔ اس میں واضح طور پر مناسب اصولوں کا فقدان ہے جو عام طور پر معاشروں کی تعمیر کرتے ہیں۔پاپولر کلچر کے پیروکار یہ نہیں جانتے اور نہیں جاننا چاہتے کہ اخلاقیات کسے کہتے ہیں، مذہب کیا کہتا ہے، سماج کیا کہتا ہے، کیونکہ انھیں اس کی زیادہ پرواہ نہیں ہے ۔وہ کلچر صحیح ہے یا غلط اس سے قطع نظراس پر عمل کیا جا رہا ہے۔اصولوں کی اس کمی کی وجہ صرف پاپولر کلچرنہیں بلکہ یہ رجحان اب عالمی ہے۔<br />
2۔ منظم ارتقاء کی کمی ۔۔ پاپولر کلچرمیں واضح طور پر منظم ارتقاء کے عمل کا فقدان ہے۔ اس کامطلب ہے اصولوں کی کمی پیش رفت کے لئے صحیح راہ نہیں سجھاتی۔ ہوسکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کومنظم طریقہ میں بڑھایا گیا ہو لیکن پاپولر کلچرکو نہیں۔یہ اچانک ہے ، بے صبرا ہے اور کچھ ہی دیرمیں یکسر بدل سکتا ہے۔<br />
3 ۔ ناپائیدار اور غیر حقیقی۔۔ پاپولر کلچر کا گلیمربجائے اصولوں یا اندرونی دنیا کے انسان کے بیرونی دنیا پر پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔ عارضی خوشی مستقل خوشی یا اطمینان کی ضمانت نہیں دے سکتی۔<br />
معاشرے کی عمارت میں کلچر کا کردار<br />
آئے معاشرے کی تعمیرمیں کلچر کے کردار کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ دراصل معاشرے کی بیرونی شکل و صورت ہی کلچر ہے۔آج کل ہر کوئی کسی نہ کسی طرح پاپولر کلچر کا شکار ہے۔ بھارت کے کرکٹ میچ ، BMW کی نئی کار، فیراری 360 کار یا نیا G5 لیپ ٹاپ کی طرف کون متوجہ نہیں ہوتا ہے ۔یہ تمام باتیں آج ہمارے پاپولر کلچر کا حصہ ہیں۔آج کل سب جانتے ہیں کہ بگ باس پرکیاہو رہا ہے یا تو ٹی وی پر دیکھ کر یا اخبارات میں پڑ ھ کر، بنیادی طور پر آپ کو پاپولر کلچر سے بچنے کا کوئی راستہ کوشش کے باوجود نہیں ملتا۔<br />
لوگ آج بھی اداکاروں یا باباؤں کی تلاش میں رہتے ہیں ، کیونکہ ہمیں کسی کی ضرورت ہے جس میں ہم بھروسہ کریں یا جن کی تعریف کریں۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ مصیبت کے وقت کوئی ہماری مدد کرسکے گا، انسانی ناکامیوں کے بغیر۔ کارٹونس بھی بچوں اور نوجوانوں کے لئے ہیروز ہوتے ہیں۔<br />
انسانی بچے بھوک اور پیاس کی بنیادی ضروریات کے ساتھ دنیا میں آتے ہیں، لیکن ان کے اس رویے کی تشفی کے لئے درکار طریقوں سے ناواقف ہوتے ہیں ۔اس طرح وہ کسی بھی کلچرل علم کے بغیر ہوتے ہیں۔ انسانی نسل میں کمسن بچوں میں کلچر کو سیکھنے کی حیرت انگیز صلاحیت ہوتی ہے۔ کسی بھی خاندان میں کسی عام بچے کو رکھا جا ئے تووہ اس کلچر کوسیکھتا ہے اور اسے اپنے کلچر کے طور پرقبول کرلیتا ہے ۔ ایک بچے سے بلوغت تک آدمی کا سفر، یہ تمام عمل پاپولر کلچرسے متاثر ہوتا ہے۔ اس طرح کلچر علم اور ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں نہ صرف تشکیل افراد بلکہ معاشروں کی تشکیل کی بڑی قوت ہے ۔<br />
ایک حدیث کا مفہوم ہے۔ ہر بچہ اپنی فطرت پہ (مسلمان) پیدا ہوتا ہے مگر اس کے والدین اسے نصرانی یا یہودی بنادیتے ہیں۔<br />
منفی اثرات سے کیسے بچا جاسکتا ہے؟<br />
سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ پاپولر کلچر کے منفی اثرات سے کیسے بچا جاسکتا ہے اور اس کے مثبت پہلوؤں سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ جواب آسان ہے، ہمیں پاپولر کلچرکے اصل چلانے والے کا کردار نبھا نا ہوگا۔ ہمیں دانشوروں کا ایک ایسا بڑا گروپ چاہئے جو پاپولر کلچر کے ضمن میں ہماری راہنمائی کرے اورنئے خیالا ت پیش کرے۔ ہمیں میڈیا کی ضرورت ہے تاکہ ہم متاثر کرسکیں اور اس میدان میں داخل ہوسکیں۔ یہ سب غیر حقیقی لگتا ہے، ہے نا؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کے سنہری دور میں، یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے انسانی سائنس اور ٹیکنالوجی کے تقریبا ہر میدان میں دنیا کو پاپولر کلچر دیا تھا۔ بنیادی سطح پر، مجھے لگتا ہے کہ ہم کم از کم ان چیزوں کو کر سکتے ہیں :<br />
۱۔ نئے اصولوں کو فروغ دینے کے لئے اورپاپولر کلچر پر مثبت طریقیسے اثرانداز ہونے کے لئے غور و فکر۔<br />
۲۔ مختلف عملی اقدامات کے ذریعہ اسلامی تعلیمات، اخلاق و اقدار، اور اللہ کا خوف لوگوں میں داخل کر نا اور اس کے لئے غور و فکر۔<br />
* متبادل کلچرکی ضرورت ہے.اس متبادل کی تعمیر میں SIO کیا کردار ادا کرسکتی ہے؟<br />
آج کل کے پاپولر کلچر میں مختلف بڑی کمیاں ہیں اور اس کے اثرات نوجوانوں کے ذہنوں کو فاسد کر رہے ہیں۔ یہ ایک انسانی وجودکو محض ایک مادی وجود میں تبدیل کررہا ہے جس کا مادی فوائد کے لئے استحصال کیا جاسکتا ہے اور اللہ تعالی کی قربت سے انسانیت کودور لے جارہا ہے۔ یہ ضرور ہوگا چونکہ اس کلچر کے کرتا دھرتا خدا سے ڈرنے والے لوگ نہیں،وہ مسلمان نہیں ہیں۔اگر ہم اپنی اگلی نسل کو اسلام کاسچا پیرو بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پاپولر کلچر کے اقدامات کے ذریعہان اسلامی اصولوں یا تعلیمات کو متعارف کرانے کے انتظامات کے بارے میں سوچنا ہوگا۔میرے خیال میں،بحیثیت ایک فرد، والدین یا ایک تنظیم کے طور پر کم از کم ان چیزوں کے ساتھ شروعات کی جاسکتی ہے۔<br />
1. تازہ ترین پاپولر کلچر، آلات اور ٹیکنالوجی سے واقفیت۔<br />
2. پاپولر کلچر کے ان اوزار سے واقفیت جن کاہماریمقاصدکے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے، ان کو تلاشکیا جائے۔ اس کے لئے عظیم دماغوں کی ضرورت ہے۔<br />
3.ان آلات یا معلومات کو ہٹایا جائے جس سے دماغ پر منفی اثرات ہوتے ہیں۔<br />
4. نوجوانوں کی زندگیوں کو &#8216;مشن&#8217; فراہم کیا جائے ، جس کے نتیجے میں انہیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔<br />
5. کلچر کی بنیاد کے طور پر &#8216;علم&#8217; کو فروغ دینا۔ اس طرح، ہم اسلام کا صحیح علم قرآن اور حدیث کے ذریعے دے سکتے ہیں۔<br />
اختتام<br />
اسلام ذاتی عبادت تک محدود نہیں ہے، یہ زندگی گزارنے کے طریقہ کا نام ہے۔ یہ انسانی زندگی سے متعلق تمام خصوصیات اور جہتوں کا احاطہ کرتا ہے۔ اس کے پیروکار کے طور پر ہمیں سمجھنا ہوگا او ر ہمارے ارد گرد کے ماحول میں اس بات کو پھیلانا ہوگا۔کلچر ہو یا سائنس، ارضیات یا جغرافیہ چاہے جو بھی میدان ہو ،ہمیں ہماری نسلوں کو بلندیوں تک پہنچانا ہے جسکااللہ تعالی کی طرف سے وعدہ کیاگیا ہے؛<br />
جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ان کو ملک کا حاکم بنادے گا جیسا ان سے پہلے لوگوں کو حاکم بنایا تھا اور ان کے دین کو جسے اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے مستحکم و پائیدار کرے گا اور خوف کے بعد ان کو امن بخشے گا وہ میری عبادت کریں گے اور میرے ساتھ کسی اور کو شریک نہ بنائیں گے اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے لوگ بدکردار ہیں۔(سورہ نور :55).<br />
اگر ہم اپنی پوری کوشش پاپولر کلچر کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو فروغ دینے میں لگاتے ہیں ،اس سے نہ صرف ہماری نسل کو اسلام کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدددملے گی بلکہ ساتھ ہی ساری انسانیت کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ وکی پیڈیاسے ذیل کا اقتباس اس بحث کے اختتام کے لئے انتہائی موزوں ہے:<br />
’’اسلامی گولڈن ایج کے دوران (750 عیسوی ۔۔ 1258 عیسوی) اسلامی دنیا کے فلسفیوں، سائنسدانوں اور انجینئرز نے ٹیکنالوجی اور کلچر کے لئے بہت زیادہ خدمات انجام دیں۔ پچھلی روایات کے تحفظ اور ا ن میں اپنی جانب سے نئی دریافتوں کو شامل کرتے ہوئے۔ سائنسی اور دانشورانہ کامیابیوں میں اس دور میں بہت نکھا ر آیا‘‘۔</p>
<p><strong>فیروز پٹیل ۔ ممبئی</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%be%d8%a7%d9%be%d9%88%d9%84%d8%b1-%da%a9%d9%84%da%86%d8%b1%db%94-%d8%aa%d9%86%d9%82%db%8c%d8%af%db%8c-%d8%ac%d8%a7%d8%a6%d8%b2%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کیمپس تشدد ۔ تشویشناک مسئلہ</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be%d8%b3-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%db%94-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%a7%da%a9-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25db%258c%25d9%2585%25d9%25be%25d8%25b3-%25d8%25aa%25d8%25b4%25d8%25af%25d8%25af-%25db%2594-%25d8%25aa%25d8%25b4%25d9%2588%25db%258c%25d8%25b4%25d9%2586%25d8%25a7%25da%25a9-%25d9%2585%25d8%25b3%25d8%25a6%25d9%2584%25db%2581</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be%d8%b3-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%db%94-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%a7%da%a9-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:50:07 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2370</guid>
		<description><![CDATA[کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ہندوستان کی راجدھانی رہا اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کی حیثیت اسے کافی عرصے تک حاصل رہی۔ بنگال ہندوستان کے دانشوروں کا بھی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">کلکتہ جدید ہندوستان کا ایک اہم شہر ہے، جس سے ہندوستان کی تہذیبی، سیاسی اور سماجی تاریخ کی کئی کڑیاں وابستہ ہیں۔ انگریزوں کے دور میں ہندوستان کی راجدھانی رہا اور آزادی کے بعد بھی ہندوستان کے سب سے بڑے شہر کی حیثیت اسے کافی عرصے تک حاصل رہی۔ بنگال ہندوستان کے دانشوروں کا بھی گہوارہ رہا اور مثبت بحث و چرچے کا ایک اہم مرکز بھی بنا رہا۔اسی ریاست مغربی بنگال سے پچھلے دنوں آنے والی ایک افسوسناک خبر نے میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔ واقعہ صرف تشددکا ایک معمولی حادثہ نہیں بلکہ ہندوستانی کیمپس سے متعلق فکرمندی کے پہلوؤں کو مزید تقویت دیتا ہے۔<br />
حکمراں ترنمول کانگریس اور اسی کی حلیف کانگریس پارٹی کی طلبہ تنظیموں کے مابین رسہ کشی کے ایک واقعہ میں شمال بنگال کے ایک کالج ’رائے گنج کالج‘ کے پرنسپل کے ساتھ طلبہ کے ایک گروہ نے کا لج کے باہر کافی مار پٹائی کی۔ زخمی پرنسپل اور ان کے ساتھ اسی کالج کے ایک اور پروفیسرکی تصاویر میڈیا میں جیسے ہی منظر عام پر آئیں، ہر جانب تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ اس سے قبل یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی تھی کہ جنوبی کلکتہ کے ایک اسکول پرنسپل کی ایک سیاسی پارٹی کے کارکنوں نے پٹائی کی۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے غلبہ والے اس کالج میں یونین الیکشن ملتوی کرنے سے پرنسپل نے انکار کردیا تھا۔ جبکہ ترنمول طلبہ تنظیم کا اصرار تھا کہ اس کو ملتوی کیا جائے۔ اس مسئلہ پر کھینچا تانی کا نتیجہ اس واقعہ کی صورت میں نمودار ہوا۔ اگرچہ کہ حکمراں جماعت نے اس واقعہ میں اپنی پارٹی کے ملوث ہونے سے انکار کیا ہے لیکن اخبارات اور میڈیا اس سے متعلق خبریں پیش کررہے ہیں۔<br />
کیمپس تشدد ہندوستانی کیمپس کے لئے نئی چیز نہیں ہے۔ چھوٹے موٹے تشدد کے واقعات سے لے کر قتل تک کے کئی واقعات یہاں رونما ہوچکے ہیں۔ لیکن ہر ایسا واقعہ ہندوستانی کیمپس کے مزاج اور اس کی ہیئت کے بارے میں ہماری تشویش میں اضافہ کرتا ہے۔ بالعموم سیاسی جماعتوں کی لڑائی کیمپس کی چہار دیواری میں آکر تشدد کا روپ اختیار کرلیتی ہے یا بسا اوقات طلبہ یونین اور کالج کی سیاسی سرگرمیوں میں برتری کی جنگ پرتشدد رنگ اختیار کرجاتی ہے۔<br />
کیمپس ملک کا مستقبل ہوتے ہیں۔ یہاں پڑھنے والی نسل کی بول چال، رنگ ڈھنگ ، عادات و اطوار ایک پوری نسل کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس لئے یہاں ہونے والا واقعہ آئندہ ملک کے پورے منظرنامہ کی عکاسی کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کارپوریٹس اور سرمایہ دارانہ نظا م کے ذریعے یہاں پر ایکٹوزم کو کچلنے والی کوششو ں کی مخالفت ملک کے باشعور افراد کی جانب سے ہمیشہ کی گئی۔ چنانچہ یونین الیکشن پر جب کبھی ملک میں پابندی عائد ہوئی ا س کی مخالفت ہوئی۔ اسی طرح دانشورطبقہ اور سماج کے حساس اور دردمند شہری ہمیشہ اس بات کے حامی رہے ہیں کہ طلبہ کی سماجی حساسیت اور سماجی رول میں اضافہ ہو۔ لیکن تصویر کے اس رخ کے ساتھ یہ پہلو بھی اہم ہے کہ کیمپس مثبت اور تعمیری بحثوں کی آماجگاہ بنے نہ کہ تشدد اور جنگ و جدال کا اکھاڑہ۔ فسطائیت اور مخالف نظریات کو کچلنے کی ہر کوشش قابل مذمت ہے چاہے وہ ملک کے وسیع منظر نامہ میں ملک کے مخصوص طبقات کو خوفزدہ کرنے اور ڈرانے کی کوشش ہو یا کیمپس کے ایک محدود ماحول میں کسی ایک نظریئے کی حامل تنظیموں کا استبداد ہو ، ہر دو قسم کا جبر ایک مہذب سماج کے لئے درست نہیں۔<br />
پچھلے سال منگلور میں اسی طرح کے کچھ واقعات پیش آئے تھے جہاں نہتے او ر پرامن طلبہ کو فسطائی نظریات کے حامل کچھ لوگوں نے نشانہ بنایا تھا۔ اسی قسم کے واقعات کیرالا میں اس سے قبل پیش آئے تھے جہاں ایس آئی او کی پرامن اور تعمیری ریلیوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ فسطائیت کی ایک قدر ہمیشہ مشترک رہی ہے۔اپنے مخالفین کو جبر، تشددکے ذریعہ اور ڈرانے دھمکانے و خوفزدہ کرنے والے ہتھیاروں سے مرعوب کرنا۔ جہاں طاقت نہ ہووہاں مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا اور جہاں پر طاقت حاصل ہوجائے وہاں دوسروں کو بزور قوت کچل دینا۔ اور اس قدر مشترک میں فسطائیت کی تمام شکلیں متفق رہی ہیں۔ مثبت سماج کی تعمیر ان طریقوں سے کسی حال ممکن نہیں ہے۔ یہ بات ان طاقتوں کو سمجھ لینی چاہئے کہ اس طریقے پر پروان چڑھنے والی نسل کبھی بھی تعمیر کی جانب مائل نہیں ہوسکتی۔ اور یہ غیر تعمیری رویہ بالآخر پورے سماج کو تباہ کرنے کا موجب بن جاتا ہے۔<br />
ایس آئی او کا خواب اس کا متبادل پیش کرتا ہے۔ کیمپس اور تعلیم ایک دوسرے سے جڑے ہوئے لازمی اجزاء ہیں۔ اور تعلیم انسان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ کیمپس اپنے مقاصد میں ناکام ہے اگر وہ انسانی صلاحیتوں کو تعمیری رخ دینے میں ناکام رہے۔ انسانی صلاحیتیں کھلے ماحول میں پروان چڑھتی ہیں، اگر کیمپس میں آواز کو دبایا جارہا ہے تو یہ نہ صرف کیمپس کے مقاصد کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ یہ وہاں پروان چڑھنے والی صلاحیتوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے۔ بہرصورت تشدد کیمپس کے لئے نقصاندہ ہے اور وہ چاہے یونین الیکشن کے لئے ہو یا خود طلبہ کے حقوق کے لئے ہو ہر صورت اس سے احتراز لازمی ہے۔<br />
<strong>سید صبغت اللہ حسینی</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%da%a9%db%8c%d9%85%d9%be%d8%b3-%d8%aa%d8%b4%d8%af%d8%af-%db%94-%d8%aa%d8%b4%d9%88%db%8c%d8%b4%d9%86%d8%a7%da%a9-%d9%85%d8%b3%d8%a6%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مخلوط سماج میں توازن کے تقاضے (۲)</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%d8%ae%d9%84%d9%88%d8%b7-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%82%d8%a7%d8%b6%db%92-%db%b2/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%2585%25d8%25ae%25d9%2584%25d9%2588%25d8%25b7-%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a7%25d8%25ac-%25d9%2585%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25aa%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25b2%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25aa%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b6%25db%2592-%25db%25b2</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%d8%ae%d9%84%d9%88%d8%b7-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%82%d8%a7%d8%b6%db%92-%db%b2/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:49:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2386</guid>
		<description><![CDATA[(گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی سمجھ پیدا کرنا، افراد سماج میں تحمل وبرداشت پروان چڑھانا، مخلوط سماج کی افادیت کا ادراک وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی تھی، اس سلسلہ کی یہ دوسری اور آخری قسط ہے، [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong>(گزشتہ قسط میں مخلوط سماج میں توازن کے سلسلہ میں انفرادی تقاضوں پر گفتگو کی گئی تھی، اس کے ذیل میں مخلوط سماج کی سمجھ پیدا کرنا، افراد سماج میں تحمل وبرداشت پروان چڑھانا، مخلوط سماج کی افادیت کا ادراک وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی تھی، اس سلسلہ کی یہ دوسری اور آخری قسط ہے، اس میں مخلوط سماج میں توازن کے اجتماعی تقاضوں اور مذہبی اکثریت پر لازم آنے والی ذمہ داریوں پر گفتگو کی گئی ہے۔ادارہ )</strong></p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">اجتماعی تقاضے:<br />
مخلوط سماج میں توازن کے اجتماعی تقاضوں کے تحت درج ذیل تقاضے بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔<br />
(1) اجتماعی شعور کی بیداری<br />
(2) حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس<br />
(3) us اور them کی نفسیات کا تدارک<br />
اجتماعی شعور کی بیداری:<br />
اجتماعی شعور سے بنیادی طور پر وہ شعور مراد نہیں ہے جو فرداً فرداً شعور کی جمع کا مظہر ہو بلکہ یہ شعور انفرادی آرا میں اختلاف کے باوجود کسی مخصوص نکتہ کے تحت اپنے سماجی عمل کو مجموعی شعور سے ہم آہنگ کرنے کا نام ہے۔ ایک بہت چھوٹی سی مثال سے اس بات کو سمجھانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ مغرب کے زیادہ تر ملکوں میں عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی نہ کرنا اجتماعی تہذیبی شعور کا مظہر ہے۔ یعنی سماج یا اس ملک کے افراد گو کہ انفرادی طو پر عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی کرنے کے قائل ہوں لیکن اجتماعی شعور کا احترام کرتے ہوئے اس مظہر سے یا فعل سے گریز کرتے ہیں اور بعض اوقات یہ رضاکارانہ طور پرہوتا ہے یعنی کسی خارجی دباؤ پولس، قانون، انتظامیہ کے بغیر۔<br />
ہمیں مسلمانوں میں مخلوط سماج میں رہنے اوبسنے کے لیے درکار اجتماعی شعور کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس اجتماعی شعور کے اجزا میں بنیادی طور پر دو چیزیں بہت اہم ہیں۔<br />
(1) حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس<br />
(2) us اور them کی نفسیات کا تدارک<br />
حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس:<br />
بحیثیت مجموعی ہمیں افراد سماج کو یہ بتانا پڑے گاکہ ہم حقوق کی پکار اسی وقت لگا سکتے ہیں جب ہم ذمہ داریوں کو ویسے ادا کررہے ہوں، جیسے کہ ادا کرنے کا حق ہے، یہ اجتماعی شعور کی آبیاری میں بڑا اہم موضوع ہے۔<br />
محض حقوق کے لیے نعرہ بازی کرنا، مختلف امور میں مراعات طلب کرنا بے فائدہ ہوجاتا ہے، جب بڑی سطح پر ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کوتاہی ہورہی ہو۔ مثلاً ایک مخلوط سماج میں رہتے ہوئے پہلا حق جو اکثریتی فرقے کو جاتا ہے وہ غالباً پاسداری مذہب، عقائد ورسومات کا ہے۔ پاسداری سے کیا مراد ہے، یہ کوئی متعین شئے نہیں ہے۔ افراد حالات، سماجی و ثقافتی منظرنامے اس بات کا فیصلہ کرتے ہیں کہ پاسداری کی سطح کیا ہوگی۔ حضرت علیؓ اور حضرت عمرؓ کے اقوال کا مفہوم غالباً اس کی بہترین ترجمانی ہے کہ نہ ظلم کرو، نہ ظلم ہونے دو۔ اسلام کا زریں اصول تو بہر حال موجود ہے ہی کہ زیادتی نہ کرو، فساد نہ پھیلاؤ اور اگر بدلہ لینا ہو تو اتناہی لوجتنا کہ ظلم کیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ فساد، زیادتی اور ظلم یہ وسیع اصطلاحیں ہیں اور قرآن ان اصطلاحوں کے مختلف معنی بتلاتا ہے۔ بتوں کو برا نہ کہنے میں فسادکا صرف یہی پہلو نہیں ہے کہ وہ بھی پلٹ کر اللہ کو برا کہیں گے۔ یہ صرف اس کا ایک پہلو ہے لیکن دراصل اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام دین حق کی طرف دعوت دینے کے بعد قبول حق کے سلسلے میں زبردست اور غیرمعمولی اعتدال رکھتا ہے ۔اسلام انسان کی فطرت کے تقاضوں کو غیرمعمولی اہمیت دیتا ہے۔ ان تقاضوں میں سے ایک فطری تقاضہ یہ بھی ہے کہ انسان صحیح ہو یا غلط، اپنے ماں باپ، خاندان اور آبائی مذہب اور شعائر مذہب سے زیادہ لگاؤ رکھتا ہے۔ اسلام بغیر اس کے سیاق و سباق میں جاتے ہوئے اس کی عزت کرتا ہے۔ چنانچہ وہ انسان کی مذہبی انا کو ٹھیس پہنچانے والی ہر شئے سے مومنوں کو روکتا ہے۔ قل یا ایہا الکافرون میں جس براء ت کا اظہار ہے وہ انسانوں کو غور و فکر کی دعوت دینے اور شعوری عمل کے لیے تمام درکار لوازمات جیسے وحی، رسول اور نفس مطمئنہ، فطرت سیلم دینے کے بعد ہے۔ اس کے بعد معاملہ اللہ اور اس کے بندے کا ہے۔ دوسرا کوئی انسان درمیان میں کہیں نہیں ہے۔<br />
مسلم اکثریتی ممالک میں بابری مسجد کے سانحے کے بعد کیا ہوا؟ اسی کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ 9/11 کے بعد امریکہ میں مخصوص مذہبی شناخت حتی کہ مخصوص ملکی شناخت والے افراد کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ہوئیں۔ سب جانتے ہیں کہ کسی بھی مخلوط سماج میں حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ جتنا یہ احساس عوام میں قوی ہوگا، جس قدر اس کا نفوذ عوام کی شعور کی سطح پر اثر پذیر ہوگا اسی قدر مخلوط سماج اعتدال اور توازن سے عبارت ہوگا ورنہ بہ اعتبار تعداد و مواقع تصادم ہوں گے اور ضرور ہوں گے۔<br />
ہم (us ) اور وہ(them )کی نفسیات کا تدارک:<br />
مخلوط سماج میں وہ اور ہم کی نفسیات سم قاتل کا درجہ رکھتی ہے۔ اس نفسیات کے چلتے ہی مختلف گروہ اپنے vested interest مذہبی اقلیتی و اکثریتی دونوں فرقوں سے حاصل کرتے ہیں۔ (اس نفسیات پر تحقیق ایک زبردست میدان ہے۔)<br />
اسلام بنیادی طور پر اس نفسیات کی جڑ ہی پر وار کرتا ہے۔ وہ پوری بنی نوع انسان کو ’’الخلق عیال اللہ‘‘ سے تعبیر کرتا ہے۔ سارے انسانوں کو ایک آدم اور حوا کی اولاد بتاتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ انسانوں کو مومن اور کافر کے خانوں میں بانٹتا ہے لیکن ان خانوں میں جو انسان آتے ہیں وہ شعوری بنیادوں پر تقسیم ہوکر آتے ہیں۔ غالباً یہ تقسیم غیر شعوری بنیادوں پر لاگو نہیں کی جاسکے گی ۔لیکن پھر بھی اللہ اس تقسیم کی بنیاد پر مادی اسباب و وسائل اور مادی ترقی اور بقائے زندگی کے مواقع کسی گروہ کو کم یا زیادہ نہیں دیتا۔<br />
چنانچہ بحیثیت مومن یہ بات صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ تمام عالم کے مسلمانوں کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ انسانوں میں ’وہ‘ اور ’ہم‘ نہیں ہوتے۔ انسان اللہ کی مخلوق ہے، اس کا کنبہ ہے، صرف یہی ایک بات اس بات کی ضمانت دینے کے لیے کافی ہے کہ محض رنگ، نسل اور عقائد کی بنیاد پر اس سے مختلف امور زندگی میں تعصب نہیں برتا جائے گا۔ ’’تعاونوا علی البرو التقوی‘‘ میں غالباً کہیں سے مذہب کی قید نہیں لائی جاسکتی۔ خو داللہ کے رسولﷺ کی پوری سیر ت چند استثنائیات کو چھوڑ کر مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کرنے اور نہ ہونے دینے کا بہترین نمونہ ہے۔ بعد کے ادوار سے جو لوگ اس کی مثالیں لاتے ہیں، ان کی نوعیت زیادہ تر یا تو سیاسی ہے یا پھر انفرادی اجتہاد سے عبارت ہے یا پھر ثقافتی جبر سے اعراض کے نتیجے میں ہے۔ ’’ہم اور وہ‘‘ کی نفسیات کے نقصانات ہم جا بجا دیکھ سکتے ہیں۔ اس نفسیات کی بنیاد پر کشمکش انواع عالم ہے۔ خود مسلمانوں میں جماعتی، سیاسی اور فروعی اختلافات کی بنیاد پر us اور them کی نفسیات کا اثر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس نفسیات سے اسلام کی تصویر، مسلمانوں کی تصویر مسخ ہوتی ہے اور عوام الناس اللہ کی رحمت سے قریب ہونے کے بجائے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔<br />
اس نفسیات سے زبردست نقصانات ہیں۔ them کے گروہ میں پائے جانے والے افراد، اداروں اور ان کے کاموں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ تخلیقیت اور ندرت کے فریم سکڑ جاتے ہیں۔ سیکھنے کے مواقع کم ہوجاتے ہیں، ارتقاء کی راہیں بند ہو جاتی ہیں۔<br />
مخلوط سماج میں توازن کے لیے درکار اجتماعی تقاضوں میں ایک اہم جہت خارجی تقاضوں کی بھی ہے۔ یہ خارجی تقاضے مذہبی اقلیت کے سیاسی اور ثقافتی امور سے متعلق ہوتے ہیں۔ دنیا کی وہ تمام جمہوریتیں جہاں مخلوط سماج پائے جاتے ہیں ان میں سیاسی سطح پر مذہبی اقلیت کے فعال رول کی بڑی اہمیت ہے اور یہ فعال رول ان کے ارتقاء کے لیے ضامن قرار دئیے گئے ہیں۔<br />
وہ ممالک جہاں مذہب کی بنیاد پر سیاست کا رخ متعین ہوتا ہے وہاں پر مخلوط سماج میں توازن کے لیے سیاست کارول انتہائی اہمیت کا حامل ہوجاتا ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں اس منظر نامے پر بحث بالکل ایک الگ موضوع ہے اور یہ مضمون غالباً اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ مختصراً یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مذہب کی بنیاد پر ہورہی سیاست کو اگر تبدیل نہیں کیا جاسکتا، تو کم از کم اسے صحیح رخ دیا جائے۔ محض مذہب اور اس سے جڑے اشوز اور مسائل ہی سیاست کی بساط پر کلیدی حیثیت میں شامل نہ ہوں بلکہ مذہبی اقلیت کی سیاست کا ایک اہم ایجنڈہ مخلوط سماج میں check اور Balance کے اہم اداروں کی تشکیل، تنظیم اور موجود اداروں کا ارتقاء بھی ہو۔<br />
مذہبی اقلیتوں کو اس بات کا احساس دلایا جا نا چاہئے کہ محض اکثریتی مذہبی اکائی سے خوف کی بنیاد پر سیاست طویل المدتی اعتبار سے کسی خاص بہتری کی ضامن نہیں۔ خوف کی نفسیات جو کہ موجودہ سیاست کا اہم ہتھیار ہے۔ اس سے عوام کو باہر لانا مخلوط سماج کے لیے ناگریز ہے۔ ورنہ یہ نفسیات غیر فطری رویوں کو جنم دیتی ہے۔ جس کے مظاہر آئے دن دیکھنے کو ملتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کو مخصوص کالونیوں میں مکان بنانے کی اجازت کا نہ ہونا۔ کچھ مخصوص علاقوں میں Celebraties تک کو فلیٹ بیچنے سے انکار کردینا۔ یا حالیہ بنگلور میں ہوئے واقعات، انہیں غیر فطری رویوں کی عملی مثال ہے۔ حالانکہ یہ نفسیات اکثر اوقات Sponsored ہوتی ہے اور خاص آئیڈیالوجی رکھنے والے گروہ کے ذریعہ روبہ عمل لائی جاتی ہے۔<br />
اب تک ہم نے یہ دیکھا کہ مخلوط سماج کی ایک اکائی) مذہبی اقلیت( پر اس سماج میں توازن بنائے رکھنے کے کیا تقاضے ہیں۔ اس توازن کی دوسر ی جہت مذہبی اکثریت پر لاگو ہونے والے تقاضے ہیں۔ اس کی ایک تیسری جہت بھی ہے وہ اقتدار اعلیٰ (ہندوستان کے تناظر میں دستور ہند) اور اسے چلانے والے ادارے ہیں اور ان پر لاگو ہونے والے تقاضے یہ بجائے خود ایک اہم موضوع ہے۔ لیکن فی الوقت وہ اس مضمون میں زیر بحث نہیں لائے گئے ہیں۔<br />
مخلوط سماج میں حقیقتاً توازن اس مخلوط سماج کی دوسری اکائی مذہبی اکثریت کے تعاون و اشتراک کے بغیر ممکن نہیں ۔ یہ سوال اکثر کیا جاتا ہے کہ ایک طرف سے تقاضوں کی تکمیل اس مخلوط سماج میں توازن کیا قائم کر پائے گی؟ یا اگر یہ قائم ہے تو کیا اسے دوام حاصل ہوسکے گا؟ اس کا سیدھا سا جواب مشکل ہے لیکن یہ بات بہر حال مسلم ہے کہ چاہے مذہبی اکثریت ان تقاضوں کو پورا کرے یا نہ کرے جو کچھ فریق اول کرسکتا ہے اسے کرنا چاہئے۔ (کیوں؟ یہ ایک دوسری بحث ہے)<br />
سب سے اول اور غالباً انتہائی اہم تقاضا جو مخلوط سماج کی دوسری اکائی پر لاگو ہوتا ہے وہ حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھ کر ان میں فرق کرنا ہے۔ اقتدار اعلیٰ کی رو سے (جس کی پاسداری اور وفاداری اس اکائی پر بھی اتنی ہی لازم ہے جتنی دوسری اکائی پر) وہ جن حقوق کی مستحق ہے وہی حقوق اس سے ذمہ داریوں کا بھی سوال کرتے ہیں۔ مذہبی اقلیت کے جذبات و احساسات، ان کے شعائر مذہب اور ان کے عقائد و رسومات کا احترام اس پر لازم ہے لیکن عمومی طور پر اس جانب عملاً خلاف ورزیوں سے یہ احساس دب گیا ہے۔ چنانچہ مذہبی اکثریتی عوام اکثر اس جانب متوجہ نہیں ہیں۔ اکثریتی اکائی کی قیادت کو اس جانب دھیان دینا چاہئے۔<br />
مذہبی اقلیتوں کے مذہبی معاملات کو سمجھنا اس ضمن میں بہت اہم ہے۔ عام طور پر ہم سب نے اکثریتی اکائی کے افراد کو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مضحکہ خیز غلط فہمیوں کا شکار دیکھا ہے۔ راقم الحروف کی ایک لیڈی ٹیچر نے اس سے دریافت کیا تھا کہ کیا مسلمان ہفتے میں صرف ایک بار نہا سکتا ہے اور یہ کہ زندگی میں ایک بار گائے کاٹ کر اس کا گوشت کھانا ہر مسلمان پر فرض ہے اور اور یہ کہ ہندو کو قتل کرکے جنت میں جاسکتا ہے۔ ان میں سے بعض تو Right ونگ کا پروپیگنڈہ ہے اور بعض ہمارے اجتماعی اعمال کا نتیجہ۔<br />
Possesion کی نفسیات کو ختم کرنا/ کم کرنا۔<br />
مذہبی اکثریت کی بیشتر عوام پروپیگنڈے کے نتیجے میں یہ سمجھتی ہے کہ وہ جہاں رہتے ہیں اس زمین پر اور اس ملک پر صرف ان کا ہی حق ہے۔ یہ نفسیات صرف ہندوستان میں ہی نہیں پائی جاتی بلکہ ہر جگہ کی اکثریتی اکائی چاہے وہ رنگ کی بنیاد پر ہو نسل کی بنیاد پر ہو یا مذہب کی بنیاد پر، اسی نفسیات کا شکار ہے مثلاً آسٹریلیا میں جہاں پر آپ مخلوط سماج کو مذہب کے سیاق سے ہٹاکر قومیت کے سیاق میں دیکھیں گے وہاں پر آپ دیکھیں گے کہ ہندوستانیوں بالخصوص ہندوستانی طلبہ سے ان کی نفرت کی وجہ (معاشی امور کے علاوہ) یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں یہ ان کا ملک ہے اور ان کے اس ملک میں ہندوستانی طلبہ آکر رہتے ہیں، پڑھتے ہیں، ان کے ملک کے وسائل استعمال کرتے ہیں اور انہیں Out Compete کرتے ہیں۔ Possesion کی اسی نفسیات کا مظاہرہ کینیڈا میں سکھوں کے ساتھ، امریکہ میں مسلمانوں اور ایشیائی باشندوں کے ساتھ اور یوروپ کے بیشتر ممالک میں مختلف مہاجر باشندوں کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔<br />
اس نفسیات کو ختم کیسے کیا جائے یہ بجائے خود تحقیق کا موضوع ہے۔ بلکہ بعض دائیں بازو کے اصحاب فکر کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ ایسا ممکن نہیں ہے اور مخلوط سماج بجائے خود ایک Utopian سماج ہے۔جو غالباً اس دنیا میں تو ممکن نہیں لیکن ان تمام نکات کے علی الرغم مخلوط سماج میں توازن کا یہ تقاضہ اہم ترین تقاضہ ہے۔<br />
اسلام اس ضمن میں غالباً دوسرے تمام نظام ہائے حیات اور نظریات سے بہتر رہنمائی دیتا ہے۔ وہ انسانوں کو زمین کا خلیفہ بتاتا ہے، مالک نہیں۔ اور اس میں تصرف پر عدل و انصاف اور جوابدہی کے احساس کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ اس سے انسانی رویہ میں بہتر ضبط پیدا ہوتا ہے۔ قرون اولیٰ کے مسلمانوں نے اس کی اچھی مثال پیش کی تھی۔<br />
طفیلیت کی نفسیات کو ختم کرنا:<br />
طفیلیت کی نفسیات کیا ہے۔ عام طور پر مذہبی اکثریت یہ مانتی ہے کہ مذہبی اقلیتیں ان کے ذرائع و وسائل پر طفیلیہ (Parasite) کی طرح ہیں۔ مثلاً امریکہ میں سیاہ نام حبشیوں کو اکثر Black dirt کہا جاتا ہے۔ لیکن امریکہ کو امریکہ بنانے میں ان کا رول تمام دنیا پر عیاں ہے چنانچہ یہ نفسیات انتہائی احمقانہ ہے۔ مذہبی اکثریت کو اس طفیلی سوچ پر قدغن لگانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ کیونکہ اس نفسیات کے ساتھ تسلیم شدہ انسانی اقدار کا اہتمام نہیں کیا جاسکتا مثلاًایک طفیلیہ کے ساتھ بھلا آپ کس طرح برابری کا سلوک کریں گے اور مساوات اور رواداری نبھا سکیں گے۔<br />
ہندوستان میں بالخصوص جارحانہ ہندوتو کے حاملین نے اس سوچ کو پروان چڑھا یا ہے۔ اکثر مسلمانوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ ’’تم نے پاکستان لے لیا ہے‘‘ اب وہاں جاؤ۔ اگر آپ دائیں بازوں سے متاثر لوگوں کے آس پاس رہتے اور بستے ہوں تو یہ بات آپ کے لیے عجیب نہیں ہوگی۔ مذہبی اکثریت کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ دستور کے تحت جو کچھ حقوق اقلیتوں کو حاصل ہیں وہ اس ملک کے شہری ہونے کی حیثیت سے حاصل ہیں، طفیلیہ کی حیثیت سے نہیں۔<br />
اس نفسیات کے سد باب کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ مسلمان اور دیگر اقلیتوں کو محض اقلیتوں کے مسائل کے لیے نہیں لڑنا چاہئیے،اقلیتوں کے ریزرویشن، محض اقلیتوں کی نوکریاں، محض اقلیتوں کی بہبود، محض اقلیتوں کا تحفظ، ان کے پرسنل لاء، وہی ان کی سماجی جد و جہد کا مرکز و محور نہ ہوں بلکہ ملک کی عوام،ان کے مسائل اور مسائل کا حل، اور وہ مشترکہ مسائل جو ہم سب کی زندگی کا حصہ ہیں، بحیثیت ملک کے باشندے ہونے کے ان کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں اور اس میں اکثریتی اور اقلیتی کسی قسم کی کوئی تفریق نہ ہو، اس سلسلہ میں تعاون لیا بھی جائے اور دیا بھی جائے۔<br />
دوسری جانب اکثریتی اکائی اس نفسیات کو ختم کرنے کے لیے عملاً اس سماجی جد وجہد میں جو اقلیتی اکائی چھیڑتی ہے اس کا تعاون کریں۔ اس سے دوہرے فائدے کی امید ہے ۔ ایک تو یہ کہ مذہبی اقلیت میں سے ghettoisotion کی نفسیات کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسرے یہ کہ خود مذہبی اکثریت کے اندر سے مذہبی اقلیت کے تئیں پائے جانے والی طفیلیت کی نفسیات کا سد باب ہوگا۔<br />
مذہبی اقلیتوں میں تحفظ اور Belonging کے احساس کو پروان چڑھا نا:<br />
مذہبی اکثریت کی طرف یہ تقاضا نہایت اہم ہے۔ ہندوستان کے تناظر میں اس کی اہمیت دو چند ہے اور یہ صرف مذہبی اقلیت ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ جغرافیائی اعتبار سے اور علاقہ واریت کے اعتبار سے بھی اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کئی محققین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ اقلیتوں کی ہیئت اور کمیت اور ان کے اجزائے ترکیبی مختلف ہوتے ہیں۔ لیکن کیفیتوں کے اعتبار سے ان میں عمومی طور پر کوئی خاص فرق نہیں ہوتا۔ ان میں سے ایک اہم کیفیت مذہبی اکثریت میں تہذیبی اور ثقافتی جنگ اور اجنبیت یا Non belonging کا احساس بھی ہے۔<br />
چنانچہ اقلیت چاہے کسی بھی اعتبار سے ہو علاقہ واری، مذہبی لسانی تہذیبی یا کوئی اور ، اس میں تحفظ اور Belonging کے احساس کو پروان چڑھانا بہت اہم ہے۔ مذہبی اکثریت اس کے لیے کیا طریقے اختیار کرے یہ ماحول اور حالات پر منحصر کرے گا لیکن سماجی زندگی کے تمام ادارے مثلاََ: عدلیہ، انتظامیہ، قانون وغیرہ تمام اس کے مکلف ہوں گے اور اس کے لیے کوشاں ہوں گے، یہ ایک عمومی اصول ہے۔<br />
اس کی اہم مثال کے طور پر اللہ کے رسولﷺ کا وہ فیصلہ ہے جو آپ نے ایک یہودی اور مسلمان کے درمیان کرایا تھا۔ (یہ فیصلہ یہودی کے حق میں ہوا تھا) اس فیصلہ کا اثر کیسا رہا ہوگا، اسے صرف وہی فرد سمجھ سکتا ہے جو مذہبی اکثریت اور مذہبی اقلیت کے درمیان یہ سوچ کر جیتا ہو کہ جانے کل کیا ہونے والا ہے۔ حالانکہ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ تحفظ اور Trust Buildingکا ایک اہم مظہر بھی ہے۔<br />
مخلوط سماج میں توازن کے کچھ تقاضوں کو مندر جہ بالا سطور میں بیان کیا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ان تقاضوں کو رو بہ عمل لانے کے لیے لائحہ عمل کیا ہو۔ سب سے پہلے تو یہ ہونا چاہئے کہ ہم انفرادی حیثیت میں ان تقاضوں کو پورا کرنے والے بنیں۔ یہ سب سے مشکل کام ہے۔ ہم سب کہیں نہ کہیں اس سلسلہ میں کوتاہ ہیں۔ یعنی ہمارا ذہنی مشاکلہ ایک خاص نہج پر ساخت پا چکا ہے۔ اس کو تبدیل کرنا کسی بھی فرد کے ذہنی ارتقاء میں ایک انتہائی اہم سنگ میل ہے ۔<br />
انفرادی حیثیت میں ان تقاضوں کو پورا کرنے کی سعی کے ساتھ ساتھ ہم ان تمام افراد کو بھی اس جانب متوجہ کرسکتے ہیں جو ہمارے حلقہ اثر میں ہوں۔ عام طور پر ہم کبھی کبھی اتنا خود مرکوز Self Focused ہو جاتے ہیں کہ ہمیں بہت قریب اور آس پاس کے مواقع دکھائی ہی نہیں دیتے۔ ہمارے حلقہ احباب میں، گھر میں، تنظیم میں جہاں کہیں بھی موقع ملے احسن انداز میں لوگوں کو اس جانب متوجہ کرائیں۔ خود ہماری تنظیم میں بعض امور کو لے کر اگر آپ سروے کریں تو مخلوط سماج میں توازن کے تقاضوں کے تئیں آپ کو حوصلہ افزا رجحانات اور عمل کے مظاہر شاید اتنے نہ ملیں جتنے ہمارے اعلیٰ ترین مقاصد اور نصب العین کے لیے درکار ہیں۔ اس ضمن میں ذہن سازی اور ماحول سازی دونوں ضروری ہیں۔<br />
اس سلسلے کی آخری بات یہ ہے کہ مخلوط سماج کے سلسلے میں بجائے خود کئی آرا ہیں۔ جیسا کہ پچھلے صفحات میں ضمناً اشارہ کیا گیا ہے۔ مثلاً کیا مخلوط سماج کلی طور پر ممکن ہے؟ کیا اقتدار اعلیٰ کے بغیرمخلوط سماج کو قائم رکھا جاسکتا ہے اور اس سے بھی آگے بڑھ کر کہ اسلامی شریعت میں مخلوط سماج کی کیا جہات ہوں گی؟ کیا دعوتی عمل سے بالآخر مخلوط سماج کا کوئی وجود ہی نہیں ہوگا؟ کیا عملاً ایسا ہوگا؟ مخلوط سماج میں خصوصی شرعی احکام کو کس طرح رو بہ عمل لایا جائے گا؟<br />
مخلوط سماج اور اس سے جڑے مختلف پہلوؤں پر زبردست تحقیقی کاوشیں جاری ہیں۔ ان کا وشوں میں ہمارا حصہ، بین الاقوامی سطح پر مخلوط سماج پر ہورہی بحثوں میں ہماری سرگرم شمولیت، اس اہم موضوع پر ہماری بیداری اور اس سے لگاؤ کا مظہر ہوگی۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>ڈاکٹر محمد رضوان</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%d8%ae%d9%84%d9%88%d8%b7-%d8%b3%d9%85%d8%a7%d8%ac-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d9%88%d8%a7%d8%b2%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%aa%d9%82%d8%a7%d8%b6%db%92-%db%b2/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاپولر کلچر اور اسلام</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%be%d8%a7%d9%be%d9%88%d9%84%d8%b1-%da%a9%d9%84%da%86%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%25be%25d8%25a7%25d9%25be%25d9%2588%25d9%2584%25d8%25b1-%25da%25a9%25d9%2584%25da%2586%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%be%d8%a7%d9%be%d9%88%d9%84%d8%b1-%da%a9%d9%84%da%86%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:48:53 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2381</guid>
		<description><![CDATA[تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں انسانی سماج اپنی آنے والی نسل کو علم سے روشناس کراتا رہا ہے۔ علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک حقیقی علم جس میں خیالات، عقائد، رویے، روایات، اور طور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">تہذیب و ثقافت کی تاریخ ا تنی ہی پرانی ہے جتنی کہ انسانی تاریخ ہے۔انسانی تاریخ اور اس کا مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں انسانی سماج اپنی آنے والی نسل کو علم سے روشناس کراتا رہا ہے۔ علم دو طرح کا ہوتا ہے، ایک حقیقی علم جس میں خیالات، عقائد، رویے، روایات، اور طور طریقے شامل ہیں۔اس طرئقہ علم کو کلچر بھی کہا جا تا ہے۔اور دوسری قسم کا علم جس میں ، سائنسی، تکنیکی اور انتظامی امور کا علم ہے۔ اس طریقہ علم کو تہذیب بھی کہا جا تاہے۔جدید دانشوروں نے علم کو آرٹ اور سائنس میں تقسیم کردیاہے۔یہ ایک غیر مناسب تقسیم ہے۔انسانی سماج میں تہذیب و ثقافت ((culture and civilizationکی بڑی اہمیت ہے۔اور یہی اس کی شناخت بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ اس میں فرق ہے لیکن یہ دونوں الفاظ اکثر یکساں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں۔اوراس وقت یہ پوری دنیا اوربالخصوص ہندوستان میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ہندوستان ایک واحد ملک ہے یہاں کی گنگا جمنا تہذیب پوری دنیا میں انفرادیت رکھتی ہے۔لیکن ان دنوں ہندوستان میں ثقافتی تصادم کا ایک نیا باب کھلا ہے۔جیسے پب پر حملہ، ویلنٹائن ڈے کے خلاف علم بغاوت اور جواباً گلابی انڈرویر کے تحفے دینا اور اس طرح کے عمل کو ’مورل پولسنگ‘ بتانا وغیرہ۔بہرحال کلچر کیا ہے؟ اور انسانی زندگی میں کلچر کی کیا اہمیت ہے اور کیسے نظریہ کے فروغ کے لیے اسے استعمال کیا جارہا ہے اور سماج پر اس کے اثرات کیا ہیں؟۔اس بات کا جائزہ لینا یہاں مقصود ہے۔<br />
کلچر انگریزی زبان کا سب سے پیچیدہ لفظ ہے۔ کلچر یعنی ثقافت کی تشریح اس طرح ہے۔’ آکسفورڈڈکشنری کے مطابق روایات اور عقائد،زندگی گزارنے کا طریقہ اور کسی ملک یا گروپ کی سماجی تنظیم کا نام کلچر ہے‘۔کلچر کسی بھی فرد و سماج اور قوم و ملک کے عادات و اطوار اور ان کے رویے کے تشخص کا نام ہے۔مشہور ماہر معاشیات امرتیہ سین نے اپنی کتاب (Identity and Violance ) میں کلچر پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کے کلچر کوئی Homogeneousشئے نہیں ہے بلکہ اس کے اندر مختلف شکلیں ہیں۔اور اس میں کوئی ٹھہراؤ نہیں ہوتا اور کلچر سماج کے دیگر عوامل اور تصورات کے ساتھ تبادلہ کرتا ہے۔ مشہور انگریزی شاعر میتھیوآرنلڈ (Mathew Arnold)کہتے ہیں۔کلچر کو مناسب طور پر اگر بیان کیا جائے تو اسکی بنیاد تجسس میں نہیں بلکہ اسکی بنیاد محبت اور کمال میں ہے۔ یہ کمال Perfection کا مطالعہ ہے۔ یہ حقیقی معلومات کی سائنسی قوت سے نہیں چلتا بلکہ بہتر کام کرنے کی اخلاقی اور سماجی قوت کے بل بوتے پر چلتا ہے۔<br />
ہندوستان میں ثقافت کی ایک طویل اور پیچیدہ تاریخ ہے۔چار ہزار سال سے زائد عرصہ پر محیط یہ تاریخ کئی ادوار میں بٹی ہوئی ہے۔اندس ویلی کی تہذیب سے، آرئین، اشوک، گپتہ، ہندوازم، جین مت، بدھ مت سے یہ تاریخ مسلمانوں تک پہنچتی ہے۔اور مغلیہ دور حکومت کے طویل باب کے بعد انگریزوں سے ملتی ہے۔ اس طویل تار یخ کے ہر دور کی کچھ اہم خصوصیات ہیں جو ہندوستانی ثقافت کی تعمیر کرتی ہیں۔ جیسے آرٹ، موسیقی، مصوری، سائنس، ریاضیات، اور فلکیات وغیرہ میں نمایاں ترقی ہوئی ہے۔ہرش وردھن کے دور کی ہندوستانی تہذیب و کلچر کو اس دور کا کلاسیکل دور کہا جاتاہے۔اس کی وفات کے بعد اور ہندوستان میں اسلام کی آمد سے قبل مذہبی روایتوں کی مضبو طی ہوتی ہے جیسے بھکتی گیت،یوگا،اور جنس sexکے کئی مظاہرے عام ہوتے ہیں۔ اور اس کا راست اثر یہاں کی ثقافت پر پڑتا ہے۔مغلوں کی ہند میں آمد کے بعد یہا ں کی ثقافت کے نئے باب کا آغازہوتا ہے۔فن تعمیرات کے نئے ماڈلس وجود میں آتے ہیں۔کاغذ عام ہوتا ہے۔ سنسکرت کی جگہ اردو لینا شروع کرتی ہے وغیرہ، مغلوں کے زوال کے بعد پھر ایک مرتبہ ہندوستانی تہذیب و کلچر انگریزوں کی حکومت اور ان کے کلچر کی زد میں آجاتی ہے۔یہ سلسلہ ہنوز آزادی ہند کے بعد بھی جاری ہے۔ اس مطالعہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستانی تہذ یب و ثقافت پر کسی دور کا غلبہ نہیں رہا ہے۔ یہ مختلف دور میں بٹی ہوئی ہے اور مختلف مرحلوں سے گزر کر یہ بنی ہے۔اور نہ ہی یہاں کی ’ سنسکرتی‘ پر کسی کی اجارہ داری ہے۔ ہندوستان میں تہذیب، کلچر، اور روایات کی ایک لمبی تاریخ ہے، اس وقت یہاں تفصیلی گفتگو کی اجازت نہیں۔<br />
پاپولر کلچر ایک ایساذریعہ ہے جس کے ذریعہ سے نظریات کا فروغ کیا جارہا ہے۔مختلف ذرائع کا استعمال کرکے پاپولر کلچر کو پھیلایا جارہا ہے۔ فلم، موسیقی، گانے، انٹرنیٹ، سوشل ویب سائٹس، موبائیل فون، اور اخباروغیرہ کے ذریعہ محض تفریح کے نام پرذہنوں کو پراگندہ کیا جارہا ہے۔پاپولر کلچر نے ایک ایسی بحث کا آغاز کیا ہے۔جس سے فرد کی آزادی، لباس، مزاج، غذا، پسند و نا پسند کے پیمانوں پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔اور جنسی تعلقات، ہم جنس پرستی، عریانیت ،ویلنٹائن ڈے ، نظام تعلیم میں جنسی تعلیم اور شراب نوشی کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس وقت ملک میں بڑھتا ہوا پب کلچر بھی زیر بحث ہے۔ پب کلچر پاپولر کلچر کی ایک قسم ہے۔پب کلچر ستّرکی دہائی میں دبے پاؤں ملک میں داخل ہوا اور اسّی کی دہائی میں پب کلچر سماج کے چند نام نہاد و اعلی طبقات اور میٹروز تک محدود تھا۔ نویں دہائی میں آزاد معاشی پالیسوں کے نتیجہ میں بیرونی کمپنیوں نے ملک میں اپناجال پھیلایا، ان کمپنیوں نے نہ صرف تجارت اور روزگار کے مواقع ساتھ لائے بلکہ اپنی تہذیب و کلچر بھی لائے۔مغربی کلچر اب مخصوص طبقے یا مخصوص شہروں تک محدود نہیں ہے بلکہ اب یہ چھوٹے شہروں اور ٹاؤنس تک بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔پب کلچر کیا ہے؟ دن بھر کام میں مصروف افراد اپنی تھکان کو دور کرنے ایک ایسی جگہ جمع ہوتے ہیں جہاں شراب و شباب کے نشے میں اور نیم تاریک ماحول میں ناچ و ہنگاموں کے ذریعہ ذہنی تھکان و تناؤ کو دور کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔جہاں غیر اخلاقی حرکات پر کوئی پاپندی نہیں ہوتی اور یہاں ہر شخص اپنی آزادی چاہتا ہے۔چاہے اس کی مذہبی شناخت یا خاندانی روایات پامال ہورہے ہوں۔پب کلچر اس ملک کی روایات، مزاج اور شناخت کے خلاف ہے۔اس پر روک تھام کے لیے بہتوں نے کوشش کی، اب ہندوتوا طاقتیں اپنے ایجنڈہ کی تکمیل کی غرض سے کلچر کی حفاظت کا نعرہ بلند کرکے تشدد کا سہارا لے رہی ہیں۔اس تشدد کے بعد ایک نئی بحث کا آغاز ہوا ہے۔ اور کئی سوالات کھڑے ہوئے ہیں جیسے، فرد کی آزادی کے حدودکیا ہیں؟ سماج فرد پر کس حد تک پابندیاں عائد کرسکتا ہے،وغیرہ۔ پب کلچر سے سب سے زیادہ نوجوان نسل متاثرہے۔اور اس کے اثرات کو بڑی تیزی سے قبول کررہی ہے۔اس کلچر کے فروغ میں بالی وڈ اہم کردار ادا کررہا ہے اور میڈیا نے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔<br />
اسلامی تہذیب و ثقافت کے چار اصول ہیں۔۱) تو حید ، ۲)رسالت، ۳)آخرت، اور ۴)ذوق جمال وفکری طہارت۔ان نظریاتی اصولوں پرزبان، علاقہ، موسمی تغیرات، جغرافیائی فاصلے اور تاریخی عوامل میں سے کسی کا اثر نہیں پڑتا۔یہ اصول ہر دور میں، ہر علاقہ اور ہر نسل میں غیر متغیر رہتے ہیں۔ لیکن ان اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ان کے عملی مظاہر ہر معاشرے اور ہر جغرافیائی تبدیلی کے ساتھ بدلتے رہیں گے۔لیکن ان میں تبدیلی اور تغیر کے باوجود وہ سب اسلامی کلچر کے مظاہر کہلائیں گے۔اسلامی کلچر کی بنیاد یہ ہے کہ انسان صرف حیوان نہیں بلکہ اللہ تعالی کا خلیفہ ہے۔اسی تصور کے ساتھ انسان کی زندگی کا مقصداللہ کی خشنودی بن جاتا ہے۔مقصد کی طرف موڑنے میں عقائد کا اہم رول ہے۔<br />
مسلمانوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے میدان عمل، میدان فکر، اور میدان تخلیق میں اپنا ایک مخصوص نقشہ قائم کیا تھا۔میدان عمل میں معاشیات، معاشرت، سیاست، تعلیم، اور عمرانیات میں ایک خاص قسم کا نظام قائم کیا تھا۔ میدان فکر میں ان کی ذہانت نے جدید سائنس کی بنیاد رکھی اور آئندہ ارتقاء کی راہ بھی متعین کردی۔میدان تخلیق میں انہوں نے اپنی جمالیاتی روح کی حرکت سے زندگی کے جمال کو نکھارنے اور مالا مال کردینے کا سامان کیاجو ان کے ادب، فنون لطیفہ اور فلسفہ میں نمودارہوا۔اسلام ایک مکمل تہذیب و کلچر کا نقشہ دیتا ہے۔توحید پرستی، انسانیت کا احترام، آفاقیت، عالمی اخوت، عالمی بھائی چارہ، عالمی امن، وحدت انسانیت، وحدت فکر و عمل، فرد شناسی، فرض شناسی، جوابدہی کا احساس، اور اعتدال و توازن وغیرہ۔ یہ سب اسلامی کلچر کی خصوصیات ہیں۔اور اسلامی کلچر جن غیر اخلاقی صفات کو اپنانے سے منع کرتا ہے وہ اس طرح ہیں شرک و بت پرستی، نسل پرستی، قوم پرستی، علاقہ پرستی، تنگ نظری، فتنہ و فساد، نمود و نمائش، بے قید آزادی اور رہبانیت وغیرہ ہیں۔<br />
کلچر کسی بھی سماج کی شناخت اور کسی بھی نظریہ کا ترجمان ہوتا ہے۔ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام ایک مکمل کلچر انسانیت کو دیتا ہے۔اور امت اس کلچر کے فروغ و استحکام کی علمبردار بنائی گئی ہے۔ اور ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ہم ایک تکثیری سماج میں اسلام کے نفوذ کی راہیں تلاش کررہے ہیں۔ اس لیے اسلامی خطوط پر کلچرکی ترقی کے لیے پاپولر کلچر(popular culture) کا استعمال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔عربی کلچر کے دو مظاہرے شاعری اور خطابت تھے ۔ حضورؐکا اسوۂ ہمیں یہاں رہنمائی کرتاہے کہ آپؐ نے عہد جاہلیت کی شاعری کو مسترد نہیں کیا، البتہ اخلاقی اصول بیان کرکے اس کی حد بندی کردی۔ اورفن خطابت کو جوں کا توں قبول کیا، البتہ اسے صداقت کے تابع کردیا۔اب ہمیں اس دور کے پاپولر کلچر کا استعمال کرکے اسلام کی اشاعت کا کام انجام دینا ہے۔ اور سماج کو کلچر کے غلط استعمال سے روکنا ہے۔ پب کلچر کے مضر اثرات سے طلبہ برادری کو بچانا ہے ۔ آج اسلام دشمن طاقتیں اسی پاپولر کلچرکو اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہیں۔اس لیے ہمیں پاپولر کلچر کے وہ تمام ذرائع جو کہ تفریح کے نام پر عام کیے جارہے ہیں ان تمام ذرائع کو صحیح مقاصدکے لیے استعمال کرنے پر سماج کو آمادہ کرنا ہوگا۔</p>
<p><strong>محمدآصف علی، بگدل</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%be%d8%a7%d9%be%d9%88%d9%84%d8%b1-%da%a9%d9%84%da%86%d8%b1-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آزادئ فکر وعمل اور اسلام  &#8212; علامہ یوسف القرضاوی</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%d8%a6-%d9%81%da%a9%d8%b1-%d9%88%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%db%8c%d9%88%d8%b3%d9%81-%d8%a7%d9%84/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a2%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25d8%25a6-%25d9%2581%25da%25a9%25d8%25b1-%25d9%2588%25d8%25b9%25d9%2585%25d9%2584-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585-%25d8%25b9%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2585%25db%2581-%25db%258c%25d9%2588%25d8%25b3%25d9%2581-%25d8%25a7%25d9%2584</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%d8%a6-%d9%81%da%a9%d8%b1-%d9%88%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%db%8c%d9%88%d8%b3%d9%81-%d8%a7%d9%84/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:48:24 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2383</guid>
		<description><![CDATA[اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر انسانی عظمت کی پاسداری کا حکم دیا، اور ان کو آزادی کی دولت سے سر فراز کیا چنانچہ اس نے لوگوں کو فکر و نظر کی آزادی ، تعلیم کی آزادی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">اسلام نے عالم انسانی کو حقوق انسانی کی آزادی کا ایک واضح تصور دیا ہے۔ اس نے لوگوں کے مطالبات اور خواہشات کے بغیر انسانی عظمت کی پاسداری کا حکم دیا، اور ان کو آزادی کی دولت سے سر فراز کیا چنانچہ اس نے لوگوں کو فکر و نظر کی آزادی ، تعلیم کی آزادی ، بات چیت کی آزادی ، تنقید و تبصرے کی آزادی ، مذہب و عقیدے کی آزادی اور تصرف وملکیت کی آزادی سے سرفراز کیا بشرطیکہ اس آزادی کے نتیجہ میں کسی کی ایذارسانی نہ ہو۔ غرضیکہ اس نے تمام بنیادی اور اہم حقوق کی آزادی سے فیضیاب کر کے ہماری عزت افزائی فرمائی ۔<br />
آزادی کے تعلق سے اسلام کا ایک عام قاعدہ ہے، اور وہ ہے ’’ لا ضرر و لا ضرار ‘‘ نقصان اٹھاؤ نہ نقصان پہنچاؤ ۔چنانچہ ہر وہ آزادی جو کسی کے حق میں باعث ضرر بنے وہ اسلام کی نگاہ میں آزادی نہیں ہے یا اسلام اس آزادی کو حدود وقیود کا پابند بنادیتا ہے کیونکہ یہ ایک مسلمہ قاعدہ ہے کہ ایک انسان کی آزادی وہیں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی آزادی شروع ہو تی ہے ۔<br />
آزادی کی ایک اور قسم ہے جس کو حریت فسوق سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کا دعوی کرنے والے اس کا استعمال فساد اور بگاڑ کی خاطر کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں زندگی کے ہر گوشے کو آلودہ کر ڈالتے ہیں مذہب ہو یا عقل ، مال ہو یا عزت حتی کہ ان کے اپنے جسم بھی اس گندگی و نجاست سے محفوظ نہیں رہتے اسلام اس قسم کی آزادی کا سخت مخالف ہے ۔<br />
اسلام نے لوگوں کے سامنے آزادی کے چند بنیادی اصول پیش کیے ہیں،امیر المومنین حضرت عمرؓ بن الخطاب نے بہت ہی پیاری بات کہی ہے، انہوں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ ’’تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنا لیا ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا‘‘ اورحضرت علیؓ بن ابی طالب کی وصیت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ’’سنو !کسی کی غلامی نہ کرنا، تم کو اللہ نے آزاد پیدا کیا ہے‘‘ یہ الفاظ حقوق کی آزادی کے سلسلہ میں اسلام کے نظریہ کی بہت اچھی غمازی کر تے ہیں ۔لوگ اپنی حقیقت کے اعتبار سے آزاد اور خود مختار ہیں، کیونکہ اللہ تعالی نے ان کو آزاد پیدا کیا اور ان کی ماؤں نے ان کو اسی آزاد فطرت پر جنا ہے چنانچہ ان کو آزادی کاپورا حق ہے اور وہ کسی کے غلام یا ما تحت نہیں ہیں ۔<br />
ایک ایسے وقت میں جب کہ لوگ غلامی کے خوگر تھے، فکری و مذہبی غلامی ، سیاسی و معاشی غلامی نیز سماجی و تہذیبی غلامی غرض انسان مختلف قسم کی بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا، اسلام نے اس وقت آزادی کی صدائے باز گشت لگائی اور وہ ہرآزادی جس کی انسانی فطرت کو ضرورت تھی، عقیدے کی آزادی ، فکر و نظر کی آزادی ، قول و عمل کی آزادی اوردین و مذہب کی آزادی سے نوع انسانی کو ہمکنار کیا، ہر قسم کی غلامی سے انسان کو نجات دلائی۔ چنانچہ کسی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی کو کسی مخصوص مذہب کے اختیار کرنے پر مجبور کرے۔قرآن نے صراحت کے ساتھ یہ بات کہہ دی کہ : افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مومنین۔ یہ فرمان مکی زندگی کا ہے ۔ مدنی دور میں ان لفظوں میں تاکید فرمائی کہ : لا اکراہ فی الدین، اس آیت کے شان نزول پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ اسلام نے انسان کو کس قدر آزادی دی ہے اور اس کے یہاں کتنی وسعت و ہمہ جہتی ہے اور اس نے اس پر کتنا شدید زور دیا ہے ۔<br />
دور جاہلیت میں قبیلہ اوس و خزرج کی کسی عورت کو جب اولاد نہیں ہوتی تھی تو وہ نذر مانتی تھی کہ اگر وہ اولاد کی نعمت سے سرفراز ہو گئی تو اس اولادکو یہودیت کا خرقہ پہنائے گی ۔اس طرح ان دونوں قبیلوں میں بہت سے یہودیوں نے بھی پرورش پائی ۔جب اسلام آیا اور اس کے ذریعے اللہ تعالی نے اپنے بندوں پر ردائے رحمت دراز کی اور ان کو اپنی نعمتوں سے ڈھانپ لیا تو بہت سے لوگوں کو اس بات کی تمنا ہوئی کہ ان کے نور نظر اور لخت جگر بھی اس اسلام کی آغوش میں آجائیں اور اس بے حقیقت یہودیت سے ان کو واپس لوٹا دیا جائے لیکن ان تمام احوال و کوائف کے باوجود جن سے یہودیت دو چار تھی اور مسلمانوں اور یہودیوں کے مابین ہونے والی معرکہ آرائی کے باوجود اسلام نے کسی فرد کو بزور طاقت کسی مذہب کو قبول کرنے یا چھوڑنے کی اجازت نہیں دی،اگربعض اہل اسلام کی جانب سے بھی اس قسم کی کوشش کی گئی تو اسلام اس کو ناجائز اور ممنوع ٹھہراتا ہے<br />
آزادی کے یہ اصول و قوانین کسی سماجی ارتقا ء کے نتیجے میں یا کسی انقلاب کی بدولت وجود پذیر نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی لوگوں کی کد و کاوش کا ثمرہ تھے بلکہ یہ قوانین وقت کے تمام معاشرتی قوانین سے بلند و بالا تھے، یہ قوانین آسمان کی بلندی سے اترے تھے تا کہ زمین والوں کو بلندی سے ہمکنار کریں۔<br />
مذہب و عقیدے کی آزادی : اسلام نے اس آزادی کا تصور دے کر انسانیت کو ترقی کے بام عروج پر پہنچادیا لیکن اسلام نے اس آزادی کے ساتھ کچھ شرائط و ضوابط بھی متعین کر دیئے ہیں تا کہ دین لوگوں کے کھیل کود کی آماجگاہ نہ بن جائے &#8230;.. جیسا کہ یہود نے بنایا چنانچہ انہوں نے کہا (آمنوا بالذی انزل علی الذین آمنوا وجہ النھار واکفروا آخرہ لعلھم یرجعون )۔ صبح میں ایمان لاؤ اور شام میں پلٹ جاؤ اور کہو کہ ہم نے محمد ؐ کے دین میں یہ یہ خامیاں پائیں چنانچہ ہم کو پلٹنا پڑا ۔یا آج کے دن ایمان لاؤ اور آنے والے کل یا آنے والے ہفتے انحراف کر جاؤ ۔اس طرح انہوں نے اس نئے دین کی خوب تحقیر و تذلیل کی ۔چنانچہ اس راستے کے سد باب کے لئے یہ قاعدہ وضع کر دیا گیاکہ جو شخص غورو فکر اور فہم وبصیرت کے بعد اسلام قبول کرے گا اس کے لئے اعراض کی گنجائش نہیں ہو گی اور بصورت اعراض اس کو سزائے ارتداد بھگتنا پڑے گی۔<br />
فکرو نظر کی آزادی : اسلام نے لوگوں کو اپنے گردو پیش کی دنیا میں غور و فکر کرنے کی پر زور دعوت دی ہے (انما اعظکم بواحدۃ ان تقوموا للہ مثنی و فرادی ثم تتفکروا ) ( قل انظروا ماذا فی السمٰوات والارض ) (افلم یسیروا فی الارض فتکون لھم قلوب یعقلون بھا او آذان یسمعون بھا فانھا لا تعمی الابصار ولٰکن تعمی القلوب التی فی الصدور ) اسلام نے ان لوگوں کے خلاف عام اعلان جنگ کیا ہے جو اوہام پرستی کا شکار ہوتے ہیں او رخواہشات نفس کی پیروی کرتے ہیں فرمایا (ان الظن لا یغنی من الحق شیئاً ) اور جو اتباع شہوات اور تقلید آباء و اجداد اور اقتدائے اہل ثروت و سطوت کو اپنا شیوہ بناتے ہیں یہی لوگ بزبان شکوہ قیامت کے روز کہیں گے ( انا اطعنا سادتنا و کبراء نا فاضلونا السبیلا ) اور یہی دنیا میں کہتے ہیں ( انا وجدنا آباء نا علی امۃ و انا علی آثارھم مھتدون )چنانچہ ان کو اللہ تعالی نے جانوروں سے بھی بدتر بنادیا ۔<br />
اسلام نے اندھی تقلید کی سخت مذمت کی ہے اور سوچنے سمجھنے ، غورو فکر کرنے اور عقل و فہم کا استعمال کرنے کی دعوت دی ہے اور بآواز بلند یہ صدالگائی کہ ( ھاتوا برھانکم ان کنتم صادقین )<br />
عقیدۂ اسلامی کے اثبات میں عقلی دلائل کا بھر پور سہارا لیا گیا ہے، علماء اسلام نے صحیح لکھا ہے کہ ’’: سچ تو یہ ہے کہ عقل سلیم نقل صحیح کا ستون ہے ۔ عقل نقل کی بنیاد ہے چنانچہ وجود باری تعالی عقل سے ثابت ہے ، نبوت محمدی ؐ کی صحت پر عقل دلیل اول ہے ۔عقل ہی ہے جو دو ٹوک انداز میں کہتی ہے یہ کے رسول ہیں کیونکہ ان کی صداقت پر دلیل موجودہے، ان کی صحت نبوت پر معجزات شاہد ہیں یا یہ کہ یہ کذاب ہے ، دجال ہے کیونکہ اس کا دعوی بے بنیاد ہے ، اس کے پاس کوئی معجزہ نہیں ہے ۔چنانچہ اسلام میں عقل و فکر کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔<br />
اس آزادئ فکرو نظر کے نتیجے میں ایک اور آزادی وجود میں آتی ہے جس کو ہم حریت عمل یا قول وفعل کی آزادی کہتے ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ علماء اسلام کے درمیان علمی تحقیقات و تدقیقات میں بے شمار اختلافات واقع ہو تے ہیں اور ان میں سے بعض بعض کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے کاموں پر تنقید کرتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی نہ عار محسوس کرتا ہے اور نہ تنگ دامانی کا شکار ہوتاہے ۔ہم ایک ہی کتاب میں دیکھتے ہیں کہ معتزلی عالم کا بھی ذکر ہے اور اہل السنۃ کا بھی ۔ تفسیر کشاف جو ایک معتزلی امام یعنی امام زمخشری کی لکھی ہوئی ہے، اہل السنہ اس سے خوب خوب استفادہ کرتے ہیں اور اس میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے، حتی کہ بعض علماء اہل السنہ اس کتاب کا دفاع بھی بھر پور انداز سے کرتے ہیں مثلاً ابن المنیر نے ان پر ’’الانتصاف من الکشاف ‘‘ کے نام سے حاشیہ چڑھایا ،حافظ ابن حجر نے ایک کتاب ’ الکافی الشافی فی تخریج احادیث الکشاف ‘ کے نام سے تصنیف کی ۔<br />
اس طرح ہمارے علماء بلا جھجک ایک دوسرے کی تصانیف اور تحقیقات سے مستفید ہوتے تھے۔فقہاء کے درمیان علمی اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے سینے ہمیشہ کشادہ ،جبیں خندہ اور ظرف اعلی ہوتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیشہ ملت اسلامیہ کے اندر آزادئ فکر و نظر کے ساتھ آزادئی قول وعمل کا دروازہ بھی کھلا رہا ہے ۔<br />
نقد وتبصرہ کی آزادی: اسلام نے نہ صرف اس کو بحیثیت ایک حق منظور کیاہے بلکہ جب امت کی کوئی مصلحت اس سے متعلق ہوجائے یا عام اخلاق و آداب اس کے متقاضی ہو جائیں تو اس کو ایک واجب کا درجہ دیا ہے ۔تمہارے اوپر واجب ہوگا کہ تم حق بات کہو اور اللہ کے سلسلے میں کسی کی ملامت کی پروا نہ کرو ،معروف کا حکم دو اور منکر سے روکو اور خیر کی طرف دعوت دو، نیکوکار کی اس کی نیکی پر تحسین کی جائے ،اس کی تائید کی جائے اور بدکار و بد اخلاق کی برائی پر نا پسندیدگی کا اظہار کیا جائے،اس کو اس بات سے روکنے کی کوشش کی جائے۔یہ حق پھر ایک و اجب کی صورت اختیار کرلیتا ہے، اگر کوئی اس سے عہدہ برآ نہ ہو یا اس پر خاموشی سے امت کے اندر مضر اثرات یا فساد عام کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں واجب ہوگا کہ تم حق بات کہو اور بیباکی کا مظاہرہ کرتے رہو، ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ اور’’ واصبر علی ما اصابک ان ذلک من عزم الامور‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر بن جاؤ ۔<br />
اسلام ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ لوگوں کے افکارو خیالات مقید کرکے رکھ دیا جائے یا لوگوں کی لگام بالکلیہ کسی ایک فردکے حوالے کردی جائے کہ کوئی اس کی اجازت کے بغیر لب کشائی نہ کرسکے جیسا کہ فرعون نے اپنے جادوگروں سے کہا تھا (آمنتم لہ قبل ان آذن لکم ) وہ چاہتا تھا کہ لوگ اس سے اجازت طلب کئے بغیر یا اس کے حکم کے بغیر نہ ایمان لائیں، نہ زبان کو گویائی کی اجازت دیں، اسلام اس قسم کی کسی بھی پابندی کا ہرگزروادار نہیں۔<br />
اسلام نے نہ صرف لوگوں کے لئے غورو فکر کے دروازے وا کیے بلکہ ان کو حکم دیا کہ وہ غوروفکر سے کام لیں ،اس نے نہ صرف حق پر یقین کرنے اور عقیدہ رکھنے کی آزادی دی بلکہ ان کو حکم دیا کہ وہ اسی پر عقیدہ رکھیں جس کو حق سمجھتے ہوں اور صاحب عقیدہ پر واجب کردیا کہ اپنے عقیدے کی حمایت و حفاظت کی خاطر پورا زور بازو اور قوت اسلحہ جھونک دیں ۔<br />
اسلام نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ آزادئ عقیدہ کو عام کرنے کے لیے سخت جدوجہد سے کام لیں یہاں تک کہ فتنہ دب کر رہ جائے اور دین پورا کا پورا اللہ رب العالمین کے لئے ہو جائے، اسلام نے یہاں تک کہاں کہ آزادی کی حمایت اور فتنہ کی سرکوبی کے لئے تیغ وتفنگ اور اسلحہ کا استعمال بھی بلا جھجھک جائز ہے تاکہ کوئی اپنے دین اور عقیدے کے تعلق سے فتنہ کا شکار نہ ہوجائے۔قتال وجہاد کی مشروعیت و حقیقت پر جو پہلی آیت نازل ہوئی اس میں اللہ تعالی فرماتا ہے (اذن للذین یقاتلون بانھم ظلموا ) آگے فرمایا (و لو لا دفع اللہ الناس بعضھم ببعض لھدمت صوامع و بیع و صلوات و مساجد یذکر فیھا اسم اللہ کثیراً) یعنی اگر اللہ تعالی نے مومنوں کو ان کی تلواروں کے ذریعے آزادی کا دفاع کرنے کی قوت نہ بخشی ہوتی &#8230;..خصوصاً بنیادی آزادی کرنے کی قوت نہ بخشی ہوتی تو اس روئے زمین پر کوئی اللہ کی عبادت کی تاب نہیں لاسکتا تھا، اور نہ ہی اس نیلگوں آسمان کے نیچے کنائس ، کلیسے ، مساجد اور عبادت گاہوں کے نشانات ہوتے جن میں کہ اللہ تعالی کا ذکر ہو ۔<br />
اسلام ہی ہے جس نے اس قسم کی بیش قیمت آزادی کا تصور دیا، لیکن اسلام جس آزادی کو پیش کرتا ہے وہ حقوق کی آزادی ہے نہ کہ فسق و فجور کی ۔اسلام قطعاً اس آزادی کے حق میں نہیں ہے جس کو لوگ شخصی آزادی کا نام دیتے ہیں اور اس کے ذریعے وہ ہر مضر و نقصاندہ آزادی کا دعوی کرتے ہیں یعنی یہ کہ تم اپنی خواہشات کی پیروی کرو،خواہشات کے مطابق زنا کرو ،شراب نوشی کرو اور ہر مہلک اور نقصان دہ فعل کا ارتکاب کرو ۔ اسلام حقوق کی آزادی دیتا ہے، جائز خواہشات اور مطالبات پورے کرنے کی اجازت دیتا ہے، لیکن وہ کبھی اور کسی صورت میں فسق وفجور کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح کچھ معاملات ہوتے ہیں جہاں مصلحت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اس میں آزادی مشروط اور مقیدہونی چاہئے جیسے کہ ہر بات پر تنقید نہ کرو ،ہر وہ چیز جس کو تم صحیح سمجھتے ہو اس کااظہار نہ کرو، ہر عمل کی تائید نہ کرو اور کسی معذور کو برے القاب سے نہ پکارو مثلاً کسی لنگ پا کو لنگڑا مت کہو۔ ایسے میں شخصی آزادی کا دعوی کرنا کہ جس سے خود تمہارے اخلاق و کردار ، روح و ضمیر اور گھر خاندان میں فساد و بگاڑ کا خطرہ ہو، اسلام میں اس قسم کی آزادی کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔اگر آزادی کا مفہوم اس انداز کا ہے تو ہرگز اسلام ایسی آزادی کا قائل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس طرح یہ حقوق کی آزادی نہیں بلکہ فسق و فجور اور فساد و بگاڑ کی آزادی ہے یعنی تم خود تو آزادی کا دعوی کرو اور پھر لوگوں کی آزادی کو ٹھیس پہونچاؤایسی آزادی کا قائل کون ہو سکتا ہے ؟<br />
تمہیں راہ نوردی کا پورا حق حاصل ہے لیکن ساتھ ہی کچھ آداب کا پاس بھی تم پر واجب ہے ۔تم لوگوں کو دھکا مت مارو، گاڑیوں سے مت ٹکراؤ ، پیادہ پا لوگوں کو ڈھکیل مت دو اوراخلاق واقدار کو پامال مت کرو اس طرح کے اصول تمہاری آزادی کے لئے شرط ہیں اور یہ عام مصلحت کے پیش نظر ہے ۔ہر دین اور ہر نظام اس طرز کے شرائط و قوانین کا پاسدار ہوتا ہے جبکہ اسلام کے لائے ہوئے قوانین تو بشریت کے بالکل مطابق اور فطرت کے عین موافق ہیں ۔<br />
<strong> (عربی سے ترجمہ: ذوالقرنین حیدر ندوۃ العلماء لکھنؤ)</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%d8%a6-%d9%81%da%a9%d8%b1-%d9%88%d8%b9%d9%85%d9%84-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%85-%d8%b9%d9%84%d8%a7%d9%85%db%81-%db%8c%d9%88%d8%b3%d9%81-%d8%a7%d9%84/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%84%d8%a7%da%a9%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%92-%da%88%da%be%d9%88%d9%86%da%88-%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%82%d9%84%d8%a8-%d9%88%d8%ac%da%af%d8%b1/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%2584%25d8%25a7%25da%25a9%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25b3%25db%2592-%25da%2588%25da%25be%25d9%2588%25d9%2586%25da%2588-%25da%25a9%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2584%25d8%25a7%25d9%2581-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d9%2582%25d9%2584%25d8%25a8-%25d9%2588%25d8%25ac%25da%25af%25d8%25b1</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%84%d8%a7%da%a9%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%92-%da%88%da%be%d9%88%d9%86%da%88-%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%82%d9%84%d8%a8-%d9%88%d8%ac%da%af%d8%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:47:49 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2376</guid>
		<description><![CDATA[وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے ہم مسلکوں میں ابراہیم بھی تھا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آیا‘‘۔ جب آپ کو کسی معالج سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل نازک(سیریس) حالت میں ہے، حجم بڑھ [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">وَإِنَّ مِن شِیْعَتِہِ لَإِبْرَاہِیْمَ۔ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ۔ (الصافات: ۸۳۔۸۴) ’’بلاشبہ نوح کے ہم مسلکوں میں ابراہیم بھی تھا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے پاس قلب سلیم لے کر آیا‘‘۔<br />
جب آپ کو کسی معالج سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کا دل نازک(سیریس) حالت میں ہے، حجم بڑھ گیا ہے، نالیاں سکڑ گئی ہیں، خون کی سپلائی متأثر ہے، متعدد ہول بلاک ہوچکے ہیں، اور کسی وقت بھی دل کی حرکت بند ہونے(ہارٹ اٹیک) کا خدشہ ہے۔ ایسے وقت میں آپ کا اور آپ کے عزیزوں کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟آپ پہلی فرصت میں امراض قلب کے ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرتے، اس کے مشوروں پر عمل کرتے، اس کی تجویز کردہ دوائیں پابندئ وقت کے ساتھ استعمال کرتے اور کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور نقل وحرکت کے سلسلہ میں جن جن باتوں سے اس نے روکا ہے، ان سے سختی سے پرہیز کرتے۔<br />
اور ایسا کیوں نہ آپ کریں کہ دل ہے تو زندگی ہے، جب تک دل حرکت کررہا ہے، آپ زندہ ہیں، جس لمحہ دل کی حرکت بند ہوئی، زندگی آپ سے رخصت ہوئی، اس کے بعد ہنستا، مسکراتا، کھیلتا انسان بے حس وحرکت اور بے جان لاشہ میں تبدیل ہوجاتا ہے، دل دراصل قدرت کا سب سے انمول، سب سے خوبصورت اور سب سے پیارا تحفہ ہے، دل کی زندگی ہی انسان کی زندگی سے عبارت ہے، دل اچھا انسان اچھا، دل خراب انسان خراب، دل کی موت انسان کی موت، دل جتنا مضبوط صحتمند اور توانا ہوگا، اسی قدر انسان مضبوط اور صحتمند ہوگا، اگرچہ کہ وہ درہم ودینار اور دولت وحکومت اور اسباب ووسائل کے اعتبار سے کوڑی کا انسان ہو، لیکن اگر دل کمزور ہے تو درہم ودینار اور اسباب ووسائل سب کوڑی کی حیثیت رکھتے ہیں، اسی کو حدیث میں فرمایا گیا ہے، ان الغنی غنی النفس۔ ’’اصل تونگری تو دل کی تونگری ہے‘‘۔<br />
یہی وجہ ہے کہ دل کی معمولی سی بیماری کی طرف بھی انسان سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر توجہ کرتا ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ألا ان فی الجسد مضغۃ، اذا صلحت صلح الجسد کلہ، واذا فسدت فسد الجسد کلہ، ألا وھی القلب۔’’آگاہ رہو، جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست حالت میں ہوتا ہے تو پورا جسم درست رہتا ہے لیکن اگر وہ بگڑ جاتا ہے تو پورا جسم خراب ہوجاتا ہے، جانتے ہو، وہ کیا ہے۔ وہ ٹکڑا انسان کا دل ہے‘‘۔<br />
مادی اور جسمانی اعتبار سے دل کی جو قدروقیمت ہے، اس سے کہیں بڑھ کر اخلاقی اور روحٓنی اعتبار سے دل اہمیت رکھتا ہے۔ یہ دل جس طرح جسمانی اعتبار سے بیمارہوتا ہے، اسی طرح اس دل پر اخلاقی اور روحانی امراض کا حملہ ہوتا ہے، اور یہ حملہ زیادہ سخت اور زیادہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے، جسمانی اعتبار سے اگر دل بیمار ہوا تو زیادہ سے زیادہ ایک جان کا زیاں اور اس کے بال بچوں اور دوست واحباب کا اس سے فراق اور محرومی ہے، لیکن اگر دل کو جان لیوا اخلاقی وروحانی روگ لگ گیا تو نہ صرف ایک جان کا زیاں ہے، بلکہ ایسے شخص کی دنیا وآخرت دونوں برباد، اس کے ساتھ ساتھ اس کی اولاد، دوست احباب، رشتے ناطے، اور مرض کی سنگینی کے اعتبار سے زمین کے عام باشندے نسلا بعد نسل متأثر ہوتے اور وہ زمین کے اوپر عملا ایک بوجھ ہوتا ہے۔ وہ انسان کی شکل میں چلتا پھرتا نظر آتا ہے لیکن حقیقت میں لومڑی، بھیڑیا ، یا کوئی اور درندہ ہوتا ہے، حقیقی انسان اس کے اندر سے کب کا نکل چکا ہوتا ہے۔ ایک عام انسان بھی ایسے شخص سے محبت رکھتا ہے جو صاف ستھرا اور خلوص ومحبت سے بھرا، بے غرض دل رکھتا ہے، اگرچہ وہ ظاہری صورت کے لحاظ سے کتنا ہی بدشکل ہو، اس کے برعکس ایک انتہائی خوب رو اور خوب شکل آدمی اگر خودغرض اور گندے خیالات کا حامل ہو تو اس کے لیے کسی دل میں کوئی جگہ نہیں ہوتی۔<br />
اہل کتاب کے تذکرہ میں آتا ہے کہ جانتے بوجھتے جب انہوں نے مسلسل خدا کی نافرمانی کی، احکام خداوندی کی تعمیل میں خواہ مخواہ کی حجتیں کیں، حکم توڑا اور توڑتے رہے، تو اس کی سزا انہیں یہ ملی کہ ان کے دل سخت کردئیے گئے:<br />
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَۃً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الأَنْہَارُ وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّہِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُون۔ (البقرہ: ۷۴) ’’پھر اس کے بعد تمہارے دلوں میں سختی آئی اور وہ پتھر کی طرح سخت ہوگئے، بلکہ سختی میں ان سے بھی بڑھ کر، کیونکہ بعض پتھر تو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان سے نہریں پھوٹ بہتی ہیں اور بعض شق ہوتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض ایسے بھی ہوتے ہیں کہ خشیت الہی سے گرپڑتے ہیں اور اللہ تمہاری حرکتوں سے بے خبر نہیں ہے‘‘۔<br />
چٹانوں سے چشموں، نہروں اور دریاؤں کا نکلنا ایک معروف بات ہے، لیکن اس تمثیل میں بنی اسرائیل کے لیے ایک تلمیح بھی پوشیدہ ہے،انہوں نے سینا ی صحرانوردی میں چٹان سے اکٹھے بارہ چشموں کا پھوٹ بہنا، اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا، گؤسالہ پرستی کے بعد جب اجتماعی توبہ کے لیے حضرت موسیؑ کے ساتھ ان کے ستر نمائندے کوہ طور پر پہنچے تھے تو قدرت الہی کا جلال اس شکل میں ان کے سامنے آیا تھا کہ ایک زبردست زلزلہ نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور پہاڑ گویا ان کے سروں پر آگرا تھا، اسی طرح حضرت موسیؑ جب کوہ طور پر پہنچے، اور دیدار الہی کی تمنا کی تو اللہ نے فرمایا کہ پہاڑ پر اپنی نگاہ جمائے رہے، اگر یہ اپنی جگہ ٹکا رہا تو مجھے دیکھ سکتے ہو لیکن جب اللہ کی تجلی نمودار ہوئی تو پہاڑ مارے خوف کے اس کی تاب نہ لاسکا، اور وہ حصہ ریزہ ریزہ ہوگیا، یہ ان کی اپنی تاریخ تھی، اللہ تعالی نے ان کے نالائق جانشینوں سے فرمایا: تمہارے دل ان پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں۔<br />
دلوں کی یہ سختی نظر آنے والی چیز نہیں ہے، دل بظاہر دھڑکتا ہوگا، لیکن اندیشہ ہے کہ جانتے بوجھتے خدا کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے اس میں سختی آگئی ہو، اس کے بعد اصلاح ناممکن ہوجاتی ہے، فویل للقاسیہ قلوبہم من ذکراللہ،(سورہ الزمر)’’جن کے دل اللہ کی یاد سے سخت ہوگئے ہیں، ان کے لیے ہلاکت ہے‘‘<br />
اسی لیے اہل ایمان کو ہوشیار یا گیا ہے: أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا یَکُونُوا کَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ فَاسِقُون۔ (الحدید:۱۶) ’’ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی اس بات کا وقت نہیں آیا کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کے ذکر اور اس حق کے آگے جو نازل ہوا ہے اور ان لوگوں کی طرح وہ نہ ہوجائیں جن کو اس سے پہلے کتاب دی گئی تھی(لیکن کتاب چھوڑ کر گناہوں میں لت پت ہوگئے اور اس حالت میں) ان پر ایک زمانہ گزر گیا اور (حالت یہاں تک پہنچی کہ آج) ان میں سے بہت سے لوگ کھلے فاسق ہیں‘‘۔<br />
پھر یہ بتایا گیا ہے کہ دلوں کی صحت کی علامت یہ ہے کہ کتاب الہی سے ان کے دل لرز جاتے ہیں، اور اس کے آگے وہ جھک پڑتے ہیں: تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُودُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُودُہُمْ وَقُلُوبُہُمْ إِلَی ذِکْرِ اللَّہ۔ (الزمر:۲۳)’’اس کتاب الہی سے ان لوگوں کے رونگٹے کانپ اٹھتے ہیں، جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں، پھر ان کے بدن اور دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر (یعنی کتاب اللہ پر عمل کرنے) کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں‘‘۔اسی طرح سورہ مریم میں ہے: إِذَا تُتْلَی عَلَیْْہِمْ آیَاتُ الرَّحْمَن خَرُّوا سُجَّداً وَبُکِیّا۔ (مریم:۵۸)’’اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کا حال یہ تھا کہ رحمن کی آیتیں جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو بے اختیار سجدے میں روتے ہوئے گرپڑتے تھے‘‘ اسی طرح ایک جگہ ہے: وَالَّذِیْنَ إِذَا ذُکِّرُوا بِآیَاتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْْہَا صُمّاً وَعُمْیَاناً۔ (الفرقان: ۷۳)’’یہ وہ لوگ ہیں کہ جب انہیں ان کے رب کی آیات کے ذریعہ تذکیر کی جاتی ہے تو اس پر اندھے بہرے ہوکر نہیں رہ جاتے‘‘، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ان پر آیات الہی کا اثر نہ ہو اور وہ ٹس سے مس نہ ہوں، بلکہ آیات الہی ان کے دلوں پر اثرانداز ہوتیں اور انہیں حرکت وعمل پر آمادہ کرتی ہیں۔ کفار کی طرح سنی ان سنی نہیں کرتے اور اعتراض کے لیے دلوں دماغ پر تالا لگاکر ٹوٹ نہیں پڑتے۔<br />
انسان کی سب سے بڑی مصیبت اس کے دل کی بصیرت اور اس کی عبرت پذیری کی صلاحیت کا ختم ہوجانا ہے۔ وہ دیکھتا سب کچھ ہے لیکن اسے نظر کچھ بھی نہیں آتا یہی وجہ ہے کہ کسی چیز سے اثر نہیں لیتا۔ فَإِنَّہَا لَا تَعْمَی الْأَبْصَارُ وَلَکِن تَعْمَی الْقُلُوبُ الَّتِیْ فِیْ الصُّدُور۔ (الحج:۴۶)’’واقعہ یہ ہے کہ آنکھیں جو سروں پر ہیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جوسینوں کے اندر ہیں‘‘، یعنی انسان کی اصلی آفت دلوں کا اندھا پن ہے، دل اندھا ہے تو آنکھیں ہوتے بھی وہ اندھا ہے، دل اگر بینا، صاحب بصیرت اور حساس ہے تو آنکھیں نہیں ہوتے ہوئے بھی وہ صحیح معنوں میں بینا ہے۔<br />
حضرت ابراہیمؑ کی سب سے بڑی خوبی یہ بیان کی گئی ہے کہ إِذْ جَاء رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلِیْم (الصافات:۸۴)، ’’(ابراہیم کی یہ بات قابل ذکر ہے) جبکہ وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوئے صاف ستھرا دل لے کر‘‘، ابراہیمؑ کی سب سے بڑی خوبی ان کا صاف ستھرا، بھلا چنگا دل تھا، ان کے لیے قلب سلیم کا لفظ ان کی کامل حنیفیت، یکسوئی اور ان کے صدق واخلاص اور وفائے عہد کے کمال کی تعبیرہے۔ یعنی وہ اپنے پہلو میں ایسا دل رکھتے ہیں جو شرک وکفر، کبروحسد، نفاق وریا اور ہرطرح کی ضلالت وگمراہی کی ادنی سے ادنی آلائش سے بھی پاک تھا، عقیدے اور اخلاق کی تمام خرابیوں سے محفوظ دل، اللہ کی نافرمانی وسرکشی، برے میلانات، گندی خواہشات اور ہرطرح کے شکوک وشبہات سے بالکل صاف ستھرا دل، اللہ کے لیے محبت، اللہ کے لیے اخلاص، اللہ کا تقوی، اللہ کی خشیت، اللہ کے آگے خودسپردگی، اور کامل انقیادواطاعت اور مکمل وفاداری کا مجسم پیکردل، اور ظاہر ہے جو اللہ کاہوگیا اس کا دل اب ہر ایک کے لیے خلوص ومحبت سے لبریز اور ہرطرح کی بدخواہی، خودغرضی اور نفسیات سے پاک ہوگا، ایسا ہی دل کل قیامت کے دن انسان کو نجات دلائے گا، یَوْمَ لَا یَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ۔ إِلَّا مَنْ أَتَی اللَّہَ بِقَلْبٍ سَلِیْم۔ (الشعراء: ۸۸۔۸۹)’’وہ دن یاد رکھے جانے کے قابل ہے جس دن نہ مال کام آئے گا، نہ بیٹے، ہاں، وہ لوگ سرخ رو اور کامیاب ہوں گے جو خدا کے حضور بھلا چنگا، صاف ستھرا اور ہرطرح کی آلائش سے محفوظ دل لے کر حاضر ہوں گے‘‘۔<br />
ابراہیمؑ کی سب سے بڑی خوبی ان کا یہی دل تھا جسے قرآن نے قلب سلیم سے تعبیر کیا ہے، یہی دل ان کی تمام کامیابیوں کی کلید تھا، جس نے ان سے ایمان واسلام ، انقیاد واطاعت، سرفروشی وجانبازی، ایثاروقربانی، وفاء عہد بندگی اور اللہ سے محبت کے وہ زندہ، روشن اور تابناک نقوش ثبت کرائے جو آج بھی دلوں کو گرماتے اور قربانی اور فداکاری کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔<br />
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دل کیسے پیدا ہوتا ہے۔ جواب یہ ہے کہ اللہ کے ذکر اور اللہ کی کتاب سے جس قدر زندہ تعلق ہوگا، اسی حساب سے یہ دل بنتا چلا جائے گا، الا بذکر اللہ تطمئن القلوب، ’’اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو طمانیت حاصل ہوتی ہے‘‘(اور اللہ کا سب سے بڑا ذکر اس کا کلام ہے)<br />
آدمی دل بیدار رکھتا ہو اور اللہ کی کتاب کی طرف کان بھی لگائے اور متوجہ بھی ہو تب جاکر اس دل کو تذکر حاصل ہوتا ہے، اللہ کا تقوی پیدا ہوتا اور اس کی محبت جاگزیں ہوتی ہے: إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَذِکْرَی لِمَن کَانَ لَہُ قَلْبٌ أَوْ أَلْقَی السَّمْعَ وَہُوَ شَہِیْد۔(سورۃ ق:۳۷)، ’’اس میں یقیناًنصیحت ہے ان لوگوں کے لیے جو دل بیدار رکھتے ہوں اور آگے بڑھ کر کان لگاتے ہوں اور متوجہ بھی ہوں‘‘۔ اس کے برعکس جو لوگ اللہ کے ذکر سے غفلت برتتے ہیں، اللہ تعالی ان پر شیطان مسلط کردیتا ہے: وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْْطَاناً فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ۔ (الزخرف: ۳۶)، ’’جو رحمن کے ذکر سے اندھا بن جاتا ہے، ہم اس کے لیے ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے‘‘۔ پھر ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ ان کی کیفیت گدھے کی ہوجاتی ہے، جن کی باگ شیطان کے ہاتھ میں ہوتی ہے، وہ جس وادی میں چاہتا ہے ان کو لیے لیے پھرتا ہے: اسْتَحْوَذَ عَلَیْْہِمُ الشَّیْْطَانُ فَأَنسَاہُمْ ذِکْرَ اللَّہ۔ (المجادلۃ: ۱۹)، ’’شیطان نے انہیں اپنے شکنجے میں کس لیا اور انہیں اللہ کے ذکر سے غافل کردیا‘‘، پھر اس کے بعد جب مسلسل اللہ کی نافرمانی ہوتی ہے تو دلوں میں سختی اور قساوت آجاتی ہے، جیساکہ ’’ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ‘‘کے سیاق کلام سے واضح ہے، جب یہ حال ہوجاتا ہے تو انسان خدا کو فراموش کردینے کے نتیجہ میں اپنی شناخت کھودیتا ہے، اسی لیے فرمایا گیا ہے: وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللَّہَ فَأَنسَاہُمْ أَنفُسَہُمْ أُوْلَءِکَ ہُمُ الْفَاسِقُون(الحشر: ۱۹)، ’’تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو اللہ کو بھلا بیٹھے تو اللہ نے خود ان کو ان کی چالوں سے غافل کردیا، یہی لوگ کھلے ہوئے فاسق ہیں‘‘۔<br />
واقعہ یہ ہے کہ جسے اپنی معرفت ہوجاتی ہے، اسے اپنے رب کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی ہے، کسی عارف کا قول ہے، من عرف نفسہ فقد عرف ربہ، ’’جس نے اپنے کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا‘‘۔ اپنی شناخت اور اپنے رب کی شناخت نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایسا آدمی نہ دین کے کام کا رہ جاتا ہے نہ دنیا کے کام کا۔ اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ہر چیز سے ڈر لگنے لگتا ہے۔ جب بادل گرجتے ہیں اس کا سینہ بیٹھتا اور جب بجلی چمکتی ہے تو اس کا دل دھڑکتا ہے۔ جذبات سرد پڑ جاتے ہیں، حوصلے ختم ہوجاتے ہیں اور پھر ایسے لوگ حق کے مقابل میں جم نہیں سکتے، ان کی اسی کیفیت کی وجہ سے ان کی حالت یہ بتائی گئی ہے: وَقَذَفَ فِیْ قُلُوبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُونَ بُیُوتَہُم بِأَیْْدِیْہِمْ وَأَیْْدِیْ الْمُؤْمِنِیْن۔ (الحشر:۲)’’اللہ نے ان کے دلوں میں دہشت ڈال دی، وہ اجاڑ رہے تھے اپنے گھروں کو اپنے ہاتھوں سے اور مومنین کے ہاتھوں سے‘‘، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ ان کی کیفیت یہ ہوتی ہے: لَہُمْ قُلُوبٌ لاَّ یَفْقَہُونَ بِہَا وَلَہُمْ أَعْیُنٌ لاَّ یُبْصِرُونَ بِہَا وَلَہُمْ آذَانٌ لاَّ یَسْمَعُونَ بِہَا أُوْلَءِکَ کَالأَنْعَامِ بَلْ ہُمْ أَضَلُّ أُوْلَءِکَ ہُمُ الْغَافِلُون۔ (الاعراف: ۱۷۹)، ’’ان کے پاس ایسے دل نہیں جن سے سمجھیں، ایسی آنکھیں نہیں جن سے دیکھیں، ایسے کان نہی جن سے سنیں، یہ مویشیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گم کردہ راہ، یہی پکے بے خبر اور غافل لوگ ہیں‘‘۔ پھر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ توپ وتفنگ رکھتے ہوئے بھی وہ کچھ کر نہیں پاتے، اقبال نے اگرچہ کہا ہے کہ<br />
اللہ کو پامردی مومن پہ بھروسہ<br />
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا<br />
اور<br />
کافر ہے تو تلوار پہ کرتا ہے بھروسہ<br />
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی<br />
لیکن تلوار اور یورپ کی مشینیں حقیقت میں مومن کے عزم کے آگے ان کا ساتھ بھی نہیں دیتیں، اس لیے کہ وہ ایمان سے لبریز قلب سلیم سے محروم ہوتے ہیں۔<br />
کارکنان تحریک اسلامی اور ان کے قائدین کے لیے آج سب سے بڑی اور اہم ضرورت اسی دل کی تلاش اور اسی دل کی بازیافت ہے، اگر یہ دل پیدا ہوگیا تو اس راہ کی ہر منزل آسان، اور من احب للہ وابغض للہ واعطی للہ ومنع للہ فقد استکمل الایمان،’’ جس نے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ کے لیے نفرت کی، اللہ کے لیے دیا اور اللہ کے لیے محروم کیا، اس نے اپنا ایمان مکمل کرلیا‘‘کا نورانی منظر دنیا کے سامنے آجائے گا، اگر ایسا نہیں ہوسکا تو<br />
شمع محفل ہوکے تو جب سوز سے خالی رہا<br />
تیرے پروانے بھی اس لذت سے بیگانے رہے<br />
اور پھر<br />
بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے<br />
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے<br />
اس لیے تحریک اسلامی کے جوانوں کو سب سے زیادہ اسی قلب سلیم کی فکر کرنی چاہئے، ایسا قلب سلیم جس میں اللہ کے لیے محبت، اللہ کے لیے نفرت، اللہ کے لیے دینا اور اللہ ے لیے محروم کرنا، اللہ کے لیے نماز، اللہ کے لیے قربانی اور بالفاظ مختصر اللہ کے لیے جینے اور اللہ کے لیے مرنے کا جذبہ بیتاب ہو۔<br />
تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار<br />
لاکہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب وجگر</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>مولانا محمد اسماعیل فلاحی، شیخ التفسیر، جامعۃ الفلاح ، اعظم گڑھ</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%84%d8%a7%da%a9%db%81%db%8c%da%ba-%d8%b3%db%92-%da%88%da%be%d9%88%d9%86%da%88-%da%a9%d8%b1-%d8%a7%d8%b3%d9%84%d8%a7%d9%81-%da%a9%d8%a7-%d9%82%d9%84%d8%a8-%d9%88%d8%ac%da%af%d8%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>میڈیا آزادی اور ذمہ داری</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%2585%25db%258c%25da%2588%25db%258c%25d8%25a7-%25d8%25a2%25d8%25b2%25d8%25a7%25d8%25af%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25b0%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25af%25d8%25a7%25d8%25b1%25db%258c</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:47:21 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2388</guid>
		<description><![CDATA[موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے دانش ور طبقے کے درمیان کافی بحث و مباحثہ جاری ہے۔اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چےئرمن جسٹس مارکنڈے [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">موجودہ ہندوستانی میڈیا کے منفی کردار اور اسے کنٹرول کرنے کے طور طریقوں،اس کی آزادی اور ذمہ داریوں کو لے کر ملک کے دانش ور طبقے کے درمیان کافی بحث و مباحثہ جاری ہے۔اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب سپریم کورٹ کے سابق جج اور پریس کونسل آف انڈیا کے چےئرمن جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ۱۰ ؍اکتوبر ۲۰۱۱ کو پریس میٹنگ کے دوران اپنی گفتگو میں موجودہ ہندو ستانی میڈیا سے متعلق اپنے احساسات کا اظہار کیا،اور میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ روش کو ہدفِ تنقید بنایا ۔<br />
جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے رات کو رات کیا کہہ دیا کہ ذرائع ابلاغ کی پوری دنیا بوکھلاکر رہ گئی۔چنانچہ مختلف ٹی وی چینلوں کے مالکان اور اخباروں کے ذمہ داران کی جانب سے جسٹس کاٹجو کے ریمارکس پر جذباتی ردِ عمل سامنے آرہے ہیں۔جہاں ضرورت اس بات کی تھی کہ میڈیا ان تنقیدوں کو حقیقت کے کڑوے گھونٹ سمجھ کر قبول کرتا اور سنجیدگی سے اپنا جائزہ لیتا،اس کے برخلاف میڈیا نے ان حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے جذباتی ردِ عمل کا اظہار کیا،اور بعض اخبارات کے ایڈیٹرس نے جسٹس کاٹجو کی شخصیت پر رکیک تنقیدوں کے تیر بھی برسائے۔<br />
موجودہ میڈیا کے کردار کے تناظر میں کی گئی تنقیدوں کومیڈیا غلط باور کرا رہا ہے لیکن میڈیا اپنے دفاع میں خواہ کتنی ہی تاویلات پیش کرے یہ حقیقت چھپائی نہیں جا سکتی کہ میڈیا کے کردار پر ملک بھر میں جو سوالات اٹھائے جارہے ہیں وہ مبنی بر حقیقت ہیں۔ میڈیا اپنی زبانِ قال سے حقائق پر پردہ ڈالنے کی خواہ کتنی ہی کوشش کرے بہر حال اس کی زبانِ حال یہ شہادت دے رہی ہے کہ موجودہ میڈیا اپنی حقیقی ذمہ داریوں سے غافل غلط سمت میں پیش قدمی کررہا ہے۔یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے جب ملکی میڈیا کوسخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ ماضی قریب و بعید میں بھی مختلف دانشور حلقوں کی جانب سے میڈیا کے کردار پر انگلی اٹھائی جاتی رہی ہے، لیکن حالیہ دنوں اس موضوع پر ملک کی ایک معزز اور قدآور شخصیت کی لب کشائی نے ملک بھر کی توجہ اس مسئلہ کی جانب مبذول کرادی ہے۔<br />
ملکی میڈیا کی موجودہ صورتِ حال پر مختلف قسم کی تنقیدیں کی جارہی جس کے ذریعے میڈیا کا اصل چہرہ بے نقاب ہو رہا ہے۔میڈیا کے تعلق سے سب سے تشویشناک پہلو کارپوریٹ سیکٹر اور بعض مخصوص طبقات کا میڈیا پر غلبہ ہے۔میڈیا پر قبضہ سرمایہ دار طبقے کی اہم ضرورت ہے۔ملک کے فسطائی عناصر اور سیاسی جماعتیں بھی ذرائع ابلاغ کو اپنے دستِ قابو میں رکھنے کے لئے اپنے بجٹ کی ایک خطیر رقم اس کے لئے مختص کرتی ہیں۔کارپوریٹ سیکٹر کے غالب ہو جانے کا ہی نتیجہ ہے کہ میڈیا اپنی مختلف خبروں، پروگراموں اور سیر ئلوں کے ذریعے مادہ پرستانہ طرزِ حیات کو فروغ دے رہا ہے۔ان حقائق کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ موجودہ میڈیا کارپوریٹ سیکٹرس اور چند مخصوص طبقوں کے مفاد کے تحفظ کے لئے کوشاں ہے۔عام شہریوں کے مسائل سے صرفِ نظر کرنا غیر اہم مسئلہ کو سب سے بڑا مسئلہ بنا کر پیش کرنا ،غلط رخ پر رائے عامہ کو ہموار کرنا ،فحاشی اور عریانیت پر مبنی اشتہارات اور پروگراموں کو نمایاں طور پر پیش کرنا موجودہ میڈیا کا ایک بڑا المیہ ہے۔ مسلمانوں کو بلا کسی دلیل و ثبوت کے دہشت گرد قرار دینا اور سماج میں اسلام کی غلط شبیہ پیش کر نا میڈیا کا سب سے محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔آج جب کہ ملک میں مسائل کا انبار ہے ،معا شی بحران درپیش ہے، غریبی و بے روزگاری میں روز افزوں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی ایک نئی لہر چل پڑی ہے، میڈیا کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اس بحرانی صورتحا ل کے ذمہ دار ایک ایک فردکا احتساب کرے اور حالات کی صحیح تصویر لوگوں کے سامنے پیش کرے لیکن میڈیا نہ صرف یہ کہ اپنی ذمہ داری سے غافل ہے بلکہ جانبداری سے کام لیتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کے سلسلے میں انتہائی منفی کرادر ادا کررہا ہے۔میڈیا کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کی وجہ سے مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں۔میڈیا کی اس غیر ذمہ دارانہ روش کا ہی نتیجہ ہے کہ ملک کے جمہوری اقدار پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔<br />
میڈیا کی جانب سے تما م سرگرمیا ں ’آزادیِ اظہارِ رائے ‘کے نام پر انجام دی جا رہی ہیں۔ یقیناًاظہارِ خیال کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل ہے لیکن یہ آزادی اتنی بے لگام بھی نہیں ہونی چاہئے کہ اس کے ذریعے دوسروں کے حقوق پر ضرب پڑے اور ان کی عزت و ناموس پر آنچ آئے،لوگوں کے جذبات مشتعل کرکے فرقہ وارانہ منافرت کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے،جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ کا جامہ پہنا کر پیش کیا جائے۔<br />
میڈیا کو آزادی لازماً حاصل ہو نی چاہیے لیکن اس آزادی کی منا سب حد بھی مقرر ہواور اس کو صحیح رخ دینے کی بھی ہر ممکن کوشش ہونی جانی چاہیے، اور ایسا کیو ں نہ ہو جبکہ میڈیا کی بے مہار آزادی مفادِ عامہ کے حق میں بہت ہی خطرناک ہے۔میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے چند تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔سب سے پہلی ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا (پرنٹ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا)کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک با اختیار ریگو لیٹری اتھا ریٹی تشکیل دی جائے جو میڈیا کو حاصل بے لگام آزادی کو محدود کرے اور اس کی تمام کارکر دگی پر نظر رکھے۔ اسی طرح میڈیا کو کارپوریٹ Ownership سے آزاد کرانا بھی ایک اہم کام ہے۔ اس کے نتیجے میں حالات میں مثبت تبدیلیاں رونما ہو سکتی ہیں۔مشہور سینیئر صحافی اجیت ساہی نے صحیح کہا ہے کہ ’’میڈیا اس وقت تک آزاد نہیں ہو سکتا جب تک اس کی ملکیت آزاد نہ ہو‘‘۔اس کے علاوہ ایک اور ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ میڈیا کے تعلق سے عوام الناس میں وسیع پیمانے پر بیداری لانے کی کوشش کی جائے ۔عوام بذاتِ خود ایسے میڈیا کو رد کر دیں جو غیر ذمہ دار ہو۔چونکہ میڈیا کی معاشی حالت اور اس کے مفادات کا راست تعلق ٹی آر پی سے ہے ۔اس لئے اگر عوام غیر ذمہ دار میڈیا کو رد کرنے لگیں تو وہ وقت زیادہ دور نہیں ہوگا جب میڈیا خود بخود ذمہ داربن جائے گا۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>سعود اعظمی، جامعہ اسلامیہ، شانتاپرم</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d8%a2%d8%b2%d8%a7%d8%af%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%b0%d9%85%db%81-%d8%af%d8%a7%d8%b1%db%8c/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آؤ کہ چھو لیں خوابوں کو</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%a4-%da%a9%db%81-%da%86%da%be%d9%88-%d9%84%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-8/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a2%25d8%25a4-%25da%25a9%25db%2581-%25da%2586%25da%25be%25d9%2588-%25d9%2584%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25ae%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a8%25d9%2588%25da%25ba-%25da%25a9%25d9%2588-8</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%a4-%da%a9%db%81-%da%86%da%be%d9%88-%d9%84%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-8/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:46:52 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2399</guid>
		<description><![CDATA[صدر تنظیم کا دورۂ ترکی کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل مسلم یوتھ کوآپریشن میٹنگ میں شرکت کے لیے استنبول ترکی کا دورہ کیا، محترم صدر تنظیم نے وہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس دور میں ہر فردکو میڈیا کا کردار انجام [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>صدر تنظیم کا دورۂ ترکی</strong><br />
کل ہند صدر ایس آئی اوآف انڈیا برادر اظہرالدین نے انٹرنیشنل یوتھ فورم(IYFO)کی چھٹی انٹرنیشنل مسلم یوتھ کوآپریشن میٹنگ میں شرکت کے لیے استنبول ترکی کا دورہ کیا، محترم صدر تنظیم نے وہاں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’انفارمیشن ٹکنالوجی کے اس دور میں ہر فردکو میڈیا کا کردار انجام دینا ہے، اس کے لیے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس ایک بہترین ذریعہ ہیں، جہاں ایک تعمیری ایجنڈے کے تحت ہم انفرادی طورپر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ انسانی وسائل اور صلاحیتوں کا فروغ اور ارتقاء اسلامی تحریک کی ایک اہم ضرورت ہے، اس کے لیے ایک طویل المیعاد ایجنڈے پر کام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔ کانفرنس کا مرکزی موضوع تھا’’موجودہ عالمی انقلاب اور نوجوانوں کا کردار‘‘، کانفرنس میں اس موضوع کے علاوہ ’’مسلم ممالک میں انقلاب کے اسباب اور اس کے طریقہ کار‘‘ نیز ’’مسلم دنیا میں انقلاب کے عالمی اثرات‘‘پر گفتگو ہوئی۔ انٹرنیشنل یوتھ فورم دنیا بھر کی طلبہ تنظیموں کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم ہے، اس کانفرنس میں دنیا بھر کی تقریباََ ۳۵؍اسلامی تحریکات نے شرکت کی، محترم صدر تنظیم نے اس موقع سے مختلف تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی اور ان کے سامنے ایس آئی او کی سرگرمیوں کا بھرپور تعارف کرایا۔</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong> جنرل سکریٹری کا دورۂ انڈمان نکوبار</strong><br />
جنرل سکریٹری ایس آئی او آف انڈیا برادر پی ایم صالح نے جزیرہ انڈمان نکوبار کا ایک تفصیلی دورہ کیا، اس موقع پر آپ نے وہاں ایک ہفتہ قیام کیا، اس موقع پر ایس آئی او اور جماعت اسلامی کی جانب سے مختلف اہم پروگرامس کا انعقاد کیا گیا۔ جنرل سکریٹری نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماج کی تعمیر نو کے لیے طلبہ تنظیم کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہے، آپ نے اس سال کے اہم ترین انقلابات اور تحریکوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مصر ، تیونس ، لیبیا سے لے کر اکیوپائی وال اسٹریٹ مہم تک نوجوانوں کا کردار کافی اہمیت کا حامل ہے۔</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<strong> مہاراشٹر نارتھ زون کا لیڈرس ٹریننگ کیمپ</strong><br />
ایس آئی او مہاراشٹر نارتھ زون کی جانب سے صدور یونٹ اور نظمائے ضلع کا ایک شاندار تربیتی کیمپ ۷؍۸؍ جنوری کو شہر ناندورامیں منعقد ہوا، مرکزی سکریٹری برادر شوکت علی نے خطاب کرتے ہوئے ذمہ داران یونٹ کو احساس ذمہ داری کی جانب متوجہ کیا، اس دو روزہ کیمپ میں قیادت کی خصوصیات، خوبیاں اور فیصلہ سازی کے لیے مطلوبہ کردار اور اس کے سلسلہ میں درپیش نزاکتوں پر گفتگو پیش کی گئی۔</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong> ایس آئی او ممبئی ڈویژن کا تربیتی کیمپ</strong><br />
ایس آئی او ممبئی کی جانب سے ممبران اور منتخب اسوسی ایٹس کے لیے دو روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا۔جس کا مقصد کیڈر میں اسلام کی خدمت کے جذبہ کو پروان چڑھانا ، دعوت ،تزکیہ ، تنظیم اور کیمپس کے کاموں کی تفہیم اور کیڈر کی صلاحیتوں کو مزیدنکھارنے کی کوشش تھا،پروگرام کا انعقاد گورائی بیچ پر بتاریخ ۷؍۸؍ جنوری ۲۰۱۲ء ہوا۔<br />
جناب راشد صاحب نے &#8221; نماز اور صبر سے مددلو&#8221; کے عنوان پر کیڈر کی بہترین رہنمائی کی، رفقاء کو مختلف تفویضات بعنوان &#8220;ISKCON&#8221; ، &#8220;LOKPAL&#8221;،&#8221; &#8220;RTE دئیے گئے تھے جن پر رفقاء نے روشنی ڈالی۔گروپ ورک کے طور پر معروف و منکر اور &#8220;TAZKIY &amp; ACTIVISM&#8221; پر مباحثہ بھی رکھا گیا۔بعد ازاں ایک تقریر بعنوان &#8221; سیرت عمر فاروقؓ &#8221; رکھی گئی جس میں عبد الحسیب بھاٹکر صاحب نے حضرت عمر فاروقؓ کی انفرادی و اہم خصوصیات کے متعلق گفتگو کی۔پہلی شب کلچرل پروگرام کیا گیا جس میں ڈرامے وغیرہ پیش کیے گئے۔اگلے دن کا آغاز نمازِ فجر سے ہوا، جناب شیح ہمایوں صاحب نے تزکیہ نفس پر درسِ حدیث پیش کیا۔ برادر عبد القدیر نے &#8221; تنظیمی شعور اور فکری ہم آہنگی&#8221;،برادر فیروز پٹیل نے سماج پرتحریک اسلامی کے اثرات اوربرادر عبد الوحید نے سماجی خدمت ادا کرنے اور سماجی فرائض کی اسلامی نقطۂ نظر سے ادائیگی پر گفتگو کی۔ اوپن ڈسکشن بعنوان&#8221; تنظیم ،اہداف مسائل اور حل&#8221; برادر علی عمران کی زیرِ نگرانی رکھاگیا۔آخر میں صدر ایس آئی او ممبئی ڈویژن برادر کامران بیگ نے ’’اسلامی بیداری اور نصب العین‘‘ پر زاد راہ پیش کیا۔<br />
( رپورٹ:برادرانور شیخ، میڈیا سیکریٹری SIOممبئی )</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<strong> کیمپس میں بڑھتے تشدد کے خلاف حلقہ مغربی بنگال کی مہم</strong><br />
ویسٹ بنگال کے مختلف کیمپس میں ترنمول کانگریس کی طلبہ تنظیم T.M.C.P. اور کمیونسٹ طلبہ تنظیمS.F.I. کے ذریعے ہونے والے پرتشدد واقعات میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے پروفیسرز اور پرنسپلس کے خلاف پر تشدد حملے اور تعذیب کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔گزشتہ ایک مہینہ کے اندر ریاست کے سات کالجز کے پرنسپلس پر حملے ہوئے ہیں۔<br />
کیمپس میں بڑھتے تشدد کے ان واقعات کے خلاف SIO ویسٹ بنگال زون نے اک طویل عرصے سے مہم چھیڑ رکھی ہے۔گزشتہ ماہ دسمبر میں &#8220;Stop violence!Promote peaceful students poolitics!&#8221; کے مرکزی موضوع کے تحت ریاست گیر پیمانے پر مہم چلائی گئی جس میںSIO کے مرکزی قائدین نے بھی شرکت کی۔اس سلسلے میں ۱۲؍ دسمبر کو کلکتہ میں ایک بڑی طلبہ ریلی اور مظا ہرے کا انعقاد کیا گیا۔اس کے علاوہ بڑی تعداد میں کیمپس کے اندر &#8216;Students Gathering&#8217; , &#8216;Corner Meetings&#8217; , &#8216;Wall Writings&#8217; اور وسیع پیمانے پرہینڈ بل کی تقسیم جیسے مختلف پروگرام انجام دیئے گئے۔ٹیچرز کے خلاف تشدد کے تازہ واقعات کے خلاف بھی ایس آئی او نے نوٹس لی ہے۔اس سلسلے میں ۷؍ جنوری کو ریاستی سطح پر ’یومِ سیاہ ‘ منایا گیا اور ۱۳؍ جنوری کو &#8216;Shame Day&#8217; کا انعقاد کیا گیا۔<br />
ایس آئی او کے زونل لیڈرس نے مختلف پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا اور مختلف کیمپس پروگراموں میں شریک بھی رہے۔مہم کے دوران ایس آئی اوکی جانب سے درج ذیل مطالبے کئے گئے، واضح رہے کہ تشدد کے یہ واقعات طلبہ یونین کے انتخاب کے پس منظر میں ہورہے ہیں۔<br />
۱۔لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات نافذ کی جائیں۔<br />
۲۔پوری ریاست میں طلبہ یونین کا انتخاب ایک ہی تاریخ میں منعقد ہو۔<br />
۳۔تعلیمی سال کے آغاز پر ۱۰؍ دن کے اندر الیکشن پروسیس مکمل کئے جائیں۔<br />
۴۔کیمپس میں مختلف سیاسی تنظیموں کا عمل دخل بند کیا جائے۔<br />
۵۔طلبہ کے درمیان گرتے اخلاقی معیار کی طرف فوری توجہ دی جائے۔<br />
(رپورٹ: برادر عبدالودود مالدہ)</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<strong> ایس آئی او الجامعہ الاسلامیہ شانتاپرم کی حالیہ سرگرمیاں</strong><br />
جامعہ اسلامیہ شانتاپرم اس وقت Vibrant &amp; Creative Campus کا سماں پیش کر رہا ہے۔سال نو کے آغاز کے ساتھ ہی مختلف سرگرمیاں اور پروگرامس کے ذریعے جامعہ کا ماحول طلبہ کی صلاحیتوں کے ارتقاء کے لیے خوب سے خوب ترہوتا جا رہا ہے۔۲؍ جنوری کی شام ایک خوشگوار شام تھی جسے ’ایک شام ہندی کے نام ‘ سے موسوم کیا گیا۔ جس میں ہندی رفیق منزل کے ایڈیٹر برادر اسداﷲ اعظمی ،سابق ایڈیٹر برادر شبلی ارسلان اوررفیق سے جڑے قلمکاروں نے اپنی ’رچنائیں ‘ پیش کیں ۔ہندی کے لئے کیرالہ کے اس اجنبی ماحول میں یہ ایک انوکھا پروگرام تھا۔اس سلسلے میں ہندی دوستوں کے اندر جوش و خروش قابلِ دید تھا۔<br />
۳؍ جنوری کا تو پورا دن ہی جامعہ کے لئے پر نور اور طلبۂ جامعہ کے لئے پر سرور تھا۔ ایس آئی او کے مرکزی قائدین کی پوری کہکشاں جامعہ میں موجود تھی۔جوں ہی ’وائناڈ‘ سے قا ئدین کے آنے کی خبر ایریا کمیٹی کو ملی استقبال کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔Flags, Play Cards اور فلک شگاف نعروں سے جامعہ کے صدر دروازے پر قائدین کا پر جوش استقبال کیا گیا۔امام شافعی حال میں محترم صدرِ تنظیم برادر اظہرالدین اور دیگر ذمہ داران نے طلبہ کے جمِ غفیر سے خطاب کیا۔ وائناڈ میں ہونے والی مرکزی ریویو میٹ کے بعد مختلف حلقہ کے ذمہ داران نے جامعہ کی زیارت کی، اس موقع پر راجستھان، یوپی ایسٹ ویوپی سینٹرل کے ذمہ داران نے جامعہ کی زیارت کی، اس موقع سے طلبہ سے ملاقاتیں ہوئیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال بھی ہوا۔<br />
دوسری طرف ایس آئی او کے Task Force کے زیرِ اہتمام منعقد ہو نے والے سالانہ اسپورٹس کی گہما گہمی کی گونج ۵؍ جنوری کے Grand Finale کے بعد بھی سنائی پڑ رہی ہے۔ ایس آئی او کیرالہ کی جانب سے ۱۴؍ اور ۱۵؍ جنوری منعقد ہو نے والی &#8220;Islamic Academic Conferrence&#8221; کی تیاریاں بھی تادمِ تحریر زور و شور سے جاری ہیں۔ اس کانفرنس کے پیش نظر جامعہ اور اس کے اطراف میں ’یومِ صفائی کا اہتمام کیاگیا جس میں ایس آئی او اردو یونٹ کی شاندار کار کردگی بھی دیدنی تھی۔<br />
(رپورٹ: برادر مصدق مبین)</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%a4-%da%a9%db%81-%da%86%da%be%d9%88-%d9%84%db%8c%da%ba-%d8%ae%d9%88%d8%a7%d8%a8%d9%88%da%ba-%da%a9%d9%88-8/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>یوپی کی موجودہ سیا ست  اسمبلی انتخاب ۲۰۱۲ ء کے تنا ظر میں</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8-%db%b2%db%b0%db%b1/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25db%258c%25d9%2588%25d9%25be%25db%258c-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2585%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af%25db%2581-%25d8%25b3%25db%258c%25d8%25a7-%25d8%25b3%25d8%25aa-%25d8%25a7%25d8%25b3%25d9%2585%25d8%25a8%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25a7%25d9%2586%25d8%25aa%25d8%25ae%25d8%25a7%25d8%25a8-%25db%25b2%25db%25b0%25db%25b1</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8-%db%b2%db%b0%db%b1/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:46:27 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2390</guid>
		<description><![CDATA[اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی آمد پر ختم ہوگا۔ یوں تو انتخاب پانچ ریاستوں گوا، اتراکھنڈ ، پنجاب ، منی پور اور یوپی میں ہو رہے ہیں ، لیکن یوپی اسمبلی انتخاب پر سیاسی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">اسمبلی انتخابات ۲۰۱۲ء کا بگل بج چکا ہے ۔ ۲۸؍ جنوری سے انتخابی سفر کا آغاز ہو جائے گا جو ۶ مارچ کو نتیجہ انتخاب کی آمد پر ختم ہوگا۔ یوں تو انتخاب پانچ ریاستوں گوا، اتراکھنڈ ، پنجاب ، منی پور اور یوپی میں ہو رہے ہیں ، لیکن یوپی اسمبلی انتخاب پر سیاسی تجزیہ نگاروں اور میڈیا سے لے کر انتخابی موسم میں گرم ہونے والے چوپالوں سے جڑے لوگوں تک کی نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں۔ یوپی اسمبلی انتخاب کی اہمیت ہمیشہ رہی ہے لیکن اس بار کچھ زیادہ ہی شور بپا ہے۔بعض سیا سی لیڈرس اور تجزیہ نگار اسے جنرل الیکشن کے سیمی فائنل کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یوپی انتخابات کے سلسلے میں یہ نقطۂ نظر بہت پرانا ہے کہ دلی کا راستہ یوپی سے ہوکر گزرتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ کئی اسمبلی اور پارلیمانی الیکشن نے اس مفروضے کو غلط ثابت کیا ہے۔ لیکن بڑی سیا سی پارٹیوں کی تیاریوں اور سیا سی گہما گہمی کو دیکھ کر مانا جارہا ہے کہ اس بار یوپی اسمبلی انتخاب قومی سیاست کو متأثر کرے گا، اس کی کئی وجوہات ہیں۔<br />
<strong> راہل فیکٹر:</strong><br />
ایک بڑی وجہ تو کانگریس کی کئی سالوں سے چل رہی ’بیک ٹو یوپی‘ کی منظم اور منصوبہ بند تیاری ہے۔مسٹر راہل گاندھی نے گزشتہ کئی سالوں سے اپنی Discovering India یاترا کے تحت یوپی کو خاص نشانہ بنایا ہے۔ اس کے تحت مغربی یوپی اور بندیل کھنڈ کے علاقے میں مسٹر گانڈھی کا طوفانی دورہ لگاتار چلتا رہا ہے ۔جمہوریت کے ’شہزادے ‘کا دلت کٹیا میں’ بھوجن گرہن ‘ اور کھلے آکاش میں ’راتری وشرام‘ کی خبریں میڈیا میں کافی گرم رہی ہیں۔ گزشتہ پارلیمانی انتخاب ۲۰۰۹ میں کانگریس کی یوپی میں شاندار کامیابی کو اس کی مقبولیت میں اضافہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ قیاس یہ بھی لگایا جا رہا ہے کہ یوپی میں کانگریس کا طلائی دور واپس آنے والا ہے ۔ ان سب کی پشت پر ’راہل فیکٹر ‘ کا اہم رول بتا یا جاتا ہے۔<br />
<strong> بی جے پی کی خستہ حالی:</strong><br />
یوپی کی سیا ست سے دلی دربار کی سیر کرنے والی ’Party With A Difference ‘ بی جے پی کی حالت یوں تو پورے دیش میں ہی پتلی ہے۔لیکن یوپی کی موجودہ بھرپو ر سیاسی گہما گہمی سے دور ، بی جے پی پر چھایا ماتمی سناٹا اس کے پست حوصلہ ہونے کی دلیل ہے۔ اصولوں کی دہائی دینے والی پارٹی مرکزی و ریاستی انتخا بات میں کرشمائی شخصیت کا سہارا تلاشتی رہی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی کے بعد مرکزی سطح پر کسی قدآور شخصیت کے نہ ہو نے کے نتیجے میں بی جے پی مرکزی سطح پر لٹی پٹی نظر آرہی ہے،تو ریاستی سطح پر اسٹیٹ لیڈر شپ کی با ہمی چپقلش کے نتیجے میں یتیمی کی حالت سے گذر رہی ہے۔انّا ہزارے کی کرپشن مخالف مہم سے فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بھی شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکا۔کرپشن کے خلاف شری اڈوانی کی ’جن چیتنا یاترا‘ کی ہوا جس طرح پارٹی کے اسٹیٹ لیڈرس نے مختلف ریاستوں میں نکالی ہے اس سے ’آئرن مین ‘پر خود سکتہ طاری ہے۔دوسری ریاستوں کی طرح یوپی میں بھی یہ یاترا ’فلاپ شو‘ ثابت ہوئی۔ یاتراؤں کی سیاست میں ماہر بی جے پی اب یو پی اسمبلی الیکشن کے پیش نظر ’پریورتن یاترا‘ نکال رہی ہے۔تجزیہ کار یہ کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کو پہلے خود درونِ خانہ ’پریورتن مہم ‘ منانی چا ہئے۔بی جے پی کی گرتی ساکھ اور گھٹتے ووٹ بینک کا فائدہ کانگریس،سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی سمیت یو پی کے سیاسی اسٹیج پر رقصاں بعض چھوٹی پارٹیاں بھی اٹھانا چاہ رہی ہیں۔یو پی اسمبلی الیکشن کے سلسلے میں لوگوں کی دلچسپی کا ایک بڑا مرکز بی جے پی کی یہ خستہ حالی ہے۔<br />
<strong> ’امر‘سے خالی یو پی کی سیاست :</strong><br />
یو پی کے گزشتہ کئی اسمبلی اور پارلیمانی انتخابات میں امر سنگھ کا ایک اہم رول ہوا کرتا تھا ۔سما ج وادی پارٹی کے عروج وزوال کی پوری کہانی ’ٹھاکر سنگھ ‘ سے منسوب ہے۔الیکشنی سیاست میں ہر حربہ اختیا ر کرنے والے اور ہر رویّہ روا رکھنے والے ’ماہر کھلاڑی‘ اب یو پی کے سیاسی اسٹیج سے باہر ’لوک منچ کی ٹھا کرائی ‘ کے ذریعے خود کو Public Life میں’امر ‘ ثابت کر نے میں لگے ہوئے ہیں ۔ بہر حال اسمبلی انتخاب کے اس موسم میں ’امر سے خالی یو پی کی سیاست ‘ سیاست سے دلچسپی رکھنے والے بعضوں کے لئے باعثِ سکون ہو گی تو بعضوں کے لئے وجہ بد مزگی۔<br />
<strong> نئے مسلم سیاسی تجربات :</strong><br />
یو پی کے اس اسمبلی الیکشن سے دلچسپی کی ایک بڑی وجہ ( با لخصوص مسلم حلقوں میں )اسمبلی انتخابات میں متوقع نئے مسلم سیاسی تجربات ہیں۔خلافِ توقع کئی چھو ٹی مسلم سیاسی پارٹیاں میدان میں اتر آئی ہیں۔اس میں دو مسلم سیاسی پارٹیا ں اہم بتا ئی جا رہی ہیں ،ڈاکٹر ایّوب صاحب کی پی پی آئی (پیس پارٹی آ ف انڈیا) اور اعظم گڑھ سے شروع ہو نے والی راشٹریہ علماء کونسل ۔بعض چھوٹی پارٹیوں کو ملا کر ندوہ العلماء کے مشہور عالم سیدسلمان ندوی صاحب کی پیش رفت پر مسلم سیاسی پارٹیوں کا ایک اتحا د بھی سامنے آیا ہے۔ لیکن درج بالا دونوں اہم سیاسی پارٹیا ں اس اتحادمیں شامل نہیں ہیں ۔ راشٹریہ علماء کونسل پہلے سے ہی شامل نہیں تھی ،پیس پارٹی پہلے شامل تھی لیکن اب مصدقہ ذرائع سے خبر آئی ہے کہ سیدسلمان ندوی صاحب نے اصول شکنی کی وجہ بتاتے ہوئے پیس پارٹی کو اتحاد سے باہر کر دیا ہے۔ دوسری طرف پیس پارٹی کی ایک اور تقسیم بھی ہو گئی ہے۔ ’ٹو سر کل ڈاٹ نیٹ‘ کی اطلاع کے مطابق مغربی یو پی میں پارٹی کے لیڈر حاجی یا مین چودھری نے ٹکٹوں کی تقسیم میں لیڈر شپ پر نا انصا فی کا الزام لگاتے ہوئے علم بغاوت بلند کر دیا ہے اور ’پیس منچ ‘ کے نام سے مغربی یو پی میں ایک نئی مسلم سیاسی پارٹی وجود میں آگئی ہے ۔واضح رہے کہ کچھ مہینے پہلے پیس پارٹی کے ایک دوسرے لیڈر نے ’راشٹریہ پیس پارٹی ‘ کے قیام کا اعلان کیا تھا ۔ اس تقسیم در تقسیم کے بعد بھی پیس پارٹی چالیس ضلعوں میں بوتھ لیول تک اپنی مضبوطی کا دعوی کر رہی ہے،ساتھ ہی نئی حکومت کی تشکیل میں اہم رول ادا کر نے کا خواب بھی دیکھ رہی ہے۔<br />
راشٹریہ علماء کونسل بھی خم ٹھونک کر میدان میں آگئی ہے اورپروانچل کے کئی ضلعوں میں اپنی مضبوط دعویداری بتا رہی ہے۔بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر کے بطن سے پیدا ہوئی اس نو مولود پارٹی کی بنیاد اصلاً اعظم گڑھ ہے۔پارلیمانی انتخاب ۲۰۰۹ ؁ء میں علماء کونسل نے دو مقامات اعظم گڑھ اور لال گنج سے با لترتیب ستّر اور پچاس ہزار ووٹ لائے ہیں جس سے پارٹی لیڈرشپ کے عزائم بلند ہیں ۔پھر گزشتہ پنچایت الیکشن میں بھی پارٹی کی کارکر دگی بحیثیتِ مجموعی ٹھیک بتائی گئی ہے۔ضلع پنچایت کی صدارت کے انتخاب میں پارٹی کے نو منتخب نمائندوں نے اہم رول ادا کیا ہے۔ان دونوں قابل ذکر مسلم سیاسی پارٹیوں کے ساتھ کئی مسائل بھی ہیں۔ ایک مسئلہ تو ان پارٹیوں کا پروانچل تک محدود ہو نا اور باہم دست بگریباں ہونا ہے جس سے مسلم سیاسی مفاد کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔<br />
پیس پارٹی کا دعوی جو بھی ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پروانچل کے چار پانچ اضلاع کے علاوہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ دوسرا بڑا مسئلہ Cadre Based نہ ہونا ہے۔ پیس پارٹی کے تمام دعووں اور ’منی پاور‘ کے با وجود تجزیہ نگاروں کی یہی رائے ہے کہ ان کے پاس بوتھ کی سطح تک کیڈرس نہیں ہیں۔ کچھ موقع پرستوں کی ’جاں نثاری‘ فریبِ نظر ہے۔<br />
ایک بڑا مسئلہ ان دونوں پارٹیوں کا ٹھوس عملی عوامی ایجنڈے سے خالی ہونا ہے۔ دونوں کے پاس ایشوز کے نام پر ہندو مسلم ایکتا اور بد عنوانی کے خلاف کچھ ناصحانہ اقوال اور نعرے ہیں۔مثلاً ’’ایکتا کا راج چلے گا ،ہندو مسلم ساتھ چلے گا‘‘کچھ دنوں قبل ٹو سرکل ڈاٹ نیٹ میں شائع شدہ دونوں پارٹیوں کے اعلی کمان کے انٹر ویوز سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان حضرات کے پاس گہری سیاسی سوجھ بوجھ کا فقدان ہے۔ جس کے نتیجے میں بعض مضحکہ خیز حرکات و اقوال بھی سامنے آرہے ہیں ۔مثلاً پیس پارٹی کے صدر ڈاکٹر ایّوب بدعنوانی کا حل بتاتے ہیں کہ تمام سیاسی جما عتوں کے ٹاپ لیڈرس اور عوامی نمائندوں کا ’نارکو ٹیسٹ ‘ ہونا چاہئے۔موصوف انٹر ویور سے یہ بھی کہہ بیٹھتے ہیں کہ تعلیمی پرو فائل کے لحاظ سے میرے مقابلے کا کوئی پارٹی چیف نہیں ہے۔ایک طرف وہ یہ کہتے ہیں کہBackward Class کو حکومت میں شراکت ملنی چاہئے اور Most Backward اورMost Dalit Adhikaar Diwas مناتے ہیں تو دوسری طرف یہ پوچھے جانے پر کہ ان کی پارٹی نے ٹکٹ کی تقسیم میں نچلے طبقے کا خیال نہیں رکھا ہے تو موصوف کا جواب تھا کہ &#8221; The share in the power and governance doesn&#8217;t depend on given ticket&#8221; ادھربعض لیڈران تکثیری سماج کی سیا ست میں مطلوبہ حکمتِ عملی کے شعور سے خالی نظر آرہے ہیں۔ کبھی’ اسلامی سیاست‘ کا تعارف کراتے ہیں تو کبھی سیکولر سیاست کی بات کرتے ہیں۔<br />
صورتحال کے تجزیے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ یوپی میں یہ نئے مسلم سیا سی تجربات مضبوط سیاسی ایجنڈوں اور ایشوز سے خا لی ہیں ۔ ساتھ ہی نظریاتی طور پر بہت ہی نا پختہ ہیں ۔کچھ سیٹوں کے حصول میں اگر یہ کامیاب ہو جائیں تو یہ سیا ستِ حاضرہ کی کرشمہ سازی ہی ہو گی ۔ویسے یو پی کی سیاست میں ایک مضبوط مسلم سیاسی تجربے کے لئے اسپیس موجود ہے ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مضبوط نظریاتی قوت،واضح حکمتِ عملی ،گہری سوجھ بوجھ کی حامل قیادت Matured Slogans اور ٹھوس سیاسی ایجنڈوں کے ساتھ ایک نئے مسلم سیاسی تجربے کی تیاری کی جائے ۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>شبلی ارسلان، سابق مدیر رفیق منزل، ہندی</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%db%8c%d9%88%d9%be%db%8c-%da%a9%db%8c-%d9%85%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af%db%81-%d8%b3%db%8c%d8%a7-%d8%b3%d8%aa-%d8%a7%d8%b3%d9%85%d8%a8%d9%84%db%8c-%d8%a7%d9%86%d8%aa%d8%ae%d8%a7%d8%a8-%db%b2%db%b0%db%b1/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آئیے عہد کریں</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%db%92-%d8%b9%db%81%d8%af-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a2%25d8%25a6%25db%258c%25db%2592-%25d8%25b9%25db%2581%25d8%25af-%25da%25a9%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%db%92-%d8%b9%db%81%d8%af-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:45:34 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2367</guid>
		<description><![CDATA[یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُون۔ (الحشر: ۱۸) ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقوی اختیار کرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناًتمہارے ان سب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُون۔ (الحشر: ۱۸)</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کا تقوی اختیار کرو، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے۔ اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقیناًتمہارے ان سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔<br />
تقوی ایمان کی علامت ہے۔ ایمان اور تقوی لازم وملزوم ہیں،قرآن مجید میں اہل ایمان کوبار بار تقوی اختیار کرنے حکم دیا گیا ہے،اگر انسان تقوی سے محروم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایمان کی حقیقی لذت سے ناآشنا اور تاریکی سے قریب تر ہے۔ تقوی کیا ہے؟ اس سلسلہ میں مولانا امین احسن اصلاحیؒ نے اپنی کتاب ’’حقیقت تقوی‘‘ میں بہت ہی واضح اور شاندارگفتگو کی ہے، وہ لکھتے ہیں کہ ’’حضرات انبیاء کرام ؑ جن کا اصلی کام ہی لوگوں میں تقوی پیدا کرنا تھا،انہوں نے اپنے اپنے زمانے میں لوگوں کوجس تقوی کی دعوت دی ہے وہ تقوی یہی تھا کہ لوگ اللہ کے حدود واحکام کے پابند ہوجائیں، اس کی نافرمانی وبغاوت سے توبہ کریں، نہ اپنی خواہشوں کی پیروی کریں، نہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں جو اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں، زندگی کے تمام گوشوں میں اس قانون کی پیروی کریں جو اللہ نے اتارا ہے اور اس بات سے ڈرتے رہیں کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر شخص کو خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے گی اور ہر شخص کی نیکی یابدی اس کے سامنے آئے گی‘‘۔(حقیقت تقوی: ص:۷۲)<br />
ایک مرد مومن سے اس بات کا مطالبہ ہے کہ اس کی پوری زندگی اللہ سے ڈرتے ہوئے اور اس کے حدود کی پابندی کرتے ہوئے گزرے۔ ایک شخص جو مومن ہونے کا دعوی تو کرتا ہے لیکن کچھ ظاہری اعمال اور افعال پر اکتفا کربیٹھتا ہے، اس کے دل میں اللہ کا خوف، اس کے حدود کی پابندی اورمنکر چیزوں سے بچنے اور معروف چیزوں کو پھیلانے کا جذبہ موجود نہیں ہوتا، جان لیجئے کہ اس کی کشتی بھنور میں ہے اور ایک ہلکی سی موج اسے غرقاب کردینے کے لیے کافی ہے۔<br />
تقوی اور فکرآخرت کے درمیان بہت ہی گہرا رشتہ پایا جاتا ہے، اس بات کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ روز آخرت کی کامیابی کا دارومدار اسی تقوی پر ہے، جس روز کوئی بھی شخص دوسرے کے کام نہیں آئے گا، اس دن انسان کا اعمال نامہ ہی اس کے لیے سب کچھ ہوگا، قرآن مجید میں ہے: ’’اس دن بھائی اپنے بھائی سے دُور بھاگے گا۔ اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے۔ اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے‘‘۔<br />
ذرا رک کر سوچیں!! احتساب کریں کہ صبح وشام کی سرگرمیوں میں ہم اللہ رب العزت کو کس قدر یاد رکھتے ہیں، اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھیں کہ اس کے دین کی خاطردن بھر کی جدوجہد میں کیا کچھ کرتے ہیں، اپنے اعمال کا جائزہ لیتے رہیں کہ ہم اللہ کے حدود کی پابندی کررہے ہیں یا اللہ کے مقررکردہ حدود کو توڑرہے ہیں۔<br />
آئیے عہد کریں کہ ہم اللہ کے حدود واحکام کے پابندی کریں گے، اس کی نافرمانی وبغاوت سے توبہ کریں گے، نہ اپنی خواہشات کی پیروی کریں گے، نہ ان لوگوں کے پیچھے چلیں گے جو اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہیں، زندگی کے تمام گوشوں میں اس قانون کی پیروی کریں گے جو اللہ رب العزت نے اتارا ہے اور اس بات سے ڈرتے رہیں گے کہ اس زندگی کے بعد ایک اور زندگی ہے جس میں ہر شخص کو خدا کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی پڑے گی اور ہر شخص کی نیکی یابدی اس کے سامنے آئے گی۔<br />
(محمد عاصم، جے پور،راجستھان۔)</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d8%a6%db%8c%db%92-%d8%b9%db%81%d8%af-%da%a9%d8%b1%db%8c%da%ba/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مقاصد شریعت ۔کچھ وضاحتیں،کچھ سوالات</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%b5%d8%af-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%db%94%da%a9%da%86%da%be-%d9%88%d8%b6%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%8c%da%a9%da%86%da%be-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25a7%25d8%25b5%25d8%25af-%25d8%25b4%25d8%25b1%25db%258c%25d8%25b9%25d8%25aa-%25db%2594%25da%25a9%25da%2586%25da%25be-%25d9%2588%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25ad%25d8%25aa%25db%258c%25da%25ba%25d8%258c%25da%25a9%25da%2586%25da%25be-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25aa</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%b5%d8%af-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%db%94%da%a9%da%86%da%be-%d9%88%d8%b6%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%8c%da%a9%da%86%da%be-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:44:57 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2393</guid>
		<description><![CDATA[ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ’’مقاصد شریعت ‘‘کے مصنف ہیں، اور راقم مقاصد شریعت کا اوسط درجہ کاطالب علم ہے، اور اسی رشتہ سے فاضل مصنف کی خدمت میں ان کی کتاب مقاصد شریعت سے متعلق کچھ سوالات اور کچھ وضاحتیں پیش ہیں۔ یہ اعتراف ضروری ہے کہ کتاب میں بہت ساری قیمتیں بحثیں ہیں، بہت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ’’مقاصد شریعت ‘‘کے مصنف ہیں، اور راقم مقاصد شریعت کا اوسط درجہ کاطالب علم ہے، اور اسی رشتہ سے فاضل مصنف کی خدمت میں ان کی کتاب مقاصد شریعت سے متعلق کچھ سوالات اور کچھ وضاحتیں پیش ہیں۔<br />
یہ اعتراف ضروری ہے کہ کتاب میں بہت ساری قیمتیں بحثیں ہیں، بہت سارے مقامات بے حد جاذب توجہ ہیں،کتاب کا تیسرا باب: ’’مقاصد شریعت کی پہچان اور تطبیق میں عقل اور فطرت کا حصہ‘‘ اپنے موضوع پر ایک شاہکار تحریر ہے ۔ بایں ہمہ یہ سوال کئے بغیر چارہ نہیں کہ مقاصد شریعت جیسی مضبوط اور قدآور دلیل تک رسائی حاصل کرلینے کے باوجود فاضل مصنف نے کمزور اورکوتاہ قد دلیلوں کا سہارا کیوں لیا ہے؟<br />
مثال: چہرہ کے پردے کے سلسلے میں تو امت میں ہمیشہ سے اختلاف رہا ہے، البتہ سر ڈھانکنے کے بارے میں فاضل مصنف کا اپنا خاص خیال یہ ہے کہ ’’شریعت میں سر ڈھنکنے کے بارے میں کوئی واضح حکم نہیں ہے، اور سر ڈھانکنا ایک فروعی اور اختلافی مسئلہ ہے‘‘، حکم واضح ہے یا نہیں یہ تو ایک اضافی بات ہے، ممکن ہے ایک حکم دوسروں کی نظر میں واضح ہو اور فاضل مصنف کی نظر میں بالکل واضح نہیں ہو، فروعی ہونے میں بھی اختلاف رائے ہوسکتا ہے، فاضل مصنف کے نزدیک حجاب کا مسئلہ فروعی ہے لیکن سود کا مسئلہ فروعی نہیں ہے، سابق شیخ ازہر کے نزدیک دونوں مسئلے فروعی تھے، مولانا مودودی کے نزدیک دونوں مسئلے فروعی نہیں تھے، تاہم کسی مسئلہ کو اختلافی مسئلہ قرار دینے کے لئے تو تاریخ سے ثبوت درکار ہے ، فاضل مصنف گذشتہ صدیوں سے کسی ایک معتبر عالم کا حوالہ دے دیتے جس نے سر ڈھانکنے کے حکم سے اختلاف کیا ہو، فاضل مصنف نے کوشش ضرور کی ہوگی ،لیکن ان کو بیسویں صدی سے پہلے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ملا، چنانچہ اپنے ہی معاصر ڈاکٹر حسن ترابی کے حوالے سے لکھا کہ ان کے نزدیک ’’حجاب کا حکم ازواج مطہرات کے لئے تھا‘‘ فاضل مصنف کی طرح بہت سارے لوگ ڈاکٹر ترابی کی ایک گفتگو سے یہی سمجھے کہ وہ سر ڈحانکنے کے قائل نہیں ہیں، میڈیا میں شور ہوا تو ڈاکٹر ترابی نے اپنے موقف کی خود وضاحت کی اور مشہور اخبار الشرق الأوسط (۲۱ اپریل ۲۰۰۶ء) میں جب ان سے اس بارے میں سوال کیا گیا توڈاکٹر ترابی کا جواب یہ تھا’’یہ ان بعض صحافیوں کا گڑھا ہوا جھوٹ ہے جو اس مذاکرہ میں آئے ہی نہیں تھے جہاں میں نے مسلمان خواتین کے بعض مسائل پر گفتگو کی تھی، میرے بارے میں وہ الفاظ لکھ دئے گئے جو میں نے کہے نہیں تھے، بعض صحافیوں کو ترابی کے نام سے دلچسپی ہے ، اور وہ ایسی باتیں میری طرف منسوب کردیتے ہیں جو میں کہتا نہیں ہوں، میں اس مذاکرہ میں شرعی احکام پر گفتگو کر ہی نہیں رہا تھا، میں تو یہ بتا رہا تھا کہ قرآن کی زبان جب لوگوں کی اصطلاح میں استعمال ہوئی تو بہت بدل گئی، آگے ڈاکٹر ترابی نے بتایا کہ حجاب اس پردے کو کہتے ہیں جو کمرے میں لٹکایا جاتا ہے، عورت کے لباس کے طور پر جو چیز استعمال ہوتی ہے وہ تو خمار ہے، لیکن لوگوں نے افواہ اڑادی کی ترابی حجاب کا منکر ہے ، اور وہ کہتا ہے کہ پردہ صرف سینہ کا ہے۔حالانکہ بات صرف یہ ہے کہ جسے لوگ حجاب کہتے ہیں میں اسے خمار کہتا ہوں، اور حجاب میرے نزدیک کمرہ کا پردہ ہے، کیونکہ قرآن کا استعمال یہی ہے۔گویا ڈاکٹر ترابی کو سر ڈھانکنے سے اختلاف نہیں ہے، ان کا اصرار صرف یہ ہے کہ اسے خمار کہو حجاب مت کہو۔<br />
ڈاکٹر ترابی اپنی مشہور کتاب ’’المرأۃ بین تعالیم الدین وتقالید المجتمع‘‘ میں صاف لکھتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم یہ ہے کہ عورت کے چہرے اور ہتھیلیوں کے سوا کچھ ظاہر نہ ہو‘‘<br />
ہمارے فاضل مصنف اس سلسلے میں مترجم قرآن محمد اسد کا موقف مراد ہوفمان کے حوالے سے ذکر کرتے ہیں کہ ان نزدیک سر ڈھانکنا عرب کے موسم کے سیاق میں پایا جانے والا ایک رواج تھاجس کی پابند ی مغرب میں رہنے والی مسلمان عورت کے لئے ضروری نہیں۔فاضل مصنف علم وتحقیق کے اصولوں پر کامل دسترس رکھتے ہیں، وہ خود فیصلہ کریں، شریعت کے ایک حکم کو جس پر اب تک ساری امت کا اتفاق رہا، اسے محض رواج قرار دیدنے کے لئے کیامحمد اسد کا بیان کافی ہے؟ ،یوروپ میں اسلام تو عہد اول میں پہونچ گیا تھا، اس وقت اس عام سی بات کی طرف کسی کا ذہن کیوں نہیں گیا؟ اور آج اس سلسلے میں اس شخص کی بات نقل کی جارہی ہے جس کی خدمات کا اعتراف اپنی جگہ مگرکیا وہ قدیم عربوں کے سماجی حالات کا اس درجہ کاماہر مانا جاتاہے؟۔اور کیا فاضل مصنف کی ذمہ داری نہیں بنتی تھی کہ اتنی بڑی بات کہنے سے پہلے محمد اسد کی اصل عبارت بھی دیکھ لیتے۔کیا پتہ انہوں نے کچھ اور کہا ہو لوگ کچھ اور سمجھے ہوں،جس طرح ڈاکٹر ترابی نے کچھ کہا اور لوگ کچھ اور سمجھے، غرناطہ اور قرطبہ کے فقہاء اور اہل علم نے کبھی رواج کے اس فرق کی وضاحت یارعایت اپنے فتووں میں کیوں نہیں کی؟ کیا اس وقت کا مغرب کا رواج اور سماج مختلف تھا اور اس رعایت کا متقاضی نہیں تھا؟اس کا جواب بھی فاضل مصنف ہی بہتر طور سے دے سکتے ہیں کہ کیا محمد اسد سے اتنے بڑے دعوے کے حق میں دلائل نہیں مانگے جائیں گے، اور محض ان سے سنی ہوئی ایک رائے کو دلیل کا درجہ دے دیا جائے گا؟ اتنی بڑی بات کہنے پر تو ابن خلدون سے بھی دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا، اورہم نے تو فاضل مصنف سے یہی سیکھا تھا کہ کسی نئے دعوے کو اس وقت تک اعتبار حاصل نہیں ہوگا جب تک اس کی پشت پر قابل لحاظ ریسرچ اور باوزن دلائل نہ ہوں۔<br />
اور پھر اس قدر کمزور دلیلوں کے ذریعہ ان مسلمان باہمت خواتین کی ہمت شکنی کہاں تک درست ہے جو مغرب میں رہ کراپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کے بنیادی حق کے لئے جدوجہد کررہی ہیں؟۔<br />
فاضل مصنف نے’’ مسلمان عورت کتابی مرد کے نکاح میں ‘‘ کے عنوان کے تحت یوروپین کونسل فار افتاء اینڈ ریسرچ کی ایک قرار داد ذکر کی ہے ، جس میں صاف صاف کہا گیاکہ’’ مسلمان عورت کے لئے شروعات کے طور پر غیر مسلم مرد کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے، اس پر امت کا اجماع ہے ، اسلاف واخلاف سب متفق ہیں‘‘ اس کے بعد عام رائے سے ہٹ کرایک فیصلہ اس عورت کے سلسلے میں کیا گیاجس کی شادی پہلے ہوگئی اور بعد میں اس نے اسلام قبول کرلیا، لیکن شوہر نے اسلام قبول نہیں کیا،آیا وہ مسلمان بیوی اپنے غیر مسلم شوہر کے نکاح میں باقی رہے گی، یا اس کا نکاح فورا ختم کردیا جائے گا؟ کونسل کی رائے گو کہ مشہور رائے سے ہٹی ہوئی تھی لیکن ایسا نہیں ہے کہ بالکل نئی تھی ، بلکہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی کہ اولین دور سے اس مسئلہ پر ایک سے زائدآراء رہی ہیں۔<br />
توجہ طلب بات یہ ہے کہ فاضل مصنف نے ڈاکٹر حسن ترابی کی ایک رائے ذکر کی جو الشرق الأوسط میں ایک انٹرویو کے دوران سامنے آئی،ڈاکٹر ترابی نے اس انٹرویو میں یہ رائے دی تھی کہ ایک مسلمان عورت یہودی یا عیسائی مرد سے نکاح کرسکتی ہے۔ہمارے فاضل مصنف نے اس رائے کو اس طرح پیش کیا گویا ڈاکٹر ترابی عورت کے شادی کے بعد اسلام لانے کی صورت میں پرانے نکاح کے باقی رہنے کی بات کررہے ہیں، فاضل مصنف نے ڈاکٹر ترابی کا سوال حسب ذیل صورت میں نقل کیا۔<br />
سوال: کیا آپ کا خیال ہے کہ وہ شادی شدہ عورتیں جو اسلام لائیں ایک غیر مسلم شوہر کے نکاح میں باقی رہ سکتی ہیں۔۔۔۔؟<br />
افسوس کی بات یہ ہے کہ سوال کا مذکورہ حصہ نامکمل اور نادرست ہے اور قاری کے ذہن کو دوسری طرف لے جاتا ہے، مکمل سوال کے الفاظ حسب ذیل ہیں:<br />
’’آپ کے ان فتووں نے جو آپ نے یہودی یا عیسائی مردوں سے مسلمان عورت کی شادی کے متعلق دئے ہیں، بڑی بحث چھیڑ دی ہے، آپ کی ان فتووں میں کیا یہ مراد ہے کہ جب عورت اسلام لے آئے اور شوہر اسلام نہیں لائے تو نکاح برقرار رہے گا، یا آپ اس کی اجازت دیتے ہیں کہ یہودی یا عیسائی مرد سے مسلمان عورت نیا نکاح کرسکتی ہے؟‘‘<br />
راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ فاضل مصنف نے سوال کو ادھورا ذکر کرکے قاری کو یہ تاثر کیوں دیا کہ ڈاکٹر ترابی غیر مسلم مرد سے نیا نکاح کرنے کے بجائے پرانے نکاح کے باقی رہنے کی اجازت دے رہے ہیں؟۔<br />
فاضل مصنف نے ڈاکٹر ترابی کا وہ جواب نقل کیا ہے جس پر ڈاکٹر ترابی کے چاہنے والے بھی سکتے میں آگئے تھے، اور انہیں یہ اعتراف کرنا پڑا تھاکہ ڈاکٹر ترابی کی یہ رائے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور دلائل سے عاری ہے۔ملاحظہ ہو(متعدد ویب سائٹس پر موجود محمد مختار شنقیطی کا مضمون : آراء الترابی ، من غیر تکفیر ولا تشھیر)<br />
راقم فاضل مصنف سے یہ سوال کرنے کی بھی جرأت کرے گا کہ ڈاکٹر ترابی کا یہ خیال کہ ’’مغرب کے مسلمان اسی نتیجہ پر پہونچیں گے کہ اپنی بیٹیوں کو یہودی اور عیسائی مردوں کے ساتھ شادیاں کرنے دیں کیوں کہ غالبا یہ شادیاں ان کے شوہروں کو اسلام کی طرف لے آئیں گی، بصورت دیگر عورت خود اسلام پر قائم رہ سکے گی‘‘ کیا واقعی مقاصد شریعت کے فہم کی عکاسی کرتا ہے؟ آپ نے خود یوروپین کونسل فار افتاء اینڈ ریسرچ کی قرارداد کے یہ الفاظ ذکر کئے ہیں کہ’’مسلمان عورت کے لئے شروعات کے طور پر غیر مسلم مرد کے ساتھ شادی کرنا حرام ہے، اس پر امت کا اجماع ہے ، اسلاف واخلاف سب متفق ہیں‘‘<br />
’’فوجی خدمت کا مسئلہ‘‘ کے عنوان کے تحت موصوف نے شیخ یوسف قرضاوی کا ایک فتوی ادھورا ذکر کیا ہے، فتوے کا پس منظر یہ تھا کہ گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد جب امریکہ نے دہشت گردی کے حوالے سے مختلف مسلمان ملکوں پر فوج کشی شروع کی تو امریکہ میں مقیم چندلوگوں نے شیخ قرضاوی سے بڑی خاموشی سے ایک فتوی لیا ، انہوں نے شیخ کو غلط طور سے یہ باور کرایا کہ اگریہ فتوی نہیں دیا گیا اور اس کے برعکس فتوی دیا گیاتو امریکہ میں مسلمانوں پر ملک سے بے وفائی کا الزام لگ جائے گا اور ان کے ساتھ بوسنیا کے مسلمانوں سے بھی بدتر سلوک ہوگا،فتوے میں یہ کہا گیا تھا کہ مسلمان فوجی کوشش تو یہی کریں کہ وہ فوجی کارروائیوں میں شریک نہ ہوں، اور اگر ہوں بھی تو پچھلی صف میں رہیں اور اگر بہت ناگزیر ہوجائے تو عملا کارروائی میں بھی حصہ لے سکتے ہیں، اس فتوے کا اطلاق خاص طور سے امریکہ کے بمبار جہازوں کے مسلمان پائلٹوں پر ہوتا تھا، کہ کیا ان کے لئے جائز ہے کہ وہ افغانستان اور عراق کے بے قصور مسلمانوں پروحشیانہ بمباری میں حصہ لیں،اور وہ بھی محض یہ ثابت کرنے کے لئے کہ امریکہ میں رہنے والے مسلمان امریکہ کے وفادار ہیں۔ کوشش کی گئی کہ یہ فتوی راز رہے، لیکن کسی طرح فتوے کے منظر عام پر آنے کے بعد شیخ کے بعض بہت قریبی لوگوں نے شیخ سے بات کی اور انہیں صحیح صورتحال سے آگاہ کیا، جس کے بعد شیخ قرضاوی نے اپنے فتوے سے رجوع کرلیا۔فاضل مصنف کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ کہ شیخ قرضاوی کا اپنے اس فتوے سے رجوع کا تذکرہ خود ان کی ویب سائٹ پر موجود ہے، اور ویکی پیڈیا پر بھی ان کے تعارف کے ساتھ اس کا ذکر موجودہے۔ یہ فتوی شیخ قرضاوی کی جہادوعزیمت سے بھر پور زندگی پر ایک داغ تھا،فتوی دینے والے نے تو اپنے فتوے سے رجوع کرلیا، لیکن فاضل مصنف کو وہ اتنا پسند آیا کہ اس میں سے مقاصد شریعت کے موتی تلاش کرلائے۔<br />
مقاصد شریعت کے موضوع پر راقم کی نظر سے بہت ساری کتابیں گذری ہیں، قدیم دور کی بھی اور موجودہ زمانے کی بھی، فاضل مصنف کی کتاب ’’مقاصد شریعت ‘‘ایک لحاظ سے ان سب سے منفرد ہے، جب دوسری کتابیں پڑھتے ہیں تو یہ احساس نہیں ہوتا کہ شریعت کے نصوص اور شریعت کے مقاصد میں کوئی تعارض ہے، جب کہ زیر نظر کتاب سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ خیالات جن کے لئے شریعت کے نصوص میں تائید نہیں ملتی ہے ، بلکہ ان کی نفی ہوتی ہے،شریعت کے مقاصد کا حوالہ دے کر ان کو مدلل ثابت کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔<br />
فاضل مصنف قواعد فقہیہ اور مقاصد شریعت کے درمیان فرق بتاتے ہوئے لکھتے ہیں’’قواعد کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کرسکتے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو، جب کہ مقاصد کا اصل کام ہی یہی ہے‘‘۔راقم کا فاضل مصنف کی خدمت میں سوال ہے کہ کیا اہل فن میں سے کسی اور نے بھی اس فرق کو ذکر کیا ہے؟اور کیا اہل فن میں سے کسی نے بھی یہ کہا ہے کہ قواعد کوئی ایسی چیز برآمد نہیں کرسکتے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو؟ اورکیا قاعدہ ضرورت کے تحت دور جدید کے بہت سارے مسائل کے سلسلے میں نئے اجتہادات سامنے نہیں آئے؟، اور کیا قاعدہ تیسیر نے معاصر فقہ میں بہت سارے اضافے نہیں کئے؟ اور کیا اہل فن میں سے کسی نے یہ کہا ہے کہ مقاصد کا اصل کام ایسی چیز برآمد کرنا ہے جو پہلے سے فقہ میں موجود نہ ہو؟<br />
راقم نے جدید دور کے اجتہادات کی ساری اکائیوں کا احاطہ نہیں کیا ہے ، لیکن جہاں تک نظر پہونچ سکی ہے ، کوئی فتوی یا قرارداد ایسی نہیں ملی جس کی پشت پر قواعد فقہیہ کے بھر پور حوالے موجود نہ ہوں، خود فاضل مصنف نے ایسی مثالیں اپنی کتاب میں ذکر کی ہیں جن میں مقاصد کا کوئی حوالہ نہیں ہے لیکن قواعد کا حوالہ موجود ہے۔<br />
فاضل مصنف لکھتے ہیں’’اسلام کی دعوت کا سب سے بڑا مفاد جس کی حفاظت ضروری ہے، یہ ہے کہ عام انسانوں کے سامنے نبی کریم رحمۃ للعالمین ﷺ کی تصویر نہ بگڑنے پائے، کیوں کہ دعوت الی اللہ کی قبولیت کا انحصار بڑی حد تک اس پر ہے کہ لوگ آپ ﷺ کو اعتماد اور انس کے ساتھ دیکھیں۔ اس کا تقاضا ہے کہ اگر کسی صحیح بلکہ بعض اعتبار سے ضروری اقدام سے غلط فہمی ہوسکتی ہو، یا دشمن اسے غلط معنی پہنا سکتا ہو تو اس مفاد کی خاطر اسے نہ کیا جائے۔نبی اکرمﷺ سے مروی دو حدیثیں اس اہم اصل کی تصدیق کرتی ہیں‘‘<br />
ہمیں توقع تھی کہ فاضل مصنف اس اصول کو ثابت کرنے کے لئے کوئی ایسی مثال پیش کریں جس میں ایک ایسا کام جو شریعت نے ضروری قرار دیا تھا، اللہ کے رسول ﷺ نے محض اس لئے نہیں کیا کہ اس سے آپ ﷺ کی شخصیت پر آنچ آتی تھی۔<br />
لیکن فاضل مصنف نے جو دو مثالیں ذکر کیں ، ایک میں یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے خواہش کے باجود حطیم کو بیت اللہ میں داخل نہیں کیا،اور دوسری میں بعض لوگوں کے مطالبہ کے باوجود منافقین کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی، لطف کی بات یہ ہے کہ پہلی مثال کا آپ ﷺ کی شخصیت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، بلکہ خانہ کعبہ کی موجودہ ہیئت سے اہل مکہ کی اس درجہ انسیت اورعقیدت تھی کہ آپﷺ کو لگا کہ وہ اس میں تبدیلی برداشت نہیں کرسکیں گے اور اسلام سے ان کے دل پلٹ جائیں گے،اور یہی وجہ ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کی مذکورہ خواہش کے باوجود آج کے مسلمان بھی خانہ کعبہ کی موجودہ ہیئت میں تبدیلی قبول نہیں کرسکتے، مزید یہ کہ کسی بھی دور کے فقہاء نے اس اقدام کو ضروری نہیں بتایا،جبکہ دوسری مثال میں بھی یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ کے نزدیک منافقوں کا قتل کوئی ضروری اقدام تھا۔<br />
فاضل مصنف کو چاہئے کہ کوئی ایسی مثال پیش کریں جس میں ایک ایسا کام جو شریعت نے ضروری قرار دیا تھا،یا کسی اور پہلو سے ضروری تھا، اللہ کے رسول ﷺ نے محض اس لئے نہیں کیا ہو، کہ اس سے آپ ﷺ کی شخصیت پر آنچ آتی تھی، یا دعوتی مفادات متاثر ہوتے تھے۔ہمارے پاس تو اس کی بہت ساری مثالیں ہیں ، کہ اللہ کے رسول ﷺ نے اس کی پرواہ کئے بغیر کہ دنیا کیا کہے گی، وہ سارے اقدامات کئے جو شریعت کی رو سے جائز تھے اور حکمت عملی کے لحاظ سے ضروری تھے۔آپ] ﷺ رحمۃ للعالمین ہوتے ہوئے کبھی خود لشکر لے کر پہونچے ، تو کہیں فوجیں بھیجیں،ضرورت پڑی تو یہودیوں کو ملک بدر کردیا، اور ضرورت کا تقاضا ہوا تو ان کے کھجوروں کے درخت کٹوادئے، یا ان میں آگ لگوادی، اور جو بھی کیا وہ اللہ کے حکم سے کیا، اور اس کی پرواہ کئے بغیر کیا کہ دنیا کیا کہے گی، دشمنوں نے اس حوالے سے آپ کی امیج خراب کرنے کے لئے اشعار بھی کہے، اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے اس کا جواب بھی دیا۔(اس کی تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو صحیح بخاری اور تفسیر قرطبی)۔<br />
فاضل مصنف سے راقم کا ایک سوال یہ بھی ہے کہ موصوف نے مقاصد شریعت کی فہرست میں اضافہ کی تجویز پیش کی ہے، لیکن نئی فہرست میں مذکور چیزوں کی ترجیحی پہلو سے ترتیب کیاہوگی ، اس پر کوئی گفتگو نہیں کی ہے، حالانکہ مقاصد شریعت پر فنی لحاظ سے گفتگو کرنے والوں نے ترتیب پر بہت زور دیا ہے ، مثال کے طور پر مسلمان عسکری لحاظ سے طاقتور ہوں یہ بھی شریعت کا مقصد ہوسکتا ہے، اور دنیا کو عام تباہی مچانے والے ہتھیاروں سے بچایا جائے یہ بھی شریعت کا ایک مقصد ہوسکتا ہے، دونوں مقاصد میں تعارض ہو تو کس کو ترجیح دی جائے گی؟ فاضل مصنف کا اصرار اس بات پر ہے کہ مسلمان ایٹمی ہتھیاروں سے کنارہ کشی اختیار کرکے صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جائیں گے، لیکن یہ وہ بھی مانتے ہیں کہ دنیا کی بڑی طاقتیں جن میں وہ امریکہ روس اور چین کا نام لیتے ہیںِ ، ایٹمی قوت حاصل کرکے دنیا کی بڑی طاقت بنی ہیں، راقم کا فاضل مصنف سے سوال یہ ہے کہ اسلامی مملکت کا عسکری طور پر کمزور رہنا ، اور دوسری بڑی طاقتوں کے رحم وکرم پر رہنامقاصد شریعت کے مطابق ہے یا خلاف ہے؟ اس سلسلے میں فاضل مصنف اپنے نقطہ نظر کو مضبوط بتانے کے لئے آدم کے بیٹوں کا واقعہ تو پیش کرتے ہیں، جس میں ایک نے دوسرے سے کہا کہ تم مجھے مارنے کے لئے ہاتھ اٹھاؤگے تو میں تم کو مارنے کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا، لیکن وہ قرآن کی ان بہت ساری آیتوں کو یکسر نظر انداز کرجاتے ہیں، جن میں دشمنوں سے جنگ کرنے کی اور اس جنگ کے لئے مطلوب قوت حاصل کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔<br />
فاضل مصنف ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی سے راقم کا آخری سوال یہ ہے کہ آپ کی مقاصد شریعت والی کتاب پڑھ کر جو تصویر سامنے آتی ہے وہ یہ کہ مقاصد شریعت کے نام پر کچھ بھی ہوسکتا ہے، ایک مسلمان لڑکی ایک غیر مسلم لڑکے سے شادی کرسکتی ہے، ایک مسلمان فوجی مسلم آبادی پر بمباری کرسکتا ہے، ایک مسلمان لڑکی نہ صرف چہرہ بلکہ پورا سر کھولے اور وہ بھی بغیر محرم کے سفر کرسکتی ہے، اسی طرح مقاصد شریعت کے نام پرکسی بھی چیز سے روکا بھی جاسکتا ہے، فرانس کی مسلم خواتین سے کہا جاسکتا ہے کہ حجاب کی تحریک مت چلاؤ اس سے اسلام کی رواداری والی امیج پر آنچ آتی ہے، مسلمان ملکوں سے کہا جاسکتا ہے کہ ساری دنیا خطرناک ہتھیار بنالے مگر تم مت بناؤ کیونکہ ان ہتھیاروں کے بغیرتم کمزور تو رہ سکتے ہو صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جاؤ گے، اور اگر تم کسی ایٹمی حملہ کے نتیجہ میں مٹ بھی گئے تو وہ مسلمان تو نہیں مٹیں گے جو امریکہ میں رہتے ہیں،( اور غالبا اس لئے بھی بہت سارے لوگ اب امریکہ جاکر رہنے لگے ہیں) سوال یہ ہے کہ مقاصد شریعت پر سینکڑوں کتابیں اور مقالے لکھے جا چکے ہیں ان کو پڑھ کر مقاصد شریعت کی ایسی تصویر کیوں نہیں بنتی ہے؟</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong>ڈاکٹر محی الدین غازی</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d9%85%d9%82%d8%a7%d8%b5%d8%af-%d8%b4%d8%b1%db%8c%d8%b9%d8%aa-%db%94%da%a9%da%86%da%be-%d9%88%d8%b6%d8%a7%d8%ad%d8%aa%db%8c%da%ba%d8%8c%da%a9%da%86%da%be-%d8%b3%d9%88%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%aa/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شعرو نغمہ</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b4%d8%b9%d8%b1%d9%88-%d9%86%d8%ba%d9%85%db%81/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25b4%25d8%25b9%25d8%25b1%25d9%2588-%25d9%2586%25d8%25ba%25d9%2585%25db%2581</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b4%d8%b9%d8%b1%d9%88-%d9%86%d8%ba%d9%85%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:44:33 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2401</guid>
		<description><![CDATA[تمہیں بتاؤ چمن میں گل بھی ہیں خار بھی ہیں کیسے ان سب کو پیار کرلوں تمہیں بتاؤ کہ کس طرح سے ہر اک کا اب اعتبار کرلوں وہ کون سی ہے سکوں کی صورت کہ جس کو میں اختیار کرلوں تمہارے تیر نظر کو اپنے جگر میں رکھ لوں کہ پار کرلوں کہاں کا [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>تمہیں بتاؤ</strong><br />
چمن میں گل بھی ہیں خار بھی ہیں کیسے ان سب کو پیار کرلوں<br />
تمہیں بتاؤ کہ کس طرح سے ہر اک کا اب اعتبار کرلوں<br />
وہ کون سی ہے سکوں کی صورت کہ جس کو میں اختیار کرلوں<br />
تمہارے تیر نظر کو اپنے جگر میں رکھ لوں کہ پار کرلوں<br />
کہاں کا بادہ، کہاں کے ساغر، یہ کیسے مینا بدوش ساقی<br />
ازل سے پی کے چلا تھا جو کچھ میں پہلے اس کا اتار کرلوں<br />
غم محبت ہو یا اذیت کسی سے کوئی نہیں شکایت<br />
خدائے قدوس دے جو نعمت اسے میں دامن پسارکرلوں<br />
دل ونگہ کی تو کوئی قیمت نہیں ہے میری نظر میں اختر<br />
اگر وہ دیں حکم جاں نثاری تو وہ بھی ان پر نثار کرلوں<br />
<strong> شریف اللہ اختر</strong></p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong> غزل</strong><br />
دھواں دیتے چراغوں کو بجھادینا کہیں بھی ہو<br />
اندھیرا ہو چراغوں کو جلا دینا کہیں بھی ہو<br />
روش اپنی نہ بدلی ہے نہ بدلیں گے کبھی یارو<br />
یہی ہے فیصلہ اپنا سنادیناکہیں بھی ہو<br />
نہ شکوہ کوئی اوروں سے نہ کوئی تم گلہ کرنا<br />
پڑا ہو راہ میں کانٹا ہٹادینا کہیں بھی ہو<br />
وفا کی راہ پر اپنا رکھا ہے جو قدم تم نے<br />
جو مانگے خون وہ تم سے بہادینا کہیں بھی ہو<br />
وفا کی راہ میں تم کوضرورت سر کی میرے ہو<br />
اسد ہوجائے گاحاضر بلالینا کہیں بھی ہو<br />
<strong> اسداعظمی</strong></p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong></strong><br />
<strong> جشن آرزو</strong><br />
<strong> (مصر میں الاخوان المسلمون کی طویل آزمائشوں کے بعد پیش رفت کے پس منظر میں )</strong><br />
لہو، لہوہے، کبھی رائگاں نہیں جاتا<br />
بھلے ہی دیر سے ہو<br />
رنگ لاکے رہتا ہے<br />
لہو، جو ظلم سے سفاکیوں سے بہتا ہے<br />
لہو، جو برسو ں بہا قاہرہ کی سڑکوں پر<br />
لہو، جو محبس وزنداں میں محو رقص رہا<br />
لہو، جو گرتا رہا دار کے ستونوں سے<br />
لہو، ہزارہا اخوان جانثاروں کا<br />
لہو، جو منہ کو لگا تھا جمال ناصر کے<br />
لہو، جو جبر کا سادات کے نشانہ رہا<br />
لہو، جو حسنی مبارک کو تھا بہت مرغوب<br />
لہو، جو بہتا رہا، بہتا رہا، بہتا رہا<br />
یہاں تلک کے وہ دریائے بے کنار بنا!<br />
مگر مشیت ونظم خدائے برتر ہے<br />
اسی میں ڈوبنا فرعون کا مقدر ہے!<br />
لہو، جو بہتا رہا ہے وہ سرخ رو ہوگا<br />
خوشا! اے اہل وفا جشن آرزو ہوگا<br />
<strong>انتظار نعیم</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b4%d8%b9%d8%b1%d9%88-%d9%86%d8%ba%d9%85%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>آپ کے خطوط</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%b7%d9%88%d8%b7-5/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a2%25d9%25be-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25ae%25d8%25b7%25d9%2588%25d8%25b7-5</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%b7%d9%88%d8%b7-5/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:44:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2372</guid>
		<description><![CDATA[پچیسویں سال کے آغاز پر ماہ جنوری ۲۰۱۲ء کا رفیق موصول ہوا، مسرت کا مقام ہے کہ رفیق کے پچیسویں سال کا آغاز ہوگیاہے، پچیسویں سال کے آغاز پر اعتدال وتوازن کے موضوع پر خصوصی تحریریں کافی اچھی لگیں، نوجوانوں کے محترم قائداور رہنماجناب سعادت اللہ حسینی صاحب کا مضمون’’روایت پسندی، جدیدیت اور مولانا مودودی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>پچیسویں سال کے آغاز پر</strong><br />
ماہ جنوری ۲۰۱۲ء کا رفیق موصول ہوا، مسرت کا مقام ہے کہ رفیق کے پچیسویں سال کا آغاز ہوگیاہے، پچیسویں سال کے آغاز پر اعتدال وتوازن کے موضوع پر خصوصی تحریریں کافی اچھی لگیں، نوجوانوں کے محترم قائداور رہنماجناب سعادت اللہ حسینی صاحب کا مضمون’’روایت پسندی، جدیدیت اور مولانا مودودی کا مسلک اعتدال ‘‘ ایک اہم موضوع پر ایک دانشورانہ تحریر ہے، موصوف نے کافی محنت کے ساتھ مولانا مودودیؒ کی تحریروں سے حوالہ جات کے اہتمام کے ساتھ موضوع کا حق ادا کیا ہے، اللہ رب العزت موصوف کو جزائے خیر دے۔ جناب اشتیاق عالم فلاحی کا مضمون ’’توازن اسلامی زندگی کی ایک اہم خصوصیت‘‘اپنے موضوع پر ایک متوازن اور مدلل تحریر ہے۔ عبادات میں توازن، خرچ میں توازن، فرد اور معاشرہ کے درمیان توازن، تحریکی زندگی میں توازن وغیرہ کے تعلق سے موصوف نے اچھی گفتگو کی ہے، میرے خیال سے اس موضوع کو مزید وسعت دی جاسکتی ہے، اور اسلامی زندگی کے مختلف گوشوں میں توازن کی شاندارمثالوں کو اجاگر کیا جاسکتا ہے، موصوف سے درخواست ہے کہ اس سلسلہ کو مزید وسعت دیں اور قرآن مجید میں اہل کتاب اور سابقہ اقوام کی مختلف غیر متوازن اور ظالمانہ روش کی جو تصویر کشی کی گئی ہے، اس کو بھی اس میں شامل فرمائیں، اسلام کے توازن اور اعتدال کو سمجھنے کے لیے اس سے واقفیت بہت ضروری ہے، مثال کے طور پر اہل کتاب کی رہبانیت کو سامنے رکھا جائے، اور اس کے ذیل میں اہل کتاب کی افراط وتفریط کو سامنے رکھا جائے تو اسلام کی متوازن شخصیت، جس کی تشکیل قرآن مجید کرتا ہے۔ اس کو سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ اسلام کے نظریہ دولت پر گفتگو کرتے ہوئے، سرمایہ داری اور اشتراکیت کی افراط وتفریط پر گفتگو کریں تو اسلام کا موقف سمجھنے میں آسانی ہوگی، نیز گفتگو میں جان بھی آجائے گی، اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے دین کی خدمت بحسن وخوبی انجام دینے کی توفیق عطافرمائے۔<br />
سعید احمد، نئی دہلی</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<strong> اعتدال اور توازن</strong><br />
نئے سال کا پہلا شمارہ نظر نواز ہوا، موضوع ہے ’’اعتدال اورتوازن‘‘۔ یہ اعتدال اور توازن رفیق اور اس کے رفقاء کی پہچان رہی ہے، شائد یہی وجہ ہے کہ ہمارے قدیم قدیم رفقاء جناب ایس امین الحسن صاحب، جناب سعادت اللہ حسینی صاحب، جناب ڈاکٹر رضوان صاحب، جناب ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب اور دیگر رفقاء اپنی ساری مصروفیات کے باوجودبہت زمانے کے بعد ایک ہی شمارے میں اعتدال اور توازن کے ساتھ حق رفاقت ادا کرتے نظر آئے۔ یقیناامین صاحب نے اس مضمون کے لیے کسی پروگرام کو ملتوی کیا ہوگا، سعادت صاحب نے کسی میٹنگ میں شرکت سے معذرت کی ہوگی، ڈاکٹر رضوان صاحب نے اس کے لیے اپنے وطن کا ایک خیالی سفر کیا ہوگا، غازی بھائی نے رات بھر جاگ کر امین صاحب کی کتاب ’’نفس کا تزکیہ۔فرد کا ارتقاء‘‘کا مطالعہ کیا ہوگا اور رات کے آخری پہر مکمل اطمینان اور سکون کے عالم میں تواصی اور صحبت صالح پر اپنی جامع اور شاندار تحریر قلمبند فرمائی ہوگی، غازی صاحب کی اختصار پسندی پر مولانا محمد علی جوہرؒ کا ایک واقعہ یاد آتا ہے، حوالہ تو یاد نہیں، البتہ اتنا ضروریادہے کہ مولانا محمد علی جوہر کسی پروگرام میں اپنا ایک طویل مقالہ لے کر پہنچ گئے، کہنے لگے کہ وقت نہیں ملا، مصروف تھا، یہی مقالہ تیار کرکے لے آیا ہوں، جب مقالہ سنا چکے تو لوگوں نے پوچھا، ارے مولانا: آپ تو کہہ رہے تھے کہ وقت نہیں ملا اور معمول کے برخلاف آج کافی طویل مقالہ پیش کیا، اس پر مولانا نے فرمایا کہ وقت نہیں ملا، اسی وجہ سے تو مقالہ طویل ہوگیا، وقت رہتا تو سوچ کر ، اختصار اور جامعیت کے ساتھ مقالہ پیش کرتا، یقیناًغازی صاحب کے مضامین ’’خیرالکلام ما قل ودل‘‘ کے مصداق ہوتے ہیں۔<br />
تنویر احسن، مہاراشٹر</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<strong> تبصرہ کا مستقل کالم</strong><br />
پروفیسر محسن عثمانی ندوی کی کتاب ’’عرب دنیا میں انقلابات۔ اسلامی نقطہ نظر‘‘پر دسمبر ۲۰۱۱ء کے رفیق میں ایک طویل تبصرہ دیکھنے کو ملا، تبصرہ سے معلوم ہواکہ یہ کتاب اردو زبان میں عرب انقلابات پر پہلی پیشکش ہے، تبصرہ میں کتاب کے دونوں پہلوؤں پر خاصی اچھی گفتگو کی گئی ہے، کتاب کا ایک پہلو عرب دنیا میں انقلابات کی پرزور تائید ہے، دوسرا پہلو سعودی عرب سے متعلق گفتگو ہے، جہاں مصنف اپنے مضبوط اور اصولی موقف کے برخلاف سعودی عرب میں اس قسم کی کسی بھی انقلابی کوشش کو غلط قرار دیتے ہیں،تبصرہ نگار نے کتاب کے اول الذکر پہلو کی تحسین کی ہے جبکہ دوسرے پہلو پر تنقید سے کام لیا ہے، تبصرہ نگار نے صحیح لکھا ہے کہ ’’سعودی حکومت سے متعلق گفتگو میں حرمین شریفین کے سلسلہ میں ان کی خدمات کا خوب خوب اعتراف کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ خدمات نہ تو جائزحقوق اور مطالبات کے لیے اٹھنے والی کسی عوامی تحریک کے لیے سد باب بن سکتی ہیں، اور نہ ہی سعودی حکومت کی من مانی پالیسی کے لیے وجہ جواز‘‘۔ رفیق منزل کے تبصرے کافی اہم ہوتے ہیں، میرا مشورہ ہے کہ نئے موضوعات پر آنے والی کتب پر تعارف وتبصرہ کاایک سلسلہ شروع کردیا جائے تو قارئین رفیق کے لیے مفیدہوگا اور اس سے ان کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوگا۔<br />
ارشد حسین، اعظم گڑھ</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a2%d9%be-%da%a9%db%92-%d8%ae%d8%b7%d9%88%d8%b7-5/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>شیخ محمد الغزالی رحمہ اللہ</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ba%d8%b2%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25b4%25db%258c%25d8%25ae-%25d9%2585%25d8%25ad%25d9%2585%25d8%25af-%25d8%25a7%25d9%2584%25d8%25ba%25d8%25b2%25d8%25a7%25d9%2584%25db%258c-%25d8%25b1%25d8%25ad%25d9%2585%25db%2581-%25d8%25a7%25d9%2584%25d9%2584%25db%2581</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ba%d8%b2%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:43:44 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2397</guid>
		<description><![CDATA[شیخ محمد غزالی ؒ ایک جید عالم او ر مشہور داعی تھے ۔آپ ان کمیاب اور نایاب شخصیات میں سے تھے جن کے علم وفضل سے کئی نسلوں نے فائدہ اٹھایا۔ شیخ غزالیؒ ۱۹۱۷ء میں مصر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔تاجر گھرانے میں پرورش وپرداخت ہوئی۔ والد قرآن کریم کے حافظ اور ایک [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>شیخ محمد غزالی ؒ</strong> ایک جید عالم او ر مشہور داعی تھے ۔آپ ان کمیاب اور نایاب شخصیات میں سے تھے جن کے علم وفضل سے کئی نسلوں نے فائدہ اٹھایا۔ شیخ غزالیؒ ۱۹۱۷ء میں مصر کے ایک گاؤں میں پیدا ہوئے ۔تاجر گھرانے میں پرورش وپرداخت ہوئی۔ والد قرآن کریم کے حافظ اور ایک خدا ترس انسان تھے ۔ انہوں نے بیٹے کی پرورش بھی اسی انداز سے کی، چنانچہ شیخ غزالی نے دس سال کی عمر ہی میں قرآن مجید حفظ کرلیا۔ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب میں حاصل کی پھر ۱۹۳۷ء میں قاہرہ میں کلیۃ اصول الدین میں داخلہ لیا جہاں سے عالمیت،پھر دعوت وارشاد میں تخصص اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔آپ نے اپنے دور کے زبردست علماء ،مفکرین ،اساتذہ اور عظیم علمبرادران دعوت کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا جن میں سرفہرست امام حسن البنا شہیدؒ تھے ۔<br />
<strong>عملی زندگی:</strong> تعلیم کی تکمیل کے بعد مسجد القبہ الخضراء میں امامت وخطابت کے فرائض انجام دئیے۔ازہر میں بھی واعظ کے منصب پر فائز رہے۔ شعبہ مساجدکی ذمہ داریاں بھی تفویض رہیں،پھر تربیتی امور کے ناظم اور دعوت وارشاد کے ڈائرکٹر بھی رہے۔ ۱۹۴۹ء میں تقریباً ایک سال ’طور‘ کے قید خانے میں اور ۱۹۶۵ء کے دوران طرہ قیدخانے میں ہزاروں اخوانیوں کے ساتھ مقید رہے۔ ۱۹۷۱ء میں جامعہ ام القریٰ مملکت سعودی عرب کی عظیم اسلامی یونیورسٹی میں بحیثیت پروفیسر خدمات انجام دیں۔ ۱۹۸۱ء میں وکیل الوزارۃ(Under Secretary of State) بنائے گئے ۔ اسی طرح پانچ سال تک الجزائر کی جامعۃ الامیر عبدالقادر الجزائری الاسلامیہ کی مجلس علمی کی صدارت کے فرائض انجام دئیے۔<br />
شیخ غزالی ؒ روشن دماغ ،پرجوش طبیعت ، عمیق ایمان والے، صاحب عزیمت ،خوش بیان ،اثر پذیر واثر انداز ،خوش مزاج اور نرم دل انسان تھے ۔ عصر حاضر کی ممتاز اسلامی شخصیت اور عالم اسلام کے عظیم داعی تھے ۔اپنی حاضر دماغی اور پرکشش انداز بیان کے لیے مشہور تھے ۔مولانا ابوالحسن علی ندویؒ کے بقول:’’وہ اخوان المسلمون کی سرکردہ شخصیت اور مصر میں دینی بیداری اور انقلاب کے ایک اچھے مصنف تھے۔ اور اخوان المسلمون کو صحیح فکری وروحانی غذ ا کے ساتھ ساتھ پر مغز اسلامی ادب سے بھی نواز رہے تھے‘‘۔<br />
شیخ غزالیؒ ایک شعلہ بیاں خطیب بھی تھے اور بلند پایہ ادیب بھی۔آپ کو تقریر وتحریر پر مکمل عبور حاصل تھا۔ آپ مجلہ ’الاخوان المسلمون‘ میں مسلسل لکھتے رہتے ۔جوانی میں ہی آپ کے شاندار انداز بیاں،دوررس معانی اور پختہ وشائستہ ادب سے متاثر ہوکر حسن البنا شہیدؒ نے ایک خط کے ذریعہ آپ کی حوصلہ افزائی کی تھی ،یہ خط شیخ غزالیؒ کے لیے کسی فخر واعزاز سے کم نہ تھا۔ آپ کی تحریریں جہاں ایک طرف داخلی امور کا مکمل احاطہ کرتی ہیں وہیں دوسری طرف خارجی چیلنجوں کا بھی سامنا کرتی نظر آتی ہیں۔<br />
جامعہ ازہر مصر، ام القریٰ مکہ مکرمہ،کلیۃ الشریعہ قطروغیرہ میں آپ کے شاگر د موجود ہیں جنھوں نے آپ کے علم ، جرأت ،صاف گوئی ،صداقت اور واضح بیانی سے بھرپور استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ تقاریر ،دروس ،لکچرس، کتابوں ،مقالات واجتماعات کے ذریعہ ایک بڑی تعداد نے آپ سے کسب فیض کیا۔<br />
آپ کے تلامذہ کی تعداد عالم اسلامی کے گوشوں گوشوں میں پائی جاتی ہے جنھوں نے پرچم اسلام کو سنبھالا اور اللہ کی دعوت کی تبلیغ و ترسیل اور پیغام اسلام کی اشاعت کے لیے آگے بڑھے ،جو خیر وفلاح ،نصرت وکامیابی کی شاہراہ پر امت کی قیادت کررہے ہیں، ان میں کچھ عظیم اساتذہ اور عبقری شخصیات کے طور پر افق عالم پر ابھر چکے ہیں جیسے علامہ یوسف قرضاوی، شیخ مناع القطان،ڈاکٹر احمد عسال وغیرہ۔<br />
<strong>علمی خدمات:</strong> شیخ غزالیؒ کی مختلف موضوعات پر ساٹھ سے زائد کتابیں ہیں ۔ اس کے علاوہ لکچرس، مباحثے ، خطبات ، مواعظ ،دروس اور مناظرے ہیں جو مصر اور بیرون مصر انہوں نے پیش کیے۔آپ کی متعدد قیمتی کتابوں کو عربی زبان سے دوسری اہم زبانوں میں بھی منتقل کیاگیا ہے۔چند مشہور کتابوں میں ’اسلام اور اقتصادی حالات،اسلام اور اشتراکی مناہج،مسلمانوں کے ثقافتی اتحاد کا دستور، زندگی کی تجدید کرو، اسلام اور مسیحیت کے درمیان تعصب اور رواداری،اندرونی عجز اور بیرونی سازش کے درمیان معرکۂ دعوت،عقل ودل میں ایمان کے دفینے‘،وغیرہ اہم کتابیں ہیں۔<br />
اردو زبان میں آپ کی بیشتر کتابوں کو منتقل کرنے کا کارنامہ جناب ابومسعود اظہرمرحوم نے انجام دیا، مرحوم کا اردو داں طبقہ پر یہ ایک ناقابل فراموش احسان ہے۔ عقیدہ پر ان کی مایہ ناز اور بے مثال کتاب عقیدۃ المسلم کا ترجمہ’عقیدہ اسلامی‘ کے نام سے مولانا محمدعنایت اللہ سبحانی اور خلق المسلم کا ترجمہ مولانا ابواللیث اصلاحی مرحوم (سابق امیر جماعت اسلامی ہند)نے کیا ہے،یہ اور اس کے علاوہ آپ کی متعدد کتابیں مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع ہوچکی ہیں۔<br />
آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ بہت ہی جرأتمند عالم دین تھے، مختلف علمی آراء کے اظہار کے سبب کافی طعن وتشنیع کا بھی سامنا کرنا پڑا، علامہ یوسف القرضاوی ان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’’بعض امور میں تمہیں غزالی سے اختلاف ہوسکتا ہے لیکن جب تم انہیں اچھی طرح پہچان لوگے تو تم بے ساختہ ان سے محبت اور ان کی تعظیم کرنے لگو گے ۔ ان کے اخلاص وللہیت ،حق کے لیے یکسوئی ،راہ حق پر استقامت اور اسلام کی خاطر سچی غیرت کی وجہ سے ان کے گرویدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکو گے ۔شیخ غزالی گرچہ سریع الغضب تھے لیکن ان کا غصہ جلد ٹھنڈا ہوجاتا تھا ۔ جب ان کے سامنے حق واضح ہوجاتاتو حق کو گلے لگا تے ،اپنی غلطی کا اظہار واعتراف کرنے میں کسی بات کی پروا نہ کرتے تھے ‘‘۔ اسی طرح شیخ غزالی کی ایک اور اہم خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے باکمال ساتھیوں کے علم وفضل کے معترف تھے‘‘۔شیخ الازہر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود بھی شیخ غزالی کے قدر شناس اور ان کی عظمت کے معترف تھے کہاکرتے تھے کہ ’ہمارے پاس کوئی نہیں سوائے دو غزالیوں کے ،ایک موجودہ دور کے شیخ غزالی اور ایک احیاء علوم الدین کے مصنف امام غزالیؒ ‘۔<br />
وفات: دعوت وعزیمت سے بھرپور ایک طویل حیات کے بعد عالم اسلام کا یہ عظیم داعی ومفکر ۱۹۹۶ء کو ریاض سعودی عرب میں داعئ اجل کو لبیک کہہ گیا۔ جنت البقیع مدینہ منورہ میں تدفین ہوئی۔ اللہ تعالی آپ کو اپنی رحمت سے نوازے اور آپ کی علمی و عملی خدمات کو قبول فرمائے ۔آمین</p>
<p><strong> (عبدالعظیم قاسم)</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%b4%db%8c%d8%ae-%d9%85%d8%ad%d9%85%d8%af-%d8%a7%d9%84%d8%ba%d8%b2%d8%a7%d9%84%db%8c-%d8%b1%d8%ad%d9%85%db%81-%d8%a7%d9%84%d9%84%db%81/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>افسانچے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔</title>
		<link>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%da%86%db%92-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%db%94%db%94/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a7%25d9%2581%25d8%25b3%25d8%25a7%25d9%2586%25da%2586%25db%2592-%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594%25db%2594-%25db%2594%25db%2594</link>
		<comments>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%da%86%db%92-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%db%94%db%94/#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 05 Feb 2012 14:43:18 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[فبروری ٢٠١٢]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/?p=2395</guid>
		<description><![CDATA[اینٹی کرپشن ریلی ریلی شروع ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا، اعجاز جو کہ جواہر ڈگری کالج کی اسٹوڈنٹس یونین کا لیڈر تھا، چالیس پچاس لڑکوں کو لے کر بس سے نکلا تھا۔ ’’ارے ڈرائیور جلدی کرو یار۔۔۔ صرف آدھا گھنٹہ باقی ہے۔۔۔ پچیس منٹ تو راستے میں ہی لگ جائیں گے‘‘۔ اعجاز [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;"><strong>اینٹی کرپشن ریلی</strong><br />
ریلی شروع ہونے میں صرف آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا، اعجاز جو کہ جواہر ڈگری کالج کی اسٹوڈنٹس یونین کا لیڈر تھا، چالیس پچاس لڑکوں کو لے کر بس سے نکلا تھا۔<br />
’’ارے ڈرائیور جلدی کرو یار۔۔۔ صرف آدھا گھنٹہ باقی ہے۔۔۔ پچیس منٹ تو راستے میں ہی لگ جائیں گے‘‘۔ اعجاز نے کہا۔<br />
یہ سن کر ڈرائیور نے اسپیڈ اور بڑھادی، لیکن چند منٹ بعد ہی۔ ’’ارے گاڑی کیوں روک دی۔۔۔ پہلے ہی سے دیر ہورہی ہے‘‘<br />
’’سر گاڑیوں کی چیکنگ ہورہی ہے‘‘<br />
’’تم نکالو گاڑی۔۔۔۔ وہ بعد میں دیکھ لیں گے‘‘<br />
ڈرائیور تھوڑی دور ہی چل پایا تھا کہ پولیس والوں نے گھیر لیا، آخر گاڑی روکنی ہی پڑی۔<br />
’’کیوں بے پولیس کو دیکھ کر بھی گاڑی نہیں روکی تونے۔۔۔۔‘‘<br />
’’سر ہم ایک ضروری کام سے جارہے ہیں‘‘اعجاز نے کھڑکی سے باہر سر نکالتے ہوئے کہا۔<br />
’’کام تو سارے ضروری ہی ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن جب پولیس والوں نے روکا تھا تو رکنا چاہئے تھا نا۔۔‘‘<br />
اعجاز نے پانچ سو کا ایک نوٹ نکال کر پولیس والے کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہا’’یہ لو صاحب۔۔ اب بس کرو۔۔۔ ہم اینٹی کرپشن ریلی میں شریک ہونے جارہے ہیں‘‘<br />
’’ہاں ہاں۔۔ جاؤ بھئی۔۔ تم اچھے کام کی خاطر جارہے ہو، اس لیے چھوڑدیتا ہوں ورنہ آگے سے ایسی امید مت رکھنا۔۔ سمجھے‘‘<br />
پولیس والے نے نوٹ جیب میں رکھتے ہوئے کہا۔</p>
<p style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq','Nafeess Nastaleeq','Alvi Lahori Nastaleeq','Urdu Naskh Asiatype',Arial,Tahoma; font-size: 18px; text-align: justify;">
<strong> ڈاکٹر صاحب</strong><br />
’’ڈاکٹر صاحب! کچھ رحم کھاؤ۔۔ بچے کی جان کا سوال ہے‘‘<br />
’’ہم نے تمہارے بچے کی جان کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ہے، سمجھے!‘‘<br />
’’صاحب ابھی تھوڑی دیر میں ہمارے رشتہ دار پیسے لے کر پہنچ جائیں گے۔۔۔ تم آپریشن شروع کردو۔۔‘‘<br />
’’میں نے کہا نا۔۔۔ جب تک فیس جمع نہیں ہوگی، آپریشن شروع نہیں ہوگا‘‘<br />
جمن ڈاکٹر کے چیمبر سے باہر آگیا۔<br />
تھوڑی دیر بعد جمن دوڑتا ہوا ڈاکٹر کے چیمبر میں داخل ہوا۔<br />
’’ڈاکٹر صاحب۔۔ ڈاکٹر صاحب۔۔ میرا بچہ۔۔‘‘<br />
ڈاکٹر نرسوں کے ساتھ پہنچا۔<br />
’’کیا کریں سر؟!‘‘<br />
’’پانی لگادو۔۔ اور گلوکوز کے ایک دو انجکشن لگادو‘‘<br />
’’اس سے کیا ہوگا سر؟ ۔۔۔ اسے تو۔۔‘‘<br />
’’جیسا کہہ رہا ہوں ویسا ہی کرو! سمجھے‘‘<br />
’’یس سر‘‘<br />
ایک گھنٹے بعد<br />
ہسپتال میں جمن اور اس کی بیوی کی دل دوز چیخیں گونجنے لگیں۔<br />
’’یہ کون لوگ شور مچا رہے ہیں؟‘‘<br />
’’سر وہ۔۔ ایمرجنسی وارڈ میں جو بچہ تھا نا۔۔ وہ۔۔‘‘<br />
’’مرگیا؟‘‘<br />
’’جی‘‘<br />
’’ان سے کہو کہ زیادہ شور نہ مچائیں۔۔ ایمبولینس کو فون کرو اور جتنی جلدی ہوسکے انہیں واپس بھیج دو‘‘۔</p>
<p>&nbsp;</p>
<p><strong> ناصر مرتضی</strong></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://rafeeq-e-manzil.sio-india.com/%d8%a7%d9%81%d8%b3%d8%a7%d9%86%da%86%db%92-%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94%db%94-%db%94%db%94/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>

<!-- Performance optimized by W3 Total Cache. Learn more: http://www.w3-edge.com/wordpress-plugins/


Served from: rafeeq-e-manzil.sio-india.com @ 2012-02-05 23:56:21 -->
